حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الذَّهَبُ بِالْذَهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ .
Narrated Umar: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Gold for gold is interest unless both hand over on the spot ; wheat for wheat is interest unless both hand over on the spot ; dates for dates is interest unless both hand over on the spot ; barley for barley is interest unless both hand over on the spot.
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا چاندی کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، گیہوں گیہوں کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور کھجور کھجور کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور جو جو کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو ( نقدا نقد ہونے کی صورت میں ان چیزوں میں سود نہیں ہے لیکن شرط یہ بھی ہے کہ برابر بھی ہوں ) ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع ۵۴ (۲۱۳۴)، ۷۴ (۲۱۷۰)، ۷۶ (۲۱۷۴)، صحیح مسلم/البیوع ۳۷ (۱۵۸۶)، سنن الترمذی/البیوع ۲۴ (۱۲۴۳)، سنن النسائی/البیوع ۳۹ (۴۵۶۲)، سنن ابن ماجہ/التجارات ۵۰ (۲۲۶۰، ۲۲۵۹)، (تحفة الأشراف: ۱۰۶۳۰)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ۱۷ (۳۸)، مسند احمد (۱/۲۴، ۲۵، ۴۵)، سنن الدارمی/البیوع ۴۱ (۲۶۲۰)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : سونا چاندی کو سونا چاندی کے بدلے میں نقدا بیچنا یہی بیع صرف ہے ،اس میں نقدا نقد ہونا ضروری ہے، ادھار درست نہیں۔
3348
Sahih