TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الْوَلِيمَة - ولیمہ کا بیان - نکاح کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 7 of نکاح کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 16 · 19 Hadith
عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ»
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے عبدالرحمن بن عوف ؓ (کے بدن یا کپڑے) پر زعفران کا نشان دیکھا تو فرمایا :’’ یہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میں نے پانچ درہم کے عوض ایک عورت سے شادی کی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے ، ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ہی ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۱۴۸) و مسلم (۷۹ / ۱۴۲۷) ۔ 3490
3210
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: مَا أَوْلَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أولم على زَيْنَب أولم بِشَاة
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے زینب ؓ کی شادی پر جیسا ولیمہ کیا ویسا ولیمہ اپنی کسی زوجہ محترمہ کی شادی پر نہیں کیا ، آپ ﷺ نے ایک بکری سے ولیمہ کیا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۱۶۸) و مسلم (۹۰ / ۱۴۲۸) ۔ 3491
3211
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: أَوْلَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَنَى بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فأشبع النَّاس خبْزًا وَلَحْمًا. رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ، جب رسول اللہ ﷺ نے زینب بنت جحش ؓ سے تعلق زن و شو قائم کیا تو آپ ﷺ نے ولیمہ کیا اور لوگوں کو گوشت روٹی سے شکم سیر کر دیا ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۴۷۹۴) ۔
3212
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَتَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا وَأَوْلَمَ عَلَيْهَا بحيس. مُتَّفق عَلَيْهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صفیہ ؓ کو آزاد کیا اور ان سے شادی کی اور ان کی آزادی کو ان کا حق مہر مقرر کیا اور حیس (کھجور ، پنیر اور گھی سے تیار شدہ حلوہ) سے ان کا ولیمہ کیا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۱۶۹) و مسلم (۸۴ / ۱۳۶۵) ۔ 3497
3213
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ وَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ وَمَا كَانَ فِيهَا إِلَّا أَن أمربالأنطاع فَبُسِطَتْ فَأَلْقَى عَلَيْهَا التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے خیبر و مدینہ کے درمیان تین راتیں قیام فرمایا ، آپ نے صفیہ ؓ کے ساتھ تعلق زن و شو قائم کیا تو میں نے مسلمانوں کو آپ کے ولیمہ کی دعوت دی ، اس میں روٹی تھی نہ گوشت ، بس آپ ﷺ نے چمڑے کی ایک چٹائی منگائی ، اسے بچھا دیا گیا اور اس (دسترخوان) پر کھجور ، پنیر اور گھی چُن دیا گیا ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۴۲۱۳) ۔
3214
Sahih
وَعَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ: أَوْلَمَ النَّبِيُّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم على النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ بمدين من شعير. رَوَاهُ البُخَارِيّ
صفیہ بنت شیبہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ نے اپنی بعض بیویوں کا فقط دو مُد جو سے ولیمہ کیا ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۵۱۷۲) ۔
3215
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَو نَحوه
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کو دعوتِ ولیمہ دی جائے تو وہ اسے قبول کر لے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے :’’ چاہیے کہ وہ دعوت قبول کرے خواہ شادی کی دعوت ہو یا کوئی دوسری دعوت ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۱۷۳) و مسلم (۹۶ / ۱۴۲۹ ، ۱۰۰ / ۱۴۲۹) ۔ 3509
3216
Sahih
وَعَنْ جَابِرٍ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَام فليجب وَإِن شَاءَ طَعِمَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ اس میں ضرور شرکت کرے ، دل چاہے تو کھا لے ورنہ چھوڑ دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۰۵ / ۱۴۳۰) ۔ 3518
3217
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى الله وَرَسُوله»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سب سے بُرا کھانا ، ولیمے کا وہ کھانا ہے جس میں مال داروں کو مدعو کیا جائے اور فقراء کو چھوڑ دیا جائے ، اور جس نے دعوت ترک کی تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۱۷۷) و مسلم (۱۰۷ / ۱۴۳۲) ۔ 3521
3218
Sahih
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُكْنَى أَبَا شُعَيْبٍ كَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً لَعَلِّي أَدْعُو النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ فَصَنَعَ لَهُ طعيما ثمَّ أتها فَدَعَاهُ فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا شُعَيْبٍ إِنَّ رَجُلًا تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ وَإِنْ شِئْتَ تركته» . قَالَ: لَا بل أَذِنت لَهُ
ابومسعود انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، انصار کا ایک آدمی تھا جس کی کنیت ابوشعیب تھی ، اس کا ایک غلام قصاب تھا ، اس نے کہا : میرے لیے کھانا تیار کرو جو کہ پانچ افراد کے لیے کافی ہو ، تاکہ میں نبی ﷺ کو دعوت دوں کہ آپ ان میں سے پانچویں ہوں ، اس نے اس کے لیے مختصر سا کھانا تیار کیا ، پھر وہ (ابوشعیب) آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو دعوت دی ، تو ایک اور (چھٹا) آدمی ان کے ساتھ آنے لگا تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ابوشعیب ! ایک اور آدمی ہمارے ساتھ آ رہا ہے ، اگر تم چاہو تو اسے اجازت دے دو اور اگر چاہو تو اسے چھوڑ دو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : کوئی نہیں ! اسے بھی اجازت ہے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۴۶۱) و مسلم (۱۳۸ / ۲۰۳۶) ۔ 5309
3219
Sahih
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أولم على صَفِيَّة بسويق وتمر. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے صفیہ ؓ کا ستو اور کھجور سے ولیمہ کیا ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
حسن ، رواہ احمد (۳ / ۱۱۰ ح ۱۲۱۰۲) و الترمذی (۱۰۹۵ وقال : حسن غریب) و ابوداؤد (۲۷۴۴) و ابن ماجہ (۱۹۰۹) ۔
3220
Sahih
وَعَنْ سَفِينَةَ: أَنَّ رَجُلًا ضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا فَدَعَوْهُ فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ فَرَأَى الْقِرَامَ قَدْ ضُرِبَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَرَجَعَ. قَالَتْ فَاطِمَةُ: فَتَبِعْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَدَّكَ؟ قَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَوْ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتا مزوقا» . رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه
سفینہ (ام سلمہ ؓ کے آزاد کردہ غلام) سے روایت ہے کہ ایک آدمی علی بن ابی طالب ؓ کے ہاں مہمان ٹھہرا تو انہوں نے اس کے لیے کھانا تیار کیا ، فاطمہ ؓ نے فرمایا : اگر ہم رسول اللہ ﷺ کو بھی مدعو کر لیں تاکہ وہ ہمارے ساتھ تناول فرما لیں ؟ انہوں نے آپ ﷺ کو دعوت دی تو آپ تشریف لائے اور آپ نے اپنے ہاتھ دروازے کی چوکھٹ پر رکھے تھے کہ گھر کی ایک جانب لگے ہوئے منقش پردے کو دیکھا تو آپ واپس تشریف لے گئے ۔ فاطمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں آپ کے پیچھے گئی اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کس چیز نے آپ کو واپس کر دیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے یا کسی نبی کے لیے لائق نہیں کہ وہ کسی مزین گھر میں داخل ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۵ / ۲۲۰ ۔ ۲۲۱ ح ۲۲۲۶۷ ، ۲۲۲۷۱) و ابن ماجہ (۳۳۶۰) ۔
3221
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَمن دخل على غَيْرِ دَعْوَةٍ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو دعوت دی جائے اور وہ قبول نہ کرے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اور جو شخص بن بلائے چلا آئے تو وہ چور کی حیثیت سے داخل ہوا اور ڈاکو کی حیثیت سے خارج ہوا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۳۷۴۱) * درست بن زیاد : ضعیف ، و ابان بن طارق : مجھول وقال ابن عدی ’’ ھذا حدیث منکر ‘‘ ۔
3222
Zaeef
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا اجْتَمَعَ الدَّاعِيَانِ فَأَجِبْ أَقْرَبَهُمَا بَابًا وَإِنْ سَبَقَ أَحَدُهُمَا فَأَجِبِ الَّذِي سَبَقَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ
رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب دعوت دینے والے دو افراد اکٹھے ہو جائیں تو پھر ان میں سے جو ہمسائیگی کے لحاظ سے زیادہ قریب ہو اس کی دعوت قبول کرو ، اور اگر ان میں سے کوئی ایک سبقت لے جائے تو پھر اس سبقت لے جانے والے کی دعوت قبول کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۵ / ۴۰۸ ح ۲۳۸۶۰) و ابوداؤد (۳۷۵۶) * ابو خالد الدالانی مدلس و عنعن و الحدیث ضعفہ الحافظ فی التلخیص الحبیر (۳ / ۱۹۶) ۔
3223
Zaeef
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَعَامُ أَوَّلِ يَوْمٍ حق وَطَعَام يَوْم الثَّانِي سنة وَطَعَام يَوْم الثَّالِثِ سُمْعَةٌ وَمَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پہلے روز (ولیمہ) کا کھانا حق (واجب) ہے ، دوسرے روز دعوت کرنا سنت ہے جبکہ تیسرے روز دعوت کرنا شہرت و ریا کاری ہے اور جو کوئی دکھلاوا کرتا ہے تو اللہ (قیامت کے دن) اسے رسوا کر دے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۰۹۷) * عطاء بن السائب اختلط و للحدیث شواھد ضعیفۃ عند ابی داود ۳۷۴۵) و غیرہ ۔
3224
Zaeef
وَعَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ طَعَامِ الْمُتَبَارِيَيْنِ أَنْ يُؤْكَلَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ مُحْيِي السُّنَّةِ: وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا
عکرمہ ، ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے باہم فخر کرنے والوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ ابوداؤد ، اور محی السنہ نے فرمایا : صحیح یہ ہے کہ عکرمہ کی نبی ﷺ سے یہ مرسل روایت ہے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۳۷۵۴) و ذکرہ محیی السنۃ فی شرح السنۃ (۹ / ۱۴۴ بعد ح ۲۳۱۹) [و صححہ الحاکم (۴ / ۱۲۸ ۔ ۱۲۹) و وافقہ الذھبی و للحدیث شواھد] ۔
3225
Sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُتَبَارِيَانِ لَا يُجَابَانِ وَلَا يُؤْكَلُ طَعَامُهُمَا» . قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: يَعْنِي المتعارضين بالضيافة فخراً ورياء
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دو باہم فخر کرنے والوں کی دعوت قبول نہ کی جائے اور نہ ان دونوں کا کھانا کھایا جائے ۔‘‘ امام احمد نے فرمایا : یعنی وہ دو آدمی جو فخر و ریا کی خاطر ضیافت کرتے ہیں ۔ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۶۰۶۸ ، نسخۃ محققۃ : ۵۶۶۷) فائدۃ : قولہ قال الامام احمد : یعنی الامام احمد بن الحسین البیھقی رحمہ اللہ و القائل : زاھر بن طاھر الشحامی ، الراوی عن البیھقی رحمہ اللہ ۔ * الاعمش مدلس و عنعن فالسند ضعیف و الحدیث حسن بالشاھد المتقدم (۳۲۲۵) ۔
3226
Sahih
وَعَن عمرَان ين حُصَيْنٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِجَابَة طَعَام الْفَاسِقين
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فاسق لوگوں کی دعوت قبول کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان : ۵۸۰۳ ، نسخۃ محققۃ : ۵۴۲۰) * فیہ ابو عبد الرحمن السلمی : ضعیف جدًا و محمد بن عبداللہ بن (محمد بن ھمام بن) المطلب الشیبانی مجروح کذاب فالسند موضوع و لکن رواہ الطبرانی فی الکبیر (۱۸ / ۱۶۸ ح ۳۷۶) بسند مظلم عن (ابی) مروان الواسطی (یحیی بن ابی زکریا الغسانی) عن ھشام بن حسان بہ و ابو مروان الغسانی ھذا ضعیف کما فی تقریب التھذیب (۷۵۵۰) ۔
3227
Zaeef
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فَلْيَأْكُلْ مِنْ طَعَامِهِ وَلَا يَسْأَلْ وَيَشْرَبْ مِنْ شَرَابِهِ وَلَا يَسْأَلْ» رَوَى الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَة الْبَيْهَقِيّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» وَقَالَ: هَذَا إِنْ صَحَّ فَلِأَنَّ الظَّاهِرَ أَنَّ الْمُسْلِمَ لَا يُطْعِمُهُ وَلَا يسْقِيه إِلَّا مَا هُوَ حَلَال عِنْده
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی ایک اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے تو وہ اس کے کھانے سے کھائے اور سوال نہ کرے (کہ یہ کہاں سے آیا ہے) اور وہ اس کے مشروب سے پیئے اور کچھ دریافت نہ کرے ۔‘‘ امام بیہقی نے یہ تینوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ، اور فرمایا : اگر یہ صحیح ہے ، تو ظاہر ہے کہ مسلمان اسے صرف وہی چیز کھلاتا پلاتا ہے جو اس کے نزدیک حلال ہوتی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۵۸۰۱ ، نسخۃ محققۃ : ۵۴۱۹) [و صححہ الحاکم (۴ / ۱۲۶ ح ۷۱۶۰) و وافقہ الذھبی !] * فیہ مسلم بن خالد : ضعیف و للحدیث شاھد عند الحاکم (ح ۷۱۶۱) فیہ محمد بن عجلان مدلس و عنعن ۔
3228
Zaeef

Chapters

16
01
بَاب النّظر إِلَى المخطوبة وَبَيَان العورات
جس کو پیغامِ نکاح دیا جائے اسے دیکھنے اور پردہ کی چیزوں کا بیان
28 Hadith
02
بَابُ الْوَلِيِّ فِي النِّكَاحِ وَاسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ
نکاح میں ’’ولی‘‘ ہونے اور عورت سے اجازت طلب کرنے کا بیان
14 Hadith
03
بَابُ إِعْلَانِ النِّكَاحِ وَالْخِطْبَةِ وَالشَّرْطِ
اعلان نکاح ، خطبہ / منگنی اور شرط کا بیان
20 Hadith
04
بَاب الْمُحرمَات
محرمات کا بیان
23 Hadith
05
بَاب الْمُبَاشرَة
مباشرت کا بیان
20 Hadith
06
بَاب الصَدَاق
مہر کا بیان
8 Hadith
07
بَاب الْوَلِيمَة
ولیمہ کا بیان
19 Hadith
08
بَاب الْقسم
باری کی تقسیم کا بیان
9 Hadith
09
بَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ
بیویوں کے ساتھ رہن سہن اور ہر ایک کے حقوق کا بیان
36 Hadith
10
بَاب الْخلْع وَالطَّلَاق
خلع اور طلاق کا بیان
21 Hadith
11
بَاب الْمُطلقَة ثَلَاثًا
جس عورت کو تین طلاقیں دی جائیں اس کا بیان
8 Hadith
12
بَاب اللّعان
لعان کا بیان
20 Hadith
13
بَاب الْعدة
عدت کا بیان
13 Hadith
14
بَاب الِاسْتِبْرَاء
استبراء کا بیان
5 Hadith
15
بَاب النَّفَقَات وَحقّ الْمَمْلُوك
نان نفقہ اور حق مملوک کا بیان
34 Hadith
16
بَابُ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحَضَانَتِهِ فِي الصِّغَرِ
چھوٹے لڑکے کی عمر بلوغت اور کم سنی میں اس کی تربیت کا بیان
6 Hadith
No chapter matched that.