TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5658 - آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ - دعاء اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 7 in this chapter
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ
۔ (۵۶۵۸۔) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَا قَالَتْ: مَا رَفَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ إِلَّا قَالَ: ((یَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی طَاعَتِکَ۔)) (مسند أحمد: ۹۴۱۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب بھی آسمان کی طرف سر اٹھایا تو یہ دعا کی: یَامُصَرِّفَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی طَاعَتِکَ (اے دلوں کو پھیر دینے والے! میرے دل کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے)۔
5658
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۵۶۵۸) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۹۴۲۰)

Related Chapters

2,131
1
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا اَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ…
Musnad Ahmad
2
ان دعاؤں کا بیان ، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے پڑھا کرتے تھے، ان میں سے ایک دعا یہ ہے: رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً
Musnad Ahmad
3
اس امر کا بیان کہ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی قوم کے ایک وفد کے ہمراہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے مہاجرین حبشہ ساتھی ان دنوں تشریف لائے جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر میں تشریف فرما تھے
Musnad Ahmad
4
یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس زہر آلودہ بکری کے بارے میں بتلا دیا، جو ایکیہودی خاتون نے تحفہ کی صورت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیش کی تھی
Musnad Ahmad
5
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
Musnad Ahmad
6
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان
Musnad Ahmad
7
رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
8
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
9
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
Musnad Ahmad
10
اس نابینا آدمی کی دعا، جس نے اپنی بینائی حاصل کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وسیلہ دیا تھا
Musnad Ahmad
11
نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی
Musnad Ahmad
12
اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
Musnad Ahmad
13
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
Musnad Ahmad
14
جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قرآن سننے کا بیان
Musnad Ahmad
15
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
Musnad Ahmad
16
فوائد:… ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
Musnad Ahmad
17
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
Musnad Ahmad
18
اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوہ بدر سے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ امیہ بن خلف قتل ہو کر گرے گااور اس کی اطلاع اسے مل گئی تھی
Musnad Ahmad
19
عُسفان کے مقام پر بپا ہونے والے غزوۂ بنی لحیان کا بیان، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ خوف ادا کی تھی
Musnad Ahmad
20
اس زہر آلود بکری کا واقعہ جو یہود نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کھانے کے لیے بھیجی تھی اور اس موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا ظہور
Musnad Ahmad
21
ان لوگوں کا بیان جو اس بات کے قائل ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز ادا کی تھی
Musnad Ahmad
22
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے امت کو آخری تاکید نماز کی تھی، نیز صحابہ کرام کا آپ کو آخری بار دیکھنے کا بیان اور اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موت شہادت کی موت تھی
Musnad Ahmad
23
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
Musnad Ahmad
24
عیدین کے ضمن میں بیان کردہ خطبہ کے علاوہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک اور خطبۂ عید
Musnad Ahmad
25
اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اونٹ والا بھی ہے، جو دوران سفر چلنے سے عاجز آکر راستے میں بیٹھ گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اپنا قدم مبارک مارا تو وہ انتہائی پھرتیلا ہو گیا
Musnad Ahmad
26
اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزات میں سے ایکیہ بھی ہے کہ شدید پیاس کے موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگشت ہائے مبارکہ سے پانی پھوٹنے لگا
Musnad Ahmad
27
یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کنویں میں کلی کی اور اس سے کستوری کی طرح کی خوشبو پھوٹنے لگ گئی
Musnad Ahmad
28
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ محبت، آپ کے بارے میں ان کی غیرت اور سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آپ کی حیات ِ مبارکہ میں جو جو عمل کیا کرتی تھیں، بعد میں بھی ان کی حفاظت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
29
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چوتھی زوجہ محترمہ ام المؤمنین سیدہ حفصہ بنت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا
Musnad Ahmad
30
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نویں زوجہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ بنت الحارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، یہ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خالہ تھیں
Musnad Ahmad
31
فصل چہارم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔
Musnad Ahmad
32
باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
Musnad Ahmad
33
باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
Musnad Ahmad
34
فصل: بنوامیہ کے ایک ظالم حکمران کے متعلق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات
Musnad Ahmad
35
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت کے حق میں دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
36
باب سوم: قریش کے خصالٔص اور ان کے حق میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا کا بیان
Musnad Ahmad
37
باب دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
Musnad Ahmad
38
امت کا ایک گروہ، جو عذاب کا مستحق ہو گا،لیکن جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے حق میں سفارش کر دینا، اور ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جہنم سے نکالنا، جن کو بعد میں بھی جہنمی ہی کہا جائے گا
Musnad Ahmad
39
Chapter: What Has Been Mentioned About Praising Allah And Sending Salat Upon The Prophet Before Supplicating
باب: دعا سے پہلے اللہ کی تعریف کرنے اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: About The Supplication Of The Prophet, And His Seeking Refuge At The End Of Every Salat
باب: نماز کے اخیر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں اور معوذات کا بیان
Jam e Tirmazi
41
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
42
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
Musnad Ahmad
43
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
44
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
Musnad Ahmad
45
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
46
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
47
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
48
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
49
وضو کو مکمل طور پر کرنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان ایڑھیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے کا بیان
Musnad Ahmad
50
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

214
Musnad Ahmad
23
۔ (۲۳)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: شَکَوْا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا یَجِدُوْنَ مِنَ الْوَسْوَسَۃِ وَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّا لَنَجِدُ شَیْئًا لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا خَرَّ مِنَ السَّمَائِ کَانَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ أَنْ یَتَکَلَّمَ بِہٖ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ذَاکَ مَحْضُ الْإِیْمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۲۵۹)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ لوگ اپنے دل میں جو وسوسہ محسوس کرتے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس کا شکوہ کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی ایسی چیزیں محسوس کر جاتے ہیں کہ ان کو زبان سے بیان کرنے کی بہ نسبت ہمیں آسمان سے گرنا آسان لگتا ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تو خالص ایمان ہے۔
Musnad Ahmad
2919
۔ (۲۹۱۹) عَنْ ھِشَامٍ عَنْ فَاطِمَۃَ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ یُصَلُّوْنَ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِہَا اِلَی السَّمَائِ، فَقُلْتُ: آیَۃٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَطَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقِیَامَ جِدًّا حَتّٰی تَجَلَّانِی الْغَشْیُ، فَأَخَذْتُ قِرْبَۃً اِلٰی جَنْبِیْ، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلٰی رَأْسِی الْمَائَ، فَانْصََرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ، مَا مِنْ شَیْئٍ لَمْ أَکُنْ رَأَیْتُہُ اِلَّا قَدْ رَأَیْتُہُ فِی مَقَامِی ھٰذَا حَتَّی الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ اِنَّہُ قَدْ أُوْ حِیَ اِلَیَّ أَنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی الْقُبُوْرِ قَرِیْبًا أَوْ مِثْلَ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَالِ ’’لَا أَدْرِی أَیَّ ذٰلِکَ، قَالَتْ أَسْمَائُ‘‘ یُؤْتٰی أَحَدُکُمْ فَیُقَالُ لَہُ مَا عِلْمُکَ بِہٰذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوْقِنُ لَا أَدْرِی أَیَّ ذَلِکَ، قَالَتْ أَسْمَائُ فَیَقُوْلُ ھُوَ مُحَمَّدٌ،ھُوَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ نَا بِالْبَیِّنَاتِ وَالْھُدٰی فَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ فَیُقَالُ لَہُ قَدْ کُنَّا نَعْلَمُ اَنْ کُنْتَ لَتُؤْمِنُ بِہِ فَنَمْ صَالِحًا وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِی أَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ أَسْمَائُ فَیَقُوْلُ مَا أَدْرِی، سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ شَیْئًا فَقُلْتُ)) (مسند احمد: ۲۷۴۶۴)
سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، پس میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر داخل ہوئی(وہ بھی اسی نماز میں شریک تھیں)، میں نے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ نماز پڑھ رہے ہیں؟ انھوں نے سر کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا، میں نے کہا: یہ کوئی (عذاب کی) نشانی ہے؟ انہوں نے (اشارے سے)کہا:ہاں، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بہت لمبا قیام کیا، حتیٰ کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی، اس لیے میںنے اپنے پہلو میں پڑا ہوا ایک مشکیزہ پکڑ لیا اور اپنے سر پر پانی بہانے لگی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (نماز سے) فارغ ہوئے تو خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: حمد و ثناء کے بعد! کوئی چیزنہیں، جو میں نے پہلے نہیں دیکھی تھی، مگر وہ اس مقام میں دیکھ لی ہے، میں نے جنت اور آگ کو بھی دیکھا ہے۔ بے شک میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ تم کو عنقریب قبروں میں مسیح دجال کے فتنے کی طرح آزمایا جائے گا، تم میںسے ایک کے پاس (قبر میں) آیا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا: تو اس آدمی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے بارے میں کیا جانتا ہے ؟ پس ایمان یا یقین رکھنے والا کہے گا: وہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، وہ اللہ کے رسول ہیں، ہمارے پاس روشن دلائل اور ہدایت لے کر آئے تھے، پس ہم نے قبول کر لیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیروی کی، تین مرتبہ یہ بات کہے گا۔ پس اس کو کہا جائے گا: تحقیق ہم جانتے تھے کہ بے شک تو ان کے ساتھ ایمان رکھتا ہے، پس تو اچھی حالت میں سو جا۔ رہا مسئلہ نفاق یا شک والے آدمی کا تو وہ کہے گا: میں نہیں جانتا، میں نے لوگوں سے کچھ کہتے ہوئے سناتھا، بس میں نے بھی وہ کہہ دیا تھا، (لیکن اب تو میں کچھ نہیں جانتا)۔
Musnad Ahmad
5562
۔ (۵۵۶۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا رَأٰی نَاشِئًا مِنْ أُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَائِ تَرَکَ عَمَلَہُ وَإِنْ کَانَ فِی صَلَاتِہِ ثُمَّ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیہِ۔)) فَإِنْ کَشَفَہُ اللّٰہُ حَمِدَ اللّٰہَ وَإِنْ مَطَرَتْ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ صَیِّبًا نَافِعًا۔))ٔٔ (مسند أحمد: ۲۶۰۸۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آسمان کے کسی افق میں کوئی نامکمل سا بادل دیکھتے تو اپنے کام کو چھوڑ دیتے، اگرچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں ہوتے، پھر یہ دعا پڑھنا شروع کر دیتے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیہِ (اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہے، اس شرّ سے، جو اس بادل میں ہے)۔ اگر اللہ تعالیٰ اس بادل کو زائل کر دیتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے، اور اگر وہ بارش برساتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے: اے اللہ! نفع بخش بارش برسانا۔
Musnad Ahmad
5655
۔ (۵۶۵۵۔) عَن عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَعَوَاتٌ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکْثِرُ أَنْ یَدْعُوَ بِہَا: ((یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّکَ تُکْثِرُ تَدْعُو بِہٰذَا الدُّعَائِ، فَقَالَ: ((إِنَّ قَلْبَ الْآدَمِیِّ بَیْنَ أُصْبُعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا شَائَ أَزَاغَہُ وَإِذَا شَائَ أَقَامَہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۱۱۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول۱ آپ بھی یہ دعا کثرت سے کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر وہ چاہے تو اس کو ٹیڑھا کر دے اور چاہے تو سیدھا رکھے۔
Musnad Ahmad
5657
۔ (۵۶۵۷۔) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ قُلُوبَ بَنِی آدَمَ کُلَّہَا بَیْنَ إِصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمٰنِ عَزَّ وَجَلَّ کَقَلْبٍ وَاحِدٍ، یُصَرِّفُ کَیْفَ یَشَائُ۔)) ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ اصْرِفْ قُلُوبَنَا إِلٰی طَاعَتِکَ۔)) (مسند أحمد: )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بنو آدم کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی مانند ہیں، وہ جیسے چاہے ان کو پھیر دیتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ اصْرِفْ قُلُوبَنَا إِلٰی طَاعَتِکَ (اے اللہ! دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے)۔
Musnad Ahmad
8768
۔ (۸۷۶۸)۔ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ عَائِشَۃَ،قَالَ: قُلْتُ: أَ لَیْسَ اللّٰہُ یَقُولُ: {وَلَقَدْ رَآہُ بِالْأُفُقِ الْمُبِینِ} [التکویر: ۲۳] {وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً أُخْرٰی} [النجم: ۱۳] قَالَتْ: أَ نَا أَ وَّلُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ سَأَ لَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْہُمَا فَقَالَ: ((إِنَّمَا ذَاکِ جِبْرِیلُ۔)) لَمْ یَرَہُ فِی صُورَتِہِ الَّتِی خُلِقَ عَلَیْہَا إِلَّا مَرَّتَیْنِ رَآہُ مُنْہَبِطًا مِنْ السَّمَائِ إِلَی الْأَ رْضِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِہِ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَ رْضِ۔ (مسند احمد: ۲۶۵۶۸)
۔ مسروق کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس تھا، میں نے کہا :اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: {وَلَقَدْ رَآہُ بِالْأُفُقِ الْمُبِینِ} … تحقیق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو واضح افق پر دیکھا۔ نیز فرمایا: {وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً أُخْرٰی عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی۔} … جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اور ایک مرتبہ پھر اس نے سدرۃا المنتہیٰ کے پاس اس کو اترتے دیکھا۔ سیدہ نے جواباً کہا: اس امت میں سب سے پہلے میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ان دو آیات کے بارے میں سوال کیا تھا اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: وہ تو جبریل علیہ السلام ہیں۔ جس صورت پر جبریل علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اس صورت پر صرف دو بار دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو آسمان سے زمین کی طرف اترتے ہوئے دیکھا، ان کے بڑے وجود نے آسمان اور زمین کے درمیانی خلا کو بھر رکھا تھا۔
Musnad Ahmad
10590
۔ (۱۰۵۹۰)۔ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ عَنْ مَسْرُوْقٍ اَیْضًا قَالَ: کُنْتُ مُتَّکِئًا عِنْدَ عَائِشَۃَ، فَقَالَتْ: یَا أَبَا عَائِشَۃَ! أَنَا اَوَّلُ مَنْ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ھٰذِہِ، قَالَ: ((ذٰلِکَ جِبْرِیْلُ لَمْ اَرَہُ فِیْ صُوْرَتِہِ الَّتِیْ خُلِقَ فِیْھَا اِلَّا مَرَّتَیْنِ، رَأَیْتُہُ مُنْھَبِطًا مِنَ السَّمَائِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِہِ مَابَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ)) (مسند احمد: ۲۶۵۲۱)
۔ (دوسری سند) مسروق کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھا تھا، سیدہ نے کہا: اے ابو عائشہ! میں وہ پہلا فرد ہوں، جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جبریل تھے، میں نے صرف دو بار اس کو اس کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، جب میں نے اس کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا تو اس کے بڑے وجود نے آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو بھر رکھا تھا۔
Musnad Ahmad
10669
۔ (۱۰۶۶۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، اشْتَکٰی أَصْحَابُہُ، وَاشْتَکٰی أَبُو بَکْرٍ وَعَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ مَوْلٰی أَبِی بَکْرٍ وَبِلَالٌ، فَاسْتَأْذَنَتْ عَائِشَۃُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی عِیَادَتِہِمْ، فَأَذِنَ لَہَا، فَقَالَتْ لِأَبِی بَکْرٍ: کَیْفَ تَجِدُکَ؟ فَقَالَ: ((کُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِی أَہْلِہِ، وَالْمَوْتُ أَدْنٰی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ، وَسَأَلَتْ عَامِرًا فَقَالَ: إِنِّی وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِہِ، إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُہُ مِنْ فَوْقِہِ،وَسَأَلَتْ بِلَالًا فَقَالَ: یَا لَیْتَ شِعْرِی ہَلْ أَبِیتَنَّ لَیْلَۃً بِفَجٍّ، وَحَوْلِی إِذْخِرٌ وَجَلِیلُ، فَأَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَتْہُ بِقَوْلِہِمْ، فَنَظَرَ إِلَی السَّمَائِ وَقَالَ: ((اللَّہُمَّ حَبِّبْ إِلَیْنَا الْمَدِینَۃَ، کَمَا حَبَّبْتَ إِلَیْنَا مَکَّۃَ اَوْ أَشَدَّ، اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی صَاعِہَا وَفِی مُدِّہَا، وَانْقُلْ وَبَائَ ہَا إِلٰی مَہْیَعَۃَ۔)) وَہِیَ الْجُحْفَۃُ کَمَا زَعَمُوا۔ (مسند احمد: ۲۴۸۶۴)
سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو سیدنا ابوبکر صدیق، ان کے غلام سیدنا عامر بن فہیرہ اور سیدنا بلال سمیت کچھ صحابۂ کرام بیمار پڑ گئے۔ سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان کی عیادت کے لیے جانے کی خاطر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت چاہی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں جانے کی اجازت مرحمت فرما دی۔ جب انھوں نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ آپ کیسے ہیں؟ تو انہوں نے یہ شعر پڑھ کر اپنی پریشانی کا اظہار کیا: ہر شخص کو اس کے اہلِ خانہ میں صبح بخیر کہا جاتا ہے، حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی اس کے قریب ہے۔ پھر جب انھوں نے سیدنا عامر بن فہیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ان کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا: میں موت کے آنے سے پہلے ہی موت سے دو چار ہو گیا ہوں، موت ہر وقت بزدل آدمی کے سر پرکھڑی ہوتی ہے۔ جب سیدہ نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ان کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا: اے کاش میں جان سکوں کہ میں کوئی ایک رات اس وادی فج (جو کہ مکہ کی ایک وادی ہے) میں گزار سکوں گا، جہاں میرے گرد اذخر گھاس اور جلیل نامی گھاس ہو۔ جب عیادت کے بعد سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں آئیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان حضرات کی باتوں کے متعلق بتلایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر فرمایا: یا اللہ ! ہمارے لیے مدینہ منورہ کے صاع اور مد میں برکت فرما اور اس کی وباء کو مہیعہیعنی حجفہ کی طرف منتقل کر دے۔
Musnad Ahmad
11322
۔ (۱۱۳۲۲)۔ حَدَّثَنَا یَحْیٰ، عَنْ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا أَبُوْ رَجَائٍ، حَدَّثَنِی عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا فِی سَفَرٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَإِنَّا أَسْرَیْنَا، حَتّٰی إِذَا کُنَّا فِی آخِرِ اللَّیْلِ وَقَعْنَا تِلْکَ الْوَقْعَۃَ، فَلَا وَقْعَۃَ أَحْلٰی عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْہَا، قَالَ: فَمَا أَیْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، وَکَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَیْقَظَ فُلَانٌ ثُمَّ فُلَانٌ،کَانَ یُسَمِّیْہِمْ أَبُوْ رَجَائٍ وَنَسِیَہُمْ عَوْفٌ، ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ الرَّابِعُ، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا نَامَ لَمْ نُوْقِظْہُ حَتّٰییَکُوْنَ ھُوَ یَسْتَیْقِظُ، ِلأَناَّ لاَ نَدْرِیْ ماَ یُحْدِثُ أَوْ یَحْدُثُ لَہُ فِی نَوْمِہِ، فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ عُمَرُ وَرَأٰی مَا أَصَابَ النَّاسَ ،وَکَانَ رَجُلاً أَجْوَفَ جَلِیْدًا، قَالَ: فَکَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَہُ بِالتَّکْبِیْرِ حَتَّیاسْتَیْقَظَ لِصَوْتِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَکَوْا الَّذِی أَصَابَہُمْ، فَقَالَ: ((لَا ضَیْرَ أَوْلایَضِیْرُ، اِرْتَحِلُوْا۔)) فَارْتَحَلَ، فَسَارَ غَیْرَ بَعِیْدٍ ثُمَّ نَزَلَ، فَدَعَا بِالْوَضُوْئِ فَتَوَضَّأَ، وَ نُوْدِیَ بِالصَّلَاۃِ، فَصَلّٰی بِالنَّاسِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِہِ إِذَا ھُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ یُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: ((مَا مَنَعَکَ یَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّیَ مَعَ الْقَوْمِ؟)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَصَابَتْنِی جَنَابَۃٌ وَلَا مَائَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَیْکَ بِالصَّعِیْدِ فَإِنَّہُ یَکْفِیْکَ۔)) ثُمَّ سَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاشْتَکٰی إِلَیْہِ النَّاسُ الْعَطَشَ، فَنَزَلَ فَدَعَا فُلَانًا کَانَ یُسَمِّیْہِ أَبُوْ رَجَائٍ وَنَسِیَہُ عَوْفٌ وَدَعَا عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: ((اذْ ھَبَا فَابْغِیَا لَنَا الْمَائَ۔))قَالَ: فَانْطَلَقَا،فَیَلْقَیَانِ امْرَأَۃً بَیْنَ مَزَادَ تَیْنِ أَوْ سَطِیْحَتَیْنِ مِنْ مَائٍ عَلٰی بَعِیْرٍ لَھَا، فَقَالَا لَھَا: أَیْنَ الْمَائُ؟ فَقَالَتْ: عَہْدِی بِالْمَائِ أَمْسِ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ، وَنَفَرُنَا خُلُوْفٌ، قَالَ: فَقَالَا لَھَا: انْطَلِقِی إِذًا، قَالَتْ: إِلٰی أَیْنَ؟ قَالَا: إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَتْ: ھٰذَا الَّذِییُقَالُ لَہُ الصَّابِیُٔ؟ قَالَا: ھُوَ الَّذِیْ تَعْنِیْنَ, فَانْطَلِقِی إِذًا، فَجَائَ ابِہَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَدَّثَاہُ الْحَدِیْثَ، فَاسْتَنْزَلُوْھَا عَنْ بَعِیْرِھَا، وَدَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِإِنَائٍ، فَأَفْرَغَ فِیْہِ مِنْ أَفْوَاہِ الْمَزَادَتَیْنِ أَوِ السَّطِیْحَتَیْنِ وَأَوْکَأَ أَفْوَاھَہُمَا، فَأَطْلَقَ الْعَزَالِیَ وَنُوْدِیَ فِی النَّاسِ أَنِ اسْقُوْا وَاسْتَقُوْا، فَسَقٰی مَنْ شَائَ وَاسْتَقٰی مَنْ شَائَ، وَکَانَ آخِرُ ذٰلِکَ أَنْ أَعْطَی الَّذِی أَصَابَتْہُ الْجَنَابَۃُ إِنَائً مِنْ مَائٍ، فَقَالَ: ((اذْھَبْ فَأَفْرِغْہُ عَلَیْکَ۔)) قَالَ: وَھِیَ قَائِمَۃٌ تَنْظُرُ مَا یُفْعَلُ بِمَائِہَا، قَالَ: وَأَیْمُ اللّٰہِ! لَقَدْ أَقْلَعَ عَنْہَا، وَإِنَّہُ لَیُخَیَّلُ إِلَیْنَا أَنَّہَا أَشَدُّ مِلْأَۃً مِنْہَا حِیْنَ ابْتَدَأَ فِیْہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اجْمَعُوْا لَھَا۔)) فَجَمَعَ لَھَا مِنْ بَیْنِ عَجْوَۃٍ وَ دَقِیْقَۃٍ وَ سُوَیْقَۃٍ حَتّٰی جَمَعُوْا لَھَا طَعَامًا کَثِیْرًا، وَجَعَلُوْہُ فِی ثَوْبٍ، وَحَمَلُوْھَا عَلٰی بَعِیْرِھَا وَوَضَعُوْا الثَّوْبَ بَیْنَیَدَیْہَا، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَعْلَمِیْنَ وَاللّٰہِ مَا رَزَأْنَاکَ مِنْ مَائِکَ شَیْئًا، وَلٰکِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ ھُوَ سَقَانَا۔)) قَالَ: فَأَتَتْ أَھْلَہَا، وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَنْہُمْ، فَقَالُوا: مَا حَبَسَکِ یَا فُلَانَۃُ؟ فَقَالَتِ: الْعَجَبُ! لَقِیَنِی رَجُلَانِ، فَذَھَبَا بِی إِلٰی ھٰذَا الَّذِییُقَالُ لَہُ الصَّابِیُٔ، فَفَعَلَ بِمَائِی کَذَا وَکَذَا، لِلَّذِی قَدْ کَانَ، فَوَاللّٰہِ! إِنَّہُ لَأَسْحَرُ مِنْ بَیْنِ ھٰذِہِ وَ ھٰذِہِ، قَالَتْ بِأُصْبُعَیْہَا الْوُسْطٰی وَالسَّبَّابَۃِ فَرَفَعَتْہُمَا إِلَی السَّمَائِ یَعْنِی السَّمَائَ وَالْأَرْضَ، أَوْ إِنَّہُ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ حَقًّا، قَالَ: وَکَانَ الْمُسْلِمُوْنَ بَعْدُ یُغِیْرُوْنَ عَلٰی مَاحَوْلَھَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَلَا یُصِیْبُوْنَ الصِّرْمَ الَّذِی ھِیَ فِیْہِ، فَقَالَتْ یَوْمًا لِقَوْمِہَا: مَا أَرٰی أَنَّ ھٰؤُلَائِ الْقَوْمَ یَدَعُوْنَکُمْ عَمَدًا، فَہَلْ لَکُمْ فِی الْإِسْلَامِ؟ فَأَطَاعُوْھَا ،فَدَخَلُوْا فِی الْإِسْلَامِ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۴۰)
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہم راہ تھے، ہم ساری رات چلتے رہے، یہاں تک کہ رات کے آخری حصے میں ہم ایسی کیفیت میں چلے گئے، جس سے زیادہ پسندیدہ کیفیت مسافر کی نظر میں اور کوئی نہیں ہوتییعنی ہم سو گئے۔ ہمیں سورج کی گرمی نے بیدار کیا، سب سے پہلے فلاں اور اس کے بعد فلاں آدمی بیدار ہوا۔ ابو رجاء (راوی) ان کے نام ذکر کیا کرتے تھے لیکن ان کے شاگرد عوف کویہ نام بھول گئے۔ ان کے بعد چوتھے نمبر پر سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیدار ہوئے، معمول یہ تھا کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سوئے ہوتے تو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیدا ر نہ کرتے یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود بیدار نہ ہو جائیں۔ کیونکہ ہمیں یہ معلوم نہ ہو تا تھا کہ نیند کی حالت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کیا کیفیت در پیش ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیدار ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو پیش آمدہ صورت حال ملاحظہ کی، وہ بلند آواز اور بہادر آدمی تھے۔ انہوں نے اللہ اکبر کہتے ہوئے اپنی آواز بلندی کی۔ یہاں تک کہ ان کی آواز سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوگئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے تو صحابہ نے اپنے ساتھ پیش آمدہ صورت حال کا شکوہ کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بات نہیں، اب چلو۔ وہاں سے روانہ ہو کرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھوڑی دور جا کر رک گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کا پانی طلب فرما کر وضو کیا، نماز کے لیے اذان کہی گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو نمازپڑھائی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہو کر مڑے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو الگ تھلگ بیٹھا تھا، اس نے لوگوں کے ساتھ مل کر نماز ادا نہ کی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: اے فلاں! تجھے لوگوں کے ساتھ نماز ادا کرنے سے کس چیز نے منع کیا؟ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے جنابت کا عارضہ پیش آگیا ہے اور غسل کے لیے پانی موجود نہیں ۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم مٹی استعمال کر لو (یعنی مٹی سے تیمم کر لو)۔ تمہارے لیےیہی کافی ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے روانہ ہوئے ۔ لوگوں نے پیاس کی شکایت کی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سواری سے اتر کر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ایک آدمی کو بلایا۔ راوی حدیث ابو رجاء اس کا نام بیان کیا کرتے تھے، لیکن ان کے شاگرد عوف بھول گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: تم دونوں جا کر ہمارے لیے پانی تلاش کر کے لائو۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: وہ دونوں چلے گئے۔ ان کی ایک عورت سے ملاقات ہوئی, وہ اپنے اونٹ پر پانی کے دو مشکیزے لادے جا رہی تھی۔ انہو ںنے اس سے دریافت کیا: پانی کہاں سے ملے گا؟ وہ بولی: پانییہاں سے بہت دور ہے, میں کل اس وقت سے یہ پانی لے کر چلی ہوں اور ابھی تک سفر میں ہوں, ہمارے مرد موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے اس سے کہا: اچھا تو پھر ہمارے ساتھ چلو۔ وہ بولی: کہاں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف۔ وہ کہنے لگی: آیا اس شخص کی طرف جسے صابی(لا مذہب اور لادین) کہا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں وہ وہی ہے جسے تو اس طرح سمجھ رہی ہے، پس اب تو چل۔ وہ اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لے آئے اور سارا واقعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گوش گزار کیا۔ صحابہ نے اس خاتون کو سواری سے اترنے کو کہا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک برتن منگوا کر مشکیزوں کے منہ کھول کر برتن میں پانی انڈیلا اور لوگوں میں اعلان کر دیا گیا کہ پانی پیو اور جانوروں کو پلاؤ۔جس نے پینا تھا اس نے پی لیااور جس نے جانوروں کو پلانا تھا پلالیا۔ آخر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کو بھی پانی کا ایک برتن دیا جسے جنابت کا عارضہ لاحق ہوا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جا کر یہ پانی اپنے اوپر بہا لو، یعنی غسل کر لو۔ وہ خاتون کھڑییہ سارے مناظر دیکھتی رہی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اللہ کی قسم! اس خاتون کو جب جانے کی اجازت دی گئی تو ہمیںیوں لگ رہا تھا کہ اس کے مشکیزے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں ۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اسے دینے کے لیے کچھ سامان جمع کرو۔ صحابہ نے اس کے لیے عجوہ کھجور، آٹا اور ستو وغیرہ کافی کچھ جمع کر دیا،یہ سارا سامان ایک کپڑے میں ڈالااور عورت کو اس کے اونٹ پر سوار کر کے یہ کپڑا اس کے آگے رکھ دیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ کی قسم!تم جانتی ہو کہ ہم نے تیرے پانی میں ذرہ بھر بھی کمی نہیں کی۔ ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے پینے کے لیے پانی مہیا کیاہے۔ وہ عورت اپنے خاندان میںواپس گئی، وہ کافی لیٹ ہو چکی تھی، اس کے گھر والوںنے تاخیر کی وجہ دریافت کی تو اس نے بتایا کہ ایک عجیب واقعہ پیش آگیا۔ مجھے دو آدمی ملے۔ وہ مجھے اس آدمی کے پاس گئے جس صابی (لا دین و لا مذہب) کہا جاتا ہے ۔ اس نے تو میرے پانی کے ساتھ یہیہ کیا۔ اس نے وہ سارا واقعہ بیان کیا جو پیش آ چکا تھا۔ اس نے اپنی درمیانی اور شہادت والی انگلی کو آسمان کی طرف اٹھا کر کہا: اللہ کی قسم! وہ یا تو زمین و آسمان کے درمیان موجود لوگوں میں سب سے بڑا جادو گر ہے یا پھرواقعی اللہ کا رسول ہے۔ عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد مسلمان اس علاقہ کے مشرکین پر حملہ آور ہوئے۔ لیکن جس قبیلہ کی وہ خاتون تھی اس پر حملہ نہ کرتے تھے۔ وہ ایک دن اپنی قوم سے کہنے لگی: میرا خیال ہے کہ یہ مسلمان جان بوجھ کر تم سے صرف نظر کرتے ہیں۔ کیا تم اسلام قبول نہیں کرلیتے؟ چنانچہ قبیلے کے لوگوں نے اس کی بات مان لی اور وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہوگئے۔