حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: الْعَرِيَّةُ الرَّجُلُ يُعْرِي النَّخْلَةَ أَوِ الرَّجُلُ يَسْتَثْنِي مِنْ مَالِهِ النَّخْلَةَ أَوِ الِاثْنَتَيْنِ، يَأْكُلُهَا، فَيَبِيعُهَا بِتَمْرٍ .
Abd Rabbihi bin Saeed al-Ansari said: 'Ariyyah means that a man gives another man a palm-tree on loan, or it means that reserves one or two palm-trees from his property for his personal use, then he sells for dried dates.
عبدربہ بن سعید انصاری کہتے ہیں عرایا یہ ہے کہ ایک آدمی ایک شخص کو کھجور کا ایک درخت دیدے یا اپنے باغ میں سے دو ایک درخت اپنے کھانے کے لیے الگ کر لے پھر اسے سوکھی کھجور سے بیچ دے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۸۹۵۱)
3365
Sahih