CHAPTER: What was narrated about joking. - باب: ہنسی مذاق ( مزاح ) کا بیان ۔ - General behavior (kitab al-adab) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation
Chapter 91 of General behavior (kitab al-adab) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Narrated Anas ibn Malik: A man came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: Messenger of Allah! give me a mount. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: We shall give you a she-camel's child to ride on. He said: What shall I do with a she-camel's child? The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم replied: Do any others than she-camels give birth to camels?
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے سواری عطا فرما دیجئیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم تو تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کرائیں گے وہ بولا: میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخر ہر اونٹ اونٹنی ہی کا بچہ تو ہوتا ہے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/البر والصلة ۵۷ (۱۹۹۱)، (تحفة الأشراف: ۶۵۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۲۶۷)
Narrated An-Numan ibn Bashir: When Abu Bakr asked the permission of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to come in, he heard Aishah speaking in a loud voice. So when he entered, he caught hold of her in order to slap her, and said: Do I see you raising your voice to the Messenger of Allah? The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم began to prevent him and Abu Bakr went out angry. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said when Abu Bakr went out: You see I rescued you from the man. Abu Bakr waited for some days, then asked permission of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم to enter, and found that they had made peace with each other. He said to them: Bring me into your peace as you brought me into your war. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: We have done so: we have done so.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو سنا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا اونچی آواز میں بول رہی ہیں، تو وہ جب اندر آئے تو انہوں نے انہیں طمانچہ مارنے کے لیے پکڑا اور بولے: سنو! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بلند کرتی ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روکنے لگے اور ابوبکر غصے میں باہر نکل گئے، تو جب ابوبکر باہر چلے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھا تو نے میں نے تجھے اس شخص سے کیسے بچایا پھر ابوبکر کچھ دنوں تک رکے رہے ( یعنی ان کے گھر نہیں گئے ) اس کے بعد ایک بار پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی تو ان دونوں کو پایا کہ دونوں میں صلح ہو گئی ہے، تو وہ دونوں سے بولے: آپ لوگ مجھے اپنی صلح میں بھی شامل کر لیجئے جس طرح مجھے اپنی لڑائی میں شامل کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے شریک کیا، ہم نے شریک کیا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ۱۱۶۳۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۲۷۲، ۲۷۵)
Awf bin Malik al-Ashjai said: I came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم at the expedition to Tabuk when he was in a small skin tent. I gave him a salutation and he returned it, saying: come in. I asked: the whole of me Messenger of Allah? He replied: The whole of you. So I entered.
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ چمڑے کے ایک خیمے میں قیام پذیر تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب دیا، اور فرمایا: اندر آ جاؤ تو میں نے کہا کہ پورے طور سے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: پورے طور سے چنانچہ میں اندر چلا گیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجزیة ۱۵ (۳۱۷۶)، سنن ابن ماجہ/الفتن ۴۲ (۴۰۴۲)، (تحفة الأشراف: ۱۹۰۰۳، ۱۰۹۱۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۲۲)