قناعت اور عفت کی ترغیب دلانے کابیان - قناعت اور عفت کی ترغیب دلانے کابیان - اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 13 of اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اس شخص کی طرف نہ دیکھے جو تخلیق میںیا اخلاق میںیا مال میں اس سے بلند رتبہ ہو، بلکہ اس کو دیکھے جو اس سے کم تر ہو۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی طرف دیکھو جو تم سے کم تر ہے اور اس کی طرف نہ دیکھو جو تمہاری بہ نسبت بلند رتبہ ہے، اس سے زیادہ لائق ہو گا کہ تم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو حقیر نہ سمجھو، جو تم پر ہے۔
Takhreej
(۹۲۶۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… جب آدمی دنیوی اعتبار سے اپنے سے کم تر آدمی کو دیکھے گا تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا اور نعمتوںکی قدر کو سمجھنا آسان ہو جائے گا، لیکن اگر اس نے اپنا آئیڈیل اپنے سے بالا تر لوگوں کو بنایا تو وہ اپنی زندگی میں قناعت جیسی نعمت سے محروم ہو جائے گا۔
۔ امام نافع کہتے ہیں: میں تجارت کے لیے شام یا مصر میں جاتا تھا، ایک دفعہ میں عراق کے لیے تیار ہوا اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: اے ام المؤمنین! اس دفعہ میں عراق کے لیے تیار ہوا ہوں، انھوں نے کہا: تیری پہلی تجارت کو کیا ہوا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب ایک چیز کسی کے رزق کا سبب بنا ہوا ہو تو وہ اس کو نہ چھوڑے، یہاں تک کہ وہ چیز خود تبدیل ہو جائے۔ بہرحال میں عراق چلا گیا اور واپس آ کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: اے ام المؤمنین! اللہ کی قسم! (نفع تو کجا) میں تو اصل مال بھی واپس لے کر نہ آ سکا، سیدہ نے اس کو دوبارہ وہی حدیث بیان کی،یا کہا: حدیث تو وہی ہے، جو میں نے تجھے بیان کر دی تھی۔
Takhreej
(۹۲۶۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، والد الضحاک: ھو مخلد بن الضحاک ضعیف لایتابع علی حدیثہ، والزبیر بن عبید فی عداد المجاھیل، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۱۴۸ (انظر: ۲۶۰۹۲)
Explanation
فوائد:… عام طور پر سمجھ دار لوگ یہی نصیحت کرتے ہیں کہ اگر کسی کا کوئی منافع بخش کاروباری سلسلہ چل رہا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو برقرار رکھے، کئی لوگوں کو دیکھا کہ جب وہ زیادہ مال کے حرص میں اپنے کام کو تبدیل کرتے ہیں تو برکت ختم ہو جاتی ہے، ہاں اگر کوئی معقول وجہ ہو تو ایسا کر لینے میں حرج بھی کوئی نہیں ہے۔
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے، جس کو اسلام کی طرف ہدایت دی گئی اور اس کی زندگی بقدر ضرورت روزی پر مشتمل ہو اور وہ قناعت کرے۔
فوائد:… طُوْبٰی کے معانی جنت اور جنت میں ایک درخت کے بھی کیے گئے ہیں۔
مال و دولت اللہ تعالیٰ کی نعمت ِ عظمی ہے، یہ نعمت کئی نیکیاں سرانجام دینے کا سبب بنتی ہے، بہرحال اکثر و بیشتر لوگوں کی حالت کو سامنے رکھا جائے تو کہنا پڑتا ہے کہ اگر بقدر سد رمق روزی اور اس پر قناعت کرنے کی توفیق مل جائے تو اخروی انجام کے لیے وہ بہت بہتر ہے۔
عقلمند مسلمان کو چاہیے کہ وہ فقر و فاقہ کی سختیوں سے بچنے کے لیے اپنے لیے معتدل اور مناسب سا معیارِ زندگی منتخب کر لے اور زائد از ضرورت مال و دولت کے پیچھے مت پڑے، جس کا انجام خوشحالی، آسودہ حالی اور فارغ البالی ہوتا ہے اور کم لوگ ہی ایسی حالت میں ہیں کہ وہ مال و دولت کے جمع کرنے کے انجام بد سے محفوظ رہ سکے ہوں۔ بالخصوص اس پُر فتن اور ذرائع آمدن کی کثرت والے دور میں۔ اللہ تعالیٰ ہم کو اس سے پناہ میں رکھے اور گرز بھر روزی عطا فرمائے۔
مگر افسوس ہے کہ آج کا مسلمان مال و دولت کے انبار کو ہی اپنے کامیابی کا راز سمجھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں قناعت اور شکر و صبر جیسی صفات مفقود ہو چکی ہیں، عام مزدور بھی اپنے رزقِ حلال پر قانع و شاکر نظر آنے کے بجائے راتوں رات کروڑ پتی بننے کے خواب میں مبتلا ہو کر بے چین نظر آتا ہے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی کی کوئی ضرورت تھی، اس کے اہل خانہ نے اس سے کہا: تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرو، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطاب کر رہے تھے اوریہ فرما رہے تھے: جس نے پاکدامنی اختیار کی، اللہ تعالیٰ اسے پاکدامن کر دے گا اور جس نے (لوگوں سے) بے نیاز ہونا چاہا، اللہ اسے بے نیاز کر دے گا اور جس نے ہم سے سوال کیا اور ہمارے پاس کچھ ہوا تو ہم اس کو دے دیں گے۔ یہ حدیث سن کر وہ آدمی چلا گیا اور کوئی سوال نہ کیا۔
فوائد:… عبادات کو مرتّب کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمان کی بسیار کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ خود کمائی کر کے اپنا نظام چلانے کی کوشش کرے اور کسی سے سوال نہ کرے، اگر آمدنی کم ہو تو قناعت اور شکر کے ذریعے اطمینان حاصل کرے اور حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کرے، لیکن شرعی حدود کو پورا کر کے۔