CHAPTER: Carrying out had (punishment) in the masjid.
باب: مسجد میں حدود کا نفاذ ممنوع ہے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .
Abu Burdah reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: No more than ten lashes are to be given, except in the case of one of the punishment prescribed by Allah, the Exalted.
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوڑے دس سے زیادہ نہ مارے جائیں سوائے اللہ کی حدود میں سے کسی حد میں ۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحدود ۴۲ (۶۸۴۸)، صحیح مسلم/الحدود ۹ (۱۷۰۸)، سنن الترمذی/الحدود ۳۰ (۱۴۶۳)، سنن ابن ماجہ/الحدود ۳۲ (۲۶۰۱)، (تحفة الأشراف: ۱۱۷۲۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ۳/۴۶۶، ۴/۴۵)، سنن الدارمی/الحدود ۱۱ (۲۳۶۰)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : تعزیر ایسی سزا کو کہتے ہیں جو حد سے کم ہو۔
4491
Sahih