TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب النَّفَقَات وَحقّ الْمَمْلُوك - نان نفقہ اور حق مملوک کا بیان - نکاح کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 15 of نکاح کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 15 of 16 · 34 Hadith
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ هندا بنت عتبَة قَالَت: يَا رَسُول الله إِن أَبَا سُفْيَان رجل شحيح وَلَيْسَ يعطيني مَا يَكْفِينِي وَوَلَدي إِلَّا مَا أخذت مِنْهُ وَهُوَ يعلم فَقَالَ: «خذي مَا يَكْفِيك وولدك بِالْمَعْرُوفِ»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہند بن عتبہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ابوسفیان ایک بخیل آدمی ہے ، وہ مجھے اس قدر نہیں دیتا جو میرے اور میری اولاد کے لیے کافی ہو ، مگر میں اس سے اس طرح لے لیتی ہوں کہ اسے پتہ نہیں ہوتا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس قدر لے لیا کرو جو دستور کے مطابق تیرے اور تیری اولاد کے لیے کافی ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۳۶۴) ومسلم (۷ / ۱۷۱۴) ۔ 4477
3342
Sahih
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا أعْطى الله أحدكُم خيرا فليبدأ بِنَفسِهِ وَأهل بَيته» . رَوَاهُ مُسلم
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب اللہ تم میں سے کسی کو مال عطا کرے تو اسے چاہیے کہ وہ پہلے اپنی ذات اور اپنے گھر والوں پر خرچ کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۰ / ۱۸۲۲) ۔ 4711
3343
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «للمملوك طَعَامه وَكسوته وَلَا يُكَلف من الْعَمَل إِلَّا مَا يُطيق» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مملوک کا کھانا اور لباس (دستور کے مطابق مالک پر واجب) ہے اور اس سے کام صرف اس کی طاقت کے مطابق ہی لیا جائے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۴۱ / ۱۶۶۲) ۔ 4316
3344
Sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ فَمَنْ جَعَلَ اللَّهُ أَخَاهُ تَحْتَ يَدَيْهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلَا يُكَلِّفْهُ مِنَ الْعَمَلِ مَا يَغْلِبُهُ فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ»
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (غلام) تمہارے بھائی ہیں ، اللہ نے انہیں تمہارے زیر تصرف کر دیا ہے ، اللہ جس کے بھائی کو اس کے زیر تصرف کر دے تو وہ اسے ویسا ہی کھلائے جیسا خود کھائے اور ویسا ہی پہنائے جیسا خود پہنے اور اس سے کوئی ایسا کام نہ لے جو اس کی طاقت سے زیادہ ہو ، اور اگر وہ اس کے ذمے کوئی ایسا کام لگا دے جو اس کی طاقت سے بڑھ کر ہو تو پھر وہ اس میں اس کی اعانت کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۰۵۰) و مسلم (۳۸ / ۱۶۶۱) ۔ 4313
3345
Sahih
وَعَن عبد الله بن عَمْرو جَاءَهُ قَهْرَمَانٌ لَهُ فَقَالَ لَهُ: أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ؟ قَالَ: لَا قَالَ: فَانْطَلِقْ فَأَعْطِهِمْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَفَى بِالرَّجُلِ إِثْمًا أَنْ يَحْبِسَ عَمَّنْ يَمْلِكُ قُوتَهُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عمرو ؓ سے منقول ہے کہ ان کا منشی ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے فرمایا : کیا تم نے غلاموں کو ان کے کھانے کا سامان دے دیا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ، انہوں نے فرمایا : جاؤ اور انہیں (کھانے کا سامان) دو ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بندے کے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ وہ اپنے مملوک کے کھانے کا سامان روک لے ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ آدمی کے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ جن کی خوراک اس کے ذمے ہے وہ اس کی روزی ضائع کر دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (م۴ / ۹۹۶) ۔ 2312
3346
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَنَعَ لِأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ ثُمَّ جَاءَهُ بِهِ وَقَدْ وَلِيَ حره ودخانه فليقعده مَعَه فَليَأْكُل وَإِن كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا قَلِيلًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ مِنْهُ أَكلَة أَو أكلتين» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تمہارا خادم تمہارے لیے کھانا تیار کر کے لائے تو وہ (مالک) اسے اپنے ساتھ بٹھائے تاکہ وہ کھائے ، کیونکہ اس نے آگ کی حرارت اور دھواں برداشت کیا ہے ، اگر کھانا ، کھانے والوں کے حساب سے کم ہو تو وہ اس میں ایک یا دو لقمے اس کے ہاتھ پر رکھ دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۴۲ / ۱۶۶۳) ۔ 4317
3347
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللَّهِ فَلَهُ أَجْرُهُ مرَّتَيْنِ»
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب غلام اپنے آقا کے لیے مخلص و خیر خواہ ہو اور وہ اللہ کی عبادت بھی احسن انداز میں کرتا ہو تو اس کے لیے دو اجر ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۵۴۶) و مسلم (۴۳ / ۱۶۶۴) ۔ 4318
3348
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعِمَّا لِلْمَمْلُوكِ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ بِحُسْنِ عِبَادَةِ رَبِّهِ وَطَاعَة سَيّده نعما لَهُ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مملوک کے لیے کیا خوب ہے کہ اللہ اسے اس حال میں فوت کرے کہ وہ اپنے رب کی عبادت بھی اچھے انداز میں کرتا ہو اور اپنے آقا کی اطاعت بھی اچھے انداز میں کرتا ہو ، کیا خوب ہے اس کے لیے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۵۴۹) ومسلم (۴۶ / ۱۶۶۷) ۔ 4324
3349
Sahih
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ» . وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ: «أَيّمَا عبد أبق فقد بَرِئت مِنْهُ الذِّمَّةُ» . وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ: «أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ مِنْ مَوَالِيهِ فَقَدْ كَفَرَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِم» . رَوَاهُ مُسلم
جریر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب غلام فرار ہو جاتا ہے تو اس کی نماز قبول نہیں کی جاتی ۔‘‘ اور انہی سے ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو غلام فرار ہو جاتا ہے تو اس سے ذمہ ختم ہو جاتا ہے ۔‘‘ اور انہی سے ایک اور روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو غلام اپنے مالکوں سے فرار ہو جائے تو اس نے کفر کیا حتی کہ وہ ان کے پاس لوٹ آئے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۲۴ / ۷۰ ، ۱۲۲ / ۶۹) ۔ 228-229-230
3350
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ جُلِدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے ابوالقاسم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس نے اپنے مملوک پر بہتان باندھا جبکہ وہ اس سے بری ہو جو اس نے کہا تو روزِ قیامت اسے کوڑے ماریں جائیں گے مگر یہ کہ وہ ویسے ہی ہو جیسے اس نے کہا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۸۵۸) و مسلم (۳۷ / ۱۶۶۰) ۔ 4311
3351
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ أَوْ لَطَمَهُ فَإِن كَفَّارَته أَن يعتقهُ» . رَوَاهُ مُسلم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص نے اپنے غلام پر اس کے ناکردہ جرم پر حد قائم کی یا اس کو تھپڑ رسید کیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اسے آزاد کر دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۳۰ / ۶۵۷) ۔ 4299
3352
Sahih
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِي صَوْتًا: «اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ» فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ فَقَالَ: «أَمَا لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَلَفَحَتْكَ النَّارُ أَوْ لَمَسَّتْكَ النَّارُ» . رَوَاهُ مُسلم
ابومسعود انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اپنے غلام کو مار رہا تھا اسی دوران میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی :’’ ابومسعود ! جان لو ، اللہ تم پر اس سے کہیں زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس پر قدرت رکھتے ہو ۔‘‘ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ ﷺ تھے ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وہ اللہ کی رضا کی خاطر آزاد ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! اگر تم ایسا نہ کرتے تو تمہیں جہنم کی آگ جلاتی ‘‘ یا (فرمایا) :’’ تمہیں آگ چھوتی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۳۵ / ۱۶۵۹) ۔ 4308
3353
Sahih
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ لِي مَالًا وَإِنَّ وَالِدِي يَحْتَاجُ إِلَى مَالِي قَالَ: «أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ كُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ ماجة
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : میرے پاس مال ہے ، اور میرے والد کو میرے مال کی ضرورت ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اور تمہارا مال تیرے والد کا ہے ، کیونکہ تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے ، تم اپنی اولاد کی کمائی کھاؤ ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۵۳۰) و ابن ماجہ (۲۲۹۲) ۔
3354
Sahih
وَعنهُ وَعَن أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي فَقِيرٌ لَيْسَ لِي شَيْءٌ وَلِي يَتِيمٌ فَقَالَ: «كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ وَلَا مُبَادِرٍ وَلَا مُتَأَثِّلٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : میں فقیر آدمی ہوں ، میرے پاس کچھ بھی نہیں ، اور میری زیر نگرانی ایک یتیم ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یتیم کے مال سے اس طرح کھاؤ کہ اس میں اسراف نہ ہو ، نہ جلد بازی ہو (کہ یتیم کے بڑا ہونے سے پہلے وہ مال ختم ہو جائے) اور نہ اس سے جائیداد بنانی چاہیے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۸۷۲) و النسائی (۶ / ۲۵۶ ح ۳۶۹۸) و ابن ماجہ (۲۷۱۸) ۔
3355
Sahih
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ: «الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
ام سلمہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ اپنی مرض الموت میں فرما رہے تھے :’’ نماز اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعیب الایمان ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۸۵۵۳ ، نسخۃ محققۃ : ۸۱۹۳ و فی دلائل النبوۃ ۷ / ۲۰۵) [و ابن ماجہ (۱۶۲۵)] * قتادۃ عنعن و انظر الحدیث الآتی (۳۳۵۷) ۔
3356
Zaeef
وَرَوَى أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَهُ
امام احمد اور ابوداؤد نے علی ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ سندہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
Takhreej
سندہ حسن ، رواہ احمد (۶ / ۲۹۰ ح ۲۷۰۱۶) و ابوداؤد (۵۱۵۶) [و ابن ماجہ (۲۶۹۸)] ۔
3357
Sahih
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه
ابوبکر صدیق ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ غلاموں کے ساتھ بُرا سلوک کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۹۴۶ وقال : غریب) و ابن ماجہ (۳۶۹۱) * فرقد السبخی : ضعیف مشھور ۔
3358
Zaeef
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «حُسْنُ الْمَلَكَةِ يُمْنٌ وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَلَمْ أَرَ فِي غَيْرِ الْمَصَابِيحِ مَا زَادَ عَلَيْهِ فيهِ منْ قولِهِ: «والصَّدَقةُ تمنَعُ مِيتةَ السُّوءِ والبِرُّ زيادةٌ فِي العُمُرِ»
رافع بن مکیث ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ (غلاموں ، رعایا سے) اچھا سلوک کرنے والا باعث برکت ہے جبکہ بُرے اخلاق والا باعث نحوست ہے ۔‘‘ اور میں (صاحب مشکوۃ) نے مصابیح کے علاوہ کسی اور نسخے میں یہ اضافہ نہیں دیکھا جو صاحبِ مصابیح نے نقل کیا ہے :’’ صدقہ بُری موت سے بچاتا ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کا باعث ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۵۱۶۲) * عثمان بن زفر الدمشقی مجھول لم یوثقہ غیر ابن حبان ۔
3359
Zaeef
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ لَكِنْ عِنْدَهُ «فَلْيُمْسِكْ» بدل «فارفعوا أَيْدِيكُم»
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے اور وہ اللہ کا واسطہ دے تو تم اپنا ہاتھ اٹھا لو (نہ مارو) ۔‘‘ ترمذی ، بیہقی فی شعیب الایمان ، لیکن اس میں ’’ اپنا ہاتھ اٹھا لو ‘‘ کے بجائے ’’ روک لو ‘‘ کے الفاظ ہیں ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی (۱۹۵۰) و البیھقی فی شعب الایمان (۸۵۸۴) * ابو ھارون العبدی متروک و متھم من کذبہ ، شیعی ۔
3360
Zaeef
وَعَن أبي أيوبَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس نے والدہ اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈال دی تو روز قیامت اللہ اس کے اور اس کے چہیتوں (والدین اور اولاد وغیرہ) کے درمیان جدائی ڈال دے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۲۸۳ وقال : حسن غریب) و الدارمی (۲ / ۲۲۷ ۔ ۲۲۸ ح ۲۴۸۲) ۔
3361
Sahih

Chapters

16
01
بَاب النّظر إِلَى المخطوبة وَبَيَان العورات
جس کو پیغامِ نکاح دیا جائے اسے دیکھنے اور پردہ کی چیزوں کا بیان
28 Hadith
02
بَابُ الْوَلِيِّ فِي النِّكَاحِ وَاسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ
نکاح میں ’’ولی‘‘ ہونے اور عورت سے اجازت طلب کرنے کا بیان
14 Hadith
03
بَابُ إِعْلَانِ النِّكَاحِ وَالْخِطْبَةِ وَالشَّرْطِ
اعلان نکاح ، خطبہ / منگنی اور شرط کا بیان
20 Hadith
04
بَاب الْمُحرمَات
محرمات کا بیان
23 Hadith
05
بَاب الْمُبَاشرَة
مباشرت کا بیان
20 Hadith
06
بَاب الصَدَاق
مہر کا بیان
8 Hadith
07
بَاب الْوَلِيمَة
ولیمہ کا بیان
19 Hadith
08
بَاب الْقسم
باری کی تقسیم کا بیان
9 Hadith
09
بَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ
بیویوں کے ساتھ رہن سہن اور ہر ایک کے حقوق کا بیان
36 Hadith
10
بَاب الْخلْع وَالطَّلَاق
خلع اور طلاق کا بیان
21 Hadith
11
بَاب الْمُطلقَة ثَلَاثًا
جس عورت کو تین طلاقیں دی جائیں اس کا بیان
8 Hadith
12
بَاب اللّعان
لعان کا بیان
20 Hadith
13
بَاب الْعدة
عدت کا بیان
13 Hadith
14
بَاب الِاسْتِبْرَاء
استبراء کا بیان
5 Hadith
15
بَاب النَّفَقَات وَحقّ الْمَمْلُوك
نان نفقہ اور حق مملوک کا بیان
34 Hadith
16
بَابُ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحَضَانَتِهِ فِي الصِّغَرِ
چھوٹے لڑکے کی عمر بلوغت اور کم سنی میں اس کی تربیت کا بیان
6 Hadith
No chapter matched that.