TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Chapter: The disappearance of honesty - امانت کے ختم ہو جانے کا بیان - Tribulations - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 27 of Tribulations in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 27 of 35 · 2 Hadith
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،‏‏‏‏ عَنْ الْأَعْمَشِ،‏‏‏‏ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ،‏‏‏‏ عَنْ حُذَيْفَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ،‏‏‏‏ قَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا:‏‏‏‏ أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ ،‏‏‏‏ قَالَ الطَّنَافِسِيُّ:‏‏‏‏ يَعْنِي:‏‏‏‏ وَسْطَ قُلُوبِ الرِّجَالِ،‏‏‏‏ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ،‏‏‏‏ فَعَلِمْنَا مِنَ الْقُرْآنِ وَعَلِمْنَا مِنَ السُّنَّةِ،‏‏‏‏ ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ،‏‏‏‏ فَتُرْفَعُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ،‏‏‏‏ فَيَظَلُّ أَثَرُهَا كَأَثَرِ الكوكب،‏‏‏‏ وَيَنَامُ النَّوْمَةَ،‏‏‏‏ فَتُنْزَعُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ،‏‏‏‏ فَيَظَلُّ أَثَرُهَا كَأَثَرِ الْمَجْلِ،‏‏‏‏ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ فَنَفِطَ،‏‏‏‏ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا،‏‏‏‏ وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ ،‏‏‏‏ ثُمَّ أَخَذَ حُذَيْفَةُ كَفًّا مِنْ حَصًى فَدَحْرَجَهُ عَلَى سَاقِهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ،‏‏‏‏ وَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ،‏‏‏‏ حَتَّى يُقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا،‏‏‏‏ وَحَتَّى يُقَالَ:‏‏‏‏ لِلرَّجُلِ مَا أَعْقَلَهُ وَأَجْلَدَهُ وَأَظْرَفَهُ،‏‏‏‏ وَمَا فِي قَلْبِهِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ ،‏‏‏‏ وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَلَسْتُ أُبَالِي أَيَّكُمْ بَايَعْتُ،‏‏‏‏ لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ إِسْلَامُهُ،‏‏‏‏ وَلَئِنْ كَانَ يَهُودِيًّا،‏‏‏‏ أَوْ نَصْرَانِيًّا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ،‏‏‏‏ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ لِأُبَايِعَ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا.
It was narrated that Hudhaifah said: “The Messenger of Allah (ﷺ) told us two Ahadith, one of which I have seen, and I am still waiting for the other. He told us: ‘Honesty was preserved in the roots of men’s hearts’ – (One of the narrators) Tanafisi said: ‘Meaning in the middle of men’s hearts’ – ‘Then the Qur’an was revealed and we learned (it) from the Qur’an and the Sunnah.’ Then he told us about its disappearance, saying; ‘A man will go to sleep and honesty will be taken away from his heart, and only its trace will remain, like spots without color. Then he will go to sleep again and the remainder of the honesty will also be taken away (from his heart) and leaving a trace like a blister, as when an ember touches your foot and raises a blister which has nothing inside.’” Then Hudhaifah picked up a handful of pebbles and rolled them on his leg. He said: “People will engage in business with one another, but there will hardly be any honest persons among them. Then it will be said that in such and such a tribe there is an honest man, and a man will be admired for his intelligence, good manners and strength, but there will not be even a mustard seed of faith in his heart.” There was a time when I did not mind dealing with anyone of you, for if he was a Muslim, his religion would prevent him from cheating; and if he was a Christian, his Muslim ruler would prevent him from cheating. But today I cannot deal except with so-and-so and so-and-so.
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دو حدیثیں بیان کیں، جن میں سے ایک تو میں نے دیکھ لی ۱؎ اور دوسری کا منتظر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ بیان فرمایا: امانت آدمیوں کے دلوں کی جڑ میں اتری ( پیدا ہوئی ) ، ( طنافسی نے کہا: یعنی آدمیوں کے دلوں کے بیچ میں اتری ) اور قرآن کریم نازل ہوا، تو ہم نے قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کی ۲؎، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کے اٹھ جانے کے متعلق ہم سے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی رات کو سوئے گا تو امانت اس کے دل سے اٹھا لی جائے گی، ( اور جب وہ صبح کو اٹھے گا تو ) امانت کا اثر ایک نقطے کی طرح دل میں رہ جائے گا، پھر جب دوسری بار سوئے گا تو امانت اس کے دل سے چھین لی جائے گی، تو اس کا اثر ( اس کے دل میں ) کھال موٹا ۲؎ ہونے کی طرح رہ جائے گا، جیسے تم انگارے کو پاؤں پر لڑھکا دو تو کھال پھول کر آبلے کی طرح دکھائی دے گی، حالانکہ اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا ، پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مٹھی بھر کنکریاں لیں اور انہیں اپنی پنڈلی پر لڑھکا لیا، اور فرمانے لگے: پھر لوگ صبح کو ایک دوسرے سے خرید و فروخت کریں گے، لیکن ان میں سے کوئی بھی امانت دار نہ ہو گا، یہاں تک کہ کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں فلاں امانت دار شخص ہے، اور یہاں تک آدمی کو کہا جائے گا کہ کتنا عقلمند، کتنا توانا اور کتنا ذہین و چالاک ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہو گا، اور مجھ پر ایک زمانہ ایسا گزرا کہ مجھے پروا نہ تھی کہ میں تم میں سے کس سے معاملہ کروں، یعنی مجھے کسی کی ضمانت کی حاجت نہ تھی، اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا اسلام اسے مجھ پر زیادتی کرنے سے روکتا، اور اگر وہ یہودی یا نصرانی ہوتا تو اس کا گماشتہ بھی انصاف سے کام لیتا ( یعنی ان کے عامل اور عہدہ دار بھی ایماندار اور منصف ہوتے ) اور اب آج کے دن مجھے کوئی بھی ایسا نظر نہیں آتا کہ میں اس سے معاملہ کروں سوائے فلاں فلاں کے ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الرقاق ۳۵ (۶۴۹۷)، صحیح مسلم/الإیمان ۶۴ (۱۴۳)، سنن الترمذی/الفتن ۱۷ (۲۱۷۹)،(تحفة الأشراف:۳۳۲۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۳۸۳،۳۸۴،۴۰۳)
Explanation
یعنی اس کا ظہور ہو گیا۔ ۲؎: جس سے ایمانداری اور بڑھ گئی، مطلب یہ ہے کہ ایمانداری کی صفت بعض دلوں میں فطری طور پر ہوتی ہے اور کتاب و سنت حاصل کرنے سے اور بڑھ جاتی ہے۔ ۳ ؎: جیسے پھوڑا اچھا ہو جاتا ہے، لیکن جلد کی سختی ذرا سی رہ جاتی ہے، اور یہ درجہ اول سے بھی کم ہے، اول میں تو ایک نقطہ کے برابر امانت رہ گئی تھی یہاں اتنی بھی نہ رہی صرف نشان رہ گیا۔
4053
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي شَجَرَةَ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ عَبْدًا،‏‏‏‏ نَزَعَ مِنْهُ الْحَيَاءَ،‏‏‏‏ فَإِذَا نَزَعَ مِنْهُ الْحَيَاءَ،‏‏‏‏ لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا مَقِيتًا مُمَقَّتًا،‏‏‏‏ فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا مَقِيتًا مُمَقَّتًا،‏‏‏‏ نُزِعَتْ مِنْهُ الْأَمَانَةُ،‏‏‏‏ فَإِذَا نُزِعَتْ مِنْهُ الْأَمَانَةُ،‏‏‏‏ لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا خَائِنًا مُخَوَّنًا،‏‏‏‏ فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا خَائِنًا مُخَوَّنًا،‏‏‏‏ نُزِعَتْ مِنْهُ الرَّحْمَةُ،‏‏‏‏ فَإِذَا نُزِعَتْ مِنْهُ الرَّحْمَةُ،‏‏‏‏ لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا رَجِيمًا مُلَعَّنًا،‏‏‏‏ فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا رَجِيمًا مُلَعَّنًا،‏‏‏‏ نُزِعَتْ مِنْهُ رِبْقَةُ الْإِسْلَامِ .
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) said: “When Allah wants to destroy a person, He takes away modesty from him, you will only see him with the wrath of Allah upon him, and he will be hated by people. When you only see him with the wrath of Allah upon him, and hated by people, then honesty will be taken away from him, and when honesty is taken away from him, you will only see him as a traitor who is called such by others. When you only see him as a traitor who is called such by others, then mercy will be taken away from him, and when mercy is taken away from him, you will only see him as rejected and accursed, and when you only see him as rejected and accursed, then the bond of Islam will be taken away from him.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے شرم و حیاء کو نکال لیتا ہے، پھر جب حیاء اٹھ جاتی ہے تو اللہ کے قہر میں گرفتار ہو جاتا ہے، اور اس حالت میں اس کے دل سے امانت بھی چھین لی جاتی ہے، اور جب اس کے دل سے امانت چھین لی جاتی ہے تو وہ چوری اور خیانت شروع کر دیتا ہے، اور جب چوری اور خیانت شروع کر دیتا ہے تو اس کے دل سے رحمت چھین لی جاتی ہے، اور جب اس سے رحمت چھین لی جاتی ہے تو تم اسے ملعون و مردود پاؤ گے، اور جب تم ملعون و مردود دیکھو تو سمجھ لو کہ اسلام کا قلادہ اس کی گردن سے نکل چکا ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۷۳۸۲، ومصباح الزجاجة:۱۴۳۰)
4054
Zaeef

Chapters

35
01
Chapter: Refraining from harming one who says: La Ilaha Illallah
کلمہ توحید کا اقرار کرنے والے سے ہاتھ روک لینا
4 Hadith
02
Chapter: The sanctity of the Believer's blood and wealth
مومن کی جان و مال کی حرمت کا بیان۔
4 Hadith
03
Chapter: The prohibition of plunder
لوٹ مار سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
04
Chapter: Verbally abusing a Muslim is Fusuq (disobedience) and fighting Him is Kufr (ungratefulness to Allah)
مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر ہے
3 Hadith
05
Chapter: Do not turn back into disbelievers after I am gone, striking one another's necks
(فرمان نبوی) تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ان کی طرح ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو
3 Hadith
06
Chapter: The Muslims are under the Protection of Allah
مسلمان اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان میں ہیں
3 Hadith
07
Chapter: Tribalism
عصبیت کا بیان
2 Hadith
08
Chapter: The great majority
سواد اعظم (بڑی جماعت کے ساتھ رہنے) کا بیان
1 Hadith
09
Chapter: Tribulations that will appear
(امت محمدیہ میں) ہونے والے فتنوں کا بیان
6 Hadith
10
Chapter: Standing firm during times of tribulation
فتنے کے وقت تحقیق کرنے اور حق پر جمے رہنے کا بیان
6 Hadith
11
Chapter: When two Muslims confront one another with their swords
جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم بھڑ جائیں تو ان کے حکم کا بیان
4 Hadith
12
Chapter: Restraining one's tongue during times of tribulation
فتنہ میں زبان بند رکھنے کا بیان
10 Hadith
13
Chapter: Isolating oneself
(فتنہ کے زمانہ میں) سب سے الگ تھلگ رہنے کا بیان
7 Hadith
14
Chapter: Abstaining from matters that are not clear
شکوک و شبہات سے دور رہنے کا بیان
2 Hadith
15
Chapter: Islam began as something strange
اسلام کی شروعات اجنبی حالت میں ہوئی
3 Hadith
16
Chapter: One who hopes for protection from tribulation
جن کے بارے میں امید ہے کہ وہ فتنوں سے محفوظ ہوں گے ان کا بیان۔
2 Hadith
17
Chapter: The division of nations
امتوں کا انتشار اور ان کا فرقوں میں بٹ جانا
4 Hadith
18
Chapter: The tribulation of wealth
مال دولت کا فتنہ
3 Hadith
19
Chapter: The tribulation of women
عورتوں کا فتنہ
6 Hadith
20
Chapter: Enjoining what is good and forbidding what is evil
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی بھلی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے) کا بیان
10 Hadith
21
Chapter: The words of Allah: O you who believe! Take care of your own selves.
اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ” مومنوں اپنی جانیں بچاؤ “۔
4 Hadith
22
Chapter: Punishments
سزاؤں کا بیان
5 Hadith
23
Chapter: Patience at the time of calamity
آفات و مصائب پر صبر کرنے کا بیان
12 Hadith
24
Chapter: Hard times
زمانہ کی سختی کا بیان
5 Hadith
25
Chapter: The portents of the Hour
قیامت کی نشانیوں کا بیان
12 Hadith
26
Chapter: The disappearance of the Quran and Knowledge
قرآن اور علم (حدیث) کا دنیا سے اٹھ جانا قیامت کی نشانی ہے
5 Hadith
27
Chapter: The disappearance of honesty
امانت کے ختم ہو جانے کا بیان
2 Hadith
28
Chapter: The Earth collapsing
زمین کے دھنسنے کا بیان
4 Hadith
29
Chapter: The Army of Al-Bayda'
بیداء کے لشکر کا بیان
3 Hadith
30
Chapter: The Beast of the Earth
(قرب قیامت) دابۃ الارض (چوپایہ کے نکلنے) کا بیان
2 Hadith
31
Chapter: The rising of the Sun from the west (the place of its setting)
پچھم سے سورج نکلنے کا بیان
3 Hadith
32
Chapter: The tribulation of Dajjal, the emergence of 'Esa bin Maryam and the emergence of Gog and Magog
فتنہ دجال، عیسیٰ بن مریم اور یاجوج و ماجوج کے ظہور کا بیان
11 Hadith
33
Chapter: The appearance of the Mahdi
مہدی علیہ السلام کے ظہور کا بیان
7 Hadith
34
Chapter: The fierce battles
اہم حادثات اور فتنوں کا بیان
7 Hadith
35
Chapter: The Turks
ترکوں کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.