TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 10311 - آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان - کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 5 in this chapter
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
۔ (۱۰۳۱۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُیَوْمٍ طَلَعَتْ فِیْہِ الشَّمْسُ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ، فِیْہِ خُلِقَ آدَمُ وَفِیْہِ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ، وَفِیْہِ اُخْرِجَ مِنْھَا، (زَادَ فِیْ اُخْرٰی) وَاَھْبَطَ اللّٰہُ فِیْہِ آدَمَ اِلَی الْاَرْضِ، وَ فِیْہِ تَوَفَّیَ اللّٰہُ آدَمَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۵۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے، وہ جمعہ کا دن ہے ، اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی میں ان کو جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن میں ان کو اس سے نکالا گیا، ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ نے اسی دن آدم علیہ السلام کو زمین کی طرف اتارا اور اس دن کو ان کو وفات دی۔
10311
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۳۱۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸۵۴(انظر: ۱۰۶۴۵)

Related Chapters

951
1
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
Musnad Ahmad
2
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
3
باب: تقدیر کے مسئلہ میں آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مناظرہ کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About The Descent of 'Eisa Bin Mariam(Peace Be Upon Him)
باب: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نزول کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Jibril Describing Iman and Islam to the Prophet (SAW)
باب: جبرائیل علیہ السلام کا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ایمان و اسلام کے اوصاف بیان کرنا
Jam e Tirmazi
6
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کی ابتداء بیان
Jam e Tirmazi
7
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل اور آپ کے خصائص و امتیازات
Jam e Tirmazi
8
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
9
اس امر کا بیان کہ طواف کرنے والاآدمی حطیم کے باہر سے طواف کرے، تاکہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق پورے بیت اللہ کا طواف ہوسکے
Musnad Ahmad
10
خضر علیہ السلام کا موسی علیہ السلام کے ساتھ قصہ
Musnad Ahmad
11
ارواح، آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی تخلیق کا بیان
Musnad Ahmad
12
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کابیان کہ پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں
Musnad Ahmad
13
آدم علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے جھگڑے کا بیان
Musnad Ahmad
14
آدم علیہ السلام کے بیٹوں قابیل اور ہابیل وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
15
آدم علیہ السلام کی وفات، غسل، تکفین، نماز جنازہ اور تدفین کا بیان
Musnad Ahmad
16
اللہ کے نبی ادریس علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} کا بیان
Musnad Ahmad
17
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
Musnad Ahmad
18
نوح علیہ السلام کی اولاد اور وفات کے وقت ان کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیت کا بیان
Musnad Ahmad
19
ہود علیہ السلام کا بیان
Musnad Ahmad
20
اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر
Musnad Ahmad
21
ابراہیم خلیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
22
ابراہیم علیہ السلام کا شام کے شہروں کی طرف ہجرت کرنے، راستے میں مصر کے شہروں میں داخل ہونے اور سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کا مصر کے بادشاہ کے ساتھ قصے کا بیان
Musnad Ahmad
23
ابراہیم علیہ السلام کا حلیہ مبارک، اسحاق کی پیدائش، سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی اور پھر ابراہیم علیہ السلام کی وفات کا بیان
Musnad Ahmad
24
اللہ کے نبی لوط علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ}کا بیان
Musnad Ahmad
25
اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
26
اللہ کے نبی اسحاق علیہ السلام اور پھر یعقوب علیہ السلام کے ذکر کا بیان
Musnad Ahmad
27
یوسف علیہ السلام کا ذکر
Musnad Ahmad
28
اللہ کے نبی ایوب علیہ السلام کا ذکر
Musnad Ahmad
29
اللہ کے نبییونس علیہ السلام کا ذکر
Musnad Ahmad
30
مچھلی والے یعنییونس علیہ السلام کی دعا اور ان کے حج کا ذکر
Musnad Ahmad
31
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی فضیلت اور بیچ میں ہمارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
32
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی تخلیقی صفات اور ان کے حج اور روزے کا بیان
Musnad Ahmad
33
موسی علیہ السلام کا پتھر کے ساتھ واقعہ
Musnad Ahmad
34
فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت اور جبریل علیہ السلام کا اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنے کا بیان
Musnad Ahmad
35
موسی علیہ السلام کا بنی اسرئیل کے ساتھ قصہ جب انھوں نے کہا: اے موسی ہمارا بھی ایک معبود بنا دے، جیسے ان کے معبود ہیں
Musnad Ahmad
36
کلیم اللہ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت شروع کر دینا اور اس چیز کو دیکھ کر موسی علیہ السلام کا تورات کی تختیوں کو پھینک دینا اور ان کا ٹوٹ جانا
Musnad Ahmad
37
موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام کے ساتھ واقعہ
Musnad Ahmad
38
قارون کا دھنسنا اور موسی علیہ السلام کا اس کے ساتھ قصہ
Musnad Ahmad
39
موسی علیہ السلام کا ملک الموت کے ساتھ قصہ، نیز ان کی وفات اور قبر کا بیان
Musnad Ahmad
40
نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
41
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
Musnad Ahmad
42
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
Musnad Ahmad
43
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
Musnad Ahmad
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
Musnad Ahmad
45
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیّدنا حمزہ بن عبدالمطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کا واقعہ اور ان کے قاتل اور قتل کے سبب کا بیان
Musnad Ahmad
46
لڑائی کی تدبیروں، ابتدائی طور پر مسلمانوں کی شکست کے سبب اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اکابر صحابہ اور آلِ بیت کی ثابت قدمی کا بیان
Musnad Ahmad
47
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے جبریل علیہ السلام کو دیکھنے، اُن کا اِن کوسلام کہنے اور ان کے دیگر فضائل کا بیان
Musnad Ahmad
48
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنت میں سیدناعمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے جو کچھ دیکھا، اس کا اور ان کی غیرت کا بیان
Musnad Ahmad
49
فصل چہارم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔
Musnad Ahmad
50
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

28
Musnad Ahmad
2697
۔ (۲۶۹۷) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: خَرَجْتُ اِلَی الطُّوْرِ فَلَقِیْتُ کَعْبَ الْأَخْبَارِ فَجَلَسْتُ مَعَہُ فَحَدَّثَنِی عَنِ التَّوْرَاۃِ وَحَدَّثْتُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَ فِیْمَا حَدَّثْتُہُ أَنْ قُلْتُ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَیْرُ یَوْمٍ طَلعَتْ فِیْہِ الشَّمْسُ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ، فِیْہِ خُلِقَ آدَمُ وَفِیْہِ أُھْبِطَ وَفِیْہِ تِیْبَ عَلَیْہِ وَفِیْہِ مَاتَ وَفِیْہِ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ، وَمَا مِنْ دَابَّۃٍ اِلَّا وَھِیَ مُسِیْخَۃٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ مِنْ حِیْنَ تُصْبِحُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَۃِ اِلَّا الْجِنَّ وَالْاِنْسَ وَفِیْہِ سَاعَۃٌ لَا یُصَادِفُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَھُوَ یُصَلِّیْ یَسْأَلُ اللّٰہَ شَیْئًا اِلَّا أَعْطَاہُ اِیَّاہُ۔)) قَالَ کَعْبٌ: ذٰلِکَ فِی کُلِّ سَنَۃٍ مَرَّۃً، فَقُلْتُ: بَلْ فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ، فَقَرَأَ کَعْبٌ التَّوْرَاۃَ، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ أَبُو ھُرَیْرَۃَ: ثُمَّ لَقِیْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُہُ بِمَجْلِسِی مَعَ کَعْبٍ وَمَا حَدَّثْتُہُ فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، فَقُلْتُ لَہُ: قَالَ کَعْبٌ: ذٰلِکَ فِی کُلِّ سَنَۃٍ یَوْمٌ، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ: کَذَبَ کَعْبٌ، ثُمَّ قَرَأَ کَعْبٌ التَّوْرَاۃَ، فَقَالَ: بَلْ ھِیَ فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ: صَدَقَ کَعْبٌ۔ (مسند احمد: ۱۰۳۰۸)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں پہاڑ کی طرف نکلا اور کعب احبار سے ملاقات ہوئی، میں ان کے ساتھ بیٹھا، انھوں نے مجھے تورات کی باتیں بیان کیں اور میں نے ان کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی احادیث بیان کیں، میں نے ان کو یہ بھی کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین دن کہ جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، وہ جمعہ کا دن ہے، اس میں آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی میں (زمین پر) اتارے گئے، اسی دن ان کی توبہ قبول ہوئی اور وہ اسی دن فوت ہوئے اور اسی میں قیامت قائم ہوگئی، اِس دن کو صبح سے طلوع آفتاب تک ہر جانور قیامت کے ڈر سے کان لگائے ہوئے ہوتا ہے، جن وانس کے علاوہ۔ اس دن میںایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان اس میں اللہ تعالیٰ سے جو دعا کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتاہے۔ کعب نے کہا: یہ گھڑی سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا: یہ تو ہر جمعہ کو ہوتی ہے۔ پھر کعب نے تورات پڑھی اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سچ فرمایا ہے (یہ واقعی ہر جمعہ کو ہوتی ہے)۔ سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:پھر میری ملاقات سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہوئی، میں نے ان کو کعب کے ساتھ اپنی مجلس اور اس میں ہونے والی جمعہ کے دن کے بارے میں گفتگو بیان کی اور کہا کہ کعب نے کہا یہ گھڑی سال میں ایک مرتبہ ہے۔ یہ سن کر سیّدنا عبد اللہ بن سلام نے کہا کہ کعب نے غلط بات کی ہے۔ میںنے کہا: جی پھر اس نے تورات پڑھی اور کہا کہ واقعی یہ ہر جمعہ کو ہوتی ہے۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: کعب نے سچ کہا۔
Musnad Ahmad
2708
۔ (۲۷۰۸) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَدِمْتُ الشَّامَ فَلَقِیْتُ کَعْبًا فَکَانَ یُحَدِّثُنِی عَنِ التَّوْرَاۃِ وَأُحَدِّثُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی أَتَیْنَا عَلٰی ذِکْرِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، فَحَدَّثْتُہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ فِی الْجُمُعَۃِ سَاعَۃً لَا یُوَافِقُہَا مُسْلِمٌ یَسْأَلُ اللّٰہَ فِیْہَا خَیْرًا اِلَّا أَعْطَاہُ اِیَّاہُ۔)) فَقَالَ کَعْبٌ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ، ھِیَ فِی کُلِّ سَنَۃٍ مَرَّۃً، قُلْتُ لَا، فَنَظَرَ کَعْبٌ سَاعَۃً ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ ھِیَ فِی کُلِّ شَہْرٍ مَرَّۃً، قُلْتُ: لَا، فَنَظَرَ سَاعَۃً فَقَالَ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ مَرَّۃً، قُلْتُ: نَعَمْ فَقَالَ کَعْبٌ: أَتَدْرِی أَیَّ یَوْمٍ ھُوَ؟ قُلْتُ: وَأَیُّ یَوْمٍ ھُوَ؟ قَالَ: فِیْہِ خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ، وَفِیْہِ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ وَالْخَلَائِقُ فِیْہِ مُصِیْخَۃٌ اِلَّا الثَّقَلَیْنِ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ خَشْیَۃَ الْقِیَامَۃِ، فَقَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ سَلَامٍ بِقَوْلِ کَعْبٍ، فَقَالَ: کَذَبَ کَعْبٌ، قُلْتُ: اِنَّہُ قَدْ رَجَعَ اِلٰی قَوْلِی، فَقَالَ: أَتَدْرِی أَیَّ سَاعَۃٍ ھِیَ؟ قُلْتُ: لَا وَتَہَالَکْتُ عَلَیْہِ أَخْبِرْنِی أَخْبِرْنِی، فَقَالَ: ھِیَ فِیْمَا بَیْنَ الْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ، قُلْتُ: کَیْفَ وَلَا صَلَاۃَ؟ قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَزَالُ الْعَبْدُ فِی صَلَاۃٍ مَا کَانَ فِی مُصَلَّاہُ یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۲۰۱)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں شام آیا اور کعب احبارکو ملا، وہ مجھے تورات سے بیان کرتے رہے اور میں انہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی احادیث سناتا رہا، یہاں تک کہ جمعہ کے دن کا تذکرہ ہونے لگا، میں نے اسے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بھی اس میں اللہ تعالیٰ سے جو سوال کرتا ہے، وہ اسے دے دیتا ہے۔ کعب نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ ہر سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا: نہیں۔ کعب نے کچھ دیر غور کرنے کے بعد کہا: جی، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ ہر مہینہ میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا: نہیں،یہ سن کر کعب نے پھر غور کیا اور کہا: جی، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ ہر جمعہ میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا:جی ہاں۔ کعب نے کہا: کیا آپ کو پتہ ہے یہ کون سا دن ہے؟ میں نے کہا: یہ کون سا دن ہے؟ انھوں نے کہا: یہ وہ دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور اسی دن قیامت برپا ہوگی، یہی وجہ ہے کہ جن و انس کے علاوہ تمام مخلوقات اس (دن کو) قیامت کے خوف سے کان لگائے ہوتی ہیں۔پھر میں مدینہ منورہ آیا اور سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کعب کی بات بتائی، انھوں نے کہا: کعب نے غلط کہا۔میں نے کہا: جی وہ میری بات کے قائل ہو گئے تھے (کہ یہ گھڑی ہر جمعہ کو ہوتی ہے)۔ (پھر عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے)کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ گھڑی کون سی ہے؟میں نے کہا: جی نہیں، پھر تو میں (اصرار کرتے ہوئے) ان پر ٹوٹ پڑا اور کہا کہ مجھے بتلاؤ، بتلاؤ۔ پس انھوں نے کہا: یہ گھڑی عصر اور مغرب کے درمیان ہوتی ہے۔ میں نے کہا: یہ کیسے ہوتی ہے، جبکہ اس وقت میں تو کوئی نماز ہی نہیں ہوتی؟انھوں نے کہا: کیا تو نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ: بندہ اس وقت تک نماز میں ہی رہتا ہے، جب تک اپنی جائے نماز میں (بیٹھ کر) نما زکا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔
Musnad Ahmad
2710
۔ (۲۷۱۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَیَّۃَ سَاعَۃٍ ھِیَ، قَالَ أَبُو ھُرَیْرَۃَ: فَقُلْتُ لَہُ: فَأَخْبِرْنِی وَلَا تَضِنَّ عَلَیَّ، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: ھِیَ آخِرُ سَاعَۃٍ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، قَالَ أَبُو ھُرَیْرَۃَ: کَیْفَ تَکُوْنُ آخِرَ سَاعَۃٍ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یُصَادِفُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ یُصَلِّی)) وَتِلْکَ سَاعَۃٌ لَا یُصَلّٰی فِیْہَا؟ قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ یَقُلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا یَنْتَظِرُ فِیْہِ الصَّلَاۃً فَھُوَ فِی الصَّلَاۃِ حَتّٰی یُصَلِّیَ)) فَقُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: فَھُوَ ذَاکَ ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۹۴)
(تیسری سند)سیّدنا عبد اللہ بن سلام نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ یہ گھڑی کس وقت ہے۔ سیّدنا ابوہریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے کہا کہ بخل نہ کرو اور مجھے بتلا دو۔ چنانچہ انھوں نے کہا: یہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے۔ سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا؛ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ جمعہ کی آخری گھڑی ہو، جب کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان بھی نماز پڑھتے ہوئے اس گھڑی کی موافقت کرتا ہے اور یہ گھڑی تو ایسی ہے کہ اس میں کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی؟ سیّدناعبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ: جو بندہ کسی مقام میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے، یہاں تک وہ نماز پڑھ لے ۔میں نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو پھر وہ یہی ہے۔
Musnad Ahmad
8824
۔ (۸۸۲۴)۔ (وَبِالسَّنَدِ الْمُتَقَدِّمِ)۔ عَنْ یُوْنُسَ قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارًا مَوْلٰی بَنِیْ ھَاشِمٍ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّہٗقَالَفِیْ ھٰذِہِ الْآیَۃِ: {وَشَاھِدٍ وَّ مَشْہُوْدٍ} قَالَ: الشَّاھِدُ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ، وَالْمَشْہُوْدُ یَوْمُ عَرَفَۃَ، وَالْمَوْعُوْدُ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ۔ (مسند احمد: ۷۹۶۰)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: {وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْ دِ۔ وَشَاھِدٍ وَّ مَشْہُوْدٍ۔} میں شاہد سے مراد جمعہ کا دن، مشہود سے مراد عرفہ کا دن اور موعود نے مراد قیامت کا دن ہے۔
Musnad Ahmad
10299
۔ (۱۰۲۹۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ بَعْدَ الْعَصْرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، آخِرَ الْخَلْقِ فِیْ آخِرِ سَاعَۃٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَۃِ فِیْمَا بَیْنَ الْعَصْرِ اِلَی اللِّیْلِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۲۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جمعہ کے روز عصر کے بعد پیدا کیا،یہ آخری مخلوق تھی، جس کو جمعہ کی گھڑیوں میں سے آخری گھڑی میں پیدا کیا گیا اور آخری گھڑی عصر سے رات تک ہوتی ہے۔
Musnad Ahmad
12885
۔ (۱۲۸۸۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَتَقَارَبَ الزَّمَانُ فَتَکُوْنُ السَّنَۃُ کَالشَّہْرِ، وَیَکُوْنُ الشَّہْرُ کَالْجُمُعَۃِ، وَتَکُوْنُ الْجُمُعَۃُ کَالْیَوْمِ، وَیَکُوْنُ الْیَوْمُ کَالسَّاعَۃِ، وَتَکُوْنُ السَّاعَۃُ کَاِحْتِرَاقِ السَّعَفَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۵۶)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ زمانہ اس قدرمختصر نہیں ہوجائے گا کہ ایک سال ایک مہینے کے برابر، ایک مہینہ ایک ہفتے کے برابر، ایک ہفتہ ایک دن کے برابر،ایک دن ایک گھڑی کے برابراور ایک گھڑی اس لمحے کے برابر ہو جائے گی، جس میں کھجور کا خشک پتہ جل جاتا ہے۔
Musnad Ahmad
13013
۔ (۱۳۰۱۳)۔ وَعَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِی خَفَقَۃٍ مِنَ الدِّیْنِ وَاِدْبَارٍ مِنَ الْعِلْمِ، فَلَہُ اَرْبَعُوْنَ لَیْلَۃًیَسِیْحُہَا فِی الْاَرْضِ، اَلْیُوْمُ مِنْہَا کَالسَّنَۃِ، وَالْیَوْمُ مِنْہَا کَالشَّہْرِ، وَالْیَوُمْ مِنْہَا کَالْجُمُعَۃِ، ثُمَّ سَائِرُ اَیَّامِہِ کَاَیَّامِکُمْ ہٰذِہِ، وَلَہُ حِمَارٌ یَرْکَبُہُ، عَرْضُ مَا بَیْنَ اُذُنَیْہِ اَرْبَعُوْنَ ذِرَاعًا، فَیَقُوْلُ لِلنَّاسِ: اَنَا رَبُّکُمْ وَھُوَ اَعْوَرُ وَاِنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ بِاَعْوَرَ، مَکْتُوْبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ کَافِرٌ ک ف ر مُہَجَّأَۃٌیَقْرَؤُہُ کُلُّ مُوْمِنٍ کَاتِبٌ وَغَیْرُ کَاتِبٍ، یَرِدُ کُلَّ مَائٍ وَمَنْہَلٍ اِلَّا الْمَدِیْنَۃَ وَمَکَّۃَ، حَرَّمَہُمَا اللّٰہُ عَلَیْہِ وَقَامَتِ الْمَلَائِکَۃُ بِاَبْوَابِہَا وَمَعَہُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ وَالنَّاسُ فِیْ جَہْدٍ اِلَّا مَنْ تَبِعَہُ، وَمَعَہُ نَہْرَانِ اَنَا اَعْلَمُ بِہِمَا مِنْہُ، نَہْرٌ یَقُوْلُ الْجَنَّۃُ وَنَہْرٌ یَقُوْلُ النَّارُ، فَمَنْ اَدْخَلَ الَّذِیْیُسَمِّیْہِ الْجَنَّۃَ فَہُوَ النَّارُ، وَمَنْ اَدْخَلَ الَّذِیْیُسَمِّیْہِ النَّارَ فَہُوُ الْجَنَّۃُ قَالَ: وَیَبَعَثُ اللّٰہُ مَعَہُ شَیَاطِیْنَ تُکَلِّمُ النَّاسَ وَمَعَہُ فِتْنَۃٌ عَظِیْمَۃٌیَاْمُرُالسَّمَائَ فَتُمْطِرُ فِیْمَایَرَی النَّاسُ وَیَقْتُلُ نَفْسًا ثُمَّ یُحْیِیْہَا فِیْمَایَرٰی النَّاسَ لاَ یُسَلَّطُ عَلٰی غَیْرِھَا مِنَ النَّاسِ وَیَقُوْلُ: اَیُّہَاالنَّاسُ ھَلْ یَفْعَلُ مِثْلَ ہٰذَا اِلَّا الرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: فَیَفِرُّ الْمُسْلِمُوْنَ اِلٰی جَبَل الدُّخَانِ بِالشَّامِ فَیَاْتِیْہِمْ فَیُحَاصِرُھُمْ فَیَشْتَدُّ حِصَارَھُمْ وَیُجْہِدُھُمْ جَہْدًا شَدِیْدًا ثُمَّ یَنْزِلُ عِیْسٰی بْنُ مَرْیَمَ علیہ السلام فَیُنَادِیْ مِنَ السَّحَرِ، فَیَقُوْلُ: یَا اَیُّہَا النَّاسُ! مَا یَمْنَعُکُمْ اَنْ تَخْرُجُوْا اِلَی الْکَذَّابِ الْخَبِیْثِ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: ہٰذَا رَجُلٌ جِنِّیٌّ، فَیَنْطَلِقُوْنَ فَاِذَا ھُمْ بِعِیْسٰی بْنِ مَرْیَمَ علیہ السلام فَتُقَامُ الصَّلاَۃُ، فَیُقَالُ لَہُ: تَقَدَّمْ یَا رُوْحَ اللّٰہِ! فَیَقُوْلُ: لِیَتَقَدَّمْ اِمَامُکُمْ فَلْیُصَلِّ بِکُمْ، فَاِذَا صَلّٰی صَلَاۃَ الصُّبْحِ خَرَجُوْا اِلَیْہِ قَالَ: فَحِیْنَیَرٰی الْکَذَّابُ، یَنْمَاثُ کَمَا یَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِی الْمَائِ، فَتَمْشِیْ اِلَیْہِ فَیَقْتُلُہُ، حَتّٰی اِنَّ الشَّجَرَۃَ وَالْحَجَرَ یُنَادِیْ: یَا رُوْحَ اللّٰہِ! ھٰذَا یَہُوْدِیٌّ فَلَایَتْرُکُ مِمَّنْ کَانَ یَتَّبِعُہُ اَحَدًا اِلَّا قَتَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۱۷)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال کا ظہور اس وقت ہوگا جب دینی حالت کمزور ہو گی اور علم اٹھ چکا ہوگا، وہ زمین میں چالیس دن گھومے گا، ان میں سے ایک دن ایک سال کے برابر، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن ایک ہفتے کے برابر اور باقی دن عام دنوں کی طرح ہوں گے، وہ ایک ایسے گدھے پر سوار ہو گاکہ جس کے دو کانوں کے درمیان چالیس ہاتھ کا فاصلہ ہوگا۔ وہ لوگوں سے کہے گا: میں تمہارا رب ہوں، وہ کانا ہوگا، جب کہ تمہارا ربّ کانا نہیں، اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِرٌ یعنی ک ف ر لکھا ہوگا، اس لفظ کو ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ مومن پڑھ لے گا، وہ ہر پانی اور ہر گھاٹ یعنی ہر جگہ پہنچے گا، ماسوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے، اللہ تعالیٰ نے اِن دونوں حرموں کو اس کے لیے حرام کر دیا ہے، ان دونوں کے دروازوں پر فرشتے حفاظت کے لیے مامور ہیں، دجال کے پاس روٹی کے پہاڑ ہوں گے، اس کی پیروی کرنے والے لوگوں کے علاوہ باقی تمام مسلمان سخت فقرو فاقہ کی حالت میں ہوں گے، اس کے پاس دو نہریں ہوں گی، میں اُن دونوں کو اچھی طرح جانتا ہوں، وہ ایک نہر کو جنت اور ایک نہر کو جہنم ظاہر کرے گا، لیکن وہ جسے جنت کہے گا اور اس میں جس کو بھی داخل کرے گا، وہ اس کے لیے جہنم ہوگی اور وہ جسے جہنم کہے گا اوراس میں جس کو بھی داخل کرے گا، وہ اس کے لیے جنت ہوگی، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ شیاطین (جنات) کو بھی بھیجے گا، وہ لوگوں کے ساتھ ہم کلام ہوں گے، لوگوں کو آزمائش میں ڈالنے کے لیے اس کے پاس ایک بہت بڑا فتنہ ہوگا، وہ آسمان کو حکم دے گا تو لوگ دیکھ رہے ہوں گے کہ وہ بارش بر سائے گا اور وہ ایک آدمی کو قتل کر کے اسے زندہ بھی کرے گا اور لوگ یہ منظر دیکھ رہے ہوں گے، البتہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے آدمی کو قتل کر کے زندہ کرنے کی طاقت نہیں دے گا۔ وہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہوئے کہے گا: لوگو! کیا اللہ کے سوا کوئی اور بھی ایسے کام کر سکتا ہے؟ مسلمان ان حالات میں شام میں واقع پہاڑ دخان کی طرف دوڑ جائیں گے، لیکن وہ بھی ادھر جا کر ان کا محاصرہ کرے گا اورسخت محاصرہ کرے گا، وہ لوگ شدید فقر و فاقہ سے دو چا ہوجائیں گے، پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور صبح کے وقت یہ آواز دیں گے: لوگو! کیا بات ہے، تم بد ترین کذاب کے مقابلے کے لے کیوں نہیں نکلتے؟ پہلے تو لوگ سمجھیں گے کہ یہ کسی جن کی آواز ہے، لیکن جب جا کر دیکھیں گے تو وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہوں گے، اتنے نما زکی جماعت کھڑی ہو جائے گی اور ان سے کہا جائے گا: اے روح اللہ! آپ آگے تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں، لیکن وہ فرمائیں گے: تمہارا امام ہی آگے آئے اور نماز پڑھائے، وہ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد دجال کی طرف نکلیں گے،جب جھوٹا دجال ان کو دیکھے گا تو وہ پانی میں گھل جانے والے نمک کی طرح گھلنے لگ جائے گا، پھر عیسیٰ علیہ السلام اس کی طرف جا کر اسے قتل کر ڈالیں گے اور حالات مسلمانوں کے حق میں اس حد تک بہتر ہوجائیں گے کہ درخت اور پتھر پکار پکار کر کہیں گے: اے روح اللہ! یہ یہودی یہاں ہے، عیسیٰ علیہ السلام دجال کے ایک ایک پیروکار کو پکڑ پکڑ کر قتل کر دیں گے۔
Musnad Ahmad
2280
۔ (۲۲۸۰) عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، فَدَخَلَ أَعْرَابِیٌّ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ فَجَلَسَ الْأَعْرَابِیُّ فِی آخِرِ النَّاسِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَرَکَعْتَ رَکْعَتَیْنِ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَمَرَہُ، فَأَتَی الرَّحَبَۃَ الَّتِی عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۱۶۹۲)
سیّدناابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم جمعہ کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے۔ ایک بدو(مسجد میں) داخل ہوا اور لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف فرما تھے۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو نے دو رکعتیں پڑھی ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو حکم دیا، پس وہ منبر کے پاس خالی جگہ پرآیا اور دو رکعتیں پڑھیں۔
Musnad Ahmad
2696
۔ (۲۶۹۶) عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: أَخْبِرْنَا عَنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، مَاذَا فِیْہِ مِنَ الْخَیْرِ؟ قَالَ: ((فِیْہِ خَمْسُ خِلَالٍ، …۔)) فَذَکَرَ مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۸۲۴)
سیّدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: جمعہ کے دن کے بار ے میں بتلائیں کہ اس میں کون کون سی خوبیاں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس میں پانچ خوبیاں ہیں، …۔ گزشتہ روایت کی طرح۔