It was narrated that Muawiyah said:
I heard the Messenger of Allah(ﷺ) say: 'Beware of praising one another, for it is slaughtering (one another).'
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم آپس میں ایک دوسرے کی منہ پر مدح و تعریف کرنے سے بچو، کیونکہ اس طرح تعریف کرنا گویا ذبح کرنا ہے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۴۴۱، ومصباح الزجاجة:۱۳۰۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۹۲،۹۳،۹۸،۹۹)
Explanation
اس لئے کہ جب کسی کی منہ پر تعریف اور خوشامد کی جائے گی تو احتمال ہے کہ آدمی میں غرور تکبر پیدا ہو جائے، اور اپنے عیب کو ہنر سمجھے اور دوسرے مسلم بھائی کو حقیر جانے۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Abu Bakrah that his father said:
A man praised another man in the presence of Messenger of Allah(ﷺ). The Messenger of Allah(ﷺ) said: 'Woe to you,you have cut the neck of your companion,'several times. Then he said: 'If anyone of you praises his brother, let him say: I think he is lie this, but I do not sanctify anyone before Allah.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کی تعریف کی تو آپ نے فرمایا: افسوس! تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی ، اس جملہ کو آپ نے کئی بار دہرایا، پھر فرمایا: تم میں سے اگر کوئی آدمی اپنے بھائی کی تعریف کرنا چاہے تو یہ کہے کہ میں ایسا سمجھتا ہوں، لیکن میں اللہ تعالیٰ کے اوپر کسی کو پاک نہیں کہہ سکتا ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الشہادات ۱۶ (۲۶۶۲)، الأدب ۹۵ (۶۱۶۲)، صحیح مسلم/الزہد ۱۴ (۳۰۰۰)، سنن ابی داود/الأدب ۱۰ (۴۸۰۵)،(تحفة الأشراف:۱۱۶۷۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۴۱،۴۶،۴۷،۵۰)
Explanation
یعنی میں یہ نہیں جانتا کہ حقیقت میں اللہ کے نزدیک یہ کیسا ہے؟ میرے نزدیک تو اچھا ہے، حدیثوں کا یہی مطلب ہے کہ منہ پر کسی کی تعریف نہ کرے، یہ بھی اس وقت جب اس شخص کے غرور میں پڑ جانے کا اندیشہ ہو، ورنہ صحیحین کی کئی حدیثوں سے منہ پر تعریف کرنے کا جواز نکلتا ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے احد پہاڑ سے فرمایا: تھم جا، تیرے اوپر کوئی نہیں ہے مگر نبی اور صدیق اور شہید اور اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ حاضر تھے، اور بعضوں نے کہا: کراہت اس وقت ہے جب مدح میں مبالغہ کرے اور جھوٹ کہے، اور بعضوں نے کہا اس وقت مکروہ ہے جب اس سے دنیاوی کام نکالنا منظور ہو، اور یہ تعریف غرض کے ساتھ ہو، «واللہ اعلم»۔