أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً .
It was narrated from Sasmurah that:
the Messenger of Allah forbade selling animals in exchange for animal's ion credit.
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی روح کے بدلے ذی روح کو ادھار بیچنے سے منع فرمایا ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع ۱۵ (۳۳۵۶)، سنن الترمذی/البیوع ۲۱ (۱۲۳۷)، سنن ابن ماجہ/التجارات ۵۶ (۲۲۷۰)، (تحفة الأشراف: ۴۵۸۳)، مسند احمد ۵/۱۲، ۲۱، ۱۹، ۲۲، سنن الدارمی/البیوع ۳۰ (۲۶۰۶)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب ادھار کی صورت طرفین سے ہو اور اگر کسی ایک جانب سے ہو تو بیع جائز ہے (دیکھئیے : صحیح بخاری کتاب البیوع باب ۱۰۸)۔
4624
Sahih