TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5420 - ذکر ِ خفی کا بیان - اذکار اور دعاؤں کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 4 in this chapter
ذکر ِ خفی کا بیان
۔ (۵۴۲۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ لِلّٰہِ تِسْعَۃً وَتِسْعِینَ اسْمًا مِائَۃً غَیْرَ وَاحِدٍ، مَنْ أَحْصَاہَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، إِنَّہُ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۹۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، یعنی ایک کم سو، جس نے ان کو یاد کر لیا، وہ جنت میں داخل ہو گا، بیشک اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔
5420
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۵۴۲۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۱۰، ومسلم: ۲۶۷۷(انظر: ۷۵۰۲)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… امام قرطبی نے اپنی تفسیر میںکہا: اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے مبارکہ کو حُسْنٰی (بہت اچھے) قرار دیا ہے، کیونکہ یہ سننے میں بھی حسین لگتے ہیں، دلوں میں بھی ان کا حسن پایا جاتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، کرم، سخاوت، رحمت اور فضل جیسی صفات پر دلالت کرتے ہیں۔

Related Chapters

426
1
Chapter: What Has Been Related About Those Killed At Uhud, and Mention of Hamzah
باب: شہدائے احد اور حمزہ بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کا ذکر
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Those Who Deal In Trade And What The Prophet (S) Called Them
باب: تاجروں کا ذکر اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ان کے نام رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Battles Of The Prophet (saws) And How Many There Were
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے غزوات کا ذکر اور ان کی تعداد کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About the (Age) Of Adulthood For A Man And When He Is To Recieve A Salary
باب: حد بلوغت کا ذکر اور غنیمت سے اس کو کب حصہ دیا جائے گا اس کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Hospitality And What Is The Limit Of Hospitality
باب: مہمان نوازی کا ذکر اور اس کی مدت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Calmness And Haste
باب: سوچ سمجھ کر کام کرنے کا ذکر اور جلد بازی نہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: The Fitnah That Spreads Like The Waves Of The Sea
باب: سمندر کی موج کی طرح کے فتنے کا ذکر
Jam e Tirmazi
8
Chapter: The Hadith: All Of The Son Of Adam's Speech Is Against Him Not For Him
باب: امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی آدمی کے لیے مفید ہے
Jam e Tirmazi
9
باب: سورۃ اللیل میں «واللیل إذا یغشی والذکر والأنثی» کی قرأت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related Regarding The Virtue Of Remembrance
باب: ذکر الٰہی کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: Something Else Concerning ‘The One Who Remembers Allah Often Is Superior To The Fighter In The Cause of Allah
باب: ذکر الٰہی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related Concerning The Group That Sits to Remember Allah The Mighty And Sublime, What Virtues They Have
باب: ایک جگہ بیٹھ کر ذکر الٰہی کرنے والوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About The Group That Sits And They Do Not Remember Allah
باب: لوگوں کی مجلس اللہ کے ذکر سے غافل ہو اس کی برائی کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: Something Else: Regarding The Virtue Of At-Tasbih, At-Tahmud, And At-Takbir At The End Of The Prayers And When Going To Sleep
باب: سوتے وقت ذکرو تسبیح سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
15
Chapter: The Supplication That He Taught Abu Bakr..
باب: صبح و شام کے ذکر سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
16
بَاب الذّكر بعد الصَّلَاة
نماز کے بعد ذکر کا بیان
Mishkat
17
بَابُ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالتَّقَرُّبِ إِلَيْهِ
اللہ عزوجل کے ذکر اور اس کے تقرب کا بیان
Mishkat
18
بَابُ الْعَلَامَاتِ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ وَذِكْرِ الدَّجَّالِ
قبل از قیامت علامتوں اور دجال کے ذکر کا بیان
Mishkat
19
(بَاب بدءالخلق وَذِكْرِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ)
مخلوق کی ابتدا اور انبیا علیھم السلام کے ذکر کا بیان
Mishkat
20
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
Mishkat
21
بَاب تَسْمِيَة من سمي من أهل الْبَدْر فِي «الْجَامِعِ لِلْبُخَارِيِّ»
یمن اور شام اور اویس قرنی کے ذکر کا باب
Mishkat
22
قضائے حاجت کے دوران سلام کا جواب دینے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہنے کی کراہیت کا بیان
Musnad Ahmad
23
وضو کے بغیر اللہ تعالیٰ کاذکر اور قرآن کی تلاوت کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
24
ذکر کو چھونے سے وضو کا ٹوٹ جانا، اس کے بارے میں سیدہ بسرہ بنت صفوانؓ کی حدیث کا بیان
Musnad Ahmad
25
مسنون غسل کی اقسام ایک سے زائد غسل کی وہ اقسام، جن کا احادیث میں اکٹھا ذکر کیا گیا
Musnad Ahmad
26
رکوع میں ذکر کا بیان
Musnad Ahmad
27
سلام کی تخفیف کا اور اس کے ساتھ ہاتھ کے اشارے کی کراہیت کا بیان
Musnad Ahmad
28
نماز سے فارغ ہونے کے بعد بآواز بلند ذکر کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
29
دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے قصے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
30
فجر سے پہلے والی دو رکعتوں کی تخفیف اور ان میں قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
31
اس تخفیف کا بیان جس کا امام کو حکم دیا گیا ہے
Musnad Ahmad
32
عیدین، دس دنوں اور ایام تشریق میں ذکر کرنے، اطاعت کے کام کرنے اور تکبیرات کہنے پر ابھارنے کا بیان
Musnad Ahmad
33
مخفی طور پر صدقہ کرنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
34
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
35
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
Musnad Ahmad
36
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
37
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
Musnad Ahmad
38
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
Musnad Ahmad
39
مطلق طور پر ذکر کی فضیلت اور اس کے لیے اجتماع کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
40
ذکر کے حلقوں کی اور مساجد میں لگائی گئی اس کی مجلسوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
41
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے ذکر پر اجتماع کرنے کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
42
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے ذکر اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
43
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
Musnad Ahmad
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پسندیدہ کھانوں کا ذکر
Musnad Ahmad
45
اس چیز کا بیان کہ چھینکنے والا، اس کے ارد گرد والے اور پھر وہ کون کون سے ذکر کرے
Musnad Ahmad
46
عذاب والی آیتیا رحمت والی آیت اور بعض سورتوں کی تکمیل کے وقت قاری کے لیے مستحب ذکر کا بیان
Musnad Ahmad
47
ان آیات کا ذکر، جو قرآن مجید میں موجود تھیں، لیکن بعد میں منسوخ ہو گئیں
Musnad Ahmad
48
سورۂ سبا سبا اور اس کی اولاد کا ذکر
Musnad Ahmad
49
ریاکاری سے ترہیب کا بیان،یہی شرک ِ خفی ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں
Musnad Ahmad
50
مخلوقات میں پہلی چیز کا بیان اور اس میںپانی، عرش، لوح محفوظ اور قلم کا ذکر ہو گا
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

5
Musnad Ahmad
5421
۔ (۵۴۲۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا مِائَۃٌ إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاہَا کُلَّہَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ)) (مسند أحمد: ۱۰۵۳۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں، جس نے وہ سارے یاد کر لیے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔
Musnad Ahmad
12493
۔ (۱۲۴۹۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَوَّلُ مَنْ یُدْعٰییَوْمَ الْقِیَامَۃِ آدَمُ، فَیُقَالُ: ہٰذَا أَبُوکُمْ آدَمُ، فَیَقُولُ: یَا رَبِّ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ، فَیَقُولُ لَہُ رَبُّنَا: أَخْرِجْ نَصِیبَ جَہَنَّمَ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ، فَیَقُولُ: یَا رَبِّ! وَکَمْ؟ فَیَقُولُ: مِنْ کُلِّ مِائَۃٍ تِسْعَۃً وَتِسْعِینَ۔)) فَقُلْنَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ إِذَا أُخِذَ مِنَّا مِنْ کُلِّ مِائَۃٍ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُونَ فَمَاذَا یَبْقٰی مِنَّا؟ قَالَ: ((إِنَّ أُمَّتِی فِی الْأُمَمِ کَالشَّعْرَۃِ الْبَیْضَائِ فِی الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۰۰)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو لا کر کہا جائے گا: یہ تمہارا باپ آدم علیہ السلام ہے، آدم علیہ السلام کہیں گے: اے میرے رب! میں حاضر ہوں، پھر ہمارا رب ان سے فرمائے گا: تم اپنی اولاد میں سے جہنم کا حصہ الگ کر دو، وہ کہیں گے:اے میرے رب! کتنا حصہ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر سو میںسے ننانوے۔ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ہر سو میں ننانوے نکل گئے تو جنت میں جانے کے لیے ہم میں سے کتنے باقی بچیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: باقی امتوں کے بالمقابل میری امت یوں ہوگی، جیسے سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال۔
Musnad Ahmad
8679
۔ (۸۶۷۹)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ وَہُوَ فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ، وَقَدْ تَفَاوَتَ بَیْنَ أَ صْحَابِہِ السَّیْرُ رَفَعَ بِہَاتَیْنِ الْآیَتَیْنِ صَوْتَہُ: (({یَا أَ یُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ إِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیمٌیَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ} [الحج: ۱۔۲] حَتّٰی بَلَغَ آخِرَ الْآیَتَیْنِ، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَ أَصْحَابُہُ بِذٰلِکَ حَثُّوا الْمَطِیَّ وَعَرَفُوا أَ نَّہُ عِنْدَ قَوْلٍ یَقُولُہُ، فَلَمَّا تَأَ شَّبُوا حَوْلَہُ قَالَ: ((أَ تَدْرُونَ أَ یَّیَوْمٍ ذَاکَ؟)) قَالَ: ((ذَاکَ یَوْمَیُنَادٰی آدَمُ فَیُنَادِیہِ رَبُّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: یَا آدَمُ! ابْعَثْ بَعْثًا إِلَی النَّارِ؟ فَیَقُولُ: یَا رَبِّ! وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ قَالَ: مِنْ کُلِّ أَ لْفٍ تِسْعَ مِائَۃٍ وَتِسْعَۃً وَتِسْعِینَ فِی النَّارِ وَوَاحِدٌ فِی الْجَنَّۃِ۔))، قَالَ: فَأَ بْلَسَ أَ صْحَابُہُ حَتّٰی مَا أَ وْضَحُوْا بِضَاحِکَۃٍ، فَلَمَّا رَأٰی ذٰلِکَ قَالَ: ((اعْمَلُوْا وَأَ بْشِرُوْا فَوَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ إِنَّکُمْ لَمَعَ خَلِیقَتَیْنِ مَا کَانَتَا مَعَ شَیْئٍ قَطُّ إِلَّا کَثَرَتَاہُیَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَمَنْ ہَلَکَ مِنْ بَنِی آدَمَ وَبَنِی إِبْلِیسَ۔))، قَالَ: فَأُسْرِیَ عَنْہُمْ ثُمَّ قَالَ: ((اعْمَلُوْا وَأَ بْشِرُوْا فَوَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ مَا أَ نْتُمْ فِی النَّاسِ إِلَّا کَالشَّامَۃِ فِی جَنْبِ الْبَعِیرِ، أَ وْ الرَّقْمَۃِ فِی ذِرَاعِ الدَّابَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۴۳)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ایک سفر میں تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھی چلنے میں دورجا چکے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بآواز بلند یہ دو آیتیں تلاوت کیں: {یَا أَ یُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ إِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیمٌ۔ یَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ہُمْ بِسُکٰرٰی وَلٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ۔} … لوگو! اپنے رب کے غضب سے بچو، حقیقتیہ ہے کہ قیامت کا زلزلہ بڑی ہولناک چیز ہے۔ جس روز تم اسے دیکھو گے، حال یہ ہوگا کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائے گی، ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا، اور لوگ تم کو مدہوش نظر آئیں گے، حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب ہی بہت سخت ہوگا۔ جب صحابہ کرام نے یہ آیات سنیں تو اپنی سواریوں کو ایڑیاں لگائیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوئی ضروری بات کہنا چاہتے ہیں، جب لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گرد جمع ہوگئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: کیا تم جانتے ہو یہ کونسا دن ہے؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود ہی فرمایا: یہ وہ دن ہو گا کہ آدم علیہ السلام کو بلایا جائے گا، اللہ تعالی ان کو آواز دیں گے: اے آدم! جہنم میں بھیجے جانے والوں کو جہنم میں بھیج دو، وہ کہیں گے: اے میرے رب! کتنی تعداد؟ اللہ تعالی کہے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ میں اور ایک جنت میں بھیج دو۔ یہ سن کر آپ کے صحابہ کرام حیران و ششدر رہ گئے اوران کی ہنسی بند ہو گی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ صورتحال دیکھی تو فرمایا: عمل کرو اور خوش ہو جائو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! تم دو قسم کی ایسی مخلوقات کے ساتھ ہو گے کہ وہ جس کے ساتھ ہوں، ان کی تعداد کو زیادہ کر دیتی ہیں،یعنییاجوج ماجوج، بنو آدم میں سے ہلاک ہونے والے اور ابلیس کی اولاد۔ یہ سن کر صحابہ سے وہ کیفیت چھٹ گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمل کرو اور خوش ہوجائو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدکی جان ہے: تم ان لوگوں میں اونٹ کے پہلو میں چھوٹے سے نشان کی مانند ہو گے یا جانور کے گھٹنے میں نشان کی مثل ہوگے۔
Musnad Ahmad
11921
۔ (۱۱۹۲۱)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَخْطَبَ (یَعْنِی أَبَا زَیْدٍ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)، قَالَ: اسْتَسْقٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتَیْتُہُ بِإِنَائٍ، فِیہِ مَائٌ وَفِیہِ شَعْرَۃٌ فَرَفَعْتُہَا ثُمَّ نَاوَلْتُہُ، فَقَالَ: ((اللّٰہُمَّ جَمِّلْہُ۔)) قَالَ: فَرَأَیْتُہُ بَعْدَ ثَلَاثٍ وَتِسْعِینَ سَنَۃً (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَرَأَیْتُہُ وَھُوَ ابْنُ أَرْبَعٍ وَتِسْعِیْنَ وَمَا فِیْ رَأْسِہِ وَلِحْیَتِہِ شَعْرَۃٌ بَیْضَائُ)۔ (مسند احمد: ۲۳۲۷۱)
۔ ( تیسری سند)سیدنا ابو زید عمرو بن اخطب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانی طلب فرمایا، میں آپ کی خدمت میں پانی کا برتن لے کر حاضر ہوا، اس میں پانی اور ایک بال تھا، میں نے بال نکال دیا اور پانی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یوں دعا دی: یا اللہ! اسے خوبصورت بنا دے۔ راوی کہتا ہے: میں نے ابو زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو (۹۳) سال کی عمر میں اور دوسری روایت کے مطابق (۹۴)سال کی عمر میںدیکھا کہ ان کے سر اور داڑھی میں ایک بھی سفید بال نہ تھا۔
Musnad Ahmad
12492
۔ (۱۲۴۹۲)۔ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰییَقُولُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ لِآدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ: قُمْ فَجَہِّزْ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ تِسْعَ مِائَۃٍ وَتِسْعَۃً وَتِسْعِینَ إِلَی النَّارِ وَوَاحِدًا إِلَی الْجَنَّۃِ۔)) فَبَکٰی أَصْحَابُہُ وَبَکَوْا ثُمَّ قَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ارْفَعُوا رُؤُ وْسَکُمْ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! مَا أُمَّتِی فِی الْأُمَمِ إِلَّا کَالشَّعْرَۃِ الْبَیْضَائِ فِی جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ۔)) فَخَفَّفَ ذٰلِکَ عَنْہُمْ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۳۷)
سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا: تم اٹھو اور اپنی اولاد کے ہر ہزار افراد میں سے نو سو ننانوے آدمی جہنم کے لیے اور ایک جنت کے لیے الگ کردو۔ یہ سن کر تمام صحابہ کرام f رونے لگ گئے، اس کے بعدرسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے سر اوپر اٹھاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میر ی جان ہے! دوسری امتوں کے مقابلے میں میری امت کی مثال ایسے ہے، جیسے سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال ہو۔ یہ سن کر صحابہ کا غم کچھ ہلکا ہوا۔