Abdur-Rahman bin Muhariz said: We asked Fadalah bin Ubaid about the hanging the (amputated) hand on the neck of a thief whether it was a sunnan. He said: A thief was brought to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and his hand was cut off. Thereafter he commanded for it, and it was hung on his neck.
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکانے کے متعلق پوچھا کہ کیا یہ مسنون ہے؟ تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا پھر آپ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے اس کے گلے میں لٹکا دیا گیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحدود ۱۷ (۱۴۴۷)، سنن النسائی/قطع السارق ۱۵ (۴۹۸۵)، سنن ابن ماجہ/الحدود ۲۳ (۲۵۸۷)، (تحفة الأشراف: ۱۱۰۲۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ۶/۱۹)
Ibn Abbas said: The Quranic verse goes: “If any of your woman are guilty of lewdness, take the evidence of four (reliable) witnesses from amongst you against them, and if they testify, Confine them to houses until death do chain them or Allah ordains for them some (other) way. Allah then mentioned man after woman and combined them in another verse: “If two men among you are guilty of lewdness, punish them both. If they repent and amend, leave them alone. This command was abrogated by the verse relating to flogging: “The woman and the man guilty of adultery or fornication – flog each of them with one hundred stripes.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «واللاتي يأتين الفاحشة من نسائكم فاستشهدوا عليهن أربعة منكم فإن شهدوا فأمسكوهن في البيوت حتى يتوفاهن الموت أو يجعل الله لهن سبيلا» تمہاری عورتوں میں سے جو بےحیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کر دے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ نکال دے ( سورۃ النساء: ۱۵ ) اور مرد کا ذکر عورت کے بعد کیا، پھر ان دونوں کا ایک ساتھ ذکر کیا فرمایا: «واللذان يأتيانها منكم فآذوهما فإن تابا وأصلحا فأعرضوا عنهما» تم میں دونوں جو ایسا کر لیں انہیں ایذا دو اور اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے منہ پھیر لو ( سورۃ النساء: ۱۶ ) ، پھر یہ «جَلْد» والی آیت «الزانية والزاني فاجلدوا كل واحد منهما مائة جلدة» زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد دونوں کو سو سو کوڑے مارو ( سورۃ النور: ۲ ) منسوخ کر دی گئی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۶۲۶۷)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، عَنْ شِبْلٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجِاهِدٍ، قَالَ: السَّبِيلُ الْحَدُّ، قَالَ سُفْيَانُ فَآذُوهُمَا سورة النساء آية 16 الْبِكْرَانِ،فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ سورة النساء آية 15 الثَّيِّبَاتُ.
Mujahid said: “Apponting a way in the verse (iv. 15) means prescribed punishment. Sufiyan said: “Punish them “refers to unmarried, and “confine them to houses” refers to the women who are married.
مجاہد کہتے ہیں کہ «سبیل» سے مراد حد ہے۔ سفیان کہتے ہیں: «فآذوهما» سے مراد کنوارا مرد اور کنواری عورت ہے، اور «فأمسكوهن في البيوت» سے مراد غیر کنواری عورتیں ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۹۲۶۷)
Ubadah bin al-Samit reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as sayings: Receive my teachings, receive my teachings. Allah has appointed a way for those women. If the parties have been married, they shall receive a hundred lashes and stoned to death. If the parties are unmarried, they shall receive a hundred lashes and banished for a year.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے سیکھ لو، مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے راہ نکال دی ہے غیر کنوارہ مرد غیر کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے اور رجم ہے اور کنوارا مرد کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحدود ۳ (۱۶۹۰)، سنن الترمذی/الحدود ۸ (۱۴۳۴)، سنن ابن ماجہ/الحدود ۷ (۲۵۵۰)، (تحفة الأشراف: ۵۰۸۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ۳/۴۷۵، ۵/۳۱۳، ۳۱۷، ۳۱۸، ۳۲۰)، سنن الدارمی/الحدود ۱۹ (۲۳۷۲)
A similar tradition has been transmitted by al-Hasan through a chain of Yahya and to the same effect. This version adds: They shall receive a hundred lashes and toned to death.
اس طریق سے بھی حسن سے یحییٰ والی سند ہی سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے ( جب غیر کنوارا مرد غیر کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو ) سو کوڑے اور رجم ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ۵۰۸۳)
Narrated Ubadah ibn as-Samit: The tradition mentioned above (No. 4401) has also been transmitted by Ubadah ibn as-Samit through a different chain of narrators. This version has: The people said to Saad ibn Ubadah: Abu Thabit, the prescribed punishments have been revealed: if you find a man with your wife, what will you do? He said: I shall strike them with a sword so much that they become silent (i. e. die). Should I go and gather four witnesses? Until that (time) the need would be fulfilled. So they went away and gathered with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: Messenger of Allah! did you not see Abu Thabit. He said so-and-so. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The sword is a sufficient witness. He then said: No, no, a furious and a jealous man may follow this course. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Waki from al-Fadl bin Dilham from al-Hasan, from Qabisah bin Huraith, from Salamah bin al-Muhabbaq, from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. And this is the chain of the tradition narrated by Ibn al-Muhabbaq to the effect that a man had sexual intercourse with a slave girl of his wife. Abu Dawud said: Al-Fadl bin Dilham was not the memoriser of traditions. He was a butcher in Wasit.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ کچھ لوگوں نے سعد بن عبادہ سے کہا: اے ابوثابت! حدود نازل ہو چکے ہیں اگر آپ اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائیں تو کیا کریں، انہوں نے کہا: ان دونوں کا کام تلوار سے تمام کر دوں گا، کیا میں چار گواہ جمع کرنے جاؤں گا تب تک تو وہ اپنا کام پورا کر چکے گا، چنانچہ وہ چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور ان لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے ابوثابت کو نہیں سنا وہ ایسا ایسا کہہ رہے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ازروئے گواہ تلوار ہی کافی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، اسے قتل مت کرنا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ غصہ ور، اور غیرت مند پیچھے پڑ کر ( بغیر اس کی تحقیق کئے کہ اس سے زنا سرزد ہوا ہے یا نہیں محض گمان ہی پر ) اسے قتل نہ کر ڈالیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کا ابتدائی حصہ وکیع نے فضل بن دلہم سے، فضل نے حسن سے، حسن نے قبیصہ بن حریث سے، قبیصہ نے سلمہ بن محبق سے سلمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے، یہ سند جس کا ذکر وکیع نے کیا ہے ابن محبق والی روایت کی سند ہے جس میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے مجامعت کر لی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: فضل بن دلہم حافظ حدیث نہیں تھے، وہ واسط میں ایک قصاب تھے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ۵۰۸۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ۳/۴۷۶)
Abdullah bin Abbas said: Umar bin al-Khattab gave an address saying: Allah sent Muhammad صلی اللہ علیہ وسلم with truth and sent down the Books of him, and the verse of stoning was included in what He sent down to him. We read it and memorized it. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had people stoned to death and we have done it also since his death. I am afraid the people might say with the passage of time: We do not find the verse of stoning in the Books of Allah, and thus they stray by abandoning a duty which Allah had received. Stoning is a duty laid down (by Allah) for married men and women who commit fornication when proof is established, or if there is pregnancy, or a confession. I swear by Allah, had it not been so that the people might say: Umar made an addition to Allah’s Book, I would have written it (there).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اس میں آپ نے کہا: اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی، تو جو آیتیں آپ پر نازل ہوئیں ان میں آیت رجم بھی ہے، ہم نے اسے پڑھا، اور یاد رکھا، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا، آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا، اور مجھے اندیشہ ہے کہ اگر زیادہ عرصہ گزر جائے تو کوئی کہنے والا یہ نہ کہے کہ ہم اللہ کی کتاب میں آیت رجم نہیں پاتے، تو وہ اس فریضہ کو جسے اللہ نے نازل فرمایا ہے چھوڑ کر گمراہ ہو جائے، لہٰذا مردوں اور عورتوں میں سے جو زنا کرے اسے رجم ( سنگسار ) کرنا برحق ہے، جب وہ شادی شدہ ہو اور دلیل قائم ہو چکی ہو، یا حمل ہو جائے یا اعتراف کرے، اور قسم اللہ کی اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں زیادتی کی ہے تو میں اسے یعنی آیت رجم کو مصحف میں لکھ دیتا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحدود ۳۰ (۶۸۲۹)، صحیح مسلم/الحدود ۴ (۱۶۹۱)، سنن الترمذی/الحدود ۷ (۱۴۳۲)، سنن ابن ماجہ/الحدود ۹ (۲۵۵۳)، (تحفة الأشراف: ۱۰۵۰۸)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود ۱ (۸)، مسند احمد (۱/۲۳، ۲۴، ۴۰، ۴۷، ۵۵)، سنن الدارمی/الحدود ۱۶ (۲۳۶۸)
Narrated Nuaym ibn Huzzal: Yazid ibn Nuaym ibn Huzzal, on his father's authority said: Maiz ibn Malik was an orphan under the protection of my father. He had illegal sexual intercourse with a slave-girl belonging to a clan. My father said to him: Go to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and inform him of what you have done, for he may perhaps ask Allah for your forgiveness. His purpose in that was simply a hope that it might be a way of escape for him. So he went to him and said: Messenger of Allah! I have committed fornication, so inflict on me the punishment ordained by Allah. He (the Prophet) turned away from him, so he came back and said: Messenger of Allah! I have committed fornication, so inflict on me the punishment ordained by Allah. He (again) turned away from him, so he came back and said: Messenger of Allah! I have committed fornication, so inflict on me the punishment ordained by Allah. When he uttered it four times, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: You have said it four times. With whom did you commit it? He replied: With so and so. He asked: Did you lie down with her? He replied: Yes. He asked: Had your skin been in contact with hers? He replied. Yes. He asked: Did you have intercourse with her? He said: Yes. So he (the Prophet) gave orders that he should be stoned to death. He was then taken out to the Harrah, and while he was being stoned he felt the effect of the stones and could not bear it and fled. But Abdullah ibn Unays encountered him when those who had been stoning him could not catch up with him. He threw the bone of a camel's foreleg at him, which hit him and killed him. They then went to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and reported it to him. He said: Why did you not leave him alone. Perhaps he might have repented and been forgiven by Allah.
نعیم بن ہزال بن یزید اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد کی گود میں ماعز بن مالک یتیم تھے محلہ کی ایک لڑکی سے انہوں نے زنا کیا، ان سے میرے والد نے کہا: جاؤ جو تم نے کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دو، ہو سکتا ہے وہ تمہارے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کریں، اس سے وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے لیے کوئی سبیل نکلے چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زنا کر لیا ہے مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوبارہ آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زنا کر لیا ہے، مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے، یہاں تک کہ ایسے ہی چار بار انہوں نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم چار بار کہہ چکے کہ میں نے زنا کر لیا ہے تو یہ بتاؤ کہ کس سے کیا ہے؟ انہوں نے کہا: فلاں عورت سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کے ساتھ سوئے تھے؟ ماعز نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اس سے چمٹے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے اس سے جماع کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم ( سنگسار ) کئے جانے کا حکم دیا، انہیں حرہ ۱؎ میں لے جایا گیا، جب لوگ انہیں پتھر مارنے لگے تو وہ پتھروں کی اذیت سے گھبرا کے بھاگے، تو وہ عبداللہ بن انیس کے سامنے آ گئے، ان کے ساتھی تھک چکے تھے، تو انہوں نے اونٹ کا کھر نکال کر انہیں مارا تو انہیں مار ہی ڈالا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور ان سے اسے بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا ۲؎، شاید وہ توبہ کرتا اور اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف: ۱۱۶۵۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ۵/۲۱۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : مدینہ کے قریب ایک سیاہ پتھریلی جگہ ہے اس وقت شہر میں داخل ہے۔ ط ۲؎ : کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اقرار سے مکر جاتا اور اس سزا سے بچ جاتا نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول «هلا تركتموه» اس بات کی دلیل ہے کہ اقرار کرنے والا اگر بھاگنے لگ جائے تو اسے مارنا بند کر دیا جائے گا، پھر اگر وہ بصراحت اپنے اقرار سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا ورنہ رجم کر دیا جائے گا یہی قول امام شافعی اور امام احمد کا ہے۔
Narrated Jabir ibn Abdullah: Muhammad ibn Ishaq said: I mentioned the story of Maiz ibn Malik to Asim ibn Umar ibn Qatadah. He said to me: Hasan ibn Muhammad ibn Ali ibn Abu Talib said to me: Some men of the tribe of Aslam whom I do not blame and whom you like have transmitted to me the saying of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم: Why did you not leave him alone? He said: But I did not understand this tradition. So I went to Jabir ibn Abdullah and said (to him): Some men of the tribe of Aslam narrate that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said when they mentioned to him the anxiety of Maiz when the stones hurt him: Why did you not leave him alone?' But I do not know this tradition. He said: My cousin, I know this tradition more than the people. I was one of those who had stoned the man. When we came out with him, stoned him and he felt the effect of the stones, he cried: O people! return me to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. My people killed me and deceived me; they told me that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would not kill me. We did not keep away from him till we killed him. When we returned to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم we informed him of it. He said: Why did you not leave him alone and bring him to me? and he said this so that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم might ascertain it from him. But he did not say this to abandon the prescribed punishment. He said: I then understood the intent of the tradition.
محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھ سے حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں: مجھے قبیلہ اسلم کے کچھ لوگوں نے جو تمہیں محبوب ہیں اور جنہیں میں متہم نہیں قرار دیتا بتایا ہے کہ «فهلا تركتموه» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے، حسن کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث سمجھی نہ تھی، تو میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اور ان سے کہا کہ قبیلہ اسلم کے کچھ لوگ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے پتھر پڑنے سے ماعز کی گھبراہٹ کا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا یہ بات میرے سمجھ میں نہیں آئی، تو جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: بھتیجے! میں اس حدیث کا سب سے زیادہ جانکار ہوں، میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے انہیں رجم کیا جب ہم انہیں لے کر نکلے اور رجم کرنے لگے اور پتھر ان پر پڑنے لگا تو وہ چلائے اور کہنے لگے: لوگو! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس لے چلو، میری قوم نے مجھے مار ڈالا، ان لوگوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے، انہوں نے مجھے یہ بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مار نہیں ڈالیں گے، لیکن ہم لوگوں نے انہیں جب تک مار نہیں ڈالا چھوڑا نہیں، پھر جب ہم لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا، میرے پاس لے آتے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے فرمایا تاکہ آپ ان سے مزید تحقیق کر لیتے، نہ اس لیے کہ آپ انہیں چھوڑ دیتے، اور حد قائم نہ کرتے، وہ کہتے ہیں: تو میں اس وقت حدیث کا مطلب سمجھ سکا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ۲۲۳۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ۳/۳۸۱)
Narrated Abdullah ibn Abbas: Maiz ibn Malik came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said that he had committed fornication and he (the Prophet) turned away from him. He repeated it many times, but he (the Prophet) turned away from him. He asked his people: Is he mad? They replied: There is no defect in him. He asked: Have you done it with her? He replied: Yes. so he ordered that he should be stoned to death. He was taken out and stoned to death, and he (the Prophet) did not pray over him.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور انہوں نے عرض کیا کہ میں نے زنا کر لیا ہے، آپ نے ان سے منہ پھیر لیا، پھر انہوں نے کئی بار یہی بات دہرائی، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ پھیر لیتے تھے، پھر آپ نے ان کی قوم کے لوگوں سے پوچھا: کیا یہ دیوانہ تو نہیں؟ لوگوں نے کہا: نہیں ایسی کوئی بات نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا واقعی تم نے ایسا کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں واقعی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سنگسار کئے جانے کا حکم دیا، تو انہیں لا کر سنگسار کر دیا گیا، اور آپ نے ان پر جنازہ کی نماز نہیں پڑھی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۶۰۶۵)
Jabir bin Samurah said: I saw Ma’iz bin Malik when he was brought to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He was a small and muscular man. He did not wear the loose outer garment. He made confession about him four times that he committed fornication. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Perhaps you kissed her. He said that this most discarded man has committed fornication. He said: So he had him stoned to death and gave an address, saying: Beware, whenever we go out on an expedition in the path of Allah, one of them (I. e. the people) lags behind with a bleating sound like that of a he-goat, and gives modicum of his milk (i. e. sperm) to one of the women. If Allah gives control over any of them, I shall deter him from them (i. e. women) by punishing him severely.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ماعز بن مالک کو جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ ایک پست قد فربہ آدمی تھے، ان کے جسم پر چادر نہ تھی، انہوں نے اپنے خلاف خود ہی چار مرتبہ گواہیاں دیں کہ انہوں نے زنا کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہو سکتا ہے تم نے بوسہ لیا ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی اس رذیل ترین نے زنا کیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کیا، پھر خطبہ دیا، اور فرمایا: آگاہ رہو جب ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے چلے جاتے ہیں، اور ان میں سے کوئی ان خاندانوں باقی رہ جاتا ہے تو وہ ویسے ہی پھنکارتا ہے جیسے بکرا جفتی کے وقت بکری پر پھنکارتا ہے، پھر وہ ان عورتوں میں سے کسی کو تھوڑا سامان ( جیسے دودھ اور کھجور وغیرہ دے کر اس سے زنا کر بیٹھتا ہے ) تو سن لو! اگر اللہ ایسے کسی آدمی پر ہمیں قدرت بخشے گا تو میں اسے ان سے روکوں گا ( یعنی سزا دوں گا رجم کی یا کوڑے کی ) ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحدود ۵ (۱۶۹۲)، (تحفة الأشراف: ۲۱۹۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ۵/۸۶، ۸۷)
Simak said: I heard this tradition from Jabir bin Samurah. But the first version is more perfect. This version has: He repeated twice, Simak said: I narrated to Saeed bin Jubair. He said: He repeated it four times.
سماک کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث سنی ہے، اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کے اقرار کو دوبار رد کیا، سماک کہتے ہیں: میں نے اسے سعید بن جبیر سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: آپ نے ان کے اقرار کو چار بار رد کیا تھا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ۲۱۸۱)
Ibn Abbas said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم asked Ma’iz bin Malik: Is what I have heard about you is true? He said: What have you heard about me? He said: I have heard that you have had intercourse with a girl belonging to the family of so and so. He said: Yes. He then testified four times. He (The prophet) then gave order regarding him and he was stoned to death.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تمہارے متعلق جو بات مجھے معلوم ہوئی ہے صحیح ہے؟ وہ بولے: میرے متعلق آپ کو کون سی بات معلوم ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے بنی فلاں کی باندی سے زنا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر چار بار اس کی گواہی دی، تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ رجم کر دیئے گئے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحدود ۵ (۱۶۹۳)، سنن الترمذی/الحدود ۴ (۱۴۲۷)، (تحفة الأشراف: ۵۵۱۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ۱/۲۴۵، ۳۱۴، ۳۲۸)
Narrated Abdullah ibn Abbas: Maiz ibn Malik came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and admitted fornication twice. But he drove him away. He then came and admitted fornication twice. But he drove him away. He then came and admitted fornication twice. He (the Prophet) said: You hae testified to yourself four times. Take him away and stone him to death.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اور انہوں نے زنا کا دو بار اقرار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھگا دیا، وہ پھر آئے اور انہوں نے پھر دو بار زنا کا اقرار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اپنے خلاف چار بار گواہی دے دی، لے جاؤ اسے سنگسار کر دو ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ۵۵۲۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۳۱۴)
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said to Maiz ibn Malik: Perhaps you kissed, or squeezed, or looked. He said: No. He then said: Did you have intercourse with her? He said: Yes. On the (reply) he (the Prophet) gave order that he should be stoned to death. The narrator did not mention on the authority of Ibn Abbas . This is Wahb's version.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا: شاید تو نے بوسہ لیا ہو گا، یا ہاتھ سے چھوا ہو گا، یا دیکھا ہو گا؟ انہوں نے کہا: نہیں، ایسا نہیں ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، تو اس اقرار کے بعد آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: خ /الحدود ۲۸ (۶۸۲۴)، (تحفة الأشراف: ۶۲۷۶، ۱۹۱۲۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ۱/۲۳۸، ۲۷۰)
Narrated Abu Hurairah: A man of the tribe of Aslam came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and testified four times against himself that he had had illicit intercourse with a woman, while all the time the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was turning away from him. Then when he confessed a fifth time, he turned round and asked: Did you have intercourse with her? He replied: Yes. He asked: Have you done it so that your sexual organ penetrated hers? He replied: Yes. He asked: Have you done it like a collyrium stick when enclosed in its case and a rope in a well? He replied: Yes. He asked: Do you know what fornication is? He replied: Yes. I have done with her unlawfully what a man may lawfully do with his wife. He then asked: What do you want from what you have said? He said: I want you to purify me. So he gave orders regarding him and he was stoned to death. Then the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم heard one of his companions saying to another: Look at this man whose fault was concealed by Allah but who would not leave the matter alone, so that he was stoned like a dog. He said nothing to them but walked on for a time till he came to the corpse of an ass with its legs in the air. He asked: Where are so and so? They said: Here we are, Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم! He said: Go down and eat some of this ass's corpse. They replied: Messenger of Allah! Who can eat any of this? He said: The dishonour you have just shown to your brother is more serious than eating some of it. By Him in Whose hand my soul is, he is now among the rivers of Paradise and plunging into them.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے اپنے خلاف چار بار گواہی دی کہ اس نے ایک عورت سے جو اس کے لیے حرام تھی زنا کر لیا ہے، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اس کی طرف سے پھیر لیتے تھے، پانچویں بار آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا عضو اس کے عضو میں غائب ہو گیا بولا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے ہی جیسے سلائی سرمہ دانی میں، اور رسی کنویں میں داخل ہو جاتی ہے اس نے کہا: ہاں ایسے ہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے معلوم ہے زنا کیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، میں نے اس سے حرام طور پر وہ کام کیا ہے، جو آدمی اپنی بیوی سے حلال طور پر کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اچھا، اب تیرا اس سے کیا مطلب ہے؟ اس نے کہا: میں چاہتا ہوں آپ مجھے گناہ سے پاک کر دیجئیے، پھر آپ نے حکم دیا تو وہ رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کے ساتھیوں میں سے دو شخصوں کو یہ کہتے سنا کہ اس شخص کو دیکھو، اللہ نے اس کی ستر پوشی کی، لیکن یہ خود اپنے آپ کو نہیں بچا سکا یہاں تک کہ پتھروں سے اسی طرح مارا گیا جیسے کتا مارا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش رہے، اور تھوڑی دیر چلتے رہے، یہاں تک کہ ایک مرے ہوئے گدھے کی لاش پر سے گزرے جس کے پاؤں اٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں اور فلاں کہاں ہیں؟ وہ دونوں بولے: ہم حاضر ہیں اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اترو اور اس گدھے کا گوشت کھاؤ ان دونوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا گوشت کون کھائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ابھی جو اپنے بھائی کی عیب جوئی کی ہے وہ اس کے کھانے سے زیادہ سخت ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے کھا رہا ہے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۳۵۹۹)
A similar tradition has also been transmitted by Abu Hurrairah through a different chain of narrators. This version adds: The narrator Hasan bin “All said: The transmitters have differed in the wordings (of this tradition) reported to me. Some said: He (Ma’iz) was tied to a tree, and others said: He was made to stand.
اس سند سے بھی ابوہریرہ سے ایسی ہی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ لوگوں میں اختلاف ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسے ایک درخت سے باندھ دیا گیا تھا اور کچھ کا کہنا ہے کہ اسے ( میدان میں ) کھڑا کر دیا گیا تھا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۳۵۹۹)
Jabir bin Abdullah said: A man of the tribe of Asalam came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and made confession of fornication. He (the prophet) turned away from him. When he testified against him four times, the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Are you mad? He said: No. he asked: Are you married? He replied: Yes. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم then commanded regarding him and he was stoned in the place of prayer. Then when the stones hurt him, he fled, but was overtaken and stoned to death. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم then spoke well of him and did not pray over him.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے زنا کا اقرار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اپنا منہ پھیر لیا، پھر اس نے آ کر اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے اپنا منہ پھیر لیا، یہاں تک کہ اس نے اپنے خلاف چار بار گواہیاں دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تجھے جنون ہے؟ اس نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو شادی شدہ ہے اس نے کہا: ہاں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق حکم دیا، تو انہیں عید گاہ میں رجم کر دیا گیا، جب ان پر پتھروں کی بارش ہونے لگی تو وہ بھاگے، پھر پکڑ لیے گئے، اور پتھروں سے مارے گئے، یہاں تک کہ ان کی موت ہو گئی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف فرمائی اور ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: خ /الطلاق ۱۱ (۵۲۷۰)، الحدود ۲۱ (۶۸۱۴)، ۲۵ (۶۸۲۰)، صحیح مسلم/الحدود ۵ (۱۶۹۱)، سنن الترمذی/الحدود ۵ (۱۴۲۹)، ن /الجنائز ۶۳ (۱۹۵۸)، (تحفة الأشراف: ۳۱۴۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ۳/۳۲۳)، دي /الحدود ۱۲ (۲۳۶۱)