TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

غصے کو ختم کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیان کیے گئے طریقے کا بیان - غصے کو ختم کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیان کیے گئے طریقے کا بیان - اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 13 · 3 Hadith
۔ (۹۱۸۰)۔ حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: ثَنَا وَاِئلٌ صَنْعَانِیٌّ مُرَادِیٌّ، قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ عُرْوَۃَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: اِذْ دَخَلَ عَلَیْہِ رَجُلٌ فَکَلَّمَہُ بِکَلَامٍ اَغْضَبَہُ، قَالَ: فَلَمَّا اَنْ غَضِبَ قَامَ ثُمَّ عَادَ اِلَیْنَا وَقَدْ تَوَضَّاَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِی اَبِیْ، عَنْ جَدِّی عَطِیَّۃَ، وَقَدْ کَانَتْ لَہٗصُحْبَۃٌ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّیْطَانِ، وَاِنَّ الشَّیْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ، وَاِنَّمَا تُطْفَاُ النَّارُ بِالْمَائِ، فَاِذَا غَضِبَ اَحَدُکُمْ فَلْیَتَّوَضَّاْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۴۸)
۔ سیدنا عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جن کو صحبت کا شرف حاصل تھا، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک غضب شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی کے ذریعے بجھایا جاتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی غصے میں آ جائے تو وہ وضو کیا کرے۔
Takhreej
(۹۱۸۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابووائل الصنعانی المرادی ضعیف، وابو عروۃ مجھول، أخرجہ ابوداود: ۴۷۸۴ (انظر: ۱۷۹۸۵)
Explanation
فوائد:… یہ بات احادیث سے ثابت ہے کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔
9180
Zaeef
۔ (۹۱۸۱)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اِسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَغَضِبَ اَحَدُھُمَا حَتّٰی اِنَّہٗلَیُتْخَیَّلُ اِلَیَّ اَنَّ اَنَفَہُ لَیَتَمَزَّعُ مِنَ الْغَضَبِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّی لَاَعْلَمُ کَلِمَۃً لَوْ یَقُوْلُھَا ھٰذَا الغَضْبَانُ لَذَھَبَ عَنْہُ الْغَضَبُ، اَللّٰھُمْ اِنَّی اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۳۶)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں دو آدمی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے اور ان میں سے ایک اس قدر طیش میں آیا کہ یہ خیال ہونے لگا کہ غصے کی وجہ سے اس ناک پھٹ جائے گی، اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ غصے والا آدمی اس کو کہے تو اس کا غصہ ختم ہو جائے گا، وہ کلمہ یہ ہے: اَللّٰھُمْ اِنَّی اَعَوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ (اے اللہ! میں شیطان مردود سے تیری پناہ میں آتا ہوں)۔
Takhreej
(۹۱۸۱) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۴۷۸۰ (انظر: ۲۲۰۸۶)
9181
Sahih
۔ (۹۱۸۲)۔ عَنْ اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَنَا: ((اِذَا غَضِبَ اَحَدُکُمْ وَھُوَ قَائِمٌ فَلْیَجْلِسْ، فَاِنْ ذَھَبَ عَنْہُ الْغَضَبُ، وَاِلَّا فَلْیَضْطَجِعْ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۷۵)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا: جب تم میں سے کسی کو غصہ آ جائے اور وہ کھڑا ہو تو وہ بیٹھ جائے، اگر غصہ ختم ہو جائے تو ٹھیک، وگرنہ لیٹ جائے۔
Takhreej
(۹۱۸۲) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۴۷۸۲(انظر: ۲۱۳۴۸)
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں غصے کا علاج بتایا گیا ہے کہ آدمی شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے اور اگر کھڑا ہے تو بیٹھ جائے اور اگر بیٹھا ہے تو لیٹ جائے۔
9182
Sahih