حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، سَمِعَهُ مِنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْهُ أَسْمَاءُ ابْنَةُ يَزِيدَ، مَرَّ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا .
Asma, daughter of Yazid, said: the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, passed us by when we were with some women and gave us a salutation.
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ انہیں اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ ہم عورتوں کے پاس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الاستئذان ۹ (۲۶۹۷)، سنن ابن ماجہ/ الآداب ۱۴ (۳۷۰۱)، (تحفة الأشراف: ۱۵۷۶۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۴۵۲، ۴۵۷)، سنن الدارمی/الاستئذان ۹ (۲۶۷۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اگر عورتوں کی جماعت ہے تو انہیں سلام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن عورت اگر اکیلی ہے اور سلام کرنے والا اس کے لئے محرم نہیں ہے تو (فتنہ کے خدشہ نہ ہونے کی صورت میں) سلام نہ کرنا بہتر ہے، تاکہ فتنہ وغیرہ سے محفوظ رہے۔
5204
Sahih