دعا کرنے کی ترغیب، اس کی فضیلت، اس کے آداب اور اس چیز کا بیان
کہ دعا لازمی طور پر فائدہ دے گی
۔ (۵۵۸۲)۔ عَنْ مُعَاذٍ رضی اللہ عنہ ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((لَنْ یَنْفَعَ حَذَرٌ مِنْ قَدَرٍ وَلٰکِنَّ الدُّعَائَ یَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ یَنْزِلْ، فَعَلَیْکُمْ بِالدُّعَائِ عِبَادَ اللّٰہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۳۹۴)
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی چیز کی تیاری، تقدیر سے فائدہ نہیں دیتی، البتہ دعا ان امور میں فائدہ دیتی ہے، جو نازل ہو چکے ہیں اور ان میں بھی جو نازل نہیں ہوئے، لہٰذا اللہ کے بندو! دعا کو لازم پکڑو۔
Takhreej
(۵۵۸۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شھر بن حوشب، وھو لم یسمع معاذ ایضا، وابنُ عیاش روایتہ عن غیر اھل بلدہ ضعیفۃ، وھذا منھا، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۲۰۱ (انظر: ۲۲۰۴۴)
5582
Zaeef