CHAPTER: Regarding A Man Selling What He Does Not Possess. - باب: جو چیز آدمی کے پاس موجود نہ ہو اسے نہ بیچے ۔ - Wages (kitab al-ijarah) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation
Chapter 34 of Wages (kitab al-ijarah) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Narrated Hakim ibn Hizam: Hakim asked (the Prophet): Messenger of Allah, a man comes to me and wants me to sell him something which is not in my possession. Should I buy it for him from the market? He replied: Do not sell what you do not possess.
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آدمی آتا ہے اور مجھ سے اس چیز کی بیع کرنا چاہتا ہے جو میرے پاس موجود نہیں ہوتی، تو کیا میں اس سے سودا کر لوں، اور بازار سے لا کر اسے وہ چیز دے دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس موجود نہ ہو اسے نہ بیچو ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/البیوع ۱۹ (۱۲۳۲)، سنن النسائی/البیوع ۵۸ (۴۶۱۵)، سنن ابن ماجہ/التجارات ۲۰ (۲۱۸۷)، (تحفة الأشراف: ۳۴۳۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۰۲، ۴۳۴)
Narrated Amr bin Suhaib: On his father's authority, said that his grandfather Abdullah bin Amr reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The proviso of a loan combined with a sale is not allowable, nor two conditions relating to one transaction, nor profit arising from something which is not in one's charge, nor selling what is not in your possession.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ادھار اور بیع ایک ساتھ جائز نہیں ۱؎ اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں درست ہیں ۲؎ اور نہ اس چیز کا نفع لینا درست ہے، جس کا وہ ابھی ضامن نہ ہوا ہو، اور نہ اس چیز کی بیع درست ہے جو سرے سے تمہارے پاس ہو ہی نہیں ۳؎ ( کیونکہ چیز کے سامنے آنے کے بعد اختلاف اور جھگڑا پیدا ہو سکتا ہے ) ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/البیوع ۱۹ (۱۲۳۴)، سنن النسائی/البیوع ۶۰ (۴۶۲۵)، سنن ابن ماجہ/التجارات ۲۰ (۲۱۸۸)، (تحفة الأشراف: ۸۶۶۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۱۷۴، ۱۷۸، ۲۰۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس کی صورت یہ ہے کہ بائع خریدار کے ہاتھ آٹھ سو کا سامان ایک ہزار روپیے کے عوض اس شرط پر بیچے کہ بائع خریدار کو ایک ہزار روپے بطور قرض دے گا گویا بیع کی اگر یہ شکل نہ ہوتی تو بیچنے والا خریدار کو قرض نہ دیتا، اور اگر قرض کا وجود نہ ہوتا تو خریدار یہ سامان نہ خریدتا۔ ۲؎ : مثلاً کوئی کہے کہ یہ غلام میں نے تم سے ایک ہزار نقد یا دو ہزار ادھار میں بیچا یہ ایسی بیع ہے جو دو شرطوں پر مشتمل ہے یا مثلاً کوئی یوں کہے کہ میں نے تم سے اپنا یہ کپڑا اتنے اتنے میں اس شرط پر بیچا کہ اس کا دھلوانا اور سلوانا میرے ذمہ ہے۔ ۳؎ : بائع کے پاس جو چیز موجود نہیں ہے اسے بیچنے سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اس میں دھوکا دھڑی کا خطرہ ہے جیسے کوئی شخص اپنے بھاگے ہوے غلام یا اونٹ کی بیع کرے جب کہ ان دونوں کے واپسی کی ضمانت بائع نہیں دے سکتا، البتہ ایسی چیز کی بیع جو اپنی صفت کے اعتبار سے مشتری کے لئے بالکل واضح ہو جائز ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع سلم کی اجازت دی ہے باوجود یہ کہ بیچی جانے والی شے بائع کے پاس فی الوقت موجود نہیں ہوتی۔