أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلَةِ حَتَّى تَزْهُوَ، وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ .
It was narrated from Ibn 'umar that:
the Messenger of Allah forbade selling dates in the trees before they ripen or selling ears of corn before the grains become visible and there is no fear of blight. He forbade that to the seller ad the buyer. ,
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کھجور کے بیچنے سے یہاں تک کہ وہ خوش رنگ ہو جائے، اور بالی کے بیچنے سے یہاں تک کہ وہ سفید پڑ جائے ( یعنی پک جائے ) اور آفت سے محفوظ ہو جائے۔ آپ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو روکا ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع ۱۳ (۱۵۳۵)، سنن ابی داود/البیوع ۲۳ (۳۳۶۸)، سنن الترمذی/البیوع ۱۵ (۱۲۲۷)، (تحفة الأشراف: ۷۵۱۵)، مسند احمد (۲/۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس طرح کی بیع میں بھی وہی بات ہے جو پھلوں کے پکنے سے پہلے ان کی بیع میں ہے، یعنی ہو سکتا ہے کہ کھیتی پکنے سے کسی آسمانی آفت کا شکار ہو جائے، تو خریدار کا گھاٹا ہی گھاٹا ہو گا۔
4555
Sahih