TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6703 - (31) CHAPTER. To vow for something which one does not possess, and to vow for something sinful. - The book of oaths and vows. - Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 5 in this chapter
(31) CHAPTER. To vow for something which one does not possess, and to vow for something sinful.
ایسی چیز کی نذر جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ : أَنَّ طَاوُسًا ، أَخْبَرَهُ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُ إِنْسَانًا بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ ، فَقَطَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ .
Narrated Ibn `Abbas: While performing the Tawaf around the Ka`ba, the Prophet passed by a person leading another person by a hair-rope nose-ring in his nose. The Prophet cut the hair-rope nose-ring off with his hand and ordered the man to lead him by the hand.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے سلیمان احول نے خبر دی، انہیں طاؤس نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو کعبہ کا ایک شخص اس طرح طواف کر رہا تھا کہ دوسرا شخص اس کی ناک میں رسی باندھ کر اس کے آگے سے اس کی رہنمائی کر رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رسی اپنے ہاتھ سے کاٹ دی، پھر حکم دیا کہ ہاتھ سے اس کی رہنمائی کرے۔
6703
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

984
1
اس نذر کو پورا کرنا نہیں ہے، جو معصیت میں ہو یا ایسی چیز میں ہو جو ابن آدم کی ملکیت میں نہ ہو
Musnad Ahmad
2
(50)Chapter: Something Else For That
باب: پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About There Is No Vowing In That Over Which The Son Of Adam Has No Control
باب: جو چیز آدمی کے اختیار میں نہیں اس میں نذر نہیں
Jam e Tirmazi
4
نذر ماننے سے ممانعت کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ نذر تقدیر میں سے کسی چیز کو ردّ نہیں کر سکتی
Musnad Ahmad
5
(94) CHAPTER. Is it permissible for one to look around in Salat (prayer) if something happens to one? Or can one look at something like expectoration in the direction of the Qiblah?
اگر نمازی پر کوئی حادثہ ہو یا نمازی کوئی بری چیز دیکھے یا قبلہ کی دیوار پر تھوک دیکھے ( تو التفات میں کوئی قباحت نہیں )
Sahih Bukhari
6
(55) CHAPTER. The selling of foodstuff before receiving it, and the selling of a thing which you don't have.
غلے کو اپنے قبضے میں لینے سے پہلے بیچنا اور ایسی چیز کو بیچنا جو تیرے پاس موجود نہیں
Sahih Bukhari
7
(117) CHAPTER. The description of something by a man as ‘nothing' while he means that it is not true.
کسی شخص کا کسی چیز کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ کچھ نہیں اور مقصد یہ ہو کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے
Sahih Bukhari
8
(6) CHAPTER. Man makes a vow seeking something other than what has been preordained (for him).
نذر کرنے سے تقدیرنہیں پلٹ سکتی
Sahih Bukhari
9
Chapter: Performing wudu’ after eating something that has been touched by fire
۔ ایسی چیز سے وضو (کا حکم) منسو ہونا جسے آگ نے چھوا ہو
Sahih Muslim
10
Chapter: Not Making A Will For One Who Has Nothing To Be Bequeathed
اس شخص کا وصیت نہ کرنا جس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس میں وہ وصیت کر سکے
Sahih Muslim
11
Chapter: he Prohibition Of Vows, And Confirmation That They Do Not Avert Anything
نذر کی ممانعت اور یہ کسی چیز (مصیبت )کو نہیں ٹالتی
Sahih Muslim
12
Chapter: There is no fulfillment of a vow that involves disobedience towards Allah, or a vow concerning that which a person does not own
اللہ کی نا فرمانی میں نذر پوری کرنی جائز نہیں اور نہ اس چیز میں جو بندے کے اختیار میں نہیں
Sahih Muslim
13
CHAPTER: A Vow Concerning What One Does Not Possess.
باب: جس بات کا آدمی کو اختیار نہیں اس کی نذر کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
14
CHAPTER: On A Man Who Takes Vows For A Thing Over Which He has no control.
باب: جس نے ایسی نذر مانی جس کو پوری کرنے کی وہ طاقت نہیں رکھتا تو کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
15
CHAPTER: Things for which no prohibition is mentioned.
باب: ایسی چیزوں کا بیان جن کی حرمت مذکور نہیں ۔
Sunnan Abu Dawood
16
CHAPTER: One who boasts of having something that he has not been given.
باب: ایسی چیزوں کے پاس میں ہونے کا بیان جو آدمی کے پاس نہ ہو جھوٹ کا لبادہ اوڑھنا ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
17
جس نے نذر مانی لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کس چیز کی نذر ہے تو کیا کرے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
18
باب: آدمی کا ایسی چیز مانگنا جس کے بغیر چارہ نہیں۔
Sunnan Nisai
19
باب: نذر کسی (مقدر) چیز کو آگے اور پیچھے نہیں کرتی ہے۔
Sunnan Nisai
20
باب: ایسی چیز کی نذر ماننا جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود نہ ہو۔
Sunnan Nisai
21
باب: قبضے اور ملکیت سے باہر چیزوں کی نذر ماننے کا بیان۔
Sunnan Nisai
22
(49)Chapter: What Has Been Related About: Nothing Makes Water Impure
باب: پانی کو کوئی چیز نجس اور ناپاک نہیں کرتی
Jam e Tirmazi
23
(101)Chapter: What Has Been Related About The Menstruating Woman Getting Something From The Masjid
باب: حائضہ ہاتھ بڑھا کر مسجد سے کوئی چیز لے سکتی ہے
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About 'The Salat Is Not severed By Anything'
باب: کوئی بھی چیز نماز کو باطل نہیں کرتی
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About 'Salat Is Not Severed Except By A Dog, A Donkey, And A Woman'
باب: نماز کو کتے، گدھے اور عورت نماز کے سوا کوئی اور چیز باطل نہیں کرتی
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About What Is Not Allowed For The Muhrim To Wear
باب: محرم کے لیے جن چیزوں کا پہننا جائز نہیں ان کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell What One Does Not Have
باب: جو چیز موجود نہ ہو اس کی بیع جائز نہیں
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related From The Messenger Of Allah (saws) About 'There Is No Vowing For Disobedience'
باب: معصیت کی نذر پوری نہیں کی جائے گی
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About One Who Pretends To Be Satisfied With Something He Was Not Given
باب: آدمی کے پاس جو چیز نہ ہو اس پر اترانے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
اس چیز کا بیان کہ استحاضہ کا خون ان امور سے نہیں روکتا، جو حیض کی وجہ سے ممنوع ہوتے ہیں
Musnad Ahmad
31
امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی
Musnad Ahmad
32
ہدی بھیجنے والے پر وہ چیزیں حرام نہیںہوں گی ، جو حاجی پر حرام ہوتی ہیں
Musnad Ahmad
33
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
Musnad Ahmad
34
قطع رحمی اور غیر ملکیتی چیز کے بارے میں قسم اٹھا لینے کا بیان
Musnad Ahmad
35
مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
Musnad Ahmad
36
ٓپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان غصے میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے کا بیان
Musnad Ahmad
37
ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
Musnad Ahmad
38
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
Musnad Ahmad
39
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
Musnad Ahmad
40
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
Musnad Ahmad
41
اس چیز کا بیان انبیائے کرام h کا وارث نہیں بنایا جاتا
Musnad Ahmad
42
باطل چیز پر جھگڑنے والے کے گناہ کا بیان، اگرچہ بظاہر اس کے لیے فیصلہ کر دیا گیا ہو اور اس چیز کا بیان کہ کیا قاضی اپنے علم کی روشنی میں فیصلہ کر سکتا ہے یا نہیں
Musnad Ahmad
43
جب فریقین کسی چیز کی ملکیت کا دعوی کریں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو قرعہ کے ذریعے فیصلہ کرنے کابیان، اسی طرح اس چیز کی وضاحت کہ اگر دونوں کے پاس گواہ تو ہوں، لیکن متعارض ہوں
Musnad Ahmad
44
اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
Musnad Ahmad
45
اس چیز کا بیان کہ اس شخص کو حد نہیں لگائی جائے گی، جو کسی حد کا اقرار تو کرے اور اس کا نام نہ لے
Musnad Ahmad
46
چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
Musnad Ahmad
47
اس چیز کا بیان کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر، یا کتا، یا جنابت والا آدمی ہو
Musnad Ahmad
48
اس چیز کا بیان کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں گھنٹی یا گھونگرو ہو، نیز فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں چلتے، جس میں یہ چیزیں ہوں اور ان چیزوں کا اہتمام کرنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
49
اس چیز کا بیان کہ توحید پرستوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اور اس میں امت ِ محمدیہ کے لیے خوشخبری ہے
Musnad Ahmad
50
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,231
Sahih Bukhari
1620
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ، قال : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ رَبَطَ يَدَهُ إِلَى إِنْسَانٍ بِسَيْرٍ أَوْ بِخَيْطٍ أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ : قُدْهُ بِيَدِهِ .
Narrated Ibn `Abbas: While the Prophet was performing Tawaf of the Ka`ba, he passed by a person who had tied his hands to another person with a rope or string or something like that. The Prophet cut it with his own hands and said, Lead him by the hand.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا کہ ابن جریج نے انہیں خبر دی، کہا کہ مجھے سلیمان احول نے خبر دی، انہیں طاؤس نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جس نے اپنا ہاتھ ایک دوسرے شخص کے ہاتھ سے تسمہ یا رسی یا کسی اور چیز سے باندھ رکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے کاٹ دیا اور پھر فرمایا کہ ”اگر ساتھ ہی چلنا ہے تو ہاتھ پکڑ کے چلو۔“
Sahih Bukhari
4632
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ : أَفِي ص سَجْدَةٌ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، ثُمَّ تَلَا وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ إِلَى قَوْلِهِ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ سورة الأنعام آية 84 - 90 ، ثُمَّ قَالَ : هُوَ مِنْهُمْ ، زَادَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَسَهْلُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ الْعَوَّامِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : فَقَالَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِمَّنْ أُمِرَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِمْ .
Narrated Mujahid: That he asked Ibn `Abbas, Is there a prostration Surat-al-Sa`d? (38.24) Ibn `Abbas said, Yes, and then recited: We gave...So follow their guidance. (6.85,90) Then he said, He (David ) is one them (i.e. those prophets). Mujahid narrated: I asked Ibn `Abbas (regarding the above Verse). He said, Your Prophet (Muhammad) was one of those who were ordered to follow them.
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے سلیمان احول نے خبر دی، انہیں مجاہد نے خبر دی کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا سورۃ ص میں سجدہ ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا، ہاں۔ پھر آپ نے آیت «ووهبنا‏» سے ( «فبهداهم اقتده‏» ) تک پڑھی اور کہا کہ داؤد علیہ السلام بھی ان انبیاء میں شامل ہیں ( جن کا ذکر آیت میں ہوا ہے ) ۔ یزید بن ہارون، محمد بن عبید اور سہل بن یوسف نے عوام بن حوشب سے، ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا، تو انہوں نے کہا تمہارے نبی بھی ان میں سے ہیں جنہیں اگلے انبیاء کی اقتداء کا حکم دیا گیا ہے۔
Sunnan Nisai
2923
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُهُ إِنْسَانٌ بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ .
It was narrated from Ibn Abbas: That the Prophet passed by while he was circumambulating the Kabah with a man who was leading another with a ring in his nose. The Messenger of Allah stopped him with his hand then told him to lead him by his hand.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جس کی ناک میں نکیل ڈال کر ایک آدمی اسے کھینچے لیے جا رہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نکیل کاٹ دی، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جائے۔
Sunnan Nisai
3842
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ،‏‏‏‏ أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ،‏‏‏‏ عَنِابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ يَقُودُهُ إِنْسَانٌ بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ،‏‏‏‏ فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ،‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ،‏‏‏‏ أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ،‏‏‏‏ وَإِنْسَانٌ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ بِإِنْسَانٍ آخَرَ بِسَيْرٍ أَوْ خَيْطٍ أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ،‏‏‏‏ فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ قُدْهُ بِيَدِكَ .
It was narrated from Ibn 'Abbas: The Prophet passed by a man who was circumambulating the Ka'bah, led by another man with a reign in his nose. The Prophet took him by the hand and commanded him to lead him by his hand. Ibn Juraij said: Sulaiman told me that Tawus told him, from Ibn 'Abbas, that the Prophet passed by him when he was circumambulating the Ka'bah, and a man had tied his hand to another man with some string or thread or whatever. The Prophet cut it with his hand then said: 'Lead him with your hand.'
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کعبے کا طواف کر رہا تھا، اور ایک آدمی اس کی ناک میں نکیل ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا پھر حکم دیا کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے جائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس  ( آدمی )  کے پاس سے گزرے، وہ کعبے کا طواف کر رہا تھا اور اس نے ایک آدمی کا ہاتھ ایک دوسرے آدمی سے تسمے سے یا دھاگے سے یا کسی اور چیز سے باندھ رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا:  اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے جاؤ۔
Jam e Tirmazi
3905
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ يُرِدْ هَوَانَ قُرَيْشٍ أَهَانَهُ اللَّهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ. حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
Narrated Sa'd: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever wishes to humiliate the Quraish then Allah will humiliate him.
سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قریش کی رسوائی چاہے گا اللہ اسے رسوا کر دے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: مجھے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور انہوں نے صالح بن کیسان سے اور صالح نے ابن شہاب سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔
Sahih Bukhari
296
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّهُ سُئِلَ أَتَخْدُمُنِي الْحَائِضُ أَوْ تَدْنُو مِنِّي الْمَرْأَةُ وَهِيَ جُنُبٌ ؟ فَقَالَ عُرْوَةُ : كُلُّ ذَلِكَ عَلَيَّ هَيِّنٌ ، وَكُلُّ ذَلِكَ تَخْدُمُنِي وَلَيْسَ عَلَى أَحَدٍ فِي ذَلِكَ بَأْسٌ ، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَة أَنَّهَا كَانَتْ تُرَجِّلُ تَعْنِي رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ مُجَاوِرٌ فِي الْمَسْجِدِ يُدْنِي لَهَا رَأْسَهُ وَهِيَ فِي حُجْرَتِهَا ، فَتُرَجِّلُهُ وَهِيَ حَائِضٌ .
Narrated `Urwa: A person asked me, Can a woman in menses serve me? And can a Junub woman come close to me? I replied, All this is easy for me. All of them can serve me, and there is no harm for any other person to do the same. `Aisha told me that she used to comb the hair of Allah's Apostle while she was in her menses, and he was in I`tikaf (in the mosque). He would bring his head near her in her room and she would comb his hair, while she used to be in her menses.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ابن جریج نے انہیں خبر دی، انہوں نے کہا مجھے ہشام بن عروہ نے عروہ کے واسطے سے بتایا کہ ان سے سوال کیا گیا، کیا حائضہ بیوی میری خدمت کر سکتی ہے، یا ناپاکی کی حالت میں عورت مجھ سے نزدیک ہو سکتی ہے؟ عروہ نے فرمایا میرے نزدیک تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس طرح کہ عورتیں میری بھی خدمت کرتی ہیں اور اس میں کسی کے لیے بھی کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حائضہ ہونے کی حالت میں کنگھا کیا کرتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں معتکف ہوتے۔ آپ اپنا سر مبارک قریب کر دیتے اور عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرہ ہی سے کنگھا کر دیتیں، حالانکہ وہ حائضہ ہوتیں۔
Sahih Bukhari
885
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَيَمَسُّ طِيبًا أَوْ دُهْنًا إِنْ كَانَ عِنْدَ أَهْلِهِ ، فَقَالَ : لَا أَعْلَمُهُ .
Narrated Tawus: Ibn `Abbas mentioned the statement of the Prophet regarding the taking of a bath on Friday and then I asked him whether the Prophet (p.b.u.h) had ordered perfume or (hair) oil to be used if they could be found in one's house. He (Ibn `Abbas) replied that he did not know about it
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشام بن یوسف نے خبر دی، کہ انہیں ابن جریج نے خبر دی انہوں نے کہا کہ مجھے ابراہیم بن میسرہ نے طاؤس سے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے، آپ نے جمعہ کے دن غسل کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا ذکر کیا تو میں نے کہا کہ کیا تیل اور خوشبو کا استعمال بھی ضروری ہے؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں۔
Sahih Bukhari
958
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ .
Narrated Ibn Juraij: Ata' said, Jabir bin `Abdullah said, 'The Prophet went out on the Day of `Id-ul-Fitr and offered the prayer before delivering the Khutba.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ہشام نے خبر دی کہ ابن جریج نے انہیں خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ آپ کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن عیدگاہ تشریف لے گئے تو پہلے نماز پڑھی پھر خطبہ سنایا۔
Sahih Bukhari
1077
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ التَّيْمِيِّ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَكَانَ رَبِيعَةُ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ عَمَّا حَضَرَ رَبِيعَةُ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَرَأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ بِسُورَةِ النَّحْلِ حَتَّى إِذَا جَاءَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الْقَابِلَةُ قَرَأَ بِهَا ، حَتَّى إِذَا جَاءَ السَّجْدَةَ ، قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا نَمُرُّ بِالسُّجُودِ فَمَنْ سَجَدَ فَقَدْ أَصَابَ ، وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ، وَلَمْ يَسْجُدْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَزَادَ نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَفْرِضْ السُّجُودَ إِلَّا أَنْ نَشَاءَ .
Narrated Rabi`a: `Umar bin Al-Khattab recited Surat-an-Nahl on a Friday on the pulpit and when he reached the verse of Sajda he got down from the pulpit and prostrated and the people also prostrated. The next Friday `Umar bin Al-Khattab recited the same Sura and when he reached the verse of Sajda he said, O people! When we recite the verses of Sajda (during the sermon) whoever prostrates does the right thing, yet it is no sin for the one who does not prostrate. And `Umar did not prostrate (that day). Added Ibn `Umar Allah has not made the prostration of recitation compulsory but if we wish we can do it.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشام بن یوسف نے خبر دی اور انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن ابی ملیکہ نے خبر دی، انہیں عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی نے اور انہیں ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر تیمی نے کہا۔۔۔ ابوبکر بن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ ربیعہ بہت اچھے لوگوں میں سے تھے ربیعہ نے وہ حال بیان کیا جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مجلس میں انہوں نے دیکھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر سورۃ النحل پڑھی جب سجدہ کی آیت ( «‏‏‏‏ولله يسجد ما في السمٰوٰت» ‏‏‏‏ ) آخر تک پہنچے تو منبر پر سے اترے اور سجدہ کیا تو لوگوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا۔ دوسرے جمعہ کو پھر یہی سورت پڑھی جب سجدہ کی آیت پر پہنچے تو کہنے لگے لوگو! ہم سجدہ کی آیت پڑھتے چلے جاتے ہیں پھر جو کوئی سجدہ کرے اس نے اچھا کیا اور جو کوئی نہ کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں اور عمر رضی اللہ عنہ نے سجدہ نہیں کیا اور نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت فرض نہیں کیا ہماری خوشی پر رکھا۔