ان دعاؤں کا بیان کہ جن کے ذریعے دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان میں سے مچھلی والے کی دعا اور یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ کی دعاہے
۔ (۵۶۲۲۔) عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((دَعْوَۃُ ذِی النُّونِ إِذْ ہُوَ فِی بَطْنِ الْحُوتِ {لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ} فَإِنَّہُ لَمْ یَدْعُ بِہَا مُسْلِمٌ رَبَّہُ فِی شَیْء ٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۶۲)
۔ سیدنا سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مچھلی والے کی دعا، جبکہ وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے، یہ ہے:{لَا اِلٰہَ … مِنَ الظَّالِمِینَ} (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر تو ہی، تو پاک ہے، بیشک میںظالموں میں سے ہوں)۔ جو مسلمان بھی جس چیز میں اس دعا کے ذریعے اپنے ربّ کو پکارے گا، اللہ تعالیٰ اس کی پکار قبول کرے گا۔
Takhreej
(۵۶۲۲) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۳۵۰۵(انظر: ۱۴۶۲)
Explanation
فوائد:… مچھلی والے سے مراد یونس علیہ السلام ہیں، جن کو مچھلی نگل گئی تھی، اس واقعہ کا مفصل ذکر کتاب احادیث الانبیاء میں آئے گا۔
5622
Sahih