TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ظلم کو معاف کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کابیان - ظلم کو معاف کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کابیان - اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 13 · 8 Hadith
۔ (۹۱۸۳)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثٌ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! اِنْ کُنْتُ لَحَالِفًا عَلَیْھِنَّ، لا یَنْقُصُ مَالٌ مِنْ صَدَقَۃٍ، فَتَصَدَّقُوْا، وَلایَعْفُوْ عَبْدٌ عَنْ مَظْلَمَۃٍیَبْتَغِی بِھَا وَجْہَ اللّٰہِ اِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ بِھَا (وَقَالَ: اَبُوْ سَعِیْدٍ مَوْلیٰ بَنِی ھَاشِمٍ: اِلَّا زَادَہُ اللّٰہُ بِھَا عِزًّا یَوْمَ الْقَیَامَۃِ) وَلَا یَفْتَحُ عَبْدٌ بَابَ مَسْئَلَۃٍ اِلَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہِ بَابَ فَقْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۴)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے! تین چیزیں ہیں، میںیقینا ان پر قسم اٹھاتا ہوں، (۱) صدقہ سے مال میں کمی نہیں ہوتی، پس صدقہ کیا کرو، (۲) جب بندہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کرنے کے لیے کسی ظلم کو معاف کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کو بلند کردیتا ہے، ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کی عزت میں اضافہ کر دے گا اور (۳) جب بندہ سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر فقیری کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
Takhreej
(۹۱۸۳) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ البزار: ۱۰۳۳، وابویعلی: ۸۴۹ (انظر: ۱۶۷۴)
Explanation
فوائد:… صدقہ کرنا اور کسی کا ظلم معاف کر دینا، ان کی وجہ سے جن برکتوں کا حصول ہوتاہے، ان اعمال پر پابندی کرنے والا ہی ان کو محسوس کر سکتا ہے، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو آزمائشوں سے محفوظ رکھتے ہیں، تسکین و سکینت عطا کرتے ہیں اور دل کو سدا بہار رکھتے ہیں۔ اشد ضرورت کے علاوہ لوگوں سے سوال کرنا ناجائز ہے، چاہیےیہ کہ بندہ محنت کرے، کم آمدنی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کے گزارا کرے اور صرف اللہ تعالیٰ سے وسعت ِ رزق کا سوال کرے۔
9183
Sahih
۔ (۹۱۸۴)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا شَتَمَ اَبَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ، فَجَعَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْجَبُ وَیَتَبَسَّمُ فَلَمَّا اَکَثَرَ رَدَّ عَلَیْہِ بَعْضَ قَوْلِہِ، فَغَضِبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَامَ، فَلَحِقَہُ اَبُوْ بَکْرٍ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَانَ یَشْتُمُنِی وَاَنْتَ جَالِسٌ فَلَمَّا رَدَدْتُّ عَلَیْہِ بَعْضَ قَوْلِہِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ قَالَ: ((اِنَّہٗکَانَمَعَکَمَلَکٌیَرُدُّ عَنْکَ، فَلَمَّا رَدَدْتَّ عَلَیْہِ بَعْضَ قَوْلِہِ وَقَعَ الشَّیْطَانُ، فَلَمْ اَکُنْ لِاَقْعُدَ مَعَ الشَّیْطَانِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((یَا اَبَا بَکْرٍ ثَلَاثٌ کُلُّھُنَّ حَقٌّ: مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ بِمَظْلِمَۃٍ فَیُغْضِی عَنْھَا لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اِلَّا اَعَزَّ اللّٰہُ بِھَا نَصْرَہُ، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِیَّۃٍیُّرِیْدُ بِھَا صِلَۃً اِلَّا زَادَہُ اللّٰہُ بِھَا کَثْرَۃً، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ المَسْاَلَۃِیُرِیْدُ بِھَا کَثْرَۃً، اِلَّا زَادَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِھَا قِلَّۃً۔)) (مسند احمد: ۹۶۲۲)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو برا بھلا کہنے لگا، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پاس تشریف فرماتھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تعجب کررہے تھے اور ہنس رہے تھے۔ جب اُس شخص نے زیادہ گالیاں دیں تو ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بعض گالیوں کا جواب دیا۔لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ناراض ہو گئے اور چلے گئے۔ ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جاملے اور کہا: اے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! وہ مجھ پر سب و شتم کرتا رہا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھے رہے، جب میں نے اس کی بعض گالیوں کا جواب دیا تو آپ غصے میں آگئے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دراصل تیرے ساتھ ایک فرشتہ تھا، جو تیری طرف سے جواب دے رہا تھا، لیکن جب تم نے خود جوابی کاروائی شروع کی تو شیطان آ گھسا، اب میں شیطان کے ساتھ تو نہیں بیٹھ سکتا۔ پھر آپ نے فرمایا: ابو بکر! تین چیزیں برحق ہیں: (۱)جس آدمی پر ظلم کیا جائے اور وہ آگے سے چشم پوشی کر جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی زبردست مدد کرتے ہیں، (۲) جو آدمی تعلقات جوڑنے کے لیے عطیے دینا شروع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو کثرت سے عطا کرتے ہیں اور (۳) جو آدمی اپنے مال کو بڑھانے کے لیے (لوگوں سے) سوال کرنا شروع کرتاہے، اللہ تعالیٰ (اس کے مال کی) کمی میں اضافہ کرتے ہیں۔
Takhreej
(۹۱۸۴) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۴۸۹۷ (انظر: ۹۶۲۴)
Explanation
فوائد:… اگر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ذاتی انتقام لینے کی اجازت نہیں دی گئی اور اگر خلیفۂ اول کی جوابی کاروائی کی وجہ سے فرشتہ چلا جائے اور شیطان آ گھسے تو ہم جیسوں کے لیے بدلہ لینا کیسا ہو گا، جبکہ صورتِ حال یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنی ذات پر کیے گئے اعتراض کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
9184
Sahih
۔ (۹۱۸۵)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَقِیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخَذْتُ بِیِدِہِ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِی بِفَوَاضِلِ الْاَعْمَالِ، فَقَالَ: ((یَا عُقْبَۃُ ! صِلْ مَنْ قَطَعَکَ وَاَعْطِ مَنْ حَرَمَکَ وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۶۷)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ملا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ پکڑ کر کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے فضیلت والے اعمال کے بارے میں بتلائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عقبہ! تو اس سے تعلق جوڑ، جو تجھ سے تعلق ختم کرے، اس کو دے، جو تجھے محروم کرے اور اس کو معاف کر دے، جو تجھ پر ظلم کرے۔
Takhreej
(۹۱۸۵) تخریج: حدیث حسن انظر: ۱۷۳۳۴)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیے گئے سوال اور پھر اس کے جواب پر غور کریں۔
9185
Sahih
۔ (۹۱۸۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ یُجْرَحُ فِی جَسَدِہِ جِرَاحَۃً، فَیَتَصَدَّقُ بِھَا اِلَّا کَفَّرَ اللّٰہُ عَنْہُ مِثْلَ مَا تَصَدَّقَ بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۳۰۷۷)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو اس کے جسم میں زخم لگایا جائے اور وہ اس کو معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کی معافی کے مطابق اس چیز کو اس کے لیے کفارہ بنائے گا۔
Takhreej
(۹۱۸۶) تخریج: صحیح بشواھدہ، أخرجہ الطیالسی: ۵۸۷، والبیھقی: ۸/ ۵۶ (انظر: ۲۲۷۰۱)
9186
Sahih
۔ (۹۱۸۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِسْمَحْ یُسْمَحْ لَکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: درگزر کر، تاکہ تجھ سے بھی درگزر کی جائے۔
Takhreej
(۹۱۸۶) تخریج: صحیح بشواھدہ، أخرجہ الطیالسی: ۵۸۷، والبیھقی: ۸/ ۵۶ (انظر: ۲۲۷۰۱)
Explanation
فوائد:… معاف کرنا ایسا زیور ہے کہ اس سے متصف شخص لوگوں میں ہر دلعزیز اور مقبول اور اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوب ہو جاتا ہے، یہ صفت صبر وحلم، تحمل و برداشت اور عفوو درگزر کو جنم دیتی ہے کہ جن کی بنا پر دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں، معاف کرنا حکیم اور دانا لوگوں کی صفت ہے، وہ اس کی روشنی میں ہر انسان سے پیش آتے ہیں۔
9187
Sahih
۔ (۹۱۸۸)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ قَوْمًا کَانَوْا اَھْلَ ضَعْفٍ وَمَسْکَنَۃٍ، قَاتَلَھُمْ اَھْلُ تَجَبُّرٍ وَعَدَدٍ، فَاَظْہَرَ اللّٰہُ اَھْلَ الضَّعْفِ عَلَیْھِمْ، فَعَمَدُوْا اِلیٰ عَدُوِّھِمْ فَاسْتَعْمَلُوْھُمْ وَسَلَّطُوْھُمْ، فَاَسْخَطُوْا اللّٰہَ عَلَیْھِمْ اِلیٰیَوْمِیَلْقَوْنَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۵۵)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک قوم، کمزور اور مسکین تھی، تکبر اور تعداد والے لوگوں نے ان سے لڑائی کی، پھر جب اللہ تعالیٰ نے کمزوروں کو اُن پر غالب کیا تو انھوں نے اپنے دشمن کا قصد کیا اور ان کو غلام بنا لیا اور ان پر مسلط ہو گئے اور اس طرح روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کو ملنے تک انہوں نے اپنے اوپر اس کو ناراض کر دیا۔
Takhreej
(۹۱۸۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، الاجلح الکندی ضعیف، وقیس بن ابی مسلم فی عداد المجھولین، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۳۹ (انظر: ۲۳۴۶۳)
Explanation
فوائد:… جب کمزور لوگوں کو اقتدار مل جائے، تو وہ انتقامی کاروائی شروع نہ کر دیں، بلکہ شریعت کی روشنی میں اپنا اقتدار برقرار رکھیں۔
9188
Zaeef
۔ (۹۱۸۹)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اَقَال عَثْرَۃً اَقَالَہُ اللّٰہُ یَومَ الْقَیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۴۲۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کی غلطی کو معاف کر دیا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اُس کی (لغزشوں اور غلطیوں) کو معاف کر دے گا۔
Takhreej
(۹۱۸۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ بنحوہ ابوداود: ۳۴۶۰، وابن ماجہ: ۲۱۹۹ (انظر: ۷۴۳۱)
9189
Sahih
۔ (۹۱۹۰)۔ عَنْہُ اَیْضًا، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِنْ مَالٍ، وَلَا عَفَا رَجُلٌ عَنْ مَظْلِمَۃٍ اِلَّا زَادَہُ اللّٰہُ عِزًّا، وَلَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ اِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۷۲۰۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صدقہ سے مال میں کمی نہیں آتی، جو آدمی ظلم کو معاف کر دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرتاہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو بلند کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۹۱۹۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۸۸ (انظر: ۷۲۰۶)
Explanation
فوائد:… صدقہ سے مال میںکمی نہیںآتی۔ اس کی صورت ہے کہ رزق میںبرکت ہو جاتی ہے اور اس میںکمی کا باعث بننے والے امور دور ہو جاتے ہیں، اس طرح مخفی برکت کے ذریعے ظاہری طور پر ہونے والی کمی پوری ہو جاتی ہے، یا صدقہ کی وجہ سے اتنا اجر و ثواب ملتا ہے کہ ہونے والی کمی کو کمی ہی نہیں کہا جا سکتا۔
9190
Sahih