أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَوَكِيعٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ .
It was narrated that 'Aishsh said:
The Messenger of Allah ruled that what a slave earns belongs to his guarantor.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ «خراج» ( نفع ) مال کی ضمانت سے جڑا ہوا ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع ۷۳ (۳۵۰۹)، سنن الترمذی/البیوع ۵۳ (۱۲۸۵)، سنن ابن ماجہ/التجارات ۴۳ (۲۲۴۲)، (تحفة الأشراف: ۱۶۷۵۵)، مسند احمد (۶/۴۹، ۲۰۸، ۲۳۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : مثلاً خریدار نے ایک غلام خریدا اسی دوران غلام نے کچھ کمائی کی پھر غلام میں کچھ نقص اور عیب نکل آیا تو خریدار نے اسے بیچنے والے کو لوٹا دیا اس کے کمائی کا حقدار خریدار ہو گا بیچنے والا نہیں کیونکہ غلام کے کھو جانے یا بھاگ جانے کی صورت میں خریدار ہی اس کا ضامن ہے۔
4495
Sahih