TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3359 - بَاب النَّفَقَات وَحقّ الْمَمْلُوك - نکاح کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 18 of 34 in this chapter
بَاب النَّفَقَات وَحقّ الْمَمْلُوك
نان نفقہ اور حق مملوک کا بیان
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «حُسْنُ الْمَلَكَةِ يُمْنٌ وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَلَمْ أَرَ فِي غَيْرِ الْمَصَابِيحِ مَا زَادَ عَلَيْهِ فيهِ منْ قولِهِ: «والصَّدَقةُ تمنَعُ مِيتةَ السُّوءِ والبِرُّ زيادةٌ فِي العُمُرِ»
رافع بن مکیث ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ (غلاموں ، رعایا سے) اچھا سلوک کرنے والا باعث برکت ہے جبکہ بُرے اخلاق والا باعث نحوست ہے ۔‘‘ اور میں (صاحب مشکوۃ) نے مصابیح کے علاوہ کسی اور نسخے میں یہ اضافہ نہیں دیکھا جو صاحبِ مصابیح نے نقل کیا ہے :’’ صدقہ بُری موت سے بچاتا ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کا باعث ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
3359
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
(ضَعِيف)
Conclusion
تخریج
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۵۱۶۲) * عثمان بن زفر الدمشقی مجھول لم یوثقہ غیر ابن حبان ۔

Related Chapters

173
1
مطلقہ بائنہ (جس سے رجوع نہیں ہو سکتا) کے نان و نفقہ اور اس کی رہائش کا بیان اور ضرورت کے لیے اس کا باہر نکلنا
Musnad Ahmad
2
خاوند کی حیثیت کے مطابق بیوی کا نان و نفقہ واجب ہے، دوسرے رشتہ داروں پر اس کا حق مقدم ہے اور اس خدمت میں خاوند کا اجر و ثواب
Musnad Ahmad
3
اگر خاوند کے لیے نان و نفقہ مشکل ہو تو بیوی جدائی کا مطالبہ کر سکتی ہے
Musnad Ahmad
4
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Building A Masjid
باب: مسجد بنانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: Undesirability Of Taking The Grave As A Masjid
باب: قبروں پر مسجد بنانے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Garlanding Sheep
باب: ہدی کی بکریوں کو قلادہ (پٹہ) پہنانے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About: If You Are Pleased With Someone's Religion Then Marry Him
باب: قابل اطمینان دیندار کی طرف سے شادی کا پیغام آنے پر شادی کر دینے کا حکم
Jam e Tirmazi
8
Chapter: The Prohibition To Use Wine To Make Vinegar
باب: شراب کا سرکہ بنانا منع ہے
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About It Is Disliked To Prepare Nabidh In Ad-Dubba', An-Naqir, And An-Hantam
باب: تونبی، مٹکا (سبز رنگ کے برتن) اور لکڑی کے برتن میں نبیذ بنانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related Permitting That Nabidh Be Prepared Ibn Containers
باب: مذکورہ بالا برتنوں میں نبیذ بنانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Preparing Nabidh In A Water Skin
باب: مشک میں نبیذ بنانے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Mixing Unripe Dates And Dates
باب: گدر (ادھ پکی) کھجور اور خشک کھجور ملا کر نبیذ بنانے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
باب: دادی اور نانی کی میراث کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What has been Related About whoever claims His Wala' to be For Other Than His Mawali, Or Claims Someone Else Other Than His Father
باب: آزاد کرنے والے کے علاوہ دوسرے کو مالک بنانے اور دوسرے کے باپ کی طرف نسبت کرنے والے کا بیان​
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What has been Related About Taking A Sword Of Wood(During Fitnah)
باب: فتنے کے زمانہ میں لکڑی کی تلوار بنانے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت
Musnad Ahmad
17
تبرک و تعظیم کے لیے انبیاء وصالحین کی قبروں کو مساجد بنانے کی ممانعت
Musnad Ahmad
18
کفار کی قبریں اکھاڑ کر ان کی جگہ مساجد بنانے کا جواز
Musnad Ahmad
19
غیر مسلموں کے عبادت خانوں کو مساجد بنانے کا جواز
Musnad Ahmad
20
گھروں میں مساجد بنانے کا بیان
Musnad Ahmad
21
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
22
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
23
سفر میںساتھی بنانے اور اس کے سبب کا بیان
Musnad Ahmad
24
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
Musnad Ahmad
25
نماز میں امام کا اپنا نائب بنانے کا اور نائب بنانے والے امام کے آنے کے بعد نائب کا مقتدی بن جانے کا جواز
Musnad Ahmad
26
امام کا مقتدیوں کو سنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کے جواز کا بیان اور امام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کا حکم
Musnad Ahmad
27
مقتدیوں کا ستونوں کے درمیان صف بنانے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
28
میت پر سوگ منانے کا بیان
Musnad Ahmad
29
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
Musnad Ahmad
30
قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے
Musnad Ahmad
31
قبروں کے اوپر عمارت بنانے، ان کو چونا گچ کرنے، ان کے اوپر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان اور میت کی ہڈی توڑنے اور جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے (کے جواز یا عدم جواز) کا بیان
Musnad Ahmad
32
قبروں کے اوپر مساجد بنانے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
33
قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں اور ان پر چراغ جلانے والوں پر لعنت کا بیان
Musnad Ahmad
34
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
Musnad Ahmad
35
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
36
گری پڑی چیز پر گواہ بنانے اور کم مقدار اور زیادہ مقدار کی چیز کی مدتِ اعلان کا بیان
Musnad Ahmad
37
دادیوں اور نانیوں کی میراث کا بیان
Musnad Ahmad
38
آزادی کو اور قرآن مجید کے بعض حصے کی تعلیم کو مہر بنانے کا بیان
Musnad Ahmad
39
گوشت کو پکانے، اس کو نوچ کر کھانے، اس میں زیادہ شوربا بنانے اور اس کو گرم گرم نہ کھانے کا بیان
Musnad Ahmad
40
ان برتنوں کابیان، جن میں نبیذ بنانے سے منع کیا گیا، لیکن پھر ان کی حرمت منسوخ ہو گئی
Musnad Ahmad
41
سابق احادیث میں جن برتنوں میں نبیذ بنانے کو حرام قرار دیا گیا ان کے اس حکم کے منسوخ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
42
تصویر بنانے کی ممانعت اور ان کپڑوں، بچھونوں اور پردوں وغیرہ کے حکم کا بیان جن پر تصویریں بنی ہوتی ہیں تصویر سے ممانعت اور تصویر بنانے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
43
اس شخص کا قصہ، جس نے پہلے ننانوے قتل کیے، پھر سو پورا کر دیا
Musnad Ahmad
44
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
Musnad Ahmad
45
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ بنانا
Musnad Ahmad
46
سیدنا صہیب بن سنان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
47
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
Musnad Ahmad
48
(6) CHAPTER. What is said about knowledge.
شاگرد کا استاد کے سامنے پڑھنا اور اس کو سنانا
Sahih Bukhari
49
(48) CHAPTER. Is it permissible to dig the graves of pagans of the Period of Ignorance, and to use that place as a mosque?
کیا دور جاہلیت کے مشرکوں کی قبروں کو کھود ڈالنا اور ان کی جگہ مسجد بنانا درست ہے ؟
Sahih Bukhari
50
(63) CHAPTER. To co-operate in building a mosque.
مسجد بنانے میں مدد کرنا ( یعنی اپنی جان و مال سے حصہ لینا کار ثواب ہے )
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

47
Mishkat
1495
وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مِنَ النُّغَاشِينَ فَخَرَّ ساجا. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ مُرْسَلًا وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ لَفْظُ المصابيح
ابوجعفر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے کسی چھوٹے سے قد والے (بونے) شخص کو دیکھا تو آپ سجدہ ریز ہو گئے ۔ دارقطنی نے اسے مرسل روایت کیا ہے ، اور شرح السنہ میں مصابیح کے الفاظ ہیں ۔ ضعیف ۔
Mishkat
1667
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرَّاكِبُ يَسِيرُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ والماشي يمشي خلفهَا وأمامها وَعَن يَمِينهَا وَعَن يسارها قَرِيبا مِنْهَا وَالسَّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَيُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ وَالتِّرْمِذِيِّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه قَالَ: «الرَّاكِب خلف الْجِنَازَة وَالْمَاشِي حَيْثُ شَاءَ مِنْهَا وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ» وَفِي المصابيح عَن الْمُغيرَة بن زِيَاد
مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ سوار شخص جنازے کے پیچھے جبکہ پیدل چلنے والا اس کے پیچھے ، اس کے آگے ، اس کے دائیں اور اس کے بائیں اس کے قریب قریب چلے گا ، اور نامکمل پیدا ہونے والے بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کے والدین کے لیے مغفرت و رحمت کی دعا کی جائے گی ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و احمد و الترمذی ۔ احمد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سوار جنازے کے پیچھے جبکہ پیادہ جس طرف چاہے چل سکتا ہے ، اور بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ۔‘‘ مصابیح میں مغیرہ بن زیاد سے مروی ہے ۔
Mishkat
2116
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أُسَيْدَ بنَ حُضَيْرٍ قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَفَرَسُهُ مَرْبُوطَةٌ عِنْدَهُ إِذْ جَالَتِ الْفرس فَسكت فَسَكَتَتْ فَقَرَأَ فجالت الْفرس فَسكت فَسَكَتَتْ الْفرس ثُمَّ قَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ فَانْصَرَفَ وَكَانَ ابْنُهُ يحيى قَرِيبا مِنْهَا فأشفق أَن تصيبه فَلَمَّا أَخَّرَهُ رَفْعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ فَلَمَّا أَصْبَحَ حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ» . قَالَ فَأَشْفَقْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَطَأَ يحيى وَكَانَ مِنْهَا قَرِيبا فَرفعت رَأْسِي فَانْصَرَفْتُ إِلَيْهِ وَرَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ فَخَرَجَتْ حَتَّى لَا أَرَاهَا قَالَ: «وَتَدْرِي مَا ذَاكَ؟» قَالَ لَا قَالَ: «تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ دَنَتْ لِصَوْتِكَ وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهَا لَا تَتَوَارَى مِنْهُمْ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ وَفِي مُسْلِمٍ: «عرجت فِي الجو» بدل: «خرجت على صِيغَة الْمُتَكَلّم»
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ اُسید بن حضیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ رات کے وقت سورۂ بقرہ تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا ان کے پاس بندھا ہوا تھا کہ گھوڑا اچانک اچھلنے لگا ، وہ خاموش ہو گئے تو وہ (گھوڑا) بھی ٹھہر گیا ، انہوں نے پھر پڑھا تو گھوڑا پھر اچھلنے لگا وہ خاموش ہو گئے تو وہ (گھوڑا) بھی ٹھہر گیا ۔ انہوں نے پھر پڑھا تو گھوڑا پھر اچھلنے لگا ، وہ فارغ ہوئے ، اور ان کا بیٹا یحیی اس (گھوڑے) کے قریب ہی تھا ، لہذا انہیں اندیشہ ہوا کہ وہ اسے نقصان نہ پہنچائے اور جب انہوں نے اسے دور کیا ، اور آسمان کی طرف سر اٹھایا تو سائبان سا دکھائی دیا جس میں چراغوں کی طرح روشنی تھی ، جب صبح ہوئی تو انہوں نے نبی ﷺ کو بتایا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابن حضیر ! پڑھ ، ابن حضیر ! تم پڑھتے رہتے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا اللہ کے رسول ! مجھے اندیشہ ہوا کہ (اگر میں پڑھتا رہتا تو) وہ یحیی کو روند ڈالتا ، کیونکہ وہ اس کے قریب تھا ، لہذا میں اس کی طرف متوجہ ہو گیا ، میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو (اوپر) سائبان کی طرح کوئی چیز تھی اور اس میں چراغوں جیسی کوئی چیز تھی ، میں باہر نکلا حتیٰ کہ میں نے اس (روشنی) کو نہ دیکھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم جانتے ہو وہ کیا تھا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، نہیں ، فرمایا :’’ وہ فرشتے تھے جو تمہاری آواز کے قریب آ گئے تھے ، اگر تم پڑھتے رہتے تو وہ وہیں رہتے اور لوگ انہیں دیکھ لیتے اور وہ ان سے مخفی نہ رہتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور یہ الفاظ حدیث بخاری کے ہیں ، اور صحیح مسلم میں ہے :’’ میں باہر نکلا ‘‘ صیغہ متکلم کے بدل لفظ :’’ وہ فضا میں بلند ہو گئے ‘‘ استعمال ہوا ہے ۔
Mishkat
2155
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ: (آلم تَنْزِيل) و (تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ. وَكَذَا فِي شرح السّنة. وَفِي المصابيح
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ، سورۃ السجدہ اور سورۃ الملک پڑھے بغیر نہیں سوتے تھے ۔ احمد ، ترمذی ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ شرح السنہ میں بھی اسی طرح ہے ۔ جبکہ مصابیح میں ہے کہ یہ غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ۔
Mishkat
4686
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَقَّى جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَالْتَزَمَهُ وقبَّلَ مابين عَيْنَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» مُرْسَلًا وَفِي بَعْضِ نُسَخِ «الْمَصَابِيحِ» وَفِي «شرح السّنة» عَن البياضي مُتَّصِلا
شعبی ؒ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جعفر بن ابی طالب ؓ کا استقبال کیا تو انہیں گلے لگایا اور ان کی آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) بوسہ دیا ۔ ابوداؤد ، بیہقی فی شعب الایمان مرسلا ۔ جبکہ مصابیح کے بعض نسخوں میں اور شرح السنہ میں البیاضی کی سند سے متصل ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Sahih Bukhari
5018
وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا هُوَ يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَفَرَسُهُ مَرْبُوطَةٌ عِنْدَهُ إِذْ جَالَتِ الْفَرَسُ فَسَكَتَ ، فَسَكَتَتْ ، فَقَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ ، فَسَكَتَ وَسَكَتَتِ الْفَرَسُ ، ثُمَّ قَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ ، فَانْصَرَفَ وَكَانَ ابْنُهُ يَحْيَى قَرِيبًا مِنْهَا ، فَأَشْفَقَ أَنْ تُصِيبَهُ ، فَلَمَّا اجْتَرَّهُ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ حَتَّى مَا يَرَاهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ ، اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ ، قَالَ : فَأَشْفَقْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَطَأَ يَحْيَى وَكَانَ مِنْهَا قَرِيبًا ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي ، فَانْصَرَفْتُ إِلَيْهِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى السَّمَاءِ ، فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ ، فَخَرَجَتْ حَتَّى لَا أَرَاهَا ، قَالَ : وَتَدْرِي مَا ذَاكَ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ دَنَتْ لِصَوْتِكَ ، وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهَا لَا تَتَوَارَى مِنْهُمْ .
Narrated Usaid bin Hudair: That while he was reciting Surat Al-Baqara (The Cow) at night, and his horse was tied beside him, the horse was suddenly startled and troubled. When he stopped reciting, the horse became quiet, and when he started again, the horse was startled again. Then he stopped reciting and the horse became quiet too. He started reciting again and the horse was startled and troubled once again. Then he stopped reciting and his son, Yahya was beside the horse. He was afraid that the horse might trample on him. When he took the boy away and looked towards the sky, he could not see it. The next morning he informed the Prophet who said, Recite, O Ibn Hudair! Recite, O Ibn Hudair! Ibn Hudair replied, O Allah's Apostle! My son, Yahya was near the horse and I was afraid that it might trample on him, so I looked towards the sky, and went to him. When I looked at the sky, I saw something like a cloud containing what looked like lamps, so I went out in order not to see it. The Prophet said, Do you know what that was? Ibn Hudair replied, No. The Prophet said, Those were Angels who came near to you for your voice and if you had kept on reciting till dawn, it would have remained there till morning when people would have seen it as it would not have disappeared.
اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یزید بن الہاد نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن ابراہیم نے کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رات کے وقت وہ سورۃ البقرہ کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا ان کے پاس ہی بندھا ہوا تھا۔ اتنے میں گھوڑا بدکنے لگا تو انہوں نے تلاوت بند کر دی تو گھوڑا بھی رک گیا۔ پھر انہوں نے تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر بدکنے لگا۔ اس مرتبہ بھی جب انہوں نے تلاوت بند کی تو گھوڑا بھی خاموش ہو گیا۔ تیسری مرتبہ انہوں نے تلاوت شروع کی تو پھر گھوڑا بدکا۔ ان کے بیٹے یحییٰ چونکہ گھوڑے کے قریب ہی تھے اس لیے اس ڈر سے کہ کہیں انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے۔ انہوں نے تلاوت بند کر دی اور بچے کو وہاں سے ہٹا دیا پھر اوپر نظر اٹھائی تو کچھ نہ دکھائی دیا۔ صبح کے وقت یہ واقعہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن حضیر! تم پڑھتے رہتے تلاوت بند نہ کرتے ( تو بہتر تھا ) انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے ڈر لگا کہ کہیں گھوڑا میرے بچے یحییٰ کو نہ کچل ڈالے، وہ اس سے بہت قریب تھا۔ میں سر اوپر اٹھایا اور پھر یحییٰ کی طرف گیا۔ پھر میں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا تو ایک چھتری سی نظر آئی جس میں روشن چراغ تھے۔ پھر جب میں دوبارہ باہر آیا تو میں نے اسے نہیں دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم بھی ہے وہ کیا چیز تھی؟ اسید نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ فرشتے تھے تمہاری آواز سننے کے لیے قریب ہو رہے تھے اگر تم رات بھر پڑھتے رہتے تو صبح تک اور لوگ بھی انہیں دیکھتے وہ لوگوں سے چھپتے نہیں۔ اور ابن الہاد نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے یہ حدیث عبداللہ بن خباب نے بیان کی، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اور ان سے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے۔
Mishkat
182
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى خَمْسَةِ أَوْجُهٍ: حَلَالٍ وَحَرَامٍ وَمُحْكَمٍ وَمُتَشَابِهٍ وَأَمْثَالٍ. فَأَحِلُّوا الْحَلَالَ وَحَرِّمُوا الْحَرَامَ وَاعْمَلُوا بِالْمُحْكَمِ وَآمِنُوا بِالْمُتَشَابِهِ وَاعْتَبِرُوا بِالْأَمْثَالِ . هَذَا لَفْظَ الْمَصَابِيحِ. وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الايمان وَلَفْظُهُ: «فَاعْمَلُوا بِالْحَلَالِ وَاجْتَنِبُوا الْحَرَامَ وَاتَّبِعُوا الْمُحْكَمَ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قرآن پانچ امور کے متعلق نازل ہوا ، حلال و حرام ، محکم و متشابہ اور امثال ۔ تم حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھو ، محکم پر عمل کرو اور متشابہ پر ایمان لاؤ اور امثال (پہلی امتوں کے واقعات) سے عبرت حاصل کرو ۔‘‘ یہ مصابیح کے الفاظ ہیں ۔ بیہقی نے شعب الایمان میں ان الفاظ سے نقل کیا ہے :’’ حلال پر عمل کرو ، حرام سے اجتناب کرو اور محکم کی اتباع کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۲۲۹۳) ۔
Mishkat
458
وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ عَنْهُ عَنْ مَيْمُونَةَ بِلَفْظِ المصابيح
شرح السنہ میں میمونہ عن ابن عباس ، مصابیح کے الفاظ سے مروی ہے ۔ ضعیف ۔
Mishkat
573
وَفِي المصابيح عَن سُبْرَة بن معبد
مصابیح میں سبرہ بن معبد ؓ سے مروی ہے ۔ صحیح ۔