CHAPTER: Regarding Paying Off Debts Well.
باب: قرض کو بہتر طور پر ادا کرنے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ، فَقُلْتُ: لَمْ أَجِدْ فِي الْإِبِلِ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رَبَاعِيًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْطِهِ إِيَّاهُ، فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً .
Narrated Abu Rafi: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم borrowed a young camel, and when the camels of the sadaqah (alms) came to him, he ordered me to pay the man his young camel. I said: I find only an excellent camel in its seventh year. So the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Give it to him, for the best person is he who discharges his debt in the best manner.
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا اونٹ بطور قرض لیا پھر آپ کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ ویسا ہی اونٹ آدمی کو لوٹا دوں، میں نے ( آ کر ) عرض کیا: مجھے کوئی ایسا اونٹ نہیں ملا سبھی اچھے، بڑے اور چھ برس کے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اسی کو دے دو، لوگوں میں اچھے وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی اچھی کریں ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع ۴۳ (۱۶۰۰)، سنن الترمذی/البیوع ۷۵ (۱۳۱۸)، سنن النسائی/البیوع ۶۲ (۴۶۲۱)، سنن ابن ماجہ/التجارات ۶۲ (۲۲۸۵)، (تحفة الأشراف: ۱۲۰۲۵)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ۴۳ (۸۹)، مسند احمد (۶/۳۹۰)، سنن الدارمی/البیوع ۳۱ (۲۶۰۷)
3346
Sahih