حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ .
Narrated Abu Masud: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade the price paid for a dog, the hire paid to a prostitute, and the gift given to a soothsayer.
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ۱؎، زانیہ عورت کی کمائی ۲؎، اور کاہن کی اجرت ۳؎لینے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع ۱۱۳ (۲۲۳۷)، الإجارة ۲۰ (۲۲۸۲)، الطلاق ۵۱ (۵۳۴۶)، الطب ۴۶ (۵۷۶۱)، صحیح مسلم/المساقاة ۹ (۱۵۶۷)، سنن الترمذی/البیوع ۴۶ (۱۲۷۶)، النکاح ۳۷ (۱۱۳۳)، الطب ۲۳ (۲۰۷۱)، سنن النسائی/الصید والذبائح ۱۵ (۴۲۹۷)، سنن ابن ماجہ/التجارات ۹ (۲۱۵۹)، (تحفة الأشراف: ۱۰۰۱۰)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ۲۹(۶۸)، مسند احمد (۴/۱۱۸، ۱۲۰، ۱۴۰، ۱۴۱)، سنن الدارمی/البیوع ۳۴ (۲۶۱۰)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : کتا نجس ہے اس لئے اس سے حاصل ہونے والی قیمت بھی ناپاک ہوگی ، اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ شریعت نے اس برتن کو جس میں کتا منہ ڈال دے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا جس میں ایک مرتبہ مٹی سے دھونا بھی شامل ہے ، اسی سبب سے کتے کی خرید و فروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے الا یہ کہ کسی اشد ضرورت مثلاً گھر ، جائداد اور جانوروں کی حفاظت کے لئے ہو۔ ۲؎ : چونکہ زنا گناہ کبیرہ ہے اور فحش امور میں سے ہے اس لئے اس سے حاصل ہونے والی اجرت بھی ناپاک اور حرام ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ زانیہ لونڈی ہو یا آزاد عورت۔ ۳؎ : علم غیب رب العالمین کے لئے خاص ہے اس کا دعویٰ کرنا عظیم گناہ ہے اسی طرح اس دعویٰ کی آڑ میں کاہن اور نجومی عوام سے باطل طریقے سے جو مال حاصل کرتے ہیں وہ بھی حرام ہے۔
3428
Sahih