أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ .
; It was narrated from Ibn 'Uar that the Messenger of Allah said:
Do not sell fruits until their condition is known. And he forbade (both) the seller and the purchaser (to engage in such a transaction).
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک پختگی ظاہر نہ ہو جائے پھلوں کی بیع نہ کرو“، آپ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو ( اس سے ) منع فرمایا ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/التجارات ۳۲ (۲۲۱۴)، (تحفة الأشراف: ۸۳۰۲)، مسند احمد (۲/ ۱۲۳)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : پھلوں کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اگر ان کو درخت پر بیچ دیا گیا تو بہت ممکن ہے کہ پختگی ظاہر ہونے سے پہلے آندھی طوفان آئے اور سارے یا اکثر پھل برباد ہو جائیں اور خریدار کا نقصان ہو جائے، اور پختگی ظاہر ہونے کے بعد اگر آندھی طوفان آئے بھی تو کم پھل برباد ہوں گے، نیز پختہ پھل اگر گر بھی گئے تو خریدار کی قیمت بھر پیسہ نکل آئے گا۔
4523
Sahih