TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الْعدة - عدت کا بیان - نکاح کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 13 of نکاح کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 13 of 16 · 13 Hadith
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيْلُهُ الشَّعِيرَ فَسَخِطَتْهُ فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ» فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ: «تِلْكِ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي» . قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي فَقَالَ: «أَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ» فَكَرِهْتُهُ ثُمَّ قَالَ: «انْكِحِي أُسَامَةَ» فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا: «فَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا نَفَقَةَ لَكِ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلا»
ابوسلمہ ، فاطمہ بنت قیس سے روایت کرتے ہیں کہ ابوعمرو بن حفص نے انہیں آخری طلاق اس وقت دی جب وہ مدینہ منورہ سے باہر تھے ، چنانچہ ابوعمرو بن حفص کے وکیل نے وہ ’’جو‘‘ فاطمہ کے سپرد کر دیے جو ابوعمرو نے ان کے لیے بھیجے تھے وہ اس سے ناراض ہو گئیں ، اس پر (اس کے وکیل) نے کہا : اللہ کی قسم ! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں ، چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے لیے کوئی نفقہ نہیں ، آپ ﷺ نے انہیں ام شریک کے گھر عدت گزارنے کا حکم فرمایا ، پھر فرمایا :’’ وہ ایسی خاتون ہیں ، کہ میرے صحابہ اس کے پاس آتے جاتے ہیں ، لہذا تم ابن ام مکتوم ؓ کے ہاں عدت گزارو ، کیونکہ وہ نابینا شخص ہے ، تم اپنے معمول کے کپڑے پہن کر رہ سکتی ہو ، جب تم عدت گزار لو تو مجھے مطلع کرنا ۔‘‘ فاطمہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں : جب میں نے عدت گزار لی تو میں نے آپ کو بتایا کہ معاویہ بن ابی سفیان ؓ اور ابوجہم ؓ نے مجھے پیغام نکاح بھیجا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوجہم وہ تو اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے نہیں اتارتا (سخت مزاج ہے) ، اور رہا معاویہ وہ تو فقیر آدمی ہے ، اس کے پاس کوئی مال نہیں ، تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو ۔‘‘ میں نے اسے ناپسند کیا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسامہ سے نکاح کر لو ۔‘‘ میں نے اس سے نکاح کر لیا اللہ نے اس میں خیر فرما دی ، اور میں قابل رشک بن گئی ۔ اور انہی سے ایک روایت میں ہے :’’ ابوجہم ! وہ تو عورتوں کو بہت مارنے والا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اس کے خاوند نے جب اسے تین طلاقیں دے دیں تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں آئیں ، تو آپ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ تمہارے لیے صرف حاملہ ہونے کی صورت میں نفقہ ہے ، ویسے کوئی نفقہ نہیں ۔‘‘
Takhreej
رواہ مسلم (۳۶ / ۱۴۸۰) ۔ 3697
3324
Sahih
وَعَن عائشةَ قَالَتْ: إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحِشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا فَلِذَلِكَ رَخَّصَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم تَعْنِي النُّقْلَةِ وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَتْ: مَا لِفَاطِمَةَ؟ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ؟ تَعْنِي فِي قَوْلِهَا: لَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَة. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ فاطمہ ایک بے آباد گھر میں تھیں ، ان کے متعلق اندیشہ محسوس کیا گیا اسی لیے نبی ﷺ نے انہیں رخصت عنایت فرمائی ، یعنی عائشہ ؓ کی مراد یہ ہے کہ اس لیے آپ ﷺ نے انہیں (اپنے گھر سے) منتقل ہونے کی اجازت دی ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے ، عائشہ ؓ نے کہا : فاطمہ ؓ کو کیا ہو گیا وہ اللہ سے کیوں نہیں ڈرتی ، جب وہ یہ کہتی ہے کہ مطلقہ ثلاثہ کے لیے ، سکونت ہے اور نہ خرچہ ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۵۳۲۵) ۔
3325
Sahih
وَعَن سعيدِ بنِ المسيِّبِ قَالَ: إِنَّمَا نُقِلَتْ فَاطِمَةُ لِطُولِ لِسَانِهَا عَلَى أحمائِها. رَوَاهُ فِي شرح السّنة
سعید بن مسیّب بیان کرتے ہیں ، فاطمہ (بنت قیس ؓ) کو محض اس لیے منتقل کیا گیا کہ وہ اپنے (خاوند کے) اقارب پر زبان درازی کرتی تھیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۹ / ۲۹۴ بعد ح ۲۳۸۴ بلا سند) [و ابوداؤد (۲۲۹۶ و سندہ ضعیف) و الشافعی فی الام (۷ / ۴۷۴)] * سعید بن المسیب لم یذکر من حدثہ بھذا فقولہ ھاھنا مردود ۔
3326
Zaeef
وَعَن جابرٍ قَالَ: طُلِّقَتْ خَالَتِي ثَلَاثًا فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «بَلَى فَجُدِّي نَخْلَكِ فَإِنَّهُ عَسَى أَنْ تَصَّدَّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفا» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میری خالہ کو تین طلاقیں دی گئیں ، انہوں نے اپنی کھجوریں توڑنے کا ارادہ کیا تو ایک آدمی نے انہیں گھر سے نکلنے سے منع کیا تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور واقعہ بیان کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیوں نہیں ، تم اپنی کھجوریں توڑو ، کیونکہ امید ہے کہ تم صدقہ کرو گی یا کوئی بھلائی و نیکی کا کام کرو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۵۵ / ۱۴۸۳) ۔ 3721
3327
Sahih
وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ: أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْهُ أَنْ تَنْكِحَ فأذِنَ لَهَا فنكحت. رَوَاهُ البُخَارِيّ
مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمیہ نے اپنے خاوند کی وفات کے چند دن بعد بچے کو جنم دیا ، پھر وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تاکہ آپ سے نکاح کرنے کی اجازت طلب کریں ، آپ نے انہیں اجازت عطا فرما دی اور انہوں نے نکاح کر لیا ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۴۹۰۹) ۔
3328
Sahih
وَعَن أُمِّ سلمةَ قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنُهَا أَفَنَكْحُلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا» مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: «لَا» قَالَ: «إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وعشرٌ وَقد كَانَت إِحْدَاهُنَّ فِي الجاهليَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ»
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا ہے ، اور اس کی آنکھ میں تکلیف ہے ، کیا میں اس کی آنکھ میں سرمہ لگا دوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ دو بار یا تین بار ، آپ ﷺ ہر بار یہی فرماتے :’’ نہیں ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ (عدت) چار ماہ دس دن ہے ، جبکہ دور جاہلیت میں تم میں سے ہر کوئی سال کے اختتام پر اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی ۔‘‘ (ایک سال بعد عدت ختم ہوتی تھی) متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۳۳۶) و مسلم (۱۴۸۸) ۔ 3731
3329
Sahih
وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ وَزَيْنَبَ بِنْتِ جحش عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»
ام حبیبہ ؓ اور زینب بن جحش ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتی ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ خاوند کی وفات پر چار ماہ دس دن کے سوگ کے علاوہ کسی اور میت پر تین دن سے زائد سوگ کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۳۳۴ ۔ ۵۳۳۵) و مسلم (۵۸ / ۱۴۸۶) ۔ 3725
3330
Sahih
وَعَن أُمِّ عطيَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُحِدُّ امْرَأَةٌ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ وَلَا تكتحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا إِذَا طَهُرَتْ نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ: «وَلَا تختضب»
ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کوئی عورت کسی میت پر تین دن سے زائد سوگ نہ کرے ، البتہ خاوند پر چار ماہ دس دن کا سوگ کرے ، اور وہ یمنی لکیر دار چادر کے سوا رنگے ہوئے کپڑے بھی نہ پہنے ، نہ سرمہ ڈالے اور نہ خوشبو لگائے ، البتہ جب وہ حیض سے پاک ہو جائے تو پھر قُسط یا اظفار کی معمولی سی خوشبو لگا لے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور ابوداؤد نے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ وہ مہندی نہ لگائے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۳۴۲) ومسلم (۶۶ / ۹۳۸) و ابوداؤد (۲۳۰۲) ۔ 3740
3331
Sahih
عَن زَيْنَب بنت كَعْب: أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ فَإِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا فَقَتَلُوهُ قَالَتْ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي فَإِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَنْزِلٍ يَمْلِكُهُ وَلَا نَفَقَةٍ فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ» . فَانْصَرَفْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ دَعَانِي فَقَالَ: «امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ» . قَالَتْ: فَأَعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
زینب بنت کعب سے روایت ہے کہ ابوسعید خدری ؓ کی بہن فُریعہ بنت مالک بن سنان نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تاکہ وہ اپنے قبیلے بنو خدرہ میں اپنے گھر چلی جائے ، کیونکہ اس کا شوہر اپنے مفرور غلاموں کی تلاش میں نکلا تھا جسے ان غلاموں نے قتل کر دیا تھا ، وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤں کیونکہ میرے شوہر نے نہ تو اپنا ذاتی گھر چھوڑا ہے اور نہ نفقہ ۔ وہ بیان کرتی ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ میں واپس مڑی حتی کہ جب حجرے میں تھی یا مسجد میں تھی تو آپ ﷺ نے مجھے بُلایا اور فرمایا :’’ اپنے گھر میں رہو حتی کہ عدت پوری ہو جائے ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے وہاں چار ماہ دس دن عدت گزاری ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ مالک (۲ / ۵۹۱ ح ۱۲۹۰) و الترمذی (۱۲۰۴ وقال : حسن صحیح) و ابوداؤد (۲۳۰۰) و النسائی (۶ / ۱۹۹ ۔ ۲۰۰ ح ۳۵۵۸ ۔ ۳۵۶۰) و ابن ماجہ (۲۰۳۱) و الدارمی (۲ / ۱۶۸ ح ۲۲۹۲) [و اخطا من ضعفہ] ۔
3332
Sahih
وَعَن أُمِّ سلمَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ وَقَدْ جعلتُ عليَّ صَبِراً فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ؟» . قُلْتُ: إِنَّمَا هُوَ صَبِرٌ لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ فَقَالَ: «إِنَّهُ يَشُبُّ الْوَجْهَ فَلَا تَجْعَلِيهِ إِلَّا بِاللَّيْلِ وَتَنْزِعِيهِ بِالنَّهَارِ وَلَا تَمْتَشِطِي بِالطِّيبِ وَلَا بِالْحِنَّاءِ فَإِنَّهُ خضاب» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب ابوسلمہ ؓ فوت ہوئے تو رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ایلوے کا عرق لگایا ہوا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ام سلمہ ! یہ کیا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : یہ تو ایلوے کا عرق ہے ! اس میں کوئی خوشبو نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ چہرے کو چمکا دیتا ہے ، اسے رات کے وقت لگا لیا کرو اور دن کے وقت صاف کر دیا کرو ، خوشبو لگا کر کنگھی بھی نہ کرو اور نہ مہندی لگا کر کنگھی کرو ، کیونکہ وہ خضاب ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں کس چیز کے ساتھ کنگھی کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بیری (کے پتوں) کے ساتھ ، تم اپنے سر پر ان کی لیپ کر لیا کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۳۰۵) و النسائی (۶ / ۲۰۴ ح ۳۵۶۷) * ام حکیم : لا یعرف حالھا و المغیرۃ بن الضحاک : مستور ۔
3333
Zaeef
وَعَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «المُتوَفّى عَنْهَا زوجُها لَا تَلبسُ المُعَصفَرَ مِنَ الثِّيَابِ وَلَا الْمُمَشَّقَةَ وَلَا الْحُلِيَّ وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تَكْتَحِلُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
ام سلمہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے تو وہ نہ تو زرد رنگ کے کپڑے پہنے اور نہ سرخ رنگ کے ، اور نہ وہ زیور پہنے اور خضاب لگائے اور نہ ہی سرمہ لگائے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۳۰۴) و النسائی (۶ / ۲۰۳ ح ۳۵۶۵) ۔
3334
Sahih
عَن سُليمانَ بنِ يَسارٍ: أَنَّ الْأَحْوَصَ هَلَكَ بِالشَّامِ حِينَ دَخَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ زِيدٌ: إِنَّهَا إِذَا دَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ وَبَرِئَ مِنْهَا لَا يرِثُها وَلَا ترِثُه. رَوَاهُ مَالك
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ احوص نے شام میں اس وقت وفات پائی جب اس کی بیوی کو (طلاق کے بعد) تیسرا حیض شروع ہو چکا تھا ، وہ اسے طلاق دے چکا تھا ، معاویہ بن ابی سفیان نے اس بارے میں مسئلہ دریافت کرنے کے لیے زید بن ثابت ؓ کے نام خط لکھا تو زید نے انہیں جواب دیا کہ وہ تیسرے حیض میں داخل ہو چکی ہے ، وہ (عورت) اس سے برئ الذمہ ہے اور وہ اس سے برئ الذمہ ہے ، وہ اس کا وارث نہیں اور یہ اس کی وارث نہیں ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ مالک (۲ / ۵۷۷ ح ۱۲۵۶) ۔
3335
Sahih
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ طُلِّقَتْ فَحَاضَتْ حَيْضَةً أَوْ حَيْضَتَيْنِ ثُمَّ رُفِعَتْهَا حيضتُها فإنَّها تنتظِرُ تسعةَ أشهرٍ فإنْ بانَ لَهَا حَمْلٌ فَذَلِكَ وَإِلَّا اعْتَدَّتْ بَعْدَ التِّسْعَةِ الْأَشْهَرِ ثلاثةَ أشهرٍ ثمَّ حلَّتْ. رَوَاهُ مَالك
سعید بن مسیّب بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا : جس عورت کو طلاق دی گئی اور اسے ایک یا دو حیض آ گئے اور پھر اس کا حیض موقوف ہو گیا تو وہ نو ماہ انتظار کرے گی ، اگر اس کا حمل ظاہر ہو گیا تو پھر یہی (وضع حمل) ہے ورنہ وہ نو ماہ کے بعد تین ماہ عدت گزارے گی اور پھر حلال ہو جائے گی ۔ (اور وہ دوسری جگہ نکاح کر سکے گی) صحیح ، رواہ مالک ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ مالک (۲ / ۵۸۲ ح ۱۲۷۰) ۔
3336
Sahih

Chapters

16
01
بَاب النّظر إِلَى المخطوبة وَبَيَان العورات
جس کو پیغامِ نکاح دیا جائے اسے دیکھنے اور پردہ کی چیزوں کا بیان
28 Hadith
02
بَابُ الْوَلِيِّ فِي النِّكَاحِ وَاسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ
نکاح میں ’’ولی‘‘ ہونے اور عورت سے اجازت طلب کرنے کا بیان
14 Hadith
03
بَابُ إِعْلَانِ النِّكَاحِ وَالْخِطْبَةِ وَالشَّرْطِ
اعلان نکاح ، خطبہ / منگنی اور شرط کا بیان
20 Hadith
04
بَاب الْمُحرمَات
محرمات کا بیان
23 Hadith
05
بَاب الْمُبَاشرَة
مباشرت کا بیان
20 Hadith
06
بَاب الصَدَاق
مہر کا بیان
8 Hadith
07
بَاب الْوَلِيمَة
ولیمہ کا بیان
19 Hadith
08
بَاب الْقسم
باری کی تقسیم کا بیان
9 Hadith
09
بَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ
بیویوں کے ساتھ رہن سہن اور ہر ایک کے حقوق کا بیان
36 Hadith
10
بَاب الْخلْع وَالطَّلَاق
خلع اور طلاق کا بیان
21 Hadith
11
بَاب الْمُطلقَة ثَلَاثًا
جس عورت کو تین طلاقیں دی جائیں اس کا بیان
8 Hadith
12
بَاب اللّعان
لعان کا بیان
20 Hadith
13
بَاب الْعدة
عدت کا بیان
13 Hadith
14
بَاب الِاسْتِبْرَاء
استبراء کا بیان
5 Hadith
15
بَاب النَّفَقَات وَحقّ الْمَمْلُوك
نان نفقہ اور حق مملوک کا بیان
34 Hadith
16
بَابُ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحَضَانَتِهِ فِي الصِّغَرِ
چھوٹے لڑکے کی عمر بلوغت اور کم سنی میں اس کی تربیت کا بیان
6 Hadith
No chapter matched that.