TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اخلاقِ حسنہ کی ترغیب دلانے کا بیان - اخلاقِ حسنہ کی ترغیب دلانے کا بیان - اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 13 · 17 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۹۱۵۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلاَ اُنَبِّئُکُمْ بِخِیَارِکُمْ؟)) قَالُوْا: بَلیٰیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((خِیَارُکُمْ اَطْوَلُکُمْ اَعْمَارًا وَاَحْسَنُکُمْ اَخْلاقًا۔)) (مسند احمد: ۹۲۲۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں پسندیدہ لوگوں کے بارے میں خبر نہ دوں؟ لوگوں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جن کی عمریں لمبی ہوں اور اخلاق اچھے ہوں۔
Takhreej
(۹۱۵۲) تخریج:صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۳/ ۲۵۴، والبزار: ۱۹۷۱ (انظر: ۹۲۳۵)
Explanation
فوائد:… دنیا کی زندگی آخرت کی تیاری کا واحد ذریعہ ہے، اربوں انسان آئے اور اپناکردار ادا کر کے اپنی آخری منزل کی طرف روانہ ہو گئے، ہمارے ساتھ اور ہمارے بعد آنے والوں کے ساتھ بھییہی کچھ ہو گا۔ ماضی ہو یا حال و مستقبل، سعادت مند وہ ہے جو دنیا میں رہ کر جنت کے زیادہ سے زیادہ اسباب جمع کرے۔سیدنا عبد اللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ دو بدو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، ان میں سے ایک نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ سب سے بہتر ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((طُوْبٰی لِمَنْ طَالَ عُمُرُہٗوَحَسُنَعَمَلُہُ۔)) (صحیحہ: ۱۸۳۶) … اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال نیک ہوں۔ جو انسان اس صفت سے محروم رہے گا،وہ دنیاو آخرت کی خیر و بھلائی سے محروم رہے گا، ایسا انسان دن بدن اللہ تعالیٰ کا مقروض ہوتا جا ئے گا، ایسا بیچارہ نہ تو زندہ ہے کہ وہ زندگی سے فائدہ اٹھا سکے اور نہ مردہ ہے کہ نیک اعمال ترک کرنے اور برے اعمال کا ارتکاب کرنے پر اسے ملامت نہ کیا جائے۔
9152
Sahih
۔ (۹۱۵۳)۔ وَعَنْہٗاَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا اَحْسَنُھُمْ خُلُقًا، وَخِیَارُھُمْ خِیَارُھُمْ لِنِسَائِھِمْ ۔)) (مسند احمد: ۷۳۹۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمنوں میں ایمان کے لحاظ سے کامل ترین وہ لوگ ہیں جن کااخلاق اچھا ہو اور ان میں سب سے بہتر وہ ہیں، جو اپنی بیویوں کے لیے بہتر ہیں۔
Takhreej
(۹۱۵۳) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۴۶۸۲ (انظر: ۷۴۰۲)
9153
Sahih
۔ (۹۱۵۴)۔ وَعَنْہٗاَیْضًا، قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ اَکْثَرِ مَا یَلِجُ النَّاسُ بِہٖالنَّارَ؟فَقَالَ: ((اَلْاَجْوَفَان: اَلْفَمُوَالْفَرْجُ۔)) وَسُئِلَعَنْاَکْثَرِمَایَلِجُ بِہٖالنَّاسُالْجَنَّۃَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حُسْنُ الْخُلُقِ۔)) (مسند احمد: ۷۸۹۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کس چیز کی وجہ سے لوگ سب سے زیادہ آگ میں گھسیں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اَجْوَفَانِ، یعنی منہ اور شرمگاہ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا کہ کس عمل کی وجہ سے سب سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حسن اخلاق۔
Takhreej
(۹۱۵۴) تخریج:حدیث حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۴۶، والترمذی: ۲۰۰۴ (انظر: ۷۹۰۷)
9154
Sahih
۔ (۹۱۵۵)۔ وَعَنْہٗاَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ صَالِحَ الْاَخْلَاقِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۳۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک مجھے اس مقصد کے لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اخلاقِ صالحہ کی تکمیل کروں۔
Takhreej
(۹۱۵۵) تخریج:صحیح، أخرجہ البزار: ۲۷۴۰، والبیھقی: ۱۰/ ۱۹۱ (انظر: ۸۹۵۲)
Explanation
فوائد:… ابراہیم علیہ السلام کی شریعت کی وجہ سے عرب سب سے اچھے اخلاق والے تھے، لیکن بعد میں کفر و شرک کی وجہ سے گمراہ ہو گئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کی سابق اخلاقی اقدار کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا۔
9155
Sahih
۔ (۹۱۵۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ،قَالَ: قَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ اَحَبِّکُمْ اِلَیَّ اَحْسَنَکُمْ خُلُقًا۔)) (مسند احمد: ۶۷۶۷م)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے، جو اخلاق میں سب سے اچھا ہے۔
Takhreej
(۹۱۵۶) تخریج:أخرجہ البخاری: ۳۷۵۹، ۶۰۲۹ (انظر: ۶۷۶۷م)
9156
Sahih
۔ (۹۱۵۷)۔ عَنْ عَمْرٍو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗسَمِعَالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلاَ اُخْبِرُکُمْ بِاَحَبِّکُمْ اِلَیَّ وَاَقْرَبِکُمْ مِنِّیْ مَجْلِسًا یَوْمَ الْقَیَامَۃِ؟)) فَسَکَتَ الْقَوْمُ فَاَعَادَھَا مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَـلَاثًا، قَالَ الْقَوْمُ: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَحْسَنُکُمْ خُلُقًا۔)) (مسند احمد: ۶۷۳۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو اس شخص کے بارے میں بتلا دوں جو روزِ قیامت مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ میرے قریب ہو گا؟ لوگ خاموش رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو تین دفعہ اسی بات کو دوہرایا، پھر لوگوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو۔
Takhreej
(۹۱۵۷) تخریج:اسنادہ حسن، أخرجہ البخاری فی الادب المفرد : ۲۷۲ (انظر: ۶۷۳۵)
9157
Sahih
۔ (۹۱۵۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْمُسَلِمَ الْمُسَدِّدَ لَیُدْرِکُ دَرَجَۃَ الصَّوَّامِ الْقَوَّامِ بِآیَاتِ اللّٰہِ، بِحُسْنِ خُلُقِہِ، وَکَرَمِ ضَرِیْبَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۶۶۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک (اعتدال اور دوام کے ساتھ) راہِ صواب پر چلنے والا مسلمان اپنے حسن اخلاق اور طبعی عفو و درگزر کی وجہ سے اس آدمی کا درجہ پا لیتا ہے جو بہت زیادہ روزے رکھنے والا ہو اور اللہ تعالیٰ کی اٰیات کے ساتھ بہت زیادہ قیام کرنے والا ہو۔
Takhreej
(۹۱۵۸) تخریج:صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر و الاوسط (انظر: ۶۶۴۸)
Explanation
فوائد:… حسن اخلاق اور عفو و درگذر میں نفس کو ضبط کرنا پڑتا ہے اور ان اعمال سے دل کو تسکین ملتی ہے، مسلم معاشرے میں بہترین ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے۔
9158
Sahih
۔ (۹۱۵۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الرَّجُلَ لَیُدْرِکُ بِحُسْنِ الْخُلُقِ دَرَجَۃَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ (وَفِی لَفْظٍ) دَرَجَاتِ قَائِمِ اللَّیْلِ صَائِمِ النَّھَارِ ۔)) (مسند احمد: ۲۵۵۲۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی حسن اخلاق کے ذریعے رات کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کا درجہ پا لیتا ہے۔
Takhreej
(۹۱۵۹) تخریج:حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۴۷۹۸ (انظر: ۲۵۰۱۳)
Explanation
فوائد:… جس آدمی نے حسن اخلاق کو اپنا لیا، وہ یہ سمجھتا ہے کہ سب سے آسان عمل حسن اخلاق اور لوگوں کے ساتھ اچھے موڈ میں رہنا ہے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ اہل اسلام کی اکثریت کو سرے سے حسن اخلاق کے تقاضوں کا شعور ہی نہیں ہے۔
9159
Sahih
۔ (۹۱۶۰)۔ عَنْھَا اَیْضًا، قَالَتْ: اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: (وَفِی رِوَایَۃٍ) کَانَِ یَقُوْلُ: ((اَللّٰھُمَّ اَحْسَنْتَ خَلْقِی فاَحْسِنْ خُلُقِی۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۳۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اَحْسَنْتَ خَلْقِی فاَحْسِنْ خُلُقِی۔ اللہ! تو نے میری تخلیق کو خوبصورت بنایا، پس میرے اخلاق کو بھی خوبصورت بنا دے)۔
Takhreej
(۹۱۶۰) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۳۷۴، والبیھقی فی الشعب : ۸۵۴۳ (انظر: ۲۵۲۲۱)
Explanation
فوائد:… جس حدیث میں اس دعا کو آئینہ کے ساتھ خاص کیا گیا ہے، اس کو ابن سنی نے روایت کیا ہے، لیکن وہ روایت ضعیف ہے۔ لہٰذا یہ دعا تو ثابت ہے، لیکن اس کا کسی موقع کے ساتھ خاص کرنا ثابت نہیں ہے، یہ الگ بات ہے کہ اپنی تخلیق کے حسن کو دیکھ کر یہ دعا پڑھ لینی چاہیے۔
9160
Sahih
۔ (۹۱۶۱)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَتَذَاکَرُ مَایَکُوْنُ، اِذْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا سَمِعْتُمْ بِجَبَلٍ زَالَ عَنْ مَکَانِہِ فَصَدِّقُوْا، وَاِذَا سَمِعْتُمْ بِرَجُلٍ تَغَیَّرَ عَنْ خُلُقِہِ فَلا تُصَدِّقُوْا بِہٖ،وَاِنَّہٗیَصِیْرُ اِلٰی مَا جُبِلَ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۴۷)
۔ سیدنا ابو الدرادء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئندہ ہونے والے امور کے بارے میں باتیں کر رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سنو کہ ایک پہاڑ اپنی جگہ سے سرک گیا ہے تو تصدیق کر لو، لیکن جب تم سنو کہ کسی آدمی کا اخلاق تبدیل ہو گیا ہے تو اس بات کی تصدیق نہ کرو، کیونکہ وہ عنقریب اسی اخلاق کی طرف لوٹے گا،جس پر اس کی فطرت بنائی گئی ہے۔
Takhreej
(۹۱۶۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، الزھری لم یدرک ابا الدرداء (انظر: ۲۷۴۹۹)
Explanation
فوائد:… عام طور پر دیکھایہ گیا ہے کہ لوگوں کی عملی اور علمی کی کیفیات بدلتی رہتی ہیں، لیکن ان کے اخلاق اور مزاج تبدیل نہیں ہوتے، کئی افراد کو دیکھا کہ ان کی عبادت کی روٹین بہت اچھی ہوتی ہے، لیکن جب ان کا خلافِ مزاج امور سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ بداخلاق، زبان دراز، سخت گو اور گالی گلوچ کرنے والے ثابت ہوتے ہیں۔
9161
Zaeef
۔ (۹۱۶۲)۔ عَنْ اَبِی ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنّ اَحَبَّکُمْ اِلَیَّ وَاَقْرَبَکُمْ مِنِّیْ فِی الْآخِرَۃِ مَحَاسِنُکُمْ اَخْلَاقًا، وَاِنَّ اَبْغَضَکُمْ اِلَیَّ وَاَبْعَدَکُمْ مِنِّی فِی الْآخِرَۃِ مَسَاوِیْکُمْ اَخْلَاقًا، اَلثَّرْثَارُوْنَ الْمُتَفَیْھِقُوْنَ الْمُتَشَدِّقُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۸۴)
۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے تم میں سے سب سے زیادہ محبوب اور روزِ قیامت میرے سب سے زیادہ قریبی وہ لوگ ہوں گے جو تم میں سے اخلاق کے لحاظ سے بہت عمدہ ہوں اور تم میں سے میرے ہاں سب سے زیادہ نفرت والے اور روزِ قیامت مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو برے اخلاق والے، فضول بولنے والے، تکبر کرنے والے اور گفتگو کے لیے باچھوں کو موڑنے والے ہوں۔
Takhreej
(۹۱۶۲) تخریج:حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۵۱۵، وابن حبان: ۴۸۲، والطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۵۸۸(انظر: ۱۷۷۳۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں حسنِ اخلاق کی ترغیب دی گئی ہے اور غیر ضروری، غیر محتاط اور تصنع و بناوٹ سے گفتگو کرنے اور اس کے ذریعے سے دوسروں پر رعب و برتری جتانے سے اجتناب کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ گویا کم بولنا اور سادگی سے گفتگو کرناپسندیدہ ہے اور اس کے برعکس زیادہ بولنا اور وہ بھی دوسروں پر ہیکٹر جمانے کے لیے گفتگو میں تیزی و طراری اور تصنع اختیار کرنا سخت ناپسندیدہ ہے۔
9162
Sahih
۔ (۹۱۶۳)۔ عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ شَرِیْکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ اَعْرَابِیٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ؟ قَالَ: ((اَحْسَنُھُمْ خُلُقًا۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۴۷)
۔ سیدنا اسامہ بن شریک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ سب سے بہتر ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اخلاق کے لحاظ سے سب سے اچھے ہوں۔
Takhreej
(۹۱۶۳) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۴۷۸(انظر: ۱۸۴۵۶)
9163
Sahih
۔ (۹۱۶۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ فِی مَجْلِسٍ فِیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَاَبِی سَمُرَۃُ جَالِسٌ اَمَامِی۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ لَیْسَا مِنَ الْاِسْلَامِ، وَاِنَّ اَحْسَنَ النَّاسِ اِسْلَامًا، اَحْسَنُھُمْ خُلُقًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۲۰)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، اس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تشریف فرما تھے اور میرے باپ سمرہ میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بدگوئی اور بدزبانی، اسلام سے نہیں ہے اور اسلام کے لحاظ سے سب سے اچھے لوگ وہ ہیں، جن کا اخلاق سب سے اچھا ہے۔
Takhreej
(۹۱۶۴) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۵۱۴، وابویعلی: ۷۴۶۸، والطبرانی: ۲۰۷۲ (انظر: ۲۰۸۳۱)
9164
Sahih
۔ (۹۱۶۵)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((یَا مُعَاذُ! اَتْبِعِ السَّیِّئَۃَ بِالْحَسَنَۃِ تَمْحُھَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۳۷)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے معاذ! برائی کے بعد نیکی کیا کرو، تاکہ وہ اس کو مٹا دے اور لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آؤ۔
Takhreej
(۹۱۶۵) تخریج:حدیث حسن، أخرجہ الترمذی: ۱۹۸۷(انظر: ۲۱۹۸۸)
9165
Sahih
۔ (۹۱۶۶)۔ حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، ثَنَا سَفْیَانُ، عَنْ حَبِیْبٍ، عَنْ مَیْمُوْنِ بْنِ اَبِی شَبِیْبٍ، عَنْ اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((اِتَّقِ اللّٰہَ حَیْثُمَا کُنْتَ، وَاَتْبِعِ السَّیِّئَۃَ الْحَسَنَۃَ تَمْحُھَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ۔)) قَالَ وَکِیْعٌ:، وَقَالَ: سُفْیَانُ مَرَّۃً عَنْ مُعَاذٍ: فَوَجَدْتُ فِی کِتَابِی عَنْ اَبِی ذَرٍّ وَھُوَ السَّمَاعُ الْاَوَّلُ۔ (مسند احمد: ۲۱۶۸۱)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جہاں کہیں بھی ہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور بدی کے بعد نیکی کرو، تاکہ وہ اس کو مٹا دے اور لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔ معاذ راوی نے کہا: میں نے اپنی کتاب میں عَنْ اَبِی ذَرٍّ کے الفاظ پائے اور یہی پہلا سماع تھا۔
Takhreej
(۹۱۶۶) تخریج:حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۱۹۸۷(انظر: ۲۱۳۵۴)
Explanation
فوائد:… برائی کے بعد نیکی کرنے سے برائی کا اثر زائل ہو جاتا ہے اور اس سوچ اور فکر سے آہستہ آہستہ اور بالآخر مزاج میں اتنی ترقی پیدا ہو جاتی ہے کہ بندہ برائیوں سے باز آ جاتا ہے۔
9166
Sahih
۔ (۹۱۶۷)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَفْضَلَ شَیْئٍ فِی الْمِیْزَانِ، (قَالَ ابْنُ اَبِی بُکَیْرٍ: اَثْقَلَ شَیْئٍ فِی الْمِیْزَانِ) یَوْمَ الْقَیَامَۃِ، الْخُلُقُ الْحَسَنُ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۴۴)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت والے دن ترازو میں سب سے زیادہ فضیلت والی اور ایک روایت کے مطابق سب سے زیادہ وزن والی چیز حسن اخلاق ہو گی۔
Takhreej
(۹۱۶۷) تخریج:اسنادہ صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۰۰۲، ۲۰۱۳(انظر: ۲۷۴۹۶)
9167
Sahih
۔ (۹۱۶۸)۔ عَنْ اُمِّ الدَّرْدَائِ، عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَبْلُغُ بِہ:ِ ((مَنْ اُعْطِیَ حَظَّہُ مِنَ الرِّفْقِ، اُعْطِیَ حَظَّہُ مِنَ الْخَیْرِ، وَلَیْسَ شَیْئٌ اَثْقَلَ فِی الْمِیْزَانِ مِنَ الْخُلُقِ الْحَسَنِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۰۴)
۔ سیدہ ام درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کو نرمی کا فراخی کے ساتھ حصہ دیا گیا، اس کو اس کا خیر کا حصہ دے دیا گیا اور کوئی عمل ایسا نہیں ہے، جو ترازو میں حسن اخلاق کی بہ نسبت زیادہ وزنی ہو۔
Takhreej
(۹۱۶۸) تخریج:انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… حسن اخلاق تعلیمات ِ اسلامیہ کے سلسلے کا ایک اہم باب ہے، اس کو اپنانے کے لیے تعلیم، مصلحت اور حکمت کی ضرورت ہے، تمام احادیث کو غور سے پڑھنے کے بعد حسن اخلاق کو سمجھنے اور اس کو اپنانے کی کوشش کریں۔
9168
Sahih