CHAPTER: Thinking well of people. - باب: حسن ظن کا بیان ۔ - General behavior (kitab al-adab) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation
Chapter 88 of General behavior (kitab al-adab) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Narrated Abu Hurairah: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: To harbour good thoughts is a part of well-conducted worship. (This is according to Nasr's version). Abu Dawud said: Mahna' is reliable and he is from Basrah.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن ظن حسن عبادت میں سے ہے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ۱۳۴۹۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۳۰۴، ۴۰۷، ۴۹۱)
Safiyyah said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was in the I’TIKAF (seclusion in the mosque). I came to visit him at night. I talked to him, got up and turned my back. He got up with me to accompany me. He was living in the house of Usamah bin Zaid. Two men of the Ansar passed by him. When they saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, they walked quickly. The prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Be at ease; she is Safiyyah daughter of Huyayy. They said: Glory be to Allah, Messenger of Allah! He said: The devil flows in man as the blood flows in him. I feared that he might inject something in your hearts, or he said “evil” (instead of something).
ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے، میں ایک رات آپ کے پاس آپ سے ملنے آئی تو میں نے آپ سے گفتگو کی اور اٹھ کر جانے لگی، آپ مجھے پہنچانے کے لیے میرے ساتھ اٹھے اور اس وقت وہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے گھر میں رہتی تھیں، اتنے میں انصار کے دو آدمی گزرے انہوں نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو تیزی سے چلنے لگے، آپ نے فرمایا: تم دونوں ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ہیں ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ، اللہ کے رسول! ( یعنی کیا ہم آپ کے سلسلہ میں بدگمانی کر سکتے ہیں ) آپ نے فرمایا: شیطان آدمی میں اسی طرح پھرتا ہے، جیسے خون ( رگوں میں ) پھرتا ہے، تو مجھے اندیشہ ہوا کہ تمہارے دل میں کچھ ڈال نہ دے، یا یوں کہا: کوئی بری بات نہ ڈال دے ۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم : (۲۴۷۰)، (تحفة الأشراف: ۱۵۹۰۱)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں میری نسبت سے ان دونوں کے دل میں کوئی بات ایسی پیدا ہو گئی جو ان کے کفر و ارتداد کا سبب بن گئی تو یہ دونوں تباہ و برباد ہو جائیں گے، اس لئے ان پر شفقت کرتے ہوئے آپ نے ظن و شک والے امر کی وضاحت کر دی تاکہ یہ دونوں صحیح و سلامت رہیں کیونکہ آپ کو اپنی ذات کے بارے میں کوئی خوف نہیں تھا۔