TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الْمُحرمَات - محرمات کا بیان - نکاح کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 4 of نکاح کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 16 · 23 Hadith
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَة وعمتها وَلَا بَين الْمَرْأَة وخالتها»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عورت اور اس کی پھوپھی نیز عورت اور اس کی خالہ کو نکاح میں اکٹھا نہ کیا جائے ۔‘‘ (یعنی پھوپھی ، بھتیجی اور خالہ بھانجی ، ایک وقت میں ایک آدمی کی بیویاں نہیں ہو سکتیں) متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۱۰۹) و مسلم (۳۳ / ۱۴۰۸) ۔ 3436
3160
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يحرم من الْولادَة» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دودھ پینے سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں ، جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۵۲۳۹) ۔
3161
Sahih
وَعَنْهَا قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: «أَنَّهُ عَمُّكِ فَأْذَنِي لَهُ» قَالَت: فَقلت: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يرضعني الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّه عمك فليلج عَلَيْك» وَذَلِكَ بَعْدَمَا ضرب علينا الْحجاب
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میرے رضاعی چچا آئے ، انہوں نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا حتی کہ میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کر لوں ، رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ، میں نے آپ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے لہذا اسے اجازت دے دو ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے ، مرد نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا ! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے ۔ لہذا وہ تمہارے پاس آ سکتا ہے ۔‘‘ اور یہ ہم پر پردہ کے احکام نازل ہونے سے بعد کا واقعہ ہے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۲۳۹) و مسلم (۷ / ۱۴۴۵) ۔ 3571
3162
Sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي بِنْتِ عَمِّكَ حَمْزَةَ؟ فَإِنَّهَا أَجْمَلُ فَتَاةٍ فِي قُرَيْشٍ فَقَالَ لَهُ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ حَمْزَةَ أَخِي مَنِ الرَّضَاعَةِ؟ وَأَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حرم من النّسَب؟» . رَوَاهُ مُسلم
علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ اپنے چچا حمزہ ؓ کی بیٹی کے بارے میں رغبت رکھتے ہیں ؟ وہ قریش کی سب سے زیادہ حسین و جمیل لڑکی ہے ۔ آپ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حمزہ میرے رضاعی بھائی ہیں ، اور اللہ نے رضاعت کی وجہ سے وہ رشتے حرام کیے ہیں ، جو اس نے نسب کی وجہ سے حرام کیے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۱ / ۱۴۴۶) ۔ 3583
3163
Sahih
وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُحَرِّمُ الرضعة أَو الرضعتان»
ام فضل ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ایک مرتبہ یا دو مرتبہ دودھ پینا حرمت ثابت نہیں کرتا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۱ / ۱۴۵۱) ۔ 3593
3164
Sahih
وَفِي رِوَايَةِ عَائِشَةَ قَالَ: «لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ والمصتان»
اور عائشہ ؓ سے مروی حدیث میں ہے :’’ ایک مرتبہ اور دو مرتبہ دودھ چوسنے سے حرمت واقع نہیں ہوتی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۷ / ۱۴۵۰) ۔ 3590
3165
Sahih
وَفِي أُخْرَى لِأُمِّ الْفَضْلِ قَالَ: «لَا تُحَرِّمُ الإملاجة والإملاجتان» . هَذِه رِوَايَات لمُسلم
اور ام فضل ؓ سے مروی دوسری حدیث میں ہے :’’ ایک یا دو مرتبہ دودھ پینے سے حرمت واقع نہیں ہوتی ۔‘‘ تینوں روایات صحیح مسلم کی ہیں ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۸ / ۱۴۵۱) ۔ 3591
3166
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ: «عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ» . ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ. رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، قرآن میں یہ حکم نازل ہوا تھا کہ دس مرتبہ دودھ پینے سے حرمت واقع ہوتی ہے ۔ پھر وہ حکم پانچ مرتبہ پینے کی قید کے ساتھ منسوخ کر دیا گیا ، رسول اللہ ﷺ نے جس وقت وفات پائی تو اس وقت تک (پانچ مرتبہ دودھ پینے والی آیت) قرآن میں پڑھی جاتی تھی ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۴ / ۱۴۵۲) ۔ 3597
3167
Sahih
وَعَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ فَكَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ فَقَالَت: إِنَّه أخي فَقَالَ: «انظرن من إخوانكن؟ فَإِنَّمَا الرضَاعَة من المجاعة»
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میرے پاس ایک آدمی تھا ، گویا آپ نے اسے ناپسند فرمایا ، عائشہ ؓ نے عرض کیا ، یہ تو میرا بھائی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دیکھو کہ تمہارے بھائی کون ہیں ، رضاعت تو صرف وہ دودھ ہے جسے بھوک دور کرنے کے لیے پیا گیا ہو ۔‘‘ (بچے کو صغر سنی کی عمر میں بھوک لگی ہو اور وہ کسی عورت کا دودھ پی لے) متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۱۰۲) و مسلم (۲۲ / ۱۴۵۵) ۔ 3606
3168
Sahih
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ: أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لِأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ فَأَتَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ بِهَا فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ: مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ قَدْ أَرْضَعْتِنِي وَلَا أَخْبَرْتِنِي فَأَرْسَلَ إِلَى آلِ أَبِي إِهَابٍ فَسَأَلَهُمْ فَقَالُوا: مَا عَلِمْنَا أَرْضَعْتَ صَاحِبَتُنَا فَرَكِبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ؟» فَفَارَقَهَا عُقْبَةُ وَنَكَحَتْ زوجا غَيره. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عقبہ بن حارث ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابواہاب بن عزیز کی بیٹی سے شادی کر لی تو ایک عورت آئی ، اس نے کہا : میں نے عقبہ اور اس کی بیوی کو دودھ پلایا ہے ۔ (یعنی یہ آپس میں رضاعی بہن بھائی ہیں) عقبہ نے اس عورت سے کہا : مجھے تو معلوم نہیں کہ تم نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ ہی تم نے مجھے بتایا ہے ۔ انہوں نے ابواہاب کے گھر والوں کے پاس کسی آدمی کو بھیجا تو اس نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : ہمیں تو معلوم نہیں کہ اس نے ہماری اس لڑکی کو دودھ پلایا ہے ، وہ مدینہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (تم اس کے ساتھ) کس طرح (تعلق زن و شو قائم کر سکتے ہو) حالانکہ یہ کہہ دیا گیا (کہ تم اس کے رضاعی بھائی ہو) ۔‘‘ عقبہ ؓ نے اسے الگ کر دیا اور اس نے ان کے علاوہ کسی اور سے نکاح کیا ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۲۶۴۰) ۔
3169
Sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعَثَ جَيْشًا إِلَى أَوْطَاسٍ فَلَقُوا عَدُوًّا فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا فَكَأَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي ذَلِكَ (وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاء إِلَّا مَا ملكت أَيْمَانكُم) أَيْ فَهُنَّ لَهُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ. رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین کے دن اوطاس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو ان کا دشمن سے آمنا سامنا ہوا ، انہوں نے ان سے قتال کیا اور وہ ان پر غالب آ گئے اور انہوں نے کچھ خواتین گرفتار کر لیں ، نبی ﷺ کے بعض صحابہ نے ان لونڈیوں سے ان کے مشرک خاوندوں کے موجود ہونے کی وجہ سے ، جماع کرنے میں حرج محسوس کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی :’’ اور شادی شدہ عورتیں (تم پر حرام کی گئی ہیں) مگر تمہاری لونڈیاں ۔‘‘ یعنی جب ان کی عدت مکمل ہو جائے تو پھر وہ تمہارے لیے حلال ہیں ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۳۳ / ۱۴۵۶) ۔ 3608
3170
Sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوِ الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا وَالْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا أَوِ الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا لَا تُنْكَحُ الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى وَلَا الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ والدارمي وَالنَّسَائِيّ وَرِوَايَته إِلَى قَوْله: بنت أُخْتهَا
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ایسی عورت سے نکاح کیا جائے جس کی پھوپھی اس کے نکاح میں پہلے سے ہو یا پھوپھی سے اس کی بھتیجی کے ہوتے ہوئے نکاح نہ کیا جائے ، اسی طرح خالہ اور بھانجی کو یا بھانجی اور خالہ کو ایک ساتھ ایک مرد کے نکاح میں جمع نہ کیا جائے نیز (رشتے میں) چھوٹی (مثلاً : بھتیجی ، بھانجی) کا بڑی پر اور اور بڑی کا چھوٹی پر نکاح کرنے سے منع فرمایا ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، دارمی ، نسائی ۔ اور ان کی روایت ((بنت اختھا)) تک ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی (۱۱۲۶ وقال : حسن صحیح) و ابوداؤد (۲۰۶۵) و الدارمی (۲ / ۱۳۶ ح ۲۱۸۴) و النسائی (۶ / ۹۸ ح ۳۲۹۸ مختصرًا و عندہ :’’ بنت اخیھا ‘‘ / مذکر) ۔
3171
Sahih
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: مَرَّ بِي خَالِي أَبُو بردة بن دِينَار وَمَعَهُ لِوَاءٌ فَقُلْتُ: أَيْنَ تَذْهَبُ؟ قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ آتِيهِ بِرَأْسِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، میرے ماموں ابوبُردہ بن نیار ؓ پرچم اٹھائے میرے پاس سے گزرے تو میں نے کہا : آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا : مجھے نبی ﷺ نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے ، جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کی ہے ، تاکہ میں اس کا سر آپ کی خدمت میں پیش کروں ۔ اسے ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ اور دارمی کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں اسے قتل کر دوں اور اس کا مال لے لوں ۔ اور اس روایت میں ’’میرے ماموں‘‘ کے بجائے ’’میرے چچا‘‘ کا لفظ ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و نسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۱۳۶۲ وقال : حسن غریب) و ابوداؤد (۴۴۵۶ و الروایۃ الثانیۃ لہ : ۴۴۵۸) و النسائی (۶ / ۱۱۰ ح ۳۳۳۴) و ابن ماجہ (۲۶۰۷) و الدارمی (۲ / ۱۵۳ ح ۲۲۴۵) ۔
3172
Sahih
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرِّضَاعِ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ فِي الثَّدْيِ وَكَانَ قبل الْفِطَام» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ رضاعت باعث حرمت ہے ، جو براہ راست چھاتیوں سے دودھ پی کر (بھوک مٹا کر) انتڑیاں کھول دے ، اور یہ (رضاعت) دودھ چھڑانے سے پہلے ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۱۱۵۲ وقال : حسن صحیح) ۔
3173
Sahih
وَعَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرِّضَاعِ؟ فَقَالَ: غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ
حجاج بن حجاج اسلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھ سے کس طرح حقِ رضاعت ادا ہو سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ رضاعی ماں کو غلام یا لونڈی دینے سے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۱۵۳ وقال : حسن صحیح) و ابوداؤد (۲۰۶۴) و النسائی (۶ / ۱۰۸ ح ۳۳۳۱) و الدارمی (۲ / ۱۵۷ ح ۲۲۵۹) ۔
3174
Sahih
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ الْغَنَوِيِّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ فَبَسَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ حَتَّى قَعَدَتْ عَلَيْهِ فَلَمَّا ذَهَبَتْ قِيلَ هَذِهِ أَرْضَعَتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
ابوطفیل غنوی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک عورت آئی ۔ نبی ﷺ نے اپنی چادر بچھائی حتی کہ وہ اس پر بیٹھ گئی ، جب وہ چلی گئی تو بتایا گیا کہ اس خاتون نے نبی ﷺ کو دودھ پلایا تھا (آپ ﷺ کی رضاعی والدہ ہیں) ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۵۱۴۴) * عمارۃ بن ثوبان : مستور و جعفر بن یحیی مثلہ ۔
3175
Zaeef
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ غيلَان بن سَلمَة الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَلَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَسْلَمْنَ مَعَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْسِكْ أَرْبَعًا وَفَارِقْ سَائِرَهُنَّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی ؓ نے اسلام قبول کیا اور ان کی دور جاہلیت میں دس بیویاں تھیں ، وہ بھی ان کے ساتھ ہی مسلمان ہو گئیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ چار رکھ لو اور باقی فارغ کر دو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ احمد (۲ / ۴۴ ح ۵۰۲۷) و الترمذی (۱۱۲۸) و ابن ماجہ ((۱۹۵۳) * الزھری مدلس و عنعن و للحدیث شواھد ضعیفۃ ۔
3176
Zaeef
وَعَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ: أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي خَمْسُ نِسْوَةٍ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «فَارِقْ وَاحِدَةً وَأَمْسِكْ أَرْبَعًا» فَعَمَدْتُ إِلَى أَقْدَمِهِنَّ صُحْبَةً عِنْدِي: عَاقِرٍ مُنْذُ سِتِّينَ سنة ففارقتها. رَوَاهُ فِي شرح السّنة
نوفل بن معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے اسلام قبول کیا تو اس وقت میری پانچ بیویاں تھیں ، میں نے نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک کو چھوڑ دو اور چار رکھ لو ۔‘‘ میں نے ان میں سے اپنی سب سے پہلی بیوی کو ، جو بانجھ تھی اور ساٹھ سال سے میری رفیقہ حیات تھی ، خود سے جدا کر دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۹ / ۹۰ ۔ ۹۱ ح ۲۲۸۹۹) [و الشافعی ۲ / ۳۵۱ : اخبرنا بعض اصحابنا عن ابی الزناد الخ و من طریقہ البیھقی (۷ / ۱۸۴) و ھذا البعض مجھول] ۔
3177
Zaeef
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزٍ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْلَمْتُ وتحتي أختَان قَالَ: «اختر أيتها شِئْتَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
ضحاک بن فیروز دیلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور دو بہنیں میرے نکاح میں ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان دونوں میں سے جسے چاہو اختیار کر لو (دوسری چھوڑ دو) ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۱۳۰) و ابوداؤد (۲۲۴۳) و ابن ماجہ (۱۹۵۱) ۔
3178
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ فَتَزَوَّجَتْ فَجَاءَ زَوْجُهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَعَلِمَتْ بِإِسْلَامِي فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرِ وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ قَالَ: إِنَّهَا أَسْلَمَتْ مَعِي فَرَدَّهَا عَلَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک عورت نے اسلام قبول کیا اور اس نے شادی کر لی ، اتنے میں اس کا (پہلا) خاوند نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں اسلام قبول کر چکا ہوں اور اس (عورت) کو میرے اسلام قبول کرنے کا علم ہے ، رسول اللہ ﷺ نے اس (عورت) کو اس کے دوسرے خاوند سے لے کر اس کے پہلے خاوند کو واپس کر دیا ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اس نے عرض کیا : اس (عورت) نے میرے ساتھ ہی اسلام قبول کیا ہے ، آپ ﷺ نے اس (عورت) کو اس کے حوالے کر دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۲۳۸ ۔ ۲۲۳۹) * سماک بن حرب : ضعیف الحدیث عن عکرمۃ ، صحیح الحدیث عن غیرہ ، اذا حدث قبل الاختلاط کما حققتہ فی رسالۃ خاصۃ و الحمدللہ ۔
3179
Zaeef

Chapters

16
01
بَاب النّظر إِلَى المخطوبة وَبَيَان العورات
جس کو پیغامِ نکاح دیا جائے اسے دیکھنے اور پردہ کی چیزوں کا بیان
28 Hadith
02
بَابُ الْوَلِيِّ فِي النِّكَاحِ وَاسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ
نکاح میں ’’ولی‘‘ ہونے اور عورت سے اجازت طلب کرنے کا بیان
14 Hadith
03
بَابُ إِعْلَانِ النِّكَاحِ وَالْخِطْبَةِ وَالشَّرْطِ
اعلان نکاح ، خطبہ / منگنی اور شرط کا بیان
20 Hadith
04
بَاب الْمُحرمَات
محرمات کا بیان
23 Hadith
05
بَاب الْمُبَاشرَة
مباشرت کا بیان
20 Hadith
06
بَاب الصَدَاق
مہر کا بیان
8 Hadith
07
بَاب الْوَلِيمَة
ولیمہ کا بیان
19 Hadith
08
بَاب الْقسم
باری کی تقسیم کا بیان
9 Hadith
09
بَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ
بیویوں کے ساتھ رہن سہن اور ہر ایک کے حقوق کا بیان
36 Hadith
10
بَاب الْخلْع وَالطَّلَاق
خلع اور طلاق کا بیان
21 Hadith
11
بَاب الْمُطلقَة ثَلَاثًا
جس عورت کو تین طلاقیں دی جائیں اس کا بیان
8 Hadith
12
بَاب اللّعان
لعان کا بیان
20 Hadith
13
بَاب الْعدة
عدت کا بیان
13 Hadith
14
بَاب الِاسْتِبْرَاء
استبراء کا بیان
5 Hadith
15
بَاب النَّفَقَات وَحقّ الْمَمْلُوك
نان نفقہ اور حق مملوک کا بیان
34 Hadith
16
بَابُ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحَضَانَتِهِ فِي الصِّغَرِ
چھوٹے لڑکے کی عمر بلوغت اور کم سنی میں اس کی تربیت کا بیان
6 Hadith
No chapter matched that.