حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ، إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُرَاءٍ .
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
No one tells the stories to the people (for the purpose of exhortation) except a ruler, one appointed by a ruler, or a show-off.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو وعظ و نصیحت وہی کرتا ہے جو حاکم ہو، یا وہ شخص جو حاکم کی جانب سے مقرر ہو، یا جو ریا کار ہو ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۸۷۲۷، ومصباح الزجاجة:۱۳۱۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۱۷۸،۱۸۳)، سنن الدارمی/الرقاق ۶۳ (۲۸۲۱)
Explanation
اور ریاکار وہ ہے جو لوگوں میں اپنی ناموری اور شہرت کے لئے وعظ کہتا ہے، اور لوگوں کو بری بات سے منع کرتا ہے، اور خود سب سے زیادہ برے کاموں میں پھنسا رہتا ہے۔
3753
Sahih