Chapter: The portents of the Hour - قیامت کی نشانیوں کا بیان - Tribulations - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation
Chapter 25 of Tribulations in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“I and the Hour have been sent like these two,” and he held up his two fingers together.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور قیامت دونوں اس طرح بھیجے گئے ہیں ، آپ نے اپنی دونوں انگلیاں ملا کر بتایا ۱؎۔
یعنی امت محمدیہ کے بعد قیامت تک اور کوئی امت حقہ نہ ہو گی اور اسلام ہی کے خاتمہ پر دنیا کا بھی خاتمہ ہے، اس حدیث سے یہ مقصد نہیں ہے کہ مجھ میں اور قیامت میں فاصلہ نہیں ہے جیسا کہ بعضوں نے خیال کیا اور اپنے خیال کی بناء پر یہ اعتراض کیا کہ آپ ﷺ کو وفات کئے ہوئے چودہ سو برس سے زیادہ گزرے لیکن ابھی تک قیامت نہیں ہوئی اور نہ اس کی کوئی بڑی نشانی ظاہر ہوئی۔
It was narrated that Hudhaifah bin Asid said:
The Prophet (ﷺ) looked out at us from a room, when we were talking about the Hour. He said: 'The Hour will not begin until there are ten signs: Dajjal, (False Christ), the smoke, and the rising of the sun from the west.'
حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، ہم لوگ آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں گی قیامت قائم نہ ہو گی، جن میں سے دجال، دھواں اور سورج کا پچھم سے نکلنا بھی ہے ۱؎۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الفتن ۱۳ (۲۹۰۱)، سنن ابی داود/الملاحم ۱۲ (۴۳۱۱)، سنن الترمذی/الفتن ۲۱ (۲۱۸۳)،(تحفة الأشراف:۳۲۹۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۶،۷)
Explanation
اس روایت میں صرف تین ہی نشانیاں بیان ہوئی ہیں، یہ حدیث مختصر ہے، پوری روایت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی ہے جسے مولف دو باب کے بعد بیان کریں گے، اس میں دس نشانیاں مذکور ہیں۔
Awf bin Malik Al-Ashja’i said:
“I came to the Messenger of Allah (ﷺ) during the campaign of Tabuk, when he was in a tent made of leather, so I sat in front of the tent. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Enter, O ‘Awf.’ I said, ‘All of me, O Messenger of Allah?’ He said: ‘All of you.’ Then he said: ‘O ‘Awf, remember six things (that will occur) before the Hour comes, one of which is my death.’ I was very shocked and saddened at that. He said: ‘Count that as the first. Then (will come) the conquest of Baitul-Maqdis (Jerusalem); then a disease which will appear among you and cause you and your offspring to die as martyrs and will purify your deeds; then there will be (much) wealth among you, so that if a man were to be given one hundred Dinar he would still be dissatisfied; and there will be tribulation among you that will not leave any Muslim house untouched;* then there will be a treaty between you and the Romans, then they will betray you and march against you with eighty banners, under each of which will be twelve thousand (troops).’”
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ غزوہ تبوک میں چمڑے کے ایک خیمے میں ٹھہرے ہوئے تھے، میں خیمے کے صحن میں بیٹھ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عوف! اندر آ جاؤ ، میں نے عرض کیا: پورے طور سے، اللہ کے رسول؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں پورے طور سے ، پھر آپ نے فرمایا: عوف! قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی، انہیں یاد رکھنا، ان میں سے ایک میری موت ہے ، میں یہ سن کر بہت رنجیدہ ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو ایک، دوسری بیت المقدس کی فتح ہے، تیسری ایک بیماری ہے جو تم میں ظاہر ہو گی اس کے ذریعہ اللہ تمہیں اور تمہاری اولاد کو شہید کر دے گا، اور اس کے ذریعہ تمہارے اعمال کو پاک کرے گا، چوتھی تم میں مال کی کثرت ہو گی حتیٰ کہ آدمی کو سو دینار ملیں گے تو وہ اس سے بھی راضی نہ ہو گا، پانچویں تمہارے درمیان ایک فتنہ برپا ہو گا جس سے کوئی گھر باقی نہ رہے گا جس میں وہ نہ پہنچا ہو، چھٹی تمہارے اور اہل روم کے درمیان ایک صلح ہو گی، لیکن پھر وہ لوگ تم سے دغا کریں گے، اور تمہارے مقابلہ کے لیے اسی جھنڈوں کے ساتھ فوج لے کر آئیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہو گی ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الجزیة ۱۵ (۳۱۷۶)، سنن ابی داود/الأدب ۹۲ (۵۰۰۰،۵۰۰۱)،(تحفة الأشراف:۱۰۹۱۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۲۲)
It was narrated from Hudhaifah bin Yaman that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“The Hour will not begin until you kill your ruler and fight one another with swords, and your world is inherited by the worst of you.”
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ تم اپنے امام کو قتل کرو گے، اور اپنی تلواریں لے کر باہم لڑو گے، اور تمہارے بدترین لوگ تمہاری دنیا کے مالک بن جائیں گے ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/الفتن ۹ (۲۱۷۰)،(تحفة الأشراف:۳۳۶۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۳۸۹)
It was narrated that Abu Hurairah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) came out one day to the people, and a man came to him and said: ‘O Messenger of Allah, when will the Hour be?’ He said: ‘The one who is asked about it does not know more than the one who is asking. But I will tell you of its portents. When the slave woman gives birth to her mistress, that is one of its portents. When the barefoot and naked become leaders of the people, that is one of its portents. When shepherds compete in constructing buildings, that is one of its portents. (The Hour) is one of five (things) which no one knows except Allah.’ Then the Messenger of Allah (ﷺ) recited the words: “Verily, Allah, with Him (alone) is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs. (to the end of the Verse).”[31:34]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز لوگوں کے پاس باہر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قیامت کب قائم ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، لیکن میں تمہیں قیامت کی نشانیاں بتاتا ہوں، جب لونڈی اپنی مالکہ کو جنے، تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب ننگے پاؤں، ننگے بدن لوگ لوگوں کے سردار بن جائیں، تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب بکریاں چرانے والے عالی شان عمارتوں پر فخر کرنے لگ جائیں، تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں ہے، اور قیامت کا علم ان پانچ باتوں میں سے ہے جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام» اللہ ہی کو معلوم ہے کہ قیامت کب ہو گی، وہی بارش نازل کرتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے ( سورة لقما ن: 34 ) ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الإیمان ۳۸ (۵۰)، صحیح مسلم/الإیمان ۱ (۹)، سنن النسائی/الإیمان ۶ (۴۹۹۴)،(تحفة الأشراف:۱۴۹۲۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۴۲۶)
Explanation
یعنی اللہ تعالیٰ ہی کو قیامت کا وقت معلوم ہے، وہی پانی برساتا ہے، وہی جانتا ہے جو ماں کے پیٹ میں ہے اور کسی آدمی کو معلوم نہیں کل وہ کیا کرے گا اور کہاں مرے گا، بس یہ باتیں غیب مطلق ہیں ان کا علم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہے، اور جو کوئی دعوے کرے کہ کسی نبی یا ولی کو علم غیب ہے وہ تو کافر ہے، قرآن کی بہت ساری آیتوں میں صاف صاف یہ مضمون ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کہئے: میں غیب نہیں جانتا
It was narrated that Anas bin Malik said:
“Shall I not tell you a Hadith that I heard from the Messenger of Allah (ﷺ), which no one will tell you after me? I heard it from him (saying): ‘Among the portents of the Hour are that knowledge will be taken away and ignorance will prevail, illegal sex will become widespread and wine will be drunk, and men will disappear and women will be left, until there is one man in charge of fifty women.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تم سے وہ حدیث نہ بیان کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، اور میرے بعد تم سے وہ حدیث کوئی بیان کرنے والا نہیں ہو گا، میں نے اسے آپ ہی سے سنا ہے کہ قیامت کی نشانیاں یہ ہیں کہ علم اٹھ جائے گا، جہالت پھیل جائے گی، زنا عام ہو جائے گا، شراب پی جانے لگے گی، مرد کم ہو جائیں گے، عورتیں زیادہ ہوں گی حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا «قيم» ( سر پرست و کفیل ) ایک مرد ہو گا ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/العلم ۲۱ (۸۱)، صحیح مسلم/العلم ۵ (۲۶۷۱)، سنن الترمذی/الفتن ۳۴ (۲۲۰۵)،(تحفة الأشراف:۱۲۴۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۹۸،۱۸۶،۲۰۲،۲۷۳،۲۷۷)
Explanation
اس کی وجہ یہ ہو گی کہ اس وقت لڑائیاں بہت ہوں گی ان لڑائیوں میں مرد مارے جائیں گے اور عورتیں بکثرت باقی رہ جائیں گی۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“The Hour will not begin until the Euphrates uncovers a mountain of gold and people fight over it, and out of every ten, nine will be killed.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دریائے فرات میں سونے کے پہاڑ نہ ظاہر ہو جائیں، اور لوگ اس پر باہم جنگ کرنے لگیں، حتیٰ کہ دس آدمیوں میں سے نو قتل ہو جائیں گے، اور ایک باقی رہ جائے گا ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۵۰۹۸، ومصباح الزجاجة:۱۴۲۶)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الفتن ۲۴ (۷۱۱۹)، صحیح مسلم/الفتن ۸ (۲۸۹۴)، سنن ابی داود/الملاحم ۱۳ (۴۳۱۳)، سنن الترمذی/صفة الجنة ۲۶ (۲۵۶۹)، مسند احمد (۲/۲۶۱،۳۳۲،۳۶۰)
Explanation
دوسری روایت میں ہے کہ ہر سو میں سے ننانوے مارے جائیں گے اور ہر شخص کہے گا کہ شاید میں بچ رہوں اور سونے کے اس پہاڑ کو لوں اور لڑے گا، صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے کہ جب یہ خزانہ نمودار ہو تو جو وہاں موجود ہو اس میں سے کچھ نہ لے، واضح رہے کہ اس خزانے کے حصول کے لیے بہت قتل و غارت ہو گی، ہر شخص یہی چاہے گا کہ یہ خزانہ اسی کو ملے۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“The Hour will not begin until wealth becomes abundant and tribulations appear, and Harj increases.” They said: “What is Harj, O Messenger of Allah?” He said: “Killing, killing, killing,” three times.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی، جب تک مال کی خوب فراوانی نہ ہو جائے، اور فتنہ عام نہ ہو جائے «هرج» کثرت سے ہونے لگے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «هرج» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: قتل، قتل، قتل ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۴۰۴۴، ومصباح الزجاجة:۱۴۲۷)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم ۲۴ (۸۳)، الفتن ۲۵ (۷۱۲۱)، صحیح مسلم/الزکاة ۱۸ (۱۵۷)، مسند احمد (۲/۲۳۳،۴۱۷)
It was narrated that Hudhaifah bin Asid, Abu Sarihah, said:
The Messenger of Allah (ﷺ) looked out from a room, when we were talking about the Hour. He said: 'The Hour will not begin until ten signs appear: The rising of the sun from the west (place of its setting); Dajjal; the smoke; the beast; Gog and Magog people; the appearance of 'Eisa bin Maryam(as), the earth collapsing three times - once in the east, one in the west and one in the Arabian Peninsula; and fire that will emerge from the plain of Aden Abyan and will drive the people to the place of Gathering, stopping with them when they stop at night and when they stop to rest at midday.
حذیفہ بن اسید ابو سریحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک دن ) اپنے کمرے سے جھانکا، اور ہم آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں: سورج کا پچھم سے نکلنا، دجال، دھواں، دابۃ الارض ( چوپایا ) ، یاجوج ماجوج، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول، تین بار زمین کا «خسف» ( دھنسنا ) : ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزیرۃ العرب میں، ایک آگ عدن کے، ایک گاؤں «أبین» کے کنویں سے ظاہر ہو گی جو لوگوں کو محشر کی جانب ہانک کر لے جائے گی، جہاں یہ لوگ رات گزاریں گے تو وہیں وہ آگ ان کے ساتھ رات گزارے گی، اور جب یہ قیلولہ کریں گے تو وہ آگ بھی ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی ۱؎۔
Takhreej
«أنظرحدیث (رقم:۴۰۴۱)
Explanation
یہ آگ ساری دنیا میں پھیل جائے گی اور اس سے کافروں کی سانس رک جائے گی، اور مسلمانوں کو زکام کی حالت پیدا ہو جائے گی، اور یہ نشانی ابھی ظاہر نہیں ہوئی، قیامت کے قریب ہو گی، ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ نشانی ظاہر ہو گئی اور آیت میں اسی کا ذکر ہے: «يوم تأتي السماء بدخان مبين» (سورة الدخان: 10) اور یہ دھواں قریش پر آیا تھا، ان پر قحط پڑا تھا اور آسمان میں دھواں سا معلوم ہوتا تھا۔
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
Hasten to do good deeds (before) six things (happen): The rising of the sun from the west (place of its setting), the smoke, the beast of the earth, Dajjal (False Christ), that which will happen to each of you (death); and that which will happen to all people (the Day of Resurrection).
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھ چیزوں کے ظاہر ہونے سے پہلے تم نیک اعمال میں جلدی کرو: سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، دابۃ الارض ( چوپایا ) ، دجال، ہر شخص کی خاص آفت ( یعنی موت ) ، عام آفت ( جیسے وبا وغیرہ ) ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۸۵۴، ومصباح الزجاجة:۱۴۳۱)
It was narrated from Anas bin Malik that Abu Qatadah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The (lesser) signs (will come) after two hundred (years).’”
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( قیامت کی ) نشانیاں دو سو سال کے بعد ظاہر ہوں گی ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۰۷۹، ومصباح الزجاجة:۱۴۳۲)
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“My nation will pass through five stages. For forty years (they will be) people of righteousness and piety. Then those who follow them, for the next one hundred and twenty years, will be people who show mercy to one another and uphold ties with one another. Then those who follow them for the next one hundred and sixty years will be people who will turn their backs on one another and sever ties with one another. Then there will be Harj after Harj (killing). Seek deliverance, seek deliverance.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت پا نچ طبقات پر مشتمل ہو گی: چالیس سال نیکو کاروں اور متقیوں کے ہوں گے، پھر ان کے بعد ایک سو سال تک صلہ رحمی کرنے والے اور رشتے ناطے کا خیال رکھنے والے ہوں گے، پھر ان کے بعد ایک سو ساٹھ سال تک وہ لوگ ہوں گے جو رشتہ ناطہٰ توڑیں گے، اور ایک دوسرے کی طرف سے منہ موڑیں گے، پھر اس کے بعد قتل ہی قتل ہو گا، لہٰذا تم ایسے زمانے سے نجات مانگو، نجات مانگو ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۶۸۹، ومصباح الزجاجة:۱۴۳۳)