أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّمَا امْرِئٍ أَفْلَسَ ثُمَّ وَجَدَ رَجُلٌ عِنْدَهُ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا، فَهُوَ أَوْلَى بِهِ مِنْ غَيْرِهِ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:
If a person becomes bankrupt, then a man finds the goods that he sold to him with him, he has more right to them than anyone else.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ( سامان خریدنے کے بعد ) مفلس ہو گیا، پھر بیچنے والے کو اس کے پاس اپنا مال بعینہ ملا تو دوسروں کی بہ نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے“ ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الاستقراض ۱۴ (۲۴۰۲)، صحیح مسلم/المساقاة ۵ (البیوع ۲۶) (۱۵۵۹)، سنن ابی داود/البیوع۷۶(۳۵۱۹، ۳۵۲۰)، سنن الترمذی/البیوع ۲۶ (۱۲۶۲)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ۲۶ (۴۳۵۸، ۲۳۵۹)، (تحفة الأشراف: ۱۴۸۶۱)، موطا امام مالک/البیوع ۴۲ (۸۸)، مسند احمد (۲/۲۲۸، ۲۴۷، ۲۴۹، ۲۵۸، ۴۱۰، ۴۶۸، ۴۷۴، ۵۰۸)، سنن الدارمی/البیوع ۵۱ (۲۶۳۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس باب کی احادیث کی روشنی میں علماء نے کچھ شرائط کے ساتھ ایسے شخص کو اپنے سامان کا زیادہ حقدار ٹھہرایا ہے جو یہ سامان کسی ایسے شخص کے پاس بعینہٖ پائے جس کا دیوالیہ ہو گیا ہو، وہ شرائط یہ ہیں : (الف) سامان خریدار کے پاس بعینہٖ موجود ہو۔ (ب) پایا جانے والا سامان اس کے قرض کی ادائیگی کے لیے کافی نہ ہو۔ (ج) سامان کی قیمت میں سے کچھ بھی نہ لیا گیا ہو۔ (د) کوئی ایسی رکاوٹ حائل نہ ہو جس سے وہ سامان لوٹایا ہی نہ جا سکے۔
4680
Sahih