حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمُ ادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ وَلَكِنْ الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ .
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“If the people were given what they claimed, some would have claimed the lives and property of men. But the one the claim is made against is obliged to swear an oath.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کے مطابق دے دیا جائے، تو لوگ دوسروں کی جان اور مال کا ( ناحق ) دعویٰ کر بیٹھیں گے، لیکن مدعیٰ علیہ کو قسم کھانا چاہیئے ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/الرہن ۶ (۲۵۱۴)، الشہادات ۲۰ (۲۶۶۸)، تفسیر سورة آل عمران ۳ (۴۵۵۲)، صحیح مسلم/الاقضیة ۱ (۱۷۱۱)، سنن ابی داود/الاقضیة ۲۳ (۳۶۱۹)، سنن الترمذی/الاحکام ۱۲ (۱۳۴۲)، سنن النسائی/آداب القضاة ۳۵ (۵۴۲۷)،(تحفة الأشراف:۵۷۹۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۵۳،۲۸۸،۳۴۳،۳۵۱،۳۵۶،۳۶۳)
Explanation
جب مدعی کے پاس گواہ نہ ہو اور مدعی علیہ قسم کھا لے تو وہ دعویٰ سے بری ہو گیا، اگر مدعی علیہ قسم اٹھانے پر تیار نہ ہو تو وہ دعویٰ کے مطابق مدعی کا حق ادا کرے۔
2321
Sahih