TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الْخلْع وَالطَّلَاق - خلع اور طلاق کا بیان - نکاح کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 10 of نکاح کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 16 · 21 Hadith
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قِيسٍ أَتَتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟» قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس ؓ کی بیوی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے ثابت بن قیس کی عادات اور دینداری پر کوئی اعتراض نہیں لیکن میں اسلام میں (خاوند کی) نافرمانی کو ناپسند کرتی ہوں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم اس کا باغ واپس کر دو گی ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ! رسول اللہ ﷺ نے ثابت کو کہا :’’ باغ قبول کرو اور اسے ایک طلاق دے دو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۵۲۷۳) ۔
3274
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَغَيَّظَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «ليراجعها ثمَّ يمْسِكهَا حَتَّى تطهر ثمَّ تحيض فَتطهر فَإِن بدا لَهُ أَنْ يُطْلِّقَهَا فَلْيُطْلِّقْهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطْلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا أَوْ حَامِلًا»
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایام حیض میں طلاق دی ۔ عمر ؓ نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ اس پر ناراض ہوئے ، اور فرمایا :’’ اسے چاہیے کہ وہ رجوع کرے ، پھر انتظار کرے حتی کہ وہ (ایام حیض گزرنے کے بعد) پاک ہو جائے ، پھر حیض آئے ، پھر پاک ہو ، پھر اگر اسے طلاق دینا چاہے تو اسے حالت طہر میں جماع کرنے سے پہلے طلاق دے ، یہی وہ عدت ہے جس کے مطابق اللہ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم فرمایا ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ اسے حکم دو کہ وہ رجوع کرے ، پھر اسے حالت طہر یا حمل میں طلاق دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۹۰۸) و مسلم (۱ / ۱۴۷۱) ۔ 3652
3275
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَا اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ عَلَيْنَا شَيْئًا
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو منتخب کیا ، آپ نے اسے ہمارے متعلق کچھ بھی شمار نہ کیا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۲۶۲) و مسلم (۲۴ / ۱۴۷۷) ۔ 3688
3276
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فِي الْحَرَامِ يُكَفَّرُ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ الله أُسْوَة حَسَنَة
ابن عباس ؓ نے کسی چیز کو حرام قرار دینے پر کفارہ ادا کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :’’ تمہارے لیے اللہ کے رسول ﷺ (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۹۱۱) و مسلم (۱۸ / ۱۴۷۳) ۔ 3676
3277
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَشَرِبَ عِنْدَهَا عَسَلًا فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ: «لَا بَأْسَ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَلَنْ أَعُودَ لَهُ وَقَدْ حَلَفْتُ لَا تُخْبِرِي بِذَلِكِ أَحَدًا» يَبْتَغِي مرضاة أَزوَاجه فَنَزَلَتْ: (يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ الله لَك تبتغي مرضاة أَزوَاجك) الْآيَة
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ زینب بن جحش ؓ کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے اور وہاں شہد پیا کرتے تھے ، پس میں اور حفصہ ؓ نے طے کیا کہ نبی ﷺ جس کے پاس بھی تشریف لائیں تو وہ کہے : مجھے آپ سے مغافیر (کھانے کا گوند جو عرفط پودے سے نکلتا ہے) کی بُو آ رہی ہے ، کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے ؟ چنانچہ آپ ان دونوں میں سے کسی ایک کے ہاں تشریف لے گئے تو اس نے آپ سے یہی کہا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایسی کوئی بات نہیں ، میں نے تو زینب کے ہاں شہد پیا ہے ، میں دوبارہ اسے نہیں پیوں گا ، اور میں نے حلف اٹھا لیا ، تم کسی کو اس کے متعلق نہ بتانا ۔‘‘ آپ اپنی ازواج کی رضامندی چاہتے تھے چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی :’’ اے نبی آپ ﷺ نے اس چیز کو کیوں حرام قرار دیا جسے اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دیا ہے ، آپ اپنی ازواج کی رضامندی چاہتے ہیں ؟‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۹۱۲) و مسلم (۲۰ / ۱۴۷۴) ۔ 3678
3278
Sahih
عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو عورت بلا وجہ اپنے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کرے تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۵ / ۲۷۷ ح ۲۲۷۳۸) و الترمذی (۱۱۸۷ وقال : حسن) و ابوداؤد (۲۲۲۶) و ابن ماجہ (۲۰۵۵) و الدارمی (۲ / ۱۶۲ ح ۲۲۷۵) ۔
3279
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ الطلاقُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ حلال چیزوں میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۱۷۸) ۔
3280
Sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا طَلَاقَ قَبْلَ نِكَاحٍ وَلَا عَتَاقَ إِلَّا بَعْدَ مِلْكٍ وَلَا وِصَالَ فِي صِيَامٍ وَلَا يُتْمَ بَعْدَ احْتِلَامٍ وَلَا رَضَاعَ بَعْدَ فِطَامٍ وَلَا صَمْتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ» . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ
علی ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نکاح سے پہلے طلاق دینے ، ملکیت سے پہلے آزاد کرنے ، مسلسل روزے رکھنے ، بالغ ہونے کے بعد یتیم ، دودھ چھڑانے کے بعد رضاعت اور صبح سے رات تک خاموشی اختیار کرنے کا کوئی جواز نہیں ۔‘‘ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۹ / ۱۹۸ ح ۲۳۵۰ و سندہ ضعیف جدًا) [و ابوداؤد (۲۸۷۳) مختصرًا و سندہ ضعیف] * سفیان الثوری مدلس و عنعن ، روی ایوب بن سوید عنہ ، وجویبر : متروک و للحدیث شواھد ، لا طلاق قبل نکاح و لا عتاق الا بعد ملک (ابن ماجہ : ۲۰۴۸ ۔ ۲۰۴۷ حسن)ولا وصال فی صیام (احمد ۳ / ۶۲ ح ۱۱۶۱۹ ، صحیح) ولا یتم بعد احتلام (ضعیف) ولا رضاع بعد خطام (الترمذی : ۱۱۵۲ صحیح) ولا صمت یوم الی اللیل (ضعیف) ۔
3281
Zaeef
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا عِتْقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا طَلَاقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ: «وَلَا بَيْعَ إِلَّا فِيمَا يملك»
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ انسان جس چیز کا مالک نہیں ، اس میں اس کا نذر دینا ، آزاد کرنا اور طلاق دینا معتبر نہیں ہے ۔‘‘ اور ابوداؤد نے یہ الفاظ زیادہ کئے ہیں :’’ انسان جس چیز کا مالک ہے اسی کی بیع کر سکتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۱۸۱ وقال : حسن صحیح) و ابوداؤد (۲۱۹۰) ۔
3282
Sahih
وَعَنْ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ فَأَخْبَرَ بِذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم وَقَالَ: وَالله مَا أردتُ إِلَّا وَاحِدَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً؟» فَقَالَ ركانةُ: واللَّهِ مَا أردتُ إِلَّا وَاحِدَة فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ إِلَّا أَنَّهُمْ لَمْ يَذْكُرُوا الثانيةَ وَالثَّالِثَة
رکانہ بن عبد یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ سہیمہ کو طلاق بتہ دی ، انہوں نے اس کے متعلق نبی ﷺ کو بتایا اور کہا : اللہ کی قسم ! میں نے صرف ایک ہی کا ارادہ کیا تھا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے صرف ایک ہی کا ارادہ کیا تھا ؟‘‘ رکانہ نے عرض کیا : اللہ کی قسم ! میں نے ایک ہی کا ارادہ کیا تھا ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے سہیمہ کو رکانہ کی طرف لوٹا دیا ، پھر انہوں نے دوسری طلاق عمر ؓ کے دور حکومت میں اور تیسری طلاق عثمان ؓ کے دورِ حکومت میں دی ۔ ابوداؤد ۔ اور ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ، مگر انہوں نے دوسری اور تیسری طلاق کا ذکر نہیں کیا ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۲۰۶) و الترمذی (۱۱۷۷) و ابن ماجہ (۲۰۵۱) و الدارمی (۲ / ۱۶۲ ح ۲۲۷۷) ۔
3283
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثٌ جَدُّهُنَّ جَدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جَدُّ: النِّكَاحُ وَالطَّلَاقُ وَالرِّجْعَةُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيب
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین چیزیں حقیقت میں بھی حقیقت ہیں اور مزاح میں بھی حقیقت ہیں : نکاح ، طلاق اور رجوع ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۱۸۴) و ابوداؤد (۲۱۹۴) ۔
3284
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا طَلَاقَ وَلَا عَتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه قيل: معنى الإغلاق: الْإِكْرَاه
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جبر کی صورت میں نہ طلاق معتبر ہے اور نہ آزاد کرنا ۔‘‘ اور ’’اغلاق‘‘ کا معنی ’’جبر‘‘ ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۱۹۳) و ابن ماجہ (۲۰۴۶) [و النسائی (۲۰۴۶)] * محمد بن عبید بن ابی صالح و ثقہ ابن حبان و الحاکم و ضعفہ ابو حاتم الرازی و ابن حجر و ضعفہ راجح و للحدیث شواھد ضعیفۃ ۔
3285
Zaeef
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ طَلَاقٍ جَائِزٌ إِلَّا طَلَاقَ الْمَعْتُوهِ وَالْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَعَطَاءُ بْنُ عجلانَ الرَّاوي ضعيفٌ ذاهبُ الحَدِيث
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجنون اور مغلوب العقل کی طلاق کے سوا ہر طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اور عطاء بن عجلان راوی ضعیف ہے ، وہ حدیث یاد رکھنے والا نہیں ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی (۱۱۹۱) * عطاء بن عجلان : متروک بل اطلق علیہ ابن معین و الفلاس و غیرھما الکذب ۔
3286
Zaeef
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَبْلُغَ وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يعقل . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین شخص مرفوع القلم ہیں ، سویا ہوا حتی کہ جاگ جائے ، بچہ حتی کہ بالغ ہو جائے ، اور مجنون حتی کہ وہ ہوش مند ہو جائے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۱۴۲۳ وقال : حسن غریب) و ابوداؤد (۴۴۰۳) ۔
3287
Sahih
وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنُ مَاجَهْ عَنْهُمَا
دارمی نے عائشہ ؓ سے اور ابن ماجہ نے علی ؓ اور عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الدارمی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۲ / ۱۷۱ ح ۲۳۰۱) و ابن ماجہ (۲۰۴۱ سندہ ضعیف ، فیہ حماد بن ابی سلیمان و ابراھیم النخعی مدلسان و عنعنا ، ۲۰۴۲ سندہ ضعیف ، فیہ القاسم بن یزید مجھول و لم یدرک علیًا رضی اللہ عنہ) [و ابوداؤد (۴۳۹۸) و النسائی (۳۴۶۲)] ۔
3288
Zaeef
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «طَلَاقُ الْأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لونڈی کی طلاق دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۱۸۲ وقال : غریب) و ابوداؤد (۲۱۸۹) و ابن ماجہ (۲۰۸۰) و الدارمی (۲ / ۱۷۰ ۔ ۱۷۱ ح ۲۲۹۹) ۔
3289
Zaeef
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُنْتَزِعَاتُ وَالْمُخْتَلِعَاتُ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ نافرمانی کرنے والیاں اور خلع طلب کرنے والیاں منافق ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔
Takhreej
رواہ النسائی (۶ / ۱۶۸ ح ۳۴۹۱) ۔
3290
Sahih
وَعَنْ نَافِعٍ عَنْ مَوْلَاةٍ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا بِكُلِّ شَيْءٍ لَهَا فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عمر. رَوَاهُ مَالك
نافع ، صفیہ بنت ابی عبید کی آزاد کردہ لونڈی سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے اپنی ہر چیز کے بدلے اپنے خاوند (ابن عمر ؓ) سے خلع لیا تو عبداللہ بن عمر ؓ نے اس کا انکار نہ کیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ مالک (۲ / ۵۶۵ ح ۱۲۲۹) * مولاۃ صفیۃ لاتعرف ، و قول نافع : عن ، بمعنی ان فلا رلاقۃ لھذہ المولاۃ بالسند واللہ اعلم ۔
3291
Sahih
حَدِيث رِجَاله ثِقَات وَعَن مَحْمُود بن لبيد قل: أَخْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا فَقَامَ غَضْبَانَ ثُمَّ قَالَ: «أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟» حَتَّى قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَقْتُلُهُ؟ . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
محمود بن لبید بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کو ایک آدمی کے متعلق بتایا گیا کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں ایک ساتھ دے دی ہیں ، تو آپ ﷺ غصہ کی حالت میں کھڑے ہوئے پھر فرمایا :’’ کیا اللہ عزوجل کی کتاب سے کھیلا جا رہا ہے جبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں ۔‘‘ اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں اسے قتل نہ کر دوں ؟ اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی (۶ / ۱۴۲ ۔ ۱۴۳ ح ۳۴۳۰) و اعل بما لا یقدح ۔
3292
Sahih
وَعَن مَالك بلغه رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي مِائَةَ تَطْلِيقَةٍ فَمَاذَا تَرَى عَلَيَّ؟ فَقَالَ ابْن عَبَّاس: طلقت مِنْك ثَلَاث وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ بِهَا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ
امام مالک ؒ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ ایک آدمی نے عبداللہ بن عباس ؓ سے کہا : میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دی ہیں ، آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟ ابن عباس ؓ نے فرمایا :’’ اسے تیری طرف سے تین طلاقیں تو واقع ہو گئیں ، جبکہ ستانوے کے ذریعے تم نے اللہ کی آیات کے ساتھ مذاق کیا ۔ حسن ، رواہ مالک ۔
Takhreej
حسن ، رواہ مالک (۲ / ۵۵۰ ح ۱۱۹۵) * سندہ ضعیف ولہ شواھد عند البیھقی (۷ / ۳۳۷) و ابی داود (۲۱۹۷) و غیرھما ۔
3293
Sahih

Chapters

16
01
بَاب النّظر إِلَى المخطوبة وَبَيَان العورات
جس کو پیغامِ نکاح دیا جائے اسے دیکھنے اور پردہ کی چیزوں کا بیان
28 Hadith
02
بَابُ الْوَلِيِّ فِي النِّكَاحِ وَاسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ
نکاح میں ’’ولی‘‘ ہونے اور عورت سے اجازت طلب کرنے کا بیان
14 Hadith
03
بَابُ إِعْلَانِ النِّكَاحِ وَالْخِطْبَةِ وَالشَّرْطِ
اعلان نکاح ، خطبہ / منگنی اور شرط کا بیان
20 Hadith
04
بَاب الْمُحرمَات
محرمات کا بیان
23 Hadith
05
بَاب الْمُبَاشرَة
مباشرت کا بیان
20 Hadith
06
بَاب الصَدَاق
مہر کا بیان
8 Hadith
07
بَاب الْوَلِيمَة
ولیمہ کا بیان
19 Hadith
08
بَاب الْقسم
باری کی تقسیم کا بیان
9 Hadith
09
بَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ
بیویوں کے ساتھ رہن سہن اور ہر ایک کے حقوق کا بیان
36 Hadith
10
بَاب الْخلْع وَالطَّلَاق
خلع اور طلاق کا بیان
21 Hadith
11
بَاب الْمُطلقَة ثَلَاثًا
جس عورت کو تین طلاقیں دی جائیں اس کا بیان
8 Hadith
12
بَاب اللّعان
لعان کا بیان
20 Hadith
13
بَاب الْعدة
عدت کا بیان
13 Hadith
14
بَاب الِاسْتِبْرَاء
استبراء کا بیان
5 Hadith
15
بَاب النَّفَقَات وَحقّ الْمَمْلُوك
نان نفقہ اور حق مملوک کا بیان
34 Hadith
16
بَابُ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحَضَانَتِهِ فِي الصِّغَرِ
چھوٹے لڑکے کی عمر بلوغت اور کم سنی میں اس کی تربیت کا بیان
6 Hadith
No chapter matched that.