TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3855 - مجلس (ایک جگہ موجود گی )ختم ہونے سے پہلے بیچنے یا خریدنے والے کو سودا واپس کرنے کا اختیار ہے - The book of transactions - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 5 in this chapter
مجلس (ایک جگہ موجود گی )ختم ہونے سے پہلے بیچنے یا خریدنے والے کو سودا واپس کرنے کا اختیار ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَكَانَا جَمِيعًا، أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكِ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ
Ibn 'Umar (Allah be pleased with thcm) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When two persons enter into a transaction, each of them has the right to annul it so long as they are not separated and are together (at the place of transaction) ; or if one gives the other the right (to annul the transaction) But if one gives the other the option, the transaction is made on this condition (i. e. one has the right to annul the transaction), it becomes binding. And if they are separated after they have made the bargain and none of them annulled it, even then the transaction is binding.
لیث نے ہمیں نافع سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جب دو آدمی باہم بیع کریں تو دونوں میں سے ہر ایک کو ( سودا ختم کرنے کا ) اختیار ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں اور اکٹھے ہوں ۔ یا ان دونوں میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے ، اگر ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے اور اسی پر دونوں بیع کر لیں تو بیع لازم ہو گئی ، اور اگر باہم بیع کرنے کے بعد دونوں جدا ہوئے اور ان میں سے کسی نے بیع کو ترک نہیں کیا تو بھی بیع لازم ہو گئی
3855
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

249
1
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
2
(44) CHAPTER. Both the buyer and the seller have the option to cancel or confirm the bargain, unless they separate.
جب تک خریدنے اور بیچنے والے جدا نہ ہوں انہیں اختیار باقی رہتا ہے
Sahih Bukhari
3
CHAPTER: Regarding The Option Of Both Parties (To Annul A Deal).
باب: بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
4
CHAPTER: If Two Parties Dispute, The Item Remains Where It Was.
باب: جب بیچنے والے اور خریدنے والے کے درمیان قیمت میں اختلاف ہو جائے اور بیچی گئی چیز موجود ہو تو اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
5
بیچنے اور خریدنے والے جب تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہو جائیں دونوں کو بیع فسخ کرنے کا اختیار ہے
Sunnan Ibn e Maja
6
جب دو بااختیار شخص کسی چیز کو بیچیں تو پہلے بیچنے والے کی بات معتبر ہو گی
Sunnan Ibn e Maja
7
باب: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو ایک دوسرے سے جسمانی طور پر جدا ہونے تک بیع کے توڑنے کے سلسلے میں اختیار حاصل ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
8
باب: سامان خریدنے کے بعد قیمت ادا کرنے سے پہلے آدمی مفلس ہو جائے اور وہ چیز اس کے پاس جوں کی توں موجود ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
9
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Meet The Owners Of The Goods
باب: مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے جا کر ملنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell Fruits Until They Began To Blossom
باب: پختگی ظاہر ہونے سے پہلے پھل کو بیچنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About 'Both The Buyer And The Seller Retain The Option As Long As They Have Not Separated'
باب: بیچنے والا اور خریدار دونوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں بیع کو باقی رکھنے یا فسخ کرنے کا اختیار ہے
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About When The Buyer And Seller Disagree
باب: بائع (بیچنے والے) اور مشتری (خریدنے والے) کے اختلاف کا بیان
Jam e Tirmazi
13
مجلس کے اختیار کا بیان
Musnad Ahmad
14
مجلس میں موجود لوگوں کے ساتھ خاص آداب
Musnad Ahmad
15
(19) CHAPTER. If both the seller and buyer explain the good and bad points of the transaction and hide nothing and give sincere advice (then they are blessed in their bargain).
جب خریدنے والے اور بیچنے والے دونوں صاف صاف بیان کر دیں اور ایک دوسرے کی بہتری چاہیں
Sahih Bukhari
16
(55) CHAPTER. The selling of foodstuff before receiving it, and the selling of a thing which you don't have.
غلے کو اپنے قبضے میں لینے سے پہلے بیچنا اور ایسی چیز کو بیچنا جو تیرے پاس موجود نہیں
Sahih Bukhari
17
(87) CHAPTER. If somebody sells fruits before their benefit is evident and free from blights and then they get afflicted with some defects, they will be given back to the seller.
اگر کسی نے پختہ ہونے سے پہلے ہی پھل بیچے پھر ان پر کوئی آفت آئی تو وہ نقصان بیچنے والے کو بھرنا پڑے گا
Sahih Bukhari
18
(2) CHAPTER. The partner should inform his partner, who has the right of pre-emption, of his intention to sell his share before selling it.
شفعہ کا حق رکھنے والے کے سامنے بیچنے سے پہلے شفعہ پیش کرنا
Sahih Bukhari
19
Chapter: The prohibition of selling wine
شراب بیچنے خریدنے کی حرمت
Sahih Muslim
20
خریدنے والے اور بیچنے والے کے درمیان اختلاف ہو جائے تو وہ کیا کریں؟۔
Sunnan Ibn e Maja
21
باب: پھلوں کو پختگی ظاہر ہونے سے پہلے نہ بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
22
باب: پکنے سے پہلے بالی کو بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
23
باب: اپنی ملکیت اور قبضہ میں لینے سے پہلے غلہ بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
24
باب: جو اناج ناپ کر خریدا جائے، اسے پورا اپنی تحویل میں لے لینے سے پہلے بیچنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
25
باب: اندازہ لگا کر خریدا ہوا اناج اس کی جگہ سے منتقل کرنے سے پہلے بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
26
باب: بیچنے والے کے پاس غیر موجود چیز کے بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
27
باب: تقسیم سے پہلے مال غنیمت بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
28
باب: بیچنے اور خریدنے والے کے درمیان قیمت کے بارے میں اختلاف ہو جانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
29
Chapter: What Has Been Related About Al-Khars (Assessment)
باب: درخت میں موجود پھل کا تخمینہ لگانا
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Not Performing The Salat For The Child Until One Is Sure He Was Alive At Birth
باب: جنین (ماں کے پیٹ میں موجود بچہ) کی نماز نہ پڑھنے کا بیان جب تک کہ وہ ولادت کے وقت نہ روئے
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What has been related about the choice
باب: عورت کو ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے اختیار دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Buy On Credit
باب: کسی چیز کو مدت کے وعدے پر خریدنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been related About The Sale Of A Mudabbar
باب: مدبر غلام کے بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Sale Of Habalil-Habalah
باب: حمل کے حمل کو بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell What One Does Not Have
باب: جو چیز موجود نہ ہو اس کی بیع جائز نہیں
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell Wala' And To Confer It
باب: میراث ولاء کو بیچنے اور اس کو ہبہ کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Barter Animals For Animals On Credit
باب: جانور کو جانور سے ادھار بیچنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About Buying A Slave In Exchange For Two Slaves
باب: ایک غلام کو دو غلام سے خریدنے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About That Wheat Is To Be Exchanged For Wheat, Kind For Kind, And That An Increase In It Is Disliked
باب: گیہوں کو گیہوں سے برابر برابر بیچنے اور اس کے اندر کمی و بیشی کے درست نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About Purchasing Date-Palms After Pollination And A Slave That Has Property
باب: پیوند کاری کے بعد کھجور کے درخت کو بیچنے کا اور ایسے غلام کو بیچنے کا بیان جس کے پاس مال ہو
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Option Of The Buyer And The Seller
باب: بائع اور مشتری کی رضا مندی اور اختیار سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About Selling A Necklace Containing Gold And Jewels
باب: سونے اور جواہرات جڑے ہوئے ہار خریدنے کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition For The Muslim To Give Wine To The Dhimmi When Bartering With Him
باب: مسلمان ذمی کو شراب بیچنے کے لیے دے یہ منع ہے
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About Selling Surplus Water
باب: ضرورت سے زائد پانی کے بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Selling Skins Of Dead Animals And Idols
باب: مردار کی کھالوں اور بتوں کے بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About The Boy Choosing Between His Parents When They Separate
باب: ماں باپ کی جدائی کی صورت میں بچے کو اختیار دئیے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About Preemption For The Absent
باب: غائب (جو شخص موجود نہ ہو) کے شفعہ کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About The Blood-Money For The Fetus
باب: حمل (ماں کے پیٹ میں موجود بچہ) کی دیت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About Slaughtering The Fetus
باب: ماں کے پیٹ میں موجود بچہ کے ذبیحہ کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About There Is No Vowing In That Over Which The Son Of Adam Has No Control
باب: جو چیز آدمی کے اختیار میں نہیں اس میں نذر نہیں
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

97
Sunnan Nisai
4477
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ،‏‏‏‏ عَنْ نَافِعٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ حَتَّى يَفْتَرِقَا ،‏‏‏‏ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى:‏‏‏‏ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ،‏‏‏‏ فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ،‏‏‏‏ فَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ .
It was narrated from Al-Laith, from Nafi, from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah said: When two men enter into a transaction, each of them has the choice until they separate. On one occasion he said: So long as they have not separated and one has not told the other to decide. If one tells the other to decide and they agree upon something, then the transaction is binding. If they separate after entering into a transaction and neither of them has canceled the transaction, then the transaction is binding. (Sahih )
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی آپس میں خریدیں اور بیچیں تو ان میں سے ہر ایک کو اس وقت تک اختیار ہوتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں، اور ایک دوسری بار نافع نے ( «حتى يفترقا» کے بجائے ) «ما لم يتفرقا» کہا، حالانکہ وہ دونوں ایک جگہ تھے، یا یہ کہ ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دیدے، لہٰذا اگر ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دیدے اور وہ دونوں اس ( شرط خیار ) پر بیع کر لیں تو بیع ہو جائے گی، اب اگر وہ دونوں بیع کرنے کے بعد جدا ہو جائیں اور ان میں سے کسی ایک نے بیع ترک نہ کی تو بیع ہو جائے گی۔
Sahih Bukhari
2112
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ ، فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، وَكَانَا جَمِيعًا ، أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ يَتَبَايَعَا ، وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ .
Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle said, Both the buyer and the seller have the option of canceling or confirming the bargain, as long as they are still together, and unless they separate or one of them gives the other the option of keeping or re
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب دو شخصوں نے خرید و فروخت کی تو جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں، انہیں ( بیع کو توڑ دینے کا ) اختیار باقی رہتا ہے۔ یہ اس صورت میں کہ دونوں ایک ہی جگہ رہیں، لیکن اگر ایک نے دوسرے کو پسند کرنے کے لیے کہا اور اس شرط پر بیع ہوئی، اور دونوں نے بیع کا قطعی فیصلہ کر لیا، تو بیع اسی وقت منعقد ہو جائے گی۔ اسی طرح اگر دونوں فریق بیع کے بعد ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، اور بیع سے کسی فریق نے بھی انکار نہیں کیا، تو بھی بیع لازم ہو جاتی ہے۔
Sahih Muslim
3858
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا
Hakim b. Hazim (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Both parties in a business transaction have the right to annul it so long as they have not separated; and if they speak the truth and make everything clear they will be blessed in their transaction; but if they tell a lie and conceal anything the blessing on their transaction will be blotted out.
ابوخلیل نے عبداللہ بن حارث سے ، انہوں نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " بیع کرنے والے دونوں فریقوں کو اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں ۔ اگر وہ دونوں سچ بولیں اور حقیقت کو واضح کریں تو ان کی بیع میں برکت ڈالی جاتی ہے ، اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور ( عیب وغیرہ ) چھپائیں تو ان کی بیع سے برکت مٹا دی جاتی ہے
Sunnan Ibn e Maja
2181
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that the Messenger of Allah said: When two men enter into a transaction, each of them has the choice (of annulling it) so long as they have not yet parted and are still together, or one of them has given the option or choice to the other. Once he has accepted the terms of the other, then the transaction is binding. If they part after concluding the transaction and neither of them has rescinded the transaction then the transaction is binding.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو آدمی ایک مجلس میں خرید و فروخت کریں، تو دونوں میں سے ہر ایک کو بیع فسخ کرنے کا اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، یا ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو اختیار نہ دیدے، پھر اگر ایک نے دوسرے کو اختیار دے دیا پھر بھی ان دونوں نے بیع پکی کر لی تو بیع واجب ہو گئی، اس طرح بیع ہو جانے کے بعد اگر وہ دونوں مجلس سے جدا ہو گئے تب بھی بیع لازم ہو گئی ۱؎۔
Sunnan Nisai
4488
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ،‏‏‏‏ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ جَدِّهِ،‏‏‏‏ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا،‏‏‏‏ إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ،‏‏‏‏ وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ .
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father , form his grandfather, that the Prophet said: The two parties to a transaction have the choicer so long as they have not separated, unless they reach an agreement before parting, and it is not permissible to hasten to leave for fear that the other party may change his mind.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خریدنے اور بیچنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں، سوائے اس کے کہ وہ بیع خیار ہو، اور ( کسی فریق کے لیے ) یہ حلال نہیں کہ وہ اپنے صاحب معاملہ سے اس اندیشے سے جدا ہو کہ کہیں وہ بیع فسخ کر دے ۱؎۔
Sahih Muslim
3853
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَيِّعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Both parties in a business transaction have the right to annul it so long as they have not separated; except in transactions which have been made subject to the right of parties to annul them.
امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بیع کرنے والے دونوں میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھی کے خلاف ( بیع فسخ کرنے کا ) اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں ، الا یہ کہ اختیار والی بیع ہو
Sahih Muslim
3856
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ نَافِعٌ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ بِالْبَيْعِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ، فَإِذَا كَانَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ، فَقَدْ وَجَبَ»، زَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ إِذَا بَايَعَ رَجُلًا، فَأَرَادَ أَنْ لَا يُقِيلَهُ، قَامَ فَمَشَى هُنَيَّةً، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When two persons enter into a transac. tion, each one of them has the right to annul it so long as they are not separated, or their transaction gives one another (as a condition) the right of annulling, and if their transaction, has the right of annulling it the transaction becomes binding. Ibn Abi Umar made this addition that whenever he (Ibn Umar) entered into a transaction with a person with the intention of not breaking it, he walked a while and then returned to him.
زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر دونوں نے سفیان سے روایت کی ۔ زہیر نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے نافع نے ( حدیث ) املا کرائی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جب دو بیع کرنے والے باہم خرید و فروخت کریں تو ان میں سے ہر ایک کو اپنی بیع ( ختم کرنے ) کا اختیار ہے جب تک وہ باہم جدا نہ ہوں یا ان کی بیع اختیار سے ہوئی ہو ( انہوں نے اختیار استعمال کر لیا ہو ۔ ) اگر ان کی بیع اختیار سے ہوئی ہے تو لازم ہو گئی ہے ۔ "" ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ نافع نے کہا : جب وہ ( ابن عمر رضی اللہ عنہ ) کسی آدمی سے بیع کرتے اور چاہتے کہ وہ آدمی ان سے بیع کی واپسی کا مطالبہ ( اقالہ ) نہ کرے تو وہ ( خیارِ مجلس ختم کرنے کے لیے ) اٹھتے ، تھوڑا سا چلتے ، پھر اس کے پاس واپس آ جاتے
Sunnan Abu Dawood
3136
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ يَعْنِي الْمَرْوَانِيَّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏الْمَعْنَى أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا، ‏‏‏‏‏‏لَتَرَكْتُهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الْعَافِيَةُ. حتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَلَّتِ الثِّيَابُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَثُرَتِ الْقَتْلَى، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ يُكَفَّنُونَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، ‏‏‏‏‏‏زَادَ قُتَيْبَةُ:‏‏‏‏ ثُمَّ يُدْفَنُونَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ:‏‏‏‏ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ قُرْآنًا ؟ فَيُقَدِّمُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ .
Narrated Anas ibn Malik: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم passed Hamzah who was killed and disfigured. He said: If Safiyyah were not grieved, I would have left him until the birds and beasts of prey would have eaten him, and he would have been resurrected from their bellies. The garments were scanty and the slain were in great number. So one, two and three persons were shrouded in one garment. The narrator Qutaybah added: They were then buried in one grave. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم asked: Which of the two learnt the Quran more? He then advanced him toward the qiblah (direction of prayer).
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( غزوہ احد میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ ( حمزہ بن عبدالمطلب ) رضی اللہ عنہ کی لاش کے قریب سے گزرے، ان کا مثلہ کر دیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا: اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ صفیہ ( حمزہ کی بہن ) اپنے دل میں کچھ محسوس کریں گی تو میں انہیں یوں ہی چھوڑ دیتا، پرندے کھا جاتے، پھر وہ حشر کے دن ان کے پیٹوں سے نکلتے ۔ اس وقت کپڑوں کی قلت تھی اور شہیدوں کی کثرت، ( حال یہ تھا ) کہ ایک کپڑے میں ایک ایک، دو دو، تین تین شخص کفنائے جاتے تھے۱؎۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ: پھر وہ ایک ہی قبر میں دفن کئے جاتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے کہ ان میں قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟ تو جسے زیادہ یاد ہوتا اسے قبلہ کی جانب آگے رکھتے۔
Sunnan Abu Dawood
3456
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ .
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: Both parties in a business transaction have a right to annul it so long as they have not separated unless it is a bargain with the option to annul is attached to it; and it is not permissible for one of them to separate from the other for fear that one may demand that the bargain be rescinded.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرید و فروخت کرنے والے دونوں جب تک جدا نہ ہوں معاملہ ختم کر دینے کا اختیار رکھتے ہیں، مگر جب بیع خیار ہو، ( تو جدا ہونے کے بعد بھی واپسی کا اختیار باقی رہتا ہے ) بائع و مشتری دونوں میں سے کسی کے لیے حلال نہیں کہ چیز کو پھیر دینے کے ڈر سے اپنے ساتھی کے پاس سے اٹھ کر چلا جائے ۔