أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ السَّرْخَسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ .
It was narrated that 'Aishah said:
The Messenger of Allah said: The best (most Pure) food that a man eats is that which he has earned himself, and a man's child (and his child's wealth) is part of his earnings (Sahih )
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے جو آدمی اپنی ( محنت کی ) کمائی سے کھائے، اور آدمی کی اولاد اس کی کمائی ہے“ ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع ۷۹ (۳۵۲۸، ۳۵۲۹)، سنن الترمذی/الأحکام ۲۲ (۱۲۵۸)، سنن ابن ماجہ/التجارات ۶۴ (۲۲۹)، (تحفة الأشراف: ۱۷۹۹۲)، مسند احمد (۶/۳۱، ۴۱، ۱۲۷، ۱۶۲، ۱۹۳، ۲۰۱، ۲۰۲، ۲۲۰)، سنن الدارمی/البیوع ۶ (۲۵۷۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : سب سے پاکیزہ کمائی کی بابت علماء کے تین اقوال ہیں : ۱- تجارت ۲- ہاتھ کی کمائی اور ایسا پیشہ جو کمتر درجے کا نہ ہو ۳- زراعت (کھیتی باڑی)، ان میں سب سے بہتر کون ہے اس کا دارومدار حالات و ظروف پر ہے۔ راجح یہ ہے کہ سب سے بہتر اور پاکیزہ رزق وہ ہے جو حدیث رسول «جعل رزقی تحت ظل رمحی» کے مطابق بطور غنیمت حاصل ہو۔ اس لیے کہ یہ دین کے غلبہ کے لیے حاصل ہونے والی جدوجہد اور قتال میں حاصل مال ہے۔
4454
Sahih