TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Chapter: The rising of the Sun from the west (the place of its setting) - پچھم سے سورج نکلنے کا بیان - Tribulations - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 31 of Tribulations in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 31 of 35 · 3 Hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ،‏‏‏‏ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا،‏‏‏‏ فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا،‏‏‏‏ فَذَلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ .
It was narrated that Abu Hurairah said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘The Hour will not begin until the sun rises from the west (i.e. the place of its setting). When it rises, the people will see it, and everyone on (earth) will believe, but that will be at a time when faith will not benefit anyone who did not believe before.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اس وقت تک قیامت قائم نہ ہو گی جب تک سورج پچھم سے نہ نکلے گا، جب سورج کو پچھم سے نکلتے دیکھیں گے تو روئے زمین کے سب لوگ ایمان لے آئیں گے، لیکن یہ ایسا وقت ہو گا کہ اس وقت جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتے تھے، ان کا ایمان لانا کچھ فائدہ نہ دے گا ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/تفسیر القرآن ۷ (۴۶۳۵)، الرقاق ۴۰ (۶۵۰۶)، الفتن ۲۵ (۷۱۲۱)، صحیح مسلم/الإیمان ۷۲ (۱۵۷)، سنن ابی داود/الملاحم ۱۲ (۴۳۱۲)،(تحفة الأشراف:۱۴۸۹۷)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/التفسیر ۷ (۳۰۷۲)، مسند احمد (۲/۲۳۱،۳۱۳،۳۵۰،۳۷۲،۵۳۰)
Explanation
کیونکہ اللہ کی قدرت کی کھلی کھلی نشانی ظاہر ہو جائے گی اور ایسی حالت میں تو سب مومن ہو جاتے ہیں، جیسے قیامت میں جنت، جہنم اور حشر کو دیکھ کر سب ایمان لائیں گے، ایمان جو قبول ہے وہ یہی ہے کہ غیب پر ایمان لائے، بہر حال پچھم سے جب تک سورج نہ نکلے اس وقت تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے، پھر بند ہو جائے گا
4068
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ،‏‏‏‏ عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَوَّلُ الْآيَاتِ خُرُوجًا:‏‏‏‏ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا،‏‏‏‏ وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ عَلَى النَّاسِ ضُحًى ،‏‏‏‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ فَأَيَّتُهُمَا مَا خَرَجَتْ قَبْلَ الْأُخْرَى،‏‏‏‏ فَالْأُخْرَى مِنْهَا قَرِيبٌ،‏‏‏‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ وَلَا أَظُنُّهَا إِلَّا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا.
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The first signs to appear will be at the rising of the sun from the west and the emergence of the Beast to the people, at forenoon.’” 'Abdullah said: Whichever of them appears first, the other will come soon after. 'Abdullah said: I do not think it will be anything other than the sun rising from the west.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کی پہلی نشانی سورج کا پچھم سے نکلنا، اور چاشت کے وقت لوگوں پر «دابہ» ( چوپایہ ) کا ظاہر ہونا ہے ۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان دونوں میں سے جو بھی پہلے نکلے، تو دوسرا اس سے قریب ہو گا، میرا یہی خیال ہے کہ پہلے سورج پچھم سے نکلے گا ۱؎۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الفتن ۲۳ (۲۹۴۱)، سنن ابی داود/الملاحم ۱۲ (۴۳۱۰)،(تحفة الأشراف:۸۹۵۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۶۴،۲۰۱)
Explanation
یعنی ان نشانیوں میں جو قانون قدرت کے خلاف ہیں کیونکہ پہلی نشانی مہدی علیہ السلام کا ظہور ہے، پھر عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اتر کر زمین پر آنا، پھر دجال کا نکلنا، پھر یاجوج ماجوج کا نکلنا، اور دابۃ الارض میں اختلاف ہے کہ سورج کے نکلنے سے پہلے نکلے گا یا بعد میں نکلے گا، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا یہی خیال تھا کہ وہ سورج نکلنے کے بعد نکلے گا، جب کہ اوروں نے کہا کہ اس سے پہلے نکلے گا، بہرحال آسمانی نشانیوں میں سورج کا نکلنا آخری نشانی ہے، اور ارضی نشانیوں میں دابۃ الارض کا نکلنا پہلی، اور بعض نے کہا کہ پہلی قیامت کی نشانی دجال کا نکلنا ہے، پھر عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا، پھر یاجوج اور ماجوج کا نکلنا، پھر دابۃ الارض کا، پھر سورج کا پچھم سے نکلنا، کیونکہ سورج نکلنے پر ایمان کا دروازہ بند ہو جائے گا، اور عیسیٰ علیہ السلام کے عہد میں بہت سے کافر دین اسلام کو قبول کریں گے یہاں تک کہ ساری دنیا میں ایک ہی دین ہو جائے گا۔ «والحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات»۔
4069
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى،‏‏‏‏ عَنْ إِسْرَائِيلَ،‏‏‏‏ عَنْ عَاصِمٍ،‏‏‏‏ عَنْ زِرٍّ،‏‏‏‏ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ مِنْ قِبَلِ مَغْرِبِ الشَّمْسِ بَابًا مَفْتُوحًا،‏‏‏‏ عَرْضُهُ سَبْعُونَ سَنَةً،‏‏‏‏ فَلَا يَزَالُ ذَلِكَ الْبَابُ مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ،‏‏‏‏ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ،‏‏‏‏ فَإِذَا طَلَعَتْ مِنْ نَحْوِهِ لَمْ يَنْفَعْ نَفْسًا إِيمَانُهَا،‏‏‏‏ لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا .
It was narrated from Safwan bin ‘Assal that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Towards the west (i.e., the place of the setting of the sun) there is an open door, seventy years wide. That door will remain open for repentance until the sun rises from this direction. When it rises from this direction, faith will not benefit any soul that did not believe before or earn anything good through its faith.”
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مغرب ( یعنی سورج کے ڈوبنے کی سمت ) میں ایک کھلا دروازہ ہے، اس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے، یہ دروازہ توبہ کے لیے ہمیشہ کھلا رہے گا، جب تک سورج ادھر سے نہ نکلے، اور جب سورج ادھر سے نکلے گا تو اس وقت کسی شخص کا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا ایمان لا کر کوئی نیکی نہ کما لی ہو، اس کا ایمان لانا کسی کام نہ آئے گا ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/الدعوات ۹۹ (۳۵۳۵،۳۵۳۶)،(تحفة الأشراف:۴۹۵۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۲۳۹،۲۴۰،۲۴۱)
4070
Sahih

Chapters

35
01
Chapter: Refraining from harming one who says: La Ilaha Illallah
کلمہ توحید کا اقرار کرنے والے سے ہاتھ روک لینا
4 Hadith
02
Chapter: The sanctity of the Believer's blood and wealth
مومن کی جان و مال کی حرمت کا بیان۔
4 Hadith
03
Chapter: The prohibition of plunder
لوٹ مار سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
04
Chapter: Verbally abusing a Muslim is Fusuq (disobedience) and fighting Him is Kufr (ungratefulness to Allah)
مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر ہے
3 Hadith
05
Chapter: Do not turn back into disbelievers after I am gone, striking one another's necks
(فرمان نبوی) تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ان کی طرح ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو
3 Hadith
06
Chapter: The Muslims are under the Protection of Allah
مسلمان اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان میں ہیں
3 Hadith
07
Chapter: Tribalism
عصبیت کا بیان
2 Hadith
08
Chapter: The great majority
سواد اعظم (بڑی جماعت کے ساتھ رہنے) کا بیان
1 Hadith
09
Chapter: Tribulations that will appear
(امت محمدیہ میں) ہونے والے فتنوں کا بیان
6 Hadith
10
Chapter: Standing firm during times of tribulation
فتنے کے وقت تحقیق کرنے اور حق پر جمے رہنے کا بیان
6 Hadith
11
Chapter: When two Muslims confront one another with their swords
جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم بھڑ جائیں تو ان کے حکم کا بیان
4 Hadith
12
Chapter: Restraining one's tongue during times of tribulation
فتنہ میں زبان بند رکھنے کا بیان
10 Hadith
13
Chapter: Isolating oneself
(فتنہ کے زمانہ میں) سب سے الگ تھلگ رہنے کا بیان
7 Hadith
14
Chapter: Abstaining from matters that are not clear
شکوک و شبہات سے دور رہنے کا بیان
2 Hadith
15
Chapter: Islam began as something strange
اسلام کی شروعات اجنبی حالت میں ہوئی
3 Hadith
16
Chapter: One who hopes for protection from tribulation
جن کے بارے میں امید ہے کہ وہ فتنوں سے محفوظ ہوں گے ان کا بیان۔
2 Hadith
17
Chapter: The division of nations
امتوں کا انتشار اور ان کا فرقوں میں بٹ جانا
4 Hadith
18
Chapter: The tribulation of wealth
مال دولت کا فتنہ
3 Hadith
19
Chapter: The tribulation of women
عورتوں کا فتنہ
6 Hadith
20
Chapter: Enjoining what is good and forbidding what is evil
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی بھلی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے) کا بیان
10 Hadith
21
Chapter: The words of Allah: O you who believe! Take care of your own selves.
اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ” مومنوں اپنی جانیں بچاؤ “۔
4 Hadith
22
Chapter: Punishments
سزاؤں کا بیان
5 Hadith
23
Chapter: Patience at the time of calamity
آفات و مصائب پر صبر کرنے کا بیان
12 Hadith
24
Chapter: Hard times
زمانہ کی سختی کا بیان
5 Hadith
25
Chapter: The portents of the Hour
قیامت کی نشانیوں کا بیان
12 Hadith
26
Chapter: The disappearance of the Quran and Knowledge
قرآن اور علم (حدیث) کا دنیا سے اٹھ جانا قیامت کی نشانی ہے
5 Hadith
27
Chapter: The disappearance of honesty
امانت کے ختم ہو جانے کا بیان
2 Hadith
28
Chapter: The Earth collapsing
زمین کے دھنسنے کا بیان
4 Hadith
29
Chapter: The Army of Al-Bayda'
بیداء کے لشکر کا بیان
3 Hadith
30
Chapter: The Beast of the Earth
(قرب قیامت) دابۃ الارض (چوپایہ کے نکلنے) کا بیان
2 Hadith
31
Chapter: The rising of the Sun from the west (the place of its setting)
پچھم سے سورج نکلنے کا بیان
3 Hadith
32
Chapter: The tribulation of Dajjal, the emergence of 'Esa bin Maryam and the emergence of Gog and Magog
فتنہ دجال، عیسیٰ بن مریم اور یاجوج و ماجوج کے ظہور کا بیان
11 Hadith
33
Chapter: The appearance of the Mahdi
مہدی علیہ السلام کے ظہور کا بیان
7 Hadith
34
Chapter: The fierce battles
اہم حادثات اور فتنوں کا بیان
7 Hadith
35
Chapter: The Turks
ترکوں کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.