TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4574 - CHAPTER: The Diyah For A Fetus. - Types of blood-wit (kitab al-diyat) - Sunnan Abu Dawood in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 7 of 13 in this chapter
CHAPTER: The Diyah For A Fetus.
باب: جنین ( ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ ) کی دیت کا بیان ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّمَّارُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَمْرَو بْنَ طَلْحَةَ حَدَّثَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سِمَاكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قِصَّةِ حَمَلِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَسْقَطَتْ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ مَيِّتًا وَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ فَقَضَى عَلَى الْعَاقِلَةِ الدِّيَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَمُّهَا:‏‏‏‏ إِنَّهَا قَدْ أَسْقَطَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ:‏‏‏‏ إِنَّهُ كَاذِبٌ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا اسْتَهَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ فَمِثْلُهُ يُطَلُّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَسَجْعَ الْجَاهِلِيَّةِ وَكَهَانَتَهَا ! أَدِّ فِي الصَّبِيِّ غُرَّةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ كَانَ اسْمُ إِحْدَاهُمَا مُلَيْكَةَ وَالْأُخْرَى أُمَّ غُطَيْفٍ.
Narrated Abdullah ibn Abbas: About the story of Haml ibn Malik, Ibn Abbas said: She aborted a child who had grown hair and was dead, and the woman also died. He (the Prophet) gave judgment that the blood-wit was to be paid by the woman's relatives on the father's side. Her uncle said: Messenger of Allah! She has aborted a child who had grown hair. The father of the woman who had slain said: He is a liar: I swear by Allah, he did not raise his voice, or drink or eat. No compensation is to be paid for an offence like this. The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: is it a rhymed prose of pre-Islamic Arabia and its soothsaying? Pay a male or female slave of the best quality in compensation for the child. Ibn Abbas said: The name of one of them was Mulaikah, and the name of the other was Umm Ghutaif.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حمل بن مالک کے قصے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں تو اس نے بچہ کو جسے بال اگے ہوئے تھے ساقط کر دیا، وہ مرا ہوا تھا اور عورت بھی مر گئی، تو آپ نے وارثوں پر دیت کا فیصلہ کیا، اس پر اس کے چچا نے کہا: اللہ کے نبی! اس نے تو ایک ایسا بچہ ساقط کیا ہے جس کے بال اگ آئے تھے، تو قاتل عورت کے باپ نے کہا: یہ جھوٹا ہے، اللہ کی قسم! نہ تو وہ چیخا، نہ پیا، اور نہ کھایا، اس جیسے کا خون تو معاف ( رائیگاں ) قرار دے دیا جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا جاہلیت جیسی مسجع عبارت بولتے ہو جیسے کاہن بولتے ہیں، بچے کی دیت ایک غلام یا لونڈی کی دینی ہو گی ۔ ابن عباس کہتے ہیں: ان میں سے ایک کا نام ملیکہ اور دوسری کا ام غطیف تھا۔
4574
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Abi Dawud 4574 In-book reference : Book 41, Hadith 81 English translation : Book 40, Hadith 4557
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم : ۴۵۶۸، (تحفة الأشراف: ۳۴۴۴)

Related Chapters

121
1
Chapter: What Has Been Related About The Blood-Money For The Fetus
باب: حمل (ماں کے پیٹ میں موجود بچہ) کی دیت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Not Performing The Salat For The Child Until One Is Sure He Was Alive At Birth
باب: جنین (ماں کے پیٹ میں موجود بچہ) کی نماز نہ پڑھنے کا بیان جب تک کہ وہ ولادت کے وقت نہ روئے
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Slaughtering The Fetus
باب: ماں کے پیٹ میں موجود بچہ کے ذبیحہ کا بیان
Jam e Tirmazi
4
CHAPTER: Regarding Slaughtering The Fetus.
باب: جانور کے پیٹ میں موجود بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
5
«جنین» (پیٹ کے بچے) کی دیت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
6
انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
Musnad Ahmad
7
جنین کی دیت کا بیان
Musnad Ahmad
8
گر نے والے، بدک جانے والے اور ماں کے پیٹ میں موجود بچے کا بیان
Musnad Ahmad
9
(35) CHAPTER. The child is to be given to the lady (accused by her husband for an illegal sexual intercourse).
لعان کے بعد عورت کا بچہ ( جس کو مرد کہے کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے ) ماں سے ملادیا جائے گا ( اسی کا بچہ کہلائے گا ) ۔
Sahih Bukhari
10
(25) CHAPTER. The foetus (that is inside the uterus) of a (pregnant) woman.
عورت کے پیٹ کا بچہ جو ابھی پیدا نہ ہوا ہو
Sahih Bukhari
11
(25) CHAPTER. The foetus (that is inside the uterus) of a (pregnant) woman.
پیٹ کے بچے کا بیان اور اگر کوئی عورت خون کرے تو اس کی دیت ددھیال والوں پر ہو گی نہ کہ اس کی اولاد پر
Sahih Bukhari
12
جنین کی دیت اور قتل خطا اورقتل شبہ عمد میں مجرم کے عاقلہ (باپ کی طرف سے عصبہ رشتہ داروں )پر دیت واجب ہے
Sahih Muslim
13
Chapter: How The Human Being Is Created, In His Mother's Womb, And His Provision, Lifespan And Deeds Are Written Down, And His Misery and Happiness
ماں کے پیٹ میں انسان کی تخلیق کی کیفیت، اس کے رزق، مدت حیات، عمل اور سعادت و شقاوت کا لکھا جانا
Sahih Muslim
14
CHAPTER: The Heir Of The One Who Was Killed Deliberately Taking The Diyah.
باب: مقتول کا وارث دیت لینے پر راضی ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
15
CHAPTER: One Who Kills After Accepting The Diyah.
باب: جو شخص قاتل سے دیت لے کر پھر اس کو قتل کر دے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
16
CHAPTER: The Amount Of The Diyah.
باب: دیت کی مقدار کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
17
CHAPTER: Diyah For A Mistaken Killing That Appears Purposeful.
باب: قتل خطا یعنی شبہ عمد کے قتل کی دیت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
18
CHAPTER: Diyah For Lost Limbs.
باب: اعضاء کی دیت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
19
CHAPTER: The Diyah Of A Mukatib.
باب: مکاتب غلام کی دیت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
20
CHAPTER: The Diyah Of A Dhimmi.
باب: ذمی کی دیت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
21
CHAPTER: The Diyah For Unintentional Killing That Appears Intentional.
باب: شبہ عمد کی دیت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
22
ماں کو ذبح کرنا اس کے پیٹ کے بچے کو ذبح کرنا ہے
Sunnan Ibn e Maja
23
باب: عورت کے پیٹ کے بچے کی دیت کا بیان۔
Sunnan Nisai
24
Chapter: What Has Been Related About One Who Does Not Bring His Back To Rest While Bowing and Prostrating
باب: جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Bringing The Backs To Rest When Raising One's Head From The Prostration And Bowing Positions
باب: رکوع اور سجدے سے سر اٹھاتے وقت پیٹھ سیدھی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About the Prohibition Of Slapping The Cheeks And Tearing The Clothes During A Calamity
باب: مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے اور گریبان پھاڑنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Separate Brothers, And A Mother And Her Child In Sales
باب: غلاموں کی بیع میں دو بھائیوں یا ماں اور اس کے بچے کے درمیان تفریق کی حرام ہے
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Boy Choosing Between His Parents When They Separate
باب: ماں باپ کی جدائی کی صورت میں بچے کو اختیار دئیے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Benn Related About One Who Goes Out For Battle Abandoning His Parents
باب: ماں باپ کو چھوڑ کر جہاد میں نکلنے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Ishtimal As-Samma' And Al-Ihtiba'
باب: بدن کو پورے طور پر کپڑا سے لپیٹ لینا اور چوتڑ کے بل کپڑا لپیٹ کر بیٹھنا دونوں منع ہے​
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Being Dutiful To Parents.
باب: ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: Also About That
باب: ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been About The Virtue Of Pleasing One's Parents
باب: ماں باپ کی رضا مندی کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Disobeying Parents
باب: ماں باپ کی نافرمانی اور ان سے قطع تعلق بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ہے
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Supplicating For One's Parents
باب: ماں باپ کی بددعا کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Parent's Rights
باب: اولاد پر ماں باپ کے حقوق کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Beating And Abusing The Servant
باب: خادم کو مارنا پیٹنا اور اسے گالی دینا اور برا بھلا کہنا منع ہے
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About A Brother Supplicating For His Brother In His Absence
باب: پیٹھ پیچھے بھائی کے لیے دعا کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
باب: پیٹ کے بل (اوندھے منہ) لیٹنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
40
باب: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں“ کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
باب: پیٹ کا مواد سے بھرا ہونا (گندے) اشعار سے بھرے ہونے سے بہتر ہے
Jam e Tirmazi
42
قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے یا پیٹھ کرنے سے منع کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
سجدے کے اعضاء اور بال اور کپڑا لپیٹنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
44
بیٹے کا اپنی ماں کا کسی سے نکاح کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
45
شادی نہ کرنے تک بچے کی پرورش کی زیادہ حقدار ماں ہے
Musnad Ahmad
46
اس چیز کا بیان کہ ماں کے بعد پرورش کا زیادہ حقدار کون ہے
Musnad Ahmad
47
پیٹ کی بیماریوں، اندرونی ورم اور بچوں کی حلق کی تکلیف کا عودِ ہندی کے ساتھ علاج کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
48
جنین کی تخلیق اور رحم میں اس کی تکوین کا بیان
Musnad Ahmad
49
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
Musnad Ahmad
50
اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی برکت سے سرکش اور باغی جانور اور جمادات بھی فرماں بردار بن جاتے تھے
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

352
Sunnan Nisai
4832
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَمْرٌو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَسْبَاطَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سِمَاكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَتِ امْرَأَتَانِ جَارَتَانِ كَانَ بَيْنَهُمَا صَخَبٌ، ‏‏‏‏‏‏فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَسْقَطَتْ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ مَيْتًا، ‏‏‏‏‏‏وَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ، ‏‏‏‏‏‏ فَقَضَى عَلَى الْعَاقِلَةِ الدِّيَةَ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَمُّهَا:‏‏‏‏ إِنَّهَا قَدْ أَسْقَطَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ:‏‏‏‏ إِنَّهُ كَاذِبٌ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا اسْتَهَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلْ فَمِثْلُهُ يُطَلَّ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ ؟، ‏‏‏‏‏‏وَكِهَانَتِهَا إِنَّ فِي الصَّبِيِّ غُرَّةً ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ كَانَتْ إِحْدَاهُمَا مُلَيْكَةَ،‏‏‏‏ وَالْأُخْرَى أُمَّ غَطِيفٍ.
It was narrated that Ibn 'Abbas said; There were two women neighbors between whom there was some trouble. One of them threw a rock at the other a she miscarried a boy - whose hair had already grown -0 who was or dead, and the woman died too. He ruled that the 'Aqilah had to pay the Diyah. Her paternal uncle said: 'O Messenger of Allah, she miscarried a boy whose hair had grown.' The father of the killer said: He is lying. By Allah he never cried or shouted (at the moment of birth), nor drank nor ate. Such a one should be overlooked.' The Prophet said: 'rhyming verse like the verse of the Jahiliyyah and of its soothsayers? A slave must be given (as Diyah) for the boy, ''' Ibn 'Abbes said; One of then was Mulaikah and the other was Umm Ghatif.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ دو سوکن عورتیں تھیں، ان کے درمیان جھگڑا ہو گیا، ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا، تو اس کے پیٹ کا بچہ مرا ہوا گر پڑا جس کے سر کے بال اگ آئے تھے اور عورت بھی مر گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنبے والوں پر دیت ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس ( مقتولہ ) کے چچا نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا ایک بچہ بھی ساقط ہوا ہے جس کے بال اگ آئے تھے۔ قاتل عورت کے باپ نے کہا: یہ جھوٹا ہے، اللہ کی قسم، نہ تو وہ چیخا، نہ اس نے پیا اور نہ کھایا، ایسا خون تو لغو ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاہلیت کی سجع اور کہانت سی سجع ہے۔ بچے میں ایک «غرہ» ( یعنی ایک غلام یا لونڈی ) دینا ہو گا“۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ان میں سے ایک کا نام ملیکہ اور دوسری کا ام غطیف تھا۔
Sunnan Nisai
4827
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ضَرَّتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَتَلَتْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بِالدِّيَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ،‏‏‏‏ وَقَضَى لِمَا فِي بَطْنِهَا بِغُرَّةٍ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ:‏‏‏‏ تُغَرِّمُنِي مَنْ لَا أَكَلْ،‏‏‏‏ وَلَا شَرِبَ،‏‏‏‏ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلَّ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ سَجْعٌ كَسَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَضَى لِمَا فِي بَطْنِهَا بِغُرَّةٍ.
It was narrated from Al-Mughirah bin shu'bah that: there were two co-wives, one of whom struck the other with a tent people and killed her. The Messenger of Allah ruled that the Diyah was to be paid by the 'Asabah of the killer, and that a slave should be given (as diyah) for the child in her womb. The Bedouin Said: Are you penalizing me for one who neither ate nor drank, or shouted or cried (at the moment of birth)? Such a one should be overlooked/ He said: Rhyming verse like the verse of the Jahiliyyah, and he ruled that a slave should e given (as Diyah) for the child in her womb.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو سوکنوں میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا، تو وہ مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتلہ کے خاندان والوں کی جانب سے دیت ادا کیے جانے کا فیصلہ کیا اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک «غرہ» یعنی ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے کہا: آپ مجھ سے ایسی جان کی دیت ادا کروا رہے ہیں جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ چیخا، نہ چلایا۔ ایسا خون تو لغو ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ تو جاہلیت کی سجع کی طرح ہے“، اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک «غرہ» یعنی ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔
Jam e Tirmazi
753
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةُ وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُعَاوِيَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى حَدِيثِ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَا يَرَوْنَ صِيَامَ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَاجِبًا إِلَّا مَنْ رَغِبَ فِي صِيَامِهِ لِمَا ذُكِرَ فِيهِ مِنَ الْفَضْلِ.
Aishah narrated: Ashura was a day that the Quraish used to fast during Jahiliyyah, and the Messenger of Allah used to fast it. But when (the fast of) Ramadan became obligatory, the Ramadan was the required and Ashura was left. So whoever wanted to, he fasted it, and whoever wanted to, he left it.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ عاشوراء ایک ایسا دن تھا کہ جس میں قریش زمانہ جاہلیت میں روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے، جب آپ مدینہ آئے تو اس دن آپ نے روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا، لیکن جب رمضان کے روزے فرض کئے گئے تو صرف رمضان ہی کے روزے فرض رہے اور آپ نے عاشوراء کا روزہ ترک کر دیا، تو جو چاہے اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے ۱؎، ۲- اس باب میں ابن مسعود، قیس بن سعد، جابر بن سمرہ، ابن عمر اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا عمل عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث پر ہے، اور یہ حدیث صحیح ہے، یہ لوگ یوم عاشوراء کے روزے کو واجب نہیں سمجھتے، الا یہ کہ جو اس کی اس فضیلت کی وجہ سے جو ذکر کی گئی اس کی رغبت رکھے۔
Jam e Tirmazi
875
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ، قَالَ لَهُ:‏‏‏‏ حَدِّثْنِي بِمَا كَانَتْ تُفْضِي إِلَيْكَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ يَعْنِي عَائِشَةَ، فَقَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لَهَا:‏‏‏‏ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ وَجَعَلْتُ لَهَا بَابيْنِ . قَالَ:‏‏‏‏ فَلَمَّا مَلَكَ ابْنُ الزُّبَيْرِ هَدَمَهَا وَجَعَلَ لَهَا بَابيْنِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Al-Aswad bin Yazid narrated that: Ibn Az-Zubair said to him: Narrated to me from what the Mother of the Believers used to (secretly) inform you about - meaning Aishah - so he said: She narrated to me that the Messenger of Allah said: 'Had your people not been still close to the pre-Islamic period of ignorance, then I would demolish the Ka'bah and rebuild it with two doors.' He said: So when Ibn Az-Zubair came to power he demolished it and rebuilt it with two doors.
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما نے ان سے کہا: تم مجھ سے وہ باتیں بیان کرو، جسے ام المؤمنین یعنی عائشہ رضی الله عنہا تم سے رازدارانہ طور سے بیان کیا کرتی تھیں، انہوں نے کہا: مجھ سے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تمہاری قوم کے لوگ جاہلیت چھوڑ کر نئے نئے مسلمان نہ ہوئے ہوتے، تو میں کعبہ کو گرا دیتا اور اس میں دو دروازے کر دیتا“، چنانچہ ابن زبیر رضی الله عنہما جب اقتدار میں آئے تو انہوں نے کعبہ گرا کر اس میں دو دروازے کر دیئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
895
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَنْتَظِرُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ يُفِيضُونَ.
Ibn Abbas narrated: The Prophet departed before the rising of the sun.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( مزدلفہ سے ) سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- جاہلیت کے زمانے میں لوگ انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا پھر لوٹتے تھے۔
Jam e Tirmazi
932
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ أَنْ لَا بَأْسَ بِالْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا قَالَ الشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا لَا يَعْتَمِرُونَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . يَعْنِي:‏‏‏‏ لَا بَأْسَ بِالْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَشْهُرُ الْحَجِّ شَوَّالٌ وَذُو الْقَعْدَةِ وَعَشْرٌ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَأَشْهُرُ الْحُرُمِ رَجَبٌ وَذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ.
Ibn Abbas narrated: That the Prophet said: Umrah has been entered into Hajj until the Day of Resurrection.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو چکا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں سراقہ بن جعشم اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہی تشریح شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ نے بھی کی ہے کہ جاہلیت کے لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ نہیں کرتے تھے، جب اسلام آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی اور فرمایا: ”عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو چکا ہے“، یعنی حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اشہر حج شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن ہیں“، کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ حج کے مہینوں کے علاوہ کسی اور مہینے میں حج کا احرام باندھے، اور حرمت والے مہینے یہ ہیں: رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں ۱؎۔
Jam e Tirmazi
984
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ، وَهَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِيَّاكُمْ وَالنَّعْيَ فَإِنَّ النَّعْيَ مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ وَالنَّعْيُ أَذَانٌ بِالْمَيِّتِ. وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُذَيْفَةَ.
Abdullah narrated that: The Prophet said: Beware of An-Na'i, for indeed announcing one's death is from the deeds of Jahliyyah.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «نعی» ( موت کی خبر دینے ) ۱؎ سے بچو، کیونکہ «نعی» جاہلیت کا عمل ہے“۔ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: «نعی» کا مطلب میت کی موت کا اعلان ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں حذیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Jam e Tirmazi
999
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ الْأَيَامِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَيْسَ مِنَّا مَنْ شَقَّ الْجُيُوبَ وَضَرَبَ الْخُدُودَ وَدَعَا بِدَعْوَةِ الْجَاهِلِيَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abdullah narrated that: The Prophet said: He who slaps (his) cheeks, tears (his) clothes and calls with the call of the Jahliyyah is not one of us.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو گریبان پھاڑے، چہرہ پیٹے اور جاہلیت کی ہانک پکارے ۱؎ ہم میں سے نہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
1001
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، وَالْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَنْ يَدَعَهُنَّ النَّاسُ:‏‏‏‏ النِّيَاحَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَالطَّعْنُ فِي الْأَحْسَابِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَدْوَى أَجْرَبَ بَعِيرٌ فَأَجْرَبَ مِائَةَ بَعِيرٍ مَنْ أَجْرَبَ الْبَعِيرَ الْأَوَّلَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَنْوَاءُ مُطِرْنَا بِنَوْءٍ كَذَا وَكَذَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said: There are four matters in my nation that are from the matters of Jahiliyyah which the people will not leave: Wailing, slandering one's lineage, Al-Adwa - a camel gets mange, so one hundred camels get mange - but who gave the first camel mange? And Al-Anwa (saying): We got rain because of this or that celestial positioning.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں چار باتیں جاہلیت کی ہیں، لوگ انہیں کبھی نہیں چھوڑیں گے: نوحہ کرنا، حسب و نسب میں طعنہ زنی، اور بیماری کا ایک سے دوسرے کو لگ جانے کا عقیدہ رکھنا مثلاً یوں کہنا کہ ایک اونٹ کو کھجلی ہوئی اور اس نے سو اونٹ میں کھجلی پھیلا دی تو آخر پہلے اونٹ کو کھجلی کیسے لگی؟ اور نچھتروں کا عقیدہ رکھنا۔ مثلاً فلاں اور فلاں نچھتر ( ستارے ) کے سبب ہم پر بارش ہوئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔