أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ .
It was narrated that Abu Rafi said:
The Messenger of Allah said The neighbor has more right to property that is near. '
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ حقدار ہے“۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشفعة ۲ (۲۲۵۸)، الحیل۱۴(۶۹۷۷)، ۱۵(۶۹۷۸)، سنن ابی داود/البیوع ۷۵ (۳۵۱۶)، سنن ابن ماجہ/الشفعة ۳ (الأحکام ۸۷) (۲۴۹۸)، (تحفة الأشراف: ۱۲۰۲۷)، مسند احمد (۶/۱۰، ۳۹۰)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : شفعہ وہ استحقاق ہے جس کے ذریعہ شریک اپنے شریک کا وہ حصہ جو دوسرے کی ملکیت میں جا چکا ہے قیمت ادا کر کے حاصل کر سکے، لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ دونوں کی جائیداد اس طرح مشترک ہو کہ دونوں کے حصے کی تعیین نہ ہو، اور دونوں کا راستہ بھی ایک ہو، دیکھئیے حدیث رقم ۴۷۰۸۔
4706
Sahih