حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ يَعْنِي ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَدَخَلَ بِهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُوَاقِعَهَا، أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ ؟ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَذُوقَ عُسَيْلَةَ الْآخَرِ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا .
Narrated Aishah, Ummul Muminin: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was asked about a man who divorced his wife three times, and she married another who entered upon her, but divorced her before having intercourse with her, whether she was lawful for the former husband. She said: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم replied: She is not lawful for the first (husband) until she tastes the honey of the other husband and he tastes her honey.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی، پھر اس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کر لیا اور وہ شخص اس کے پاس گیا لیکن جماع سے پہلے ہی اس نے اسے طلاق دے دی تو کیا وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی؟ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ عورت دوسرے شوہر کی مٹھاس نہ چکھ لے اور وہ شوہر اس عورت کی مٹھاس نہ چکھ لے۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الطلاق ۹ (۳۴۳۶)، (تحفة الأشراف: ۱۵۹۵۸)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات ۳ (۲۶۳۹)، والطلاق ۴ (۵۲۶۰)، والساعة ۳۷ (۵۷۹۲)، واللباس ۶ (۵۸۲۵)، والأدب ۶۸ (۶۰۸۴)، صحیح مسلم/النکاح ۱۷ (۱۴۳۳)، سنن الترمذی/النکاح ۲۷ (۱۱۱۸)، سنن النسائی/النکاح ۴۳ (۳۲۸۵)، سنن ابن ماجہ/النکاح ۳۲ (۱۹۳۲)، مسند احمد (۶/۳۴، ۳۷، ۱۹۲، ۲۲۶، ۲۲۹)، سنن الدارمی/الطلاق ۴ (۲۳۱۳) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی ہم بستری اور صحبت کے بعد طلاق واقع ہونے کی صورت میں نکاح جدید سے وہ پہلے شوہر کی بیوی بن سکتی ہے۔
2309
Zaeef