Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade wearing clothes in two styles: that a man sits in a single garment with his hands round his knees and uncover his private parts towards heaven and that he wears his garment while one of his sides is uncovered, and puts the garment on his shoulders.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے ایک یہ کہ آدمی اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ آسمان کی طرف کھلی ہو اس پر کوئی کپڑا نہ ہو، دوسرے یہ کہ اپنا کپڑا سارے بدن پر اس طرح لپیٹ لے کہ ایک طرف کا حصہ کھلا ہو، اور کپڑا اٹھا کر کندھے پر ڈال لیا ہو۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ۱۲۳۵۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۳۱۹، ۳۸۰، ۳۹۱)
Narrated Jabir: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade that a man should wrap himself completely in a garment with his hands hidden it, or sit in a single garment with his hands round his knees.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں صماء ۱؎ اور احتباء ۲؎ سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت: ۱؎ : صمّاء یہ ہے کہ کپڑا اس طرح جسم پر لپیٹے کہ دونوں ہاتھ اندر ہوں۔ ۲؎ : احتباء : یہ ہے کہ آدمی سرین اور پنڈلیاں کھڑی رکھے اور اوپر سے ایک کپڑا ڈال لے۔
Muawiyah bin Qurrah quoted his father as saying: I came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم with a company of Muzainah and we swore allegiance to him. The buttons of his shirt were open. I swore allegiance to him and I put my hand inside the collar of his shirt and felt the seal. Urwah said: I always saw Muawiyah and his son opening their buttons of the collar during winter and summer. They never closed their buttons.
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں قبیلہ مزینہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر ہم نے آپ سے بیعت کی، آپ کچھ قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے، میں نے آپ سے بیعت کی پھر اپنا ہاتھ آپ کی قمیص کے گریبان میں داخل کیا اور مہر نبوت کو چھوا۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے معاویہ اور ان کے بیٹے کی قمیص کے بٹن جاڑا ہو یا گرمی ہمیشہ کھلے دیکھے، یہ دونوں کبھی بٹن لگاتے ہی نہیں تھے اپنے گریبان ہمیشہ کھلے رکھتے تھے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/ الشمائل (۵۸)، سنن ابن ماجہ/اللباس ۱۱ (۳۵۷۸)، (تحفة الأشراف: ۱۱۰۷۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۳۴، ۴/۱۹، ۵/۳۵)
Narrated Aishah: We were seated in our house in the noonday heat. Someone said to Abu Bakr: Here is the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم coming to us shading his head at the hour when he would not generally come. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then came; he asked for permission and he gave him permission and he entered.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہم اپنے گھر میں گرمی میں عین دوپہر کے وقت بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک کہنے والے نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر ڈھانپے ایک ایسے وقت میں تشریف لا رہے ہیں جس میں آپ نہیں آیا کرتے ہیں چنانچہ آپ آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو اجازت دی تو آپ اندر تشریف لائے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس ۱۶ (۵۸۰۷)، (تحفة الأشراف: ۱۶۶۵۳، ۱۶۶۶۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۱۹۸)
Narrated Abu Jurayy Jabir ibn Salim al-Hujaymi: I saw a man whose opinion was accepted by the people, and whatever he said they submitted to it. I asked: Who is he? They said: This is the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. I said: On you be peace, Messenger of Allah, twice. He said: Do not say On you be peace, for On you be peace is a greeting for the dead, but say Peace be upon you . I asked: You are the Messenger of Allah (may peace be upon you)? He said: I am the Messenger of Allah Whom you call when a calamity befalls you and He removes it; when you suffer from drought and you call Him, He grows food for you; and when you are in a desolate land or in a desert and your she-camel strays and you call Him, He returns it to you. I said: Give me some advice. He said: Do not abuse anyone. He said that he did not abuse a freeman, or a slave, or a camel or a sheep thenceforth. He said: Do not look down upon any good work, and when you speak to your brother, show him a cheerful face. This is a good work. Have your lower garment halfway down your shin; if you cannot do it, have it up to the ankles. Beware of trailing the lower garment, for it is conceit and Allah does not like conceit. And if a man abuses and shames you for something which he finds in you, then do not shame him for something which you find in him; he will bear the evil consequences for it.
ابوجری جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کی رائے کو قبول کرتے ہیں جب بھی وہ کوئی بات کہتا ہے لوگ اسی کو تسلیم کرتے ہیں، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، میں نے دو مرتبہ کہا: «عليك السلام يا رسول الله» آپ پر سلام ہو اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عليك السلام»نہ کہو، یہ مردوں کا سلام ہے اس کے بجائے «السلام عليك» کہو۔ میں اس اللہ کا بھیجا رسول ہوں، جس کو تمہیں کوئی ضرر لاحق ہو تو پکارو وہ تم سے اس ضرر کو دور فرما دے گا، جب تم پر کوئی قحط سالی آئے اور تم اسے پکارو تو وہ تمہارے لیے غلہ اگا دے گا، اور جب تم کسی چٹیل زمین میں ہو یا میدان پھر تمہاری اونٹنی گم ہو جائے تو اگر تم اس اللہ سے دعا کرو تو وہ اسے لے آئے گا میں نے کہا: مجھے نصیحت کیجئے آپ نے فرمایا: کسی کو بھی گالی نہ دو ۔ اس کے بعد سے میں نے کسی کو گالی نہیں دی، نہ آزاد کو، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو، نہ بکری کو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بھی بھلائی کے کام کو معمولی نہ سمجھو، اور اگر تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے بات کرو گے تو یہ بھی بھلے کام میں داخل ہے، اور اپنا تہ بند نصف «ساق» ( پنڈلی ) تک اونچی رکھو، اور اگر اتنا نہ ہو سکے تو ٹخنوں تک رکھو، اور تہ بند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے بچو کیونکہ یہ غرور و تکبر کی بات ہے، اور اللہ غرور پسند نہیں کرتا، اور اگر تمہیں کوئی گالی دے اور تمہارے اس عیب سے تمہیں عار دلائے جسے وہ جانتا ہے تو تم اسے اس کے اس عیب سے عار نہ دلاؤ جسے تم جانتے ہو کیونکہ اس کا وبال اسی پر ہو گا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۲۱۲۴)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الاستئذان ۲۸ (۲۷۲۲)، سنن النسائی/ الکبری (۹۶۹۱)، مسند احمد (۳/۴۸۲، ۵/۶۳)
Narrated Ibn Umar: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone trails his garment arrogantly, Allah will not look at him on the Day of Resurrection. Then Abu Bakr said: One of the sides of my lower garment trails, but still I remain careful about it. He said: You are not one of those who do so conceitedly.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی غرور اور تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹے گا تو اللہ اسے قیامت کے دن نہیں دیکھے گا یہ سنا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے تہبند کا ایک کنارہ لٹکتا رہتا ہے جب کہ میں اس کا بہت خیال رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تم ان میں سے نہیں ہو جو غرور سے یہ کام کیا کرتے ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة ۵ (۳۶۶۵)، اللباس ۱ (۵۷۸۳)، ۲ (۵۷۸۴)، ۵ (۵۷۹۱)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی ۵۰ (۵۳۳۷)، (تحفة الأشراف: ۷۰۲۶)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس ۹ (۲۰۸۵)، سنن الترمذی/اللباس ۸ (۱۷۳۰)، ۹ (۱۷۳۱)، سنن ابن ماجہ/اللباس ۶ (۳۵۷۱)، ۹ (۳۵۷۶)، موطا امام مالک/اللباس ۵ (۹)، مسند احمد (۲/۵، ۱۰، ۳۲، ۴۲، ۴۴، ۴۶، ۵۵، ۵۶، ۶۰، ۶۵، ۶۷، ۶۹، ۷۴، ۷۶، ۸۱)
Narrated Abu Hurairah: A man was praying with his lower garment hanging down. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to him: Go and perform ablution. He then went and performed ablution. He then came and he said: Go and perform ablution. Then a man said to him: Messenger of Allah, what is the matter with you that you commanded him to perform ablution and then you kept silence ? He replied: He was praying while hanging down his lower garments, and Allah does not accept the prayer of a man who hangs down his lower garment.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنا تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جا وضو کر کے آؤ وہ گیا اور وضو کر کے دوبارہ آیا، پھر آپ نے فرمایا: جاؤ اور وضو کر کے آؤ تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس کو وضو کا حکم دیتے ہیں پھر چپ ہو رہتے ہیں آخر کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا، اور اللہ ایسے شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا جو اپنا تہ بند ٹخنے کے نیچے لٹکائے ہو ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم (۶۳۸)، (تحفة الأشراف: ۱۴۲۴۱)
Narrated Abu Dharr: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: There are three to whom Allah will not speak and at whom He will not look on the Day of Resurrection, and whom He will not declare pure, and they will have a painful punishment. I asked: Who are they, Messenger of Allah, they are losers and disappointed ? He repeated it three times. I asked: Who are they. Messenger of Allah, they are losers and disappointed ? He replied: The one who wears a trailing robe, the one who takes account of what he gives, and the one who produces a ready sale of a commodity by false swearing.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن نہ بات کرے گا، نہ انہیں رحمت کی نظر سے دیکھے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا میں نے پوچھا: وہ کون لوگ ہیں؟ اللہ کے رسول! جو نامراد ہوئے اور گھاٹے اور خسارے میں رہے، پھر آپ نے یہی بات تین بار دہرائی، میں نے عرض کیا: وہ کون لوگ ہیں؟ اللہ کے رسول! جو نامراد ہوئے اور گھاٹے اور خسارے میں رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹخنہ سے نیچے تہ بند لٹکانے والا، اور احسان جتانے والا، اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچنے والا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان ۴۶ (۱۰۶)، سنن الترمذی/البیوع ۵ (۱۲۱۱)، سنن النسائی/الزکاة ۶۹ (۲۵۶۴)، البیوع ۵ (۴۴۶۳)، الزینة من المجتبی ۵۰ (۵۳۳۵)، سنن ابن ماجہ/التجارات ۳۰ (۲۲۰۸)، (تحفة الأشراف: ۱۱۹۰۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۴۸، ۱۵۸، ۱۶۲، ۱۶۸، ۱۷۸)، دی/ البیوع ۶۳ (۲۶۴۷)
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Dharr though a different chain of narrators, but the former is more perfect. This version has: Mannan is the one takes account of anything he gives.
اس سند سے بھی ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے راوی کہتے ہیں: «منان» وہ ہے جو بغیر احسان جتائے کچھ نہ دے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ۱۱۹۰۹)
Narrated Qays ibn Bishr at-Taghlibi: My father told me that he was a companion of Abu Darda. There was in Damascus a man from the companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, called Ibn al-Hanzaliyyah. He was a recluse and rarely met the people. He remained engaged in prayer. When he was not praying he was occupied in glorifying Allah and exalting Him until he went to his family. Once he passed us when we were with Abud Darda. Abud Darda said to him: Tell us a word which benefits us and does not harm you. He said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent out a contingent and it came back. One of the men came and sat in the place where the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to sit, and he said to a man beside him: Would that you saw us when we met the enemy and so-and-so attacked and cut through a lance. He said: Take it from me and I am a boy of the tribe Ghifar. What do you think about his statement? He replied: I think his reward was lost. Another man heard it and said: I do not think that there is any harm in it. They quarrelled until the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم heard it, and he said: Glory be to Allah! There is no harm if he is rewarded and praised. I saw that Abud Darda was pleased with it and began to raise his hand to him and say: Did you hear it from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم? He said: Yes. He continued to repeat it to him so often that I thought he was going to kneel down. He said: On another day he again passed us. Abud Darda said to him: (Tell us) a word which benefits us and does not harm you. He said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to us: One who spends on (the maintenance of) horses (for jihad) is like the one who spreads his hand to give alms (sadaqah) and does not withhold it. He then passed us on another day. Abud Darda said to him: (Tell us) a word which benefits us and does no harm to you. He said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Khuraym al-Asadi would be a fine man were it not for the length of his hair, which reaches the shoulders, and the way he lets his lower garment hang down. When Khuraym heard that, he hurriedly, took a knife, cut his hair in line with his ears and raised his lower garment half way up his legs. He then passed us on another day. Abud Darda said to him: (tell us) a word which benefits us and does not harm you. He said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: You are coming to your brethren; so tidy your mounts and tidy your dress, until you are like a mole among the people. Allah does not like obscene words or deeds, or do intentional committing of obscenity. Abu Dawud said: Similarly, Abu Nu'aim narrated from Hisham. He said: Until you will be like a mole among the people.
قیس بن بشر تغلبی کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے خبر دی اور وہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھی تھے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص دمشق میں تھے جنہیں ابن حنظلیہ کہا جاتا تھا، وہ خلوت پسند آدمی تھے، لوگوں میں کم بیٹھتے تھے، اکثر اوقات نماز ہی میں رہتے تھے جب نماز سے فارغ ہوتے تو جب تک گھر نہ چلے جاتے تسبیح و تکبیر ہی میں لگے رہتے۔ ایک روز وہ ہمارے پاس سے گزرے اور ہم ابو الدرداء کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ان سے ابوالدرداء نے کہا: کوئی ایسی بات کہئیے جس سے ہمیں فائدہ ہو، اور آپ کو اس سے کوئی نقصان نہ ہو تو وہ کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ جہاد کے لیے بھیجا، جب وہ سریہ لوٹ کر واپس آیا تو اس میں کا ایک شخص آیا اور جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھا کرتے تھے وہاں آ کر بیٹھ گیا، پھر وہ اپنے بغل کے ایک شخص سے کہنے لگا: کاش تم نے ہمیں دیکھا ہوتا جب ہماری دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی تھی، فلاں نے نیزہ اٹھا کر دشمن پر وار کیا اور وار کرتے ہوئے یوں گویا ہوا لے میرا یہ وار اور میں قبیلہ غفار کا فرزند ہوں بتاؤ تم اس کے اس کہنے کو کیسا سمجھتے ہو؟ وہ بولا: میں تو سمجھتا ہوں کہ اس کا ثواب جاتا رہا، ایک اور شخص نے اسے سنا تو بولا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، چنانچہ وہ دونوں جھگڑنے لگے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: سبحان اللہ! کیا قباحت ہے اگر اس کو ثواب بھی ملے اور لوگ اس کی تعریف بھی کریں ۔ بشر تغلبی کہتے ہیں: میں نے ابوالدرداء کو دیکھا وہ اسے سن کر خوش ہوئے اور اپنا سر ان کی طرف اٹھا کر پوچھنے لگے کہ آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، پھر وہ باربار یہی سوال دہرانے لگے یہاں تک کہ میں سمجھا کہ وہ ان کے گھٹنوں پر بیٹھ جائیں گے۔ پھر ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے تو ان سے ابو الدرداء نے کہا: مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس سے ہمیں فائدہ ہو اور آپ کو اس سے کوئی نقصان نہ ہو، تو انہوں نے کہا: ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( جہاد کی نیت سے ) گھوڑوں کی پرورش پر صرف کرنے والا اس شخص کے مانند ہے جو اپنا ہاتھ پھیلا کے صدقہ کر رہا ہو کبھی انہیں سمیٹتا نہ ہو ۔ پھر ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے پھر ابوالدرداء نے ان سے کہا: ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ پہنچائے، تو انہوں نے کہا ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خریم اسدی کیا ہی اچھے آدمی ہیں اگر ان کے سر کے بال بڑھے ہوئے نہ ہوتے، اور تہ بند ٹخنے سے نیچے نہ لٹکتا یہ بات خریم کو معلوم ہوئی تو انہوں نے چھری لے کر اپنے بالوں کو کاٹ کر کانوں کے برابر کر لیا، اور تہ بند کو نصف «ساق» ( پنڈلی ) تک اونچا کر لیا۔ پھر دوبارہ ایک اور دن ہمارے پاس سے ان کا گزر ہوا تو ابوالدرداء نے ان سے کہا: ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ پہنچائے اور جس سے آپ کو کوئی نقصان نہ ہو، تو وہ بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اب تم اپنے بھائیوں سے ملنے والے ہو ( یعنی سفر سے واپس گھر پہنچنے والے ہو ) تو اپنی سواریاں اور اپنے لباس درست کر لو تاکہ تم اس طرح ہو جاؤ گویا تم تل ہو لوگوں میں یعنی ہر شخص تمہیں دیکھ کر پہچان لے، کیونکہ اللہ فحش گوئی کو، اور قدرت کے باوجود خستہ حالت ( پھٹے پرانے کپڑے ) میں رہنے کو پسند نہیں کرتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح ابونعیم نے ہشام سے روایت کیا ہے اس میں «حتى تكونوا كأنكم شامة في الناس» کے بجائے «حتى تكونوا كالشامة في الناس» ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ۴۶۵۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۷۹، ۱۸۰)
Narrated Abu Hurairah: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah Most High says: Pride is my cloak and majesty is my lower garment, and I shall throw him who view with me regarding one of them into Hell.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل کا فرمان ہے: بڑائی ( کبریائی ) میری چادر ہے اور عظمت میرا تہ بند، تو جو کوئی ان دونوں چیزوں میں کسی کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البر والصلة ۳۸ (۲۶۲۰)، سنن ابن ماجہ/الزھد ۱۶ (۴۱۷۴)، (تحفة الأشراف: ۱۲۱۹۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۴۸، ۳۷۶، ۴۱۴، ۴۲۷، ۴۴۲)
Narrated Abdullah (bin Masud): The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: He who has in his heart as much pride as much pride as grain of mustard-seed will not enter paradise. And he who has in his heart as much faith as grain of mustard-seed will not enter Hell. Abu Dawud said: Al-Qasmali has transmitted it from Al-Amash in a similar way.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو سکتا جس کے دل میں رائی کے برابر کبر و غرور ہو اور وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہو سکتا جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان ۳۹ (۹۱)، سنن الترمذی/البر والصلة ۶۱ (۱۹۹۸)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ۹ (۵۹)، (تحفة الأشراف: ۹۴۲۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۸۷، ۴۱۲، ۴۱۶، ۲/۱۶۴، ۳/۱۲،۱۷)
Narrated Abu Hurairah: A man who was beautiful came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He said: Messenger of Allah, I am a man who likes beauty, and I have been given some of it, as you see. And I do not like that anyone excels me (in respect of beauty). Perhaps he said: even to the extent of thong of my sandal (shirak na'li) , or he he said: to the extent of strap of my sandal (shis'i na'li) . Is it pride? He replied: No, pride is disdaining what is true and despising people.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ ایک خوبصورت آدمی تھا اس نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے خوبصورتی پسند ہے، اور مجھے خوبصورتی دی بھی گئی ہے جسے آپ دیکھ رہے ہیں یہاں تک کہ میں نہیں چاہتا کہ خوبصورتی اور زیب و زینت میں مجھ سے کوئی میری جوتی کے تسمہ کے برابر بھی بڑھنے پائے، کیا یہ کبر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ کبر یہ ہے کہ حق بات کی تغلیط کرے، اور لوگوں کو کمتر سمجھے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۴۵۴۰)
Narrated Abdur Rahman: I asked Abu Saeed al-Khudri about wearing lower garment. He said: You have come to the man who knows it very well. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The way for a believer to wear a lower garment is to have it halfway down his legs and he is guilty of no sin if it comes halfway between that and the ankles, but what comes lower than the ankles is in Hell. On the day of Resurrection. Allah will not look at him who trails his lower garment conceitedly.
عبدالرحمٰن کہتے ہیں میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے تہ بند کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے: اچھے جانکار سے تم نے پوچھا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کا تہ بند آدھی پنڈلی تک رہتا ہے، تہ بند پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان میں ہو تو بھی کوئی حرج یا کوئی مضائقہ نہیں، اور جو حصہ ٹخنے سے نیچے ہو گا وہ جہنم میں رہے گا اور جو اپنا تہ بند غرور و تکبر سے گھسیٹے گا تو اللہ اسے رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/اللباس ۶ (۳۵۷۳)، (تحفةالأشراف: ۴۱۳۶)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/اللباس ۵ (۱۲)، مسند احمد (۳/۵،۳۱، ۴۴، ۵۲، ۹۷)
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Hanging down is in lower garment, shirt and turban. If anyone trails any of them conceitedly, Allah will not look at him on the Day of Resurrection.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسبال: تہ بند ( لنگی ) ، قمیص ( کرتے ) اور عمامہ ( پگڑی ) میں ہے، جو ان میں سے کسی چیز کو تکبر اور گھمنڈ سے گھسیٹے گا اللہ اسے قیامت کے روز رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/اللباس ۹ (۳۵۷۶)، (تحفة الأشراف: ۶۷۶۸)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (۹۷۲۰)
Narrated Abdullah ibn Umar: What the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said about lower garment also applies to shirt.
یزید بن ابی سمیہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ازار ( تہ بندں، لنگی ) کے سلسلہ میں فرمائی ہے وہی قمیص ( کرتہ ) کے متعلق بھی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ۸۵۶۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۱۱۰، ۱۳۷)
Ikrimah said that he saw Ibn Abbas putting on lower garment, letting the hem on the top of his foot and raising it behind. He said: Why do you put on the lower garment in this way? He replied: It is how I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم do it.
عکرمہ کا بیان ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ تہ بند باندھتے ہیں تو اپنے تہ بند کے آگے کے کنارے کو اپنے دونوں قدموں کی پشت پر رکھتے ہیں اور اس کے پیچھے کے حصہ کو اونچا رکھتے ہیں، میں نے ان سے پوچھا: آپ تہ بند ایسا کیوں باندھتے ہیں؟ تو وہ بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی باندھتے دیکھا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۶۲۱۵)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (۹۶۸۱)
Narrated Ibn Abbas: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم cursed women who imitate men and men who imitate women.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر اور عورتوں سے مشابہت کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس ۶۱ (۵۸۸۵)، الحدود ۳۳ (۶۸۳۴)، سنن الترمذی/الأدب ۳۴ (۲۷۸۴)، سنن ابن ماجہ/النکاح ۲۲ (۱۹۰۴)، (تحفة الأشراف: ۶۱۸۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۵۱، ۲۵۴، ۳۳۰، ۳۳۹)، سنن الدارمی/الاستئذان ۲۱ (۲۶۹۱)
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم cursed the man who dressed like a woman and the woman who dressed like a man.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد پر جو عورتوں کا لباس پہنتا ہے اور اس عورت پر جو مردوں کا لباس پہنتی ہے لعنت فرمائی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ۱۲۶۷۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۳۲۵)
Ibn Abu Mulaykah told that when someone remarked to Aishah that a woman was wearing sandals, she replied: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم cursed mannish women.
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ عورت جوتا پہنتی ہے ( جو مردوں کے لیے مخصوص تھا ) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد بننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۶۲۵۱)