TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2039 - ہنسی مذاق میں طلاق دینے یا نکاح کرنے یا رجوع کرنے کے احکام کا بیان - The chapters on divorce - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
ہنسی مذاق میں طلاق دینے یا نکاح کرنے یا رجوع کرنے کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَرْدَكَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ النِّكَاحُ، ‏‏‏‏‏‏وَالطَّلَاقُ، ‏‏‏‏‏‏وَالرَّجْعَةُ .
It was narrated from Abu Hurairah that: the Messenger of Allah (ﷺ) said: There are three matters in which seriousness is serious and joking is serious: marriage, divorce and taking back (one's wife).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین کام ہیں جو سنجیدگی سے کرنا بھی حقیقت ہے، اور مذاق کے طور پر کرنا بھی حقیقت ہے، ایک نکاح، دوسرے طلاق، تیسرے ( طلاق سے ) رجعت ۱؎۔
2039
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 3, Book 10, Hadith 2039 Arabic reference : Book 10, Hadith 2117
(شواہد کی بناء پر یہ حسن کے درجہ کو ہے، عبد الرحمن بن حبیب میں ضعف ہے)
Conclusion
تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ۹ (۲۱۹۴)، سنن الترمذی/الطلاق ۹ (۱۱۸۴)،(تحفة الأشراف:۱۴۸۵۴)
Explanation
شرح و تفصیل
یعنی ہنسی مذاق اور ٹھٹھے کے طور پر اور اس کے مقابل جِد ہے یعنی درحقیقت ایک کام کا کرنا۔

Related Chapters

557
1
Chapter: What has been related about seriousness and jest regarding divorce
باب: سنجیدگی سے اور ہنسی مذاق میں طلاق دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
CHAPTER: Regarding A Divorce That Was Said In Jest.
باب: ہنسی مذاق میں طلاق دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
3
بیوی کو میراث سے محروم کرنے والے، مریض اور مذاق سے طلاق دینے والا کا بیان
Musnad Ahmad
4
Chapter: It is not permissible for a woman who has been thrice-divorced to return to the one who divorced her until she marries another husband who has intercourse with her, then divorces her, and she completes the 'Iddah
جس عورت کو تین طلاقیں دے دی گئی ہوں وہ طلاق دینے والے کے لیے حلال نہیں حتی کہ وہ اس کے سوا کسی اور خاوند سے نکاح کرے اور وہ اس سے مباشرت کرے ‘پھر وہ اس سے علیحدگی اختیار کرے اور اس کی عادت پور ی ہو جائے
Sahih Muslim
5
CHAPTER: Regarding A Divorce Before The Marriage.
باب: نکاح سے پہلے طلاق دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
6
باب: وہ نکاح جس سے تین طلاق دی ہوئی عورت طلاق دینے والے کے لیے حلال ہوتی ہے۔
Sunnan Nisai
7
باب: تین طلاق والی عورت کا حلالہ اور اس کے لیے حلال و جائز کر دینے والے نکاح کا بیان۔
Sunnan Nisai
8
Chapter: What has been related about a man who divorces his wife irrevocably
باب: آدمی کے اپنی بیوی کو قطعی طلاق (بتہ) دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What has been related about: There is no divorce before marriage
باب: نکاح سے پہلے طلاق واقع نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Joking
باب: ہنسی مذاق، خوش طبعی اور دل لگی کا بیان
Jam e Tirmazi
11
حالت حیض میں اور طہر میں مجامعت کے بعد حمل کے واضح ہونے سے پہلے تک طلاق دینے کی ممانعت
Musnad Ahmad
12
زبردستی لی گئی طلاق کا حکم اور جس نے نکاح سے پہلے طلاق معلق دی
Musnad Ahmad
13
رجوع کرتے وقت گواہ بنا نے اور اس چیز کا بیان کہ تین طلاق والی عورت پہلے خاوند کے لیے کیسے حلال ہو گی
Musnad Ahmad
14
(3) CHAPTER. Whoever divorced (his wife), and should a man tell his wife face to face that she is divorced.
طلاق دینے کا بیان اور کیا طلاق دیتے وقت عورت کے منہ در منہ طلاق دے ؟
Sahih Bukhari
15
(13) CHAPTER. Ash-Shiqaq (the breach between the man and his wife).
اگر لونڈی کسی کے نکاح میں ہو اس کے بعد بیچی جائے تو بیع سے طلاق نہ پڑے گی ۔
Sahih Bukhari
16
(29) CHAPTER. Al-Lian, and whoever divorced (his wife) after the process of Lian.
لعان اور لعان کے بعد طلاق دینے کا بیان ۔
Sahih Bukhari
17
Chapter: The prohibition of divorcing a menstruating woman without her consent; If a man breaks this rule, it still counts as a divorce, and he should be ordered to take her back
حائضہ کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دینا حرام ہے اور اگر کسینے (اس حکم کی )مخالفت کی تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اسے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے گا
Sahih Muslim
18
Chapter: Giving one's wife the choice does not count as a divorce, unless it is intended as such
طلاق دینے کی نیت کیے بغیر محض بیوی کو اختیار دے دینے سے طلاق واقع نہیں ہو تی
Sahih Muslim
19
CHAPTER: A Man Takes His Wife Back Without Any Witnesses.
باب: آدمی طلاق سے رجوع کر لے اور گواہ نہ بنائے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
20
CHAPTER: Regarding Divorcing By Mistake.
باب: غصہ کی حالت میں طلاق دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
21
CHAPTER: Regarding Statements That Equate To Divorce, And Intentions.
باب: اشارہ کنایہ سے طلاق دینے کا بیان اور یہ کہ احکام کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
22
CHAPTER: Regarding Allowing The Wife To Choose.
باب: عورت کو طلاق کا اختیار دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
23
CHAPTER: The Thrice Divorced Woman Cannot Return To Her Husband Until She Re-Marries.
باب: تین طلاق کے بعد عورت دوسرے شخص سے نکاح کئے بغیر پہلے شوہر کے پاس نہیں آ سکتی ۔
Sunnan Abu Dawood
24
CHAPTER: What was narrated about joking.
باب: ہنسی مذاق ( مزاح ) کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
25
CHAPTER: One who takes something in jest.
باب: ہنسی مذاق میں کوئی کسی کی چیز لے لے تو کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
26
نکاح پر مبارک باد دینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
27
ایک آدمی نے اپنی عورت کو تین طلاق دی، اس نے دوسرے سے شادی کر لی پھر دوسرے شوہر نے جماع سے پہلے اسے طلاق دیدی تو کیا اب وہ پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے؟
Sunnan Ibn e Maja
28
سنت کے مطابق طلاق دینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
29
طلاق سے رجوع ہونے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
30
طلاق کے وقت عورت کو کچھ دینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
31
دل میں طلاق دینے اور زبان سے کچھ نہ کہنے کے حکم کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
32
نکاح سے پہلے دی گئی طلاق کے صحیح نہ ہونے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
33
دو طلاق دینے کے بعد لونڈی کے خریدنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
34
Chapter: Joking
مزاح (ہنسی مذاق) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
35
باب: عدت کا لحاظ کیے بغیر طلاق دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
36
باب: عدت کا لحاظ کیے بغیر طلاق دے دینے پر کیا اس طلاق کا شمار ہو گا؟
Sunnan Nisai
37
باب: ایک ساتھ تین طلاقیں دے دینے کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Nisai
38
باب: دخول سے پہلے عورت کو الگ الگ تین طلاقیں دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
39
باب: غلام کے طلاق دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
40
باب: اپنے جی میں طلاق دینے والے کی طلاق کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
41
(67)Chapter: It Is Disliked To Retum The Salam If One Does Not Have Wudu
باب: بغیر وضو سلام کا جواب دینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Call The Adhan Without Having Wudu
باب: بغیر وضو کے اذان دینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Adhan At Night
باب: رات ہی میں اذان دے دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The 'The Tasbih Is For The Men And Clapping Is For The Women'
باب: نماز میں امام کے سہو پر مردوں کے ”سبحان اللہ“ کہنے اورعورتوں کے دستک دینے کا بیان​
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Prophet (S) Saying: I Hear The Crying Of A Small Boy During Salat and Shorten It
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے نماز میں بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز ہلکی کر دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Says The Taslim After Two Rakah During The Zuhr Or Asr Prayers
باب: غلطی سے ظہر یا عصر کی دو ہی رکعت میں سلام پھیر دینے والے کا حکم
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About The Khutbah On the Minbar
باب: منبر پر خطبہ دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About If Being Disliked to Talk While The Imam Is Delivering The Khutbah
باب: امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گفتگو کرنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About Al-Habwah Being Disliked While The Imam Is Delivering The Khutbah
باب: امام کے خطبہ دینے کی حالت میں احتباء کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About The One Who Gives Charity (Then) Inheriting His Charity
باب: صدقہ دینے والا اپنے صدقہ کا وارث ہو جائے تو کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

452
Jam e Tirmazi
1184
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَرْدَكَ الْمَدَنِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ مَاهَكَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ النِّكَاحُ، ‏‏‏‏‏‏وَالطَّلَاقُ، ‏‏‏‏‏‏وَالرَّجْعَةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وعَبْدُ الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ هُوَ ابْنُ حَبِيبِ بْنِ أَرْدَكَ الْمَدَنِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ مَاهَكَ هُوَ عِنْدِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ.
Abu Hurairah narrated that: The Messenger of Allah said: Three are serious when they are serious, and serious when they are in jest: Marriage, divorce, and return.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں ایسی ہیں کہ انہیں سنجیدگی سے کرنا بھی سنجیدگی ہے اور ہنسی مذاق میں کرنا بھی سنجیدگی ہے نکاح، طلاق اور رجعت“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۳- عبدالرحمٰن، حبیب بن اردک مدنی کے بیٹے ہیں اور ابن ماہک میرے نزدیک یوسف بن ماہک ہیں۔
Jam e Tirmazi
1614
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الطِّيَرَةُ مِنَ الشِّرْكِ وَمَا مِنَّا، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَابِسٍ التَّمِيمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى شُعْبَةُ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ وَمَا مِنَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سُلَيْمَانُ:‏‏‏‏ هَذَا عِنْدِي قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ:‏‏‏‏ وَمَا مِنَّا .
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: At-Tiyarah is from Shirk, and none among us (it influences) except that Allah will remove it with Tawakkul (reliance). [Abu 'Eisa said:] I heard Muhammad bin Isma'il saying: Sulaiman bin Harb used to say about this Hadith: 'And none among us (it influences) except that Allah will remove it with Tawakkul (reliance)' - Sulaiman would say: 'To me, this is a saying of 'Abdullah bin Mas'ud.' There are narrations on this topic from Sa'd, Abu Hurairah, Habis At-Tamimi, 'Aishah and Ibn 'Umar. This Hadith is Hasan Sahih, we do not know of it except as a narration of Salamah bin Khuail. Shu'bah also reported this Hadith from Salamah.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدفالی شرک ہے“ ۱؎۔ ( ابن مسعود کہتے ہیں ) ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کے دل میں اس کا وہم و خیال نہ پیدا ہو، لیکن اللہ تعالیٰ اس وہم و خیال کو توکل کی وجہ سے زائل کر دیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- شعبہ نے بھی سلمہ سے اس حدیث کی روایت کی ہے، امام ترمذی کہتے ہیں: ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: سلیمان بن حرب اس حدیث میں «وما منا ولكن الله يذهبه بالتوكل» کی بابت کہتے تھے کہ «وما منا» میرے نزدیک عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کا قول ہے، ۴- اس باب میں ابوہریرہ، حابس تمیمی، عائشہ، ابن عمر اور سعد رضی الله عنہم سے بھی روایتیں ہیں۔
Jam e Tirmazi
2369
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَاعَةٍ لَا يَخْرُجُ فِيهَا وَلَا يَلْقَاهُ فِيهَا أَحَدٌ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ خَرَجْتُ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْظُرُ فِي وَجْهِهِ وَالتَّسْلِيمَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا جَاءَ بِكَ يَا عُمَرُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ الْجُوعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَأَنَا قَدْ وَجَدْتُ بَعْضَ ذَلِكَ فَانْطَلَقُوا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيْهَانِ الْأَنْصَارِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ رَجُلًا كَثِيرَ النَّخْلِ وَالشَّاءِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ خَدَمٌ فَلَمْ يَجِدُوهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا لِامْرَأَتِهِ:‏‏‏‏ أَيْنَ صَاحِبُكِ ؟ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ انْطَلَقَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا الْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنْ جَاءَ أَبُو الْهَيْثَمِ بِقِرْبَةٍ يَزْعَبُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَوَضَعَهَا ثُمَّ جَاءَ يَلْتَزِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُفَدِّيهِ بِأَبِيهِ وَأُمِّهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِمْ إِلَى حَدِيقَتِهِ فَبَسَطَ لَهُمْ بِسَاطًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى نَخْلَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ بِقِنْوٍ فَوَضَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَفَلَا تَنَقَّيْتَ لَنَا مِنْ رُطَبِهِ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ تَخْتَارُوا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ تَخَيَّرُوا مِنْ رُطَبِهِ وَبُسْرِهِ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَذَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏ظِلٌّ بَارِدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرُطَبٌ طَيِّبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَاءٌ بَارِدٌ &qquot;، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَ أَبُو الْهَيْثَمِ لِيَصْنَعَ لَهُمْ طَعَامًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَذْبَحَنَّ ذَاتَ دَرٍّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَذَبَحَ لَهُمْ عَنَاقًا أَوْ جَدْيًا فَأَتَاهُمْ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلُوا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَلْ لَكَ خَادِمٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِذَا أَتَانَا سَبْيٌ فَأْتِنَا ، ‏‏‏‏‏‏فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسَيْنِ لَيْسَ مَعَهُمَا ثَالِثٌ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَاهُ أَبُو الْهَيْثَمِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اخْتَرْ مِنْهُمَا ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ اخْتَرْ لِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْمُسْتَشَارَ مُؤْتَمَنٌ خُذْ هَذَا فَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي وَاسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا ، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَ أَبُو الْهَيْثَمِ إِلَى امْرَأَتِهِ فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ:‏‏‏‏ مَا أَنْتَ بِبَالِغٍ مَا قَالَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنْ تَعْتِقَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَهُوَ عَتِيقٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا وَلَا خَلِيفَةً إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ، ‏‏‏‏‏‏بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ يُوقَ بِطَانَةَ السُّوءِ فَقَدْ وُقِيَ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
Abu Hurairah narrated : The Prophet (s.a.w) went out during an hour in which he would normally not go out, nor meet with anyone. Then Abu Bakr came to him. So he said: What brought you O Abu Bakr? He said: I came to meet the Messenger of Allah (s.a.w) and to look at his face, and to make sure he was safe. It was not long before 'Umar came. He said: What has brought you O 'Umar ? He said: Hunger O Messenger of Allah! He said: I also experienced some of that So they went to the home of Abu Al-Haitham At-Taiyyihan Al-Ansari. He was a man with many date-palms and sheep, but he had no servants so they did not find him there. They said to his wife: Where is your companion? She said: He has gone to fetch us some good water. It was not long before Abu Al-Haitham came along hauling to a large water-skin which he put down. Then he came to hug the Prophet (s.a.w) and uttered that his father and mother should be ransomed for him. Then he went to grove of his and he spread out a mat for them. Then he went to a date-palm and returned with a cluster of dates which he put down. The prophet (s.a.w) said: Why don't you select some ripe dates for us? He said: O Messenger of Allah(s.a.w)! I wanted you to select from the ripe dates and the unripe dates. So they ate and they drank from that water. The Messenger of Allah(s.a.w) said: By the One in Whose Hand is my soul! This is among the favors which you shall be asked about on the Day of Judgement. Cool shade, tasty ripe dates, and cool water. Abu Al-Haitham left to prepare some food for them. The Prophet (s.a.w) said: Do not slaughter one with milk. So he Slaughtered a small female or male goat and brought it to them so they could eat it. The Prophet (s.a.w) said: Do you have any servants? He said: No. So he said: Then if we get some captives we shall bring them for you. So (later) the Prophet (s.a.w) came with 2 males, there was no third among them and he brought them to Abu Al-Haitham. The Prophet (s.a.w) said: Choose from them. He said: O Prophet of Allah! Choose for me. So the Prophet (s.a.w) said: Indeed the one consulted is entrusted. Take this one for I have seen him praying, and encourage him to do well. So Abu Al-Haitham went to his wife and informed her of what the Messenger of Allah (s.a.w) said. So his wife said: You will not fulfill what the Prophet (s.a.w) said until you have freed him. So he said: He is free. So the Prophet (s.a.w) said: Indeed Allah has not send a Prophet nor made a Khalifah except that he has two groups of supporters, group ordering him to do good, and prohibiting him from evil and a group that never ceases spoiling his affairs. So whoever protected.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خلاف معمول ایسے وقت میں گھر سے نکلے کہ جب آپ نہیں نکلتے تھے اور نہ اس وقت آپ سے کوئی ملاقات کرتا تھا، پھر آپ کے پاس ابوبکر رضی الله عنہ پہنچے تو آپ نے پوچھا: ابوبکر تم یہاں کیسے آئے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس لیے نکلا تاکہ آپ سے ملاقات کروں اور آپ کے چہرہ انور کو دیکھوں اور آپ پر سلام پیش کروں، کچھ وقفے کے بعد عمر رضی الله عنہ بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے پوچھا: عمر! تم یہاں کیسے آئے؟ اس پر انہوں نے بھوک کی شکایت کی، آپ نے فرمایا: ”مجھے بھی کچھ بھوک لگی ہے ۱؎، پھر سب مل کر ابوالہیشم بن تیہان انصاری کے گھر پہنچے، ان کے پاس بہت زیادہ کھجور کے درخت اور بکریاں تھیں مگر ان کا کوئی خادم نہیں تھا، ان لوگوں نے ابوالھیثم کو گھر پر نہیں پایا تو ان کی بیوی سے پوچھا: تمہارے شوہر کہاں ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں، گفتگو ہو رہی تھی کہ اسی دوران! ابوالہیشم ایک بھری ہوئی مشک لیے آ پہنچے، انہوں نے مشک کو رکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، پھر سب کو وہ اپنے باغ میں لے گئے اور ان کے لیے ایک بستر بچھایا پھر کھجور کے درخت کے پاس گئے اور وہاں سے کھجوروں کا گچھا لے کر آئے اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ آپ نے فرمایا: ”ہمارے لیے اس میں سے تازہ کھجوروں کو چن کر کیوں نہیں لائے؟ عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے چاہا کہ آپ خود ان میں سے چن لیں، یا یہ کہا کہ آپ حضرات پکی کھجوروں کو کچی کھجوروں میں سے خود پسند کر لیں، بہرحال سب نے کھجور کھائی اور ان کے اس لائے ہوئے پانی کو پیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یقیناً یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال کیا جائے گا اور وہ نعمتیں یہ ہیں: باغ کا ٹھنڈا سایہ، پکی ہوئی عمدہ کھجوریں اور ٹھنڈا پانی“، پھر ابوالھیثم اٹھ کھڑے ہوئے تاکہ ان لوگوں کے لیے کھانا تیار کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”دودھ والے جانور کو ذبح نہ کرنا“، چنانچہ آپ کے حکم کے مطابق انہوں نے بکری کا ایک مادہ بچہ یا نر بچہ ذبح کیا اور اسے پکا کر ان حضرات کے سامنے پیش کیا، ان سبھوں نے اسے کھایا اور پھر آپ نے ابوالھیثم سے پوچھا؟ کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا: ”جب ہمارے پاس کوئی قیدی آئے تو تم ہم سے ملنا“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو قیدی لائے گئے جن کے ساتھ تیسرا نہیں تھا، ابوالھیثم بھی آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو پسند کر لو، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ خود ہمارے لیے پسند کر دیجئیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے۔ لہٰذا تم اس کو لے لو ( ایک غلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) کیونکہ ہم نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور اس غلام کے ساتھ اچھا سلوک کرنا“، پھر ابوالھیثم اپنی بیوی کے پاس گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں سے اسے باخبر کیا، ان کی بیوی نے کہا کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کو پورا نہ کر سکو گے مگر یہ کہ اس غلام کو آزاد کر دو، اس لیے ابوالھیثم نے فوراً اسے آزاد کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کسی نبی یا خلیفہ کو نہیں بھیجا ہے مگر اس کے ساتھ دو راز دار ساتھی ہوتے ہیں، ایک اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے، جب کہ دوسرا ساتھی اسے خراب کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا، پس جسے برے ساتھی سے بچا لیا گیا گویا وہ بڑی آفت سے نجات پا گیا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Sunnan Abu Dawood
3678
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبَانُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ:‏‏‏‏ النَّخْلَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعِنَبَةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ اسْمُ أَبِي كَثِيرٍ الْغُبَرِيِّ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غُفَيْلَةَ السَّحْمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ أُذَيْنَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّوَابُ:‏‏‏‏ غُفَيْلَةُ.
Abu Hurairah bin Bashir reported the Apostel of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلمas saying: Wine comes from these two trees, the date-palm and the grapes-vine. Abu Dawud said: The name of Abu KAthir al-Ubari is Yazid bin Abdur-Rahman bin Ghufailat al-Sahmi. Some said: Uzainah. What is correct is Ghufailah.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب ان دو درختوں کھجور اور انگور سے بنتی ہے ۱؎ ۔
Sunnan Ibn e Maja
256
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ سَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُعَاذٍ الْبَصْرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُعَاذٍ الْبَصْرِيّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الْحُزْنِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جُبُّ الْحُزْنِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ تَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّمُ كُلَّ يَوْمٍ أَرْبَعَ مِائَةِ مَرَّةٍ ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ يَدْخُلُهُ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أُعِدَّ لِلْقُرَّاءِ الْمُرَائِينَ بِأَعْمَالِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ مِنْ أَبْغَضِ الْقُرَّاءِ إِلَى اللَّهِ الَّذِينَ يَزُورُونَ الْأُمَرَاءَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الْمُحَارِبِيُّ:‏‏‏‏ الْجَوَرَةَ.
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'Seek refuge with Allah from the pit of grief.' They said: 'O Messenger of Allah, what is the pit of grief?' He said: 'A valley in Hell from which Hell itself seeks refuge four hundred times each day.' It was said: 'O Messenger of Allah, who will enter it?' He said: 'It has been prepared for reciters of the Qur'an who want to show off their deeds. The most hateful of reciters of the Qur'an to Allah are those who visit the rulers.' (Da'if) Other chains of narrators.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جب الحزن» سے اللہ کی پناہ مانگو ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! «جب الحزن» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم ہر روز چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس میں کون لوگ داخل ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ان قراء کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اپنے اعمال میں ریاکاری کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین قاری وہ ہیں جو مالداروں کا چکر کاٹتے ہیں ۔ محاربی کہتے ہیں: امراء سے مراد ظالم حکمران ہیں۔
Sunnan Ibn e Maja
1432
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَلْزِمْ نَعْلَيْكَ قَدَمَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ خَلَعْتَهُمَا فَاجْعَلْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَجْعَلْهُمَا عَنْ يَمِينِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا عَنْ يَمِينِ صَاحِبِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا وَرَاءَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَتُؤْذِيَ مَنْ خَلْفَكَ .
It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Keep your shoes on your feet. If you take them off then place them between your two feet; do not place them to your right, or to the right of your companions, or behind you, for they may annoy whoever is behind you.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوتے اپنے پاؤں میں پہنے رکھو، اور اگر انہیں اتارو تو اپنے پیروں کے درمیان رکھو، اور اپنے دائیں طرف نہ رکھو، نہ اپنے ساتھی کے دائیں طرف رکھو، اور نہ پیچھے رکھو کیونکہ پیچھے والوں کو تکلیف ہو ۱؎۔
Sunnan Nisai
5029
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ .
It was narrated from Abu Hurairah that: The Prophet [SAW] said: Whoever stands (in the voluntary night prayer of) Ramadan out of faith and in the hope of reward, his previous sins will be forgiven.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے مہینے میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے تراویح پڑھی تو اس کے تمام گزرے ہوئے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے“۔
Jam e Tirmazi
3
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَهَنَّادٌ،‏‏‏‏ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا الْحَدِيثُ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ:‏‏‏‏ هُوَ صَدُوقٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ وَالْحُمَيْدِيُّ يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ
Ali narrated that : the Prophet, said: The key to Salat is the purification, its Tahrlm is the Takblr, and its Tahlil is the Taslim.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی کنجی وضو ہے، اور اس کا تحریمہ صرف «اللہ اکبر» کہنا ہے ۱؎ اور نماز میں جو چیزیں حرام تھیں وہ «السلام علیکم ورحمة اللہ» کہنے ہی سے حلال ہوتی ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں یہ حدیث سب سے صحیح اور حسن ہے، ۲- عبداللہ بن محمد بن عقیل صدوق ہیں ۳؎، بعض اہل علم نے ان کے حافظہ کے تعلق سے ان پر کلام کیا ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ احمد بن حنبل، اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ اور حمیدی: عبداللہ بن محمد بن عقیل کی روایت سے حجت پکڑتے تھے، اور وہ مقارب الحدیث ۴؎ ہیں، ۳- اس باب میں جابر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
182
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَحَفْصَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ:‏‏‏‏ حَدِيثُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ حَدِيثٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ سَمُرَةَ فِي صَلَاةِ الْوُسْطَى حَسَنٌ وصَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةُ:‏‏‏‏ صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الظُّهْرِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَابْنُ عُمَرَ:‏‏‏‏ صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الصُّبْحِ. حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ:‏‏‏‏ سَلِ الْحَسَنَ مِمَّنْ سَمِعَ حَدِيثَ الْعَقِيقَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُهُ مِنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ قُرَيْشِ بْنِ أَنَسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ قَالَ عَلِيٌّ:‏‏‏‏ وَسَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ سَمُرَةَ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
Smurah bin Jundub narrated that : the Prophet said: Salatul-wusta is the Asr prayer.
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صلاة وسطیٰ» عصر کی صلاۃ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- «صلاة وسطیٰ» کے سلسلہ میں سمرہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت، عائشہ، حفصہ، ابوہریرہ اور ابوہاشم بن عقبہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ ( ابن المدینی ) کا کہنا ہے: حسن بصری کی حدیث جسے انہوں نے سمرہ بن جندب سے روایت کیا ہے، صحیح حدیث ہے، جسے انہوں نے سمرۃ سے سنا ہے، ۴- صحابہ کرام اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، زید بن ثابت اور عائشہ رضی الله عنہا کا کہنا ہے کہ «صلاة وسطیٰ» ظہر کی صلاۃ ہے، ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم کہتے ہیں کہ «صلاة وسطیٰ» صبح کی صلاۃ ( یعنی فجر ) ہے ۲؎، ۵- وہ حبیب بن شہید کہتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن سیرین نے کہا کہ تم حسن بصری سے پوچھو کہ انہوں نے عقیقہ کی حدیث کس سے سنی ہے؟ تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے اسے سمرہ بن جندب سے سنا ہے، ۶- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ علی ابن المدینی نے کہا ہے کہ سمرہ رضی الله عنہ سے حسن کا سماع صحیح ہے اور انہوں نے اسی حدیث سے دلیل پکڑی ہے۔