TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

دعاء اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب - دعاء اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب - Book 89 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 89 of Musnad Ahmad, with 16 chapters and 138 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

138 Hadith · 16 Chapters
ان دعاؤں کا بیان کہ جن کے ذریعے دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان میں سے مچھلی والے کی دعا اور یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ کی دعاہے
۔ (۵۶۲۲۔) عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((دَعْوَۃُ ذِی النُّونِ إِذْ ہُوَ فِی بَطْنِ الْحُوتِ {لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ} فَإِنَّہُ لَمْ یَدْعُ بِہَا مُسْلِمٌ رَبَّہُ فِی شَیْء ٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۶۲)
۔ سیدنا سعد بن وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مچھلی والے کی دعا، جبکہ وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے، یہ ہے:{لَا اِلٰہَ … مِنَ الظَّالِمِینَ} (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر تو ہی، تو پاک ہے، بیشک میںظالموں میں سے ہوں)۔ جو مسلمان بھی جس چیز میں اس دعا کے ذریعے اپنے ربّ کو پکارے گا، اللہ تعالیٰ اس کی پکار قبول کرے گا۔
Takhreej
(۵۶۲۲) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۳۵۰۵(انظر: ۱۴۶۲)
Explanation
فوائد:… مچھلی والے سے مراد یونس علیہ السلام ہیں، جن کو مچھلی نگل گئی تھی، اس واقعہ کا مفصل ذکر کتاب احادیث الانبیاء میں آئے گا۔
5622
Sahih
ان دعاؤں کا بیان کہ جن کے ذریعے دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان میں سے مچھلی والے کی دعا اور یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ کی دعاہے
۔ (۵۶۲۳۔) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی عَلٰی رَجُلٍ وَہُوَ یَقُولُ: یَا ذَا الْجِلَالِ وَالْإِکْرَامِ، فَقَالَ: ((قَدِ اسْتُجِیبَ لَکَ فَسَلْ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۰۶)۲۲۴۰۶
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ یہ کہہ رہا تھا: یَا ذَا الْجِلَالِ وَالْإِکْرَامِ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرے لیے قبول کیا جا چکا ہے، پس سوال کر۔
Takhreej
(۵۶۲۳) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۳۵۲۷ (انظر: ۲۲۰۵۶)
5623
Sahih
ان دعاؤں کا بیان کہ جن کے ذریعے دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان میں سے مچھلی والے کی دعا اور یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ کی دعاہے
۔ (۵۶۲۴۔) عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((أَلِظُّوا بِیَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ)) (مسند أحمد: ۱۷۷۳۹)
۔ سیدنا ربیعہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِکے ساتھ چمٹ جاؤ۔
Takhreej
(۵۶۲۴) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ النسائی فی الکبری : ۷۷۱۶، والطبرانی فی الکبیر : ۴۵۹۴(انظر: ۱۷۵۹۶)
5624
Sahih
ان دعاؤں کا بیان کہ جن کے ذریعے دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان میں سے مچھلی والے کی دعا اور یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ کی دعاہے
۔ (۵۶۲۵۔) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَبِی عَیَّاشٍ زَیْدِ بْنِ صَامِتٍ الزُّرَقِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَہُوَ یُصَلِّی وَہُوَ یَقُولُ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنَّ لَکَ الْحَمْدَ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، یَا مَنَّانُ! یَا بَدِیعَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ! یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ! فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ دَعَا اللّٰہَ بِاسْمِہِ الْأَعْظَمِ الَّذِی إِذَا دُعِیَ بِہِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِہِ أَعْطٰی۔)) (مسند أحمد: ۱۳۸۳۴)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا ابو عیاش زید بن صامت زرقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ نماز ادا کر رہے تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ … یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ! (اے اللہ! میں تجھ سے اس وجہ سے سوال کرتا ہوں کہ تیرے لیے تعریف ہے، تو ہی معبودِ برحق ہے، اے احسان کرنے والے! اے آسمانوں اور زمین کے مُوجِد! اے جلال و اکرام والے!) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے اللہ تعالیٰ کو ایسے اسمِ اعظم کے ساتھ پکارا کہ جب اس کے واسطے سے اس کو پکارا جائے تو وہ قبول کرتا ہے اور جب اس سے سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے۔
Takhreej
(۵۶۲۵) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الحاکم: ۱/ ۵۰۴(انظر: ۱۳۷۹۸)
5625
Sahih
ان دعاؤں کا بیان کہ جن کے ذریعے دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان میں سے مچھلی والے کی دعا اور یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ کی دعاہے
۔ (۵۶۲۶۔) عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْحَلْقَۃِ، وَرَجُلٌ قَائِمٌ یُصَلِّی، فَلَمَّا رَکَعَ وَسَجَدَ جَلَسَ وَتَشَہَّدَ ثُمَّ دَعَا فَقَالَ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنَّ لَکَ الْحَمْدَ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ)، الْحَنَّانُ بَدِیعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ، یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ، إِنِّی أَسْأَلُکَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَتَدْرُونَ بِمَا دَعَا۔)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، قَالَ:ٔ ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدْ دَعَا اللّٰہَ بِاسْمِہِ الْعَظِیمِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اَلْاَعْظَمِ) الَّذِی إِذَا دُعِیَ بِہِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِہِ أَعْطٰی۔)) (مسند أحمد: ۱۳۶۰۵)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا تھا، ساتھ ہی ایک آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا تھا، جب اس نے رکوع اور سجدہ کر لیا اور بیٹھ کر تشہد پڑھا تو پھر یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ… إِنِّی أَسْأَلُکَ(اے اللہ! بیشک میں تجھ سے اس بنا پر سوال کرتا ہوں کہ ساری تعریف تیرے لیے ہے، تو ہی معبودِ برحق ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، تو بے حد مہربان ہے، اے آسمانوں اور زمین کے مُوجِد! اے جلال و اکرام والے! اے زندہ! اے قائم رکھنے والے! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہے کہ اس آدمی نے کیا دعا کی ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے اللہ تعالیٰ سے اس کے ایسے اسم اعظم کے ساتھ دعا کی ہے کہ جب اس کو اس کے واسطے سے پکارا جاتا ہے تو وہ قبول کرتا ہے اور جب اس سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ عطا کرتا ہے۔
Takhreej
(۵۶۲۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ أبوداود: ۱۴۹۵، والنسائی: ۳/۵۲(انظر: ۱۳۵۷۰)
5626
Sahih
ان دعاؤں کا بیان کہ جن کے ذریعے دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان میں سے مچھلی والے کی دعا اور یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ کی دعاہے
۔ (۵۶۲۷۔) عَنْ عَبْد اللّٰہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا یَقُولُ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنِّی أَشْہَدُ أَنَّکَ أَنْتَ اللّٰہُ الَّذِی لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ: ((قَدْ سَأَلَ اللّٰہَ بِاسْمِ اللّٰہِ الْأَعْظَمِ الَّذِی إِذَا سُئِلَ بِہِ أَعْطٰی، وَإِذَا دُعِیَ بِہِ أَجَابَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۳۵۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو یہ کلمات ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنِّی …… وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ۔ (اے اللہ! میں تجھ کو یہ واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک تو وہ اللہ ہے کہ جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، تو یکتا و یگانہ اور بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنم دیا گیا اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے۔) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تحقیق اس نے اللہ تعالیٰ کو ایسے اسم اعظم کے واسطے سے پکارا ہے کہ جب اس سے اس کے ذریعے سوال کیا جاتا ہے تو وہ عطا کرتا ہے اور جب اس کو پکارا جاتا ہے تو وہ قبول کرتا ہے۔
Takhreej
(۵۶۲۷) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ أبوداود: ۱۴۹۳،والترمذی: ۳۴۷۵(انظر: ۲۲۹۶۵)
5627
Sahih
ان دعاؤں کا بیان کہ جن کے ذریعے دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان میں سے مچھلی والے کی دعا اور یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ کی دعاہے
۔ (۵۶۲۸۔) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیدَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((فِی ہٰذَیْنِ الْآیَتَیْنِ {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} وَ {الٓمٓ۔ اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} إِنَّ فِیہِمَا اسْمَ اللّٰہِ الْأَعْظَمَ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۱۶۳)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} اور {الٓمٓ۔ اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} ان دوآیتوں میں اللہ تعالیٰ کے اسمِ اعظم کا ذکر ہے۔
Takhreej
(۵۶۲۸) تخریج: حسن، قالہ الالبانی، أخرجہ أبوداود: ۱۴۹۶، والترمذی: ۳۴۷۸، وابن ماجہ: ۳۸۵۵(انظر: ۲۷۶۱۱)
Explanation
فوائد:… اصحاب ِ سنن کی روایت میں {الٓمٓ۔ اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ}کے ساتھ اس آیت کا ذکر ہے: {وَاِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَاحِدٌ لاَ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ}
5628
Sahih
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
۔ (۵۶۲۹۔) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَإِسْرَافِی، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ۔)) (مسند أحمد: ۷۹۰۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَإِسْرَافِی، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ (اے اللہ!میرے لیے بخش دے ان گناہوں کو، جو میں نے پہلے کیے، جو بعد میں کروں گا، جو مخفی طور پر کیے، جو ظاہری طور پر کیے، جو میں نے حد سے تجاوز کیا اور جن گناہوں کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو آگے کرنے والا ہے اور تو پیچھے کرنے والا ہے اور نہیں کوئی معبودِ برحق مگر تو ہی)۔
Takhreej
(۵۶۲۹) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ البخاری فی الادب المفرد : ۶۷۳، والطبرانی فی الدعائ : ۱۷۹۶(انظر: ۷۹۱۳)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم معصوم تھے، لیکن صفائے قلب اور دل سے مختلف عارضوں اور پردوں کو زائل کرنے کے لیے استغفار کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حضور دائمی ہو، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بشری تقاضوں کی طرف توجہ کرتے، جیسے کھانا پینا وغیرہ، جس سے کمال حضور میں کمی آجاتی، استغفار کے ذریعے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس صورت کا ازالہ کرتے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عبدیت اور تواضع کے اظہار کے لیے، ربّ تعالیٰ کے کرم کا فقیر بننے کے لیے اور اپنی امت کو تعلیم دینے کے لیے استغفار کیا کرتے تھے۔
5629
Sahih
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
۔ (۵۶۳۰۔) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْہُدٰی وَالتُّقٰی وَالْعِفَّۃَ وَالْغِنٰی)) (مسند أحمد: ۳۶۹۲)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، پاکدامنی اور غِنٰی کا سوال کرتا ہوں۔
Takhreej
(۵۶۳۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۲۱(انظر: ۳۶۹۲)
5630
Sahih
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
۔ (۵۶۳۱۔) (وَعَنْہٗ اَیْضًا) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((اَللّٰھُمَّ اَحْسَنْتَ خَلْقِیْ فَاَحْسِنْ خُلُقِیْ۔)) (مسند أحمد: ۳۸۲۳)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اَحْسَنْتَ خَلْقِیْ فَاَحْسِنْ خُلُقِیْ (اے اللہ! تو نے میری تخلیق کو اچھا بنایا ہے، پس تو میرے اخلاق کو بھی اچھا بنا دے)۔
Takhreej
(۵۶۳۱) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الطیالسی: ۳۷۴، وبن حبان: ۹۵۹ (انظر: ۳۸۲۳)
Explanation
فوائد:… جس حدیث میں اس دعا کو آئینہ کے ساتھ خاص کیا گیا ہے، اس کو ابن سنی نے روایت کیا ہے، لیکن وہ روایت ضعیف ہے۔ لہذا یہ دعا تو ثابت ہے، لیکن اس کا کسی موقع کے ساتھ خاص کرنا ثابت نہیں ہے، یہ الگ بات ہے کہ اپنی تخلیق کے حسن کو دیکھ کر یہ دعا پڑھ لینی چاہیے۔
5631
Sahih
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
۔ (۵۶۳۲۔) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِنْ کُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمَجْلِسِ یَقُولُ: ((رَبِّ اغْفِرْ لِی وَتُبْ عَلَیَّ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ۔)) مِائَۃَ مَرَّۃٍ۔ (مسند أحمد: ۴۷۲۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے اعداد و شمار کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک ایک مجلس میں یہ دعا سو سو بار پڑھ لیتے تھے: رَبِّ اغْفِرْ لِی وَتُبْ عَلَیَّ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ (اے میرے ربّ! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول کر، بیشک تو توبہ قبول کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
Takhreej
(۵۶۳۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابوداود: ۱۵۱۶، وابن ماجہ: ۳۸۱۴، والترمذی: ۳۴۳۴(انظر: ۴۷۲۶)
5632
Sahih
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
۔ (۵۶۳۳۔) عن أَبی صِرْمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَقُوْلُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ غِنَایَ وَغِنَی مَوْلَایَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۸۴۸)
۔ سیدنا ابو صرمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! بیشک میں تجھ سے اپنے (نفس کے) غِنٰی کا اور اپنے مولی کے غِنٰی کا سوال کرتا ہوں۔
Takhreej
(۵۶۳۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ لؤلؤۃ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۲۰۸، والطبرانی فی الکبیر : ۲۲/۸۲۸(انظر: ۱۵۷۵۶)
Explanation
فوائد:… مَوْلٰی سے مراد یہ افراد ہو سکتے ہیں: باپ، بھائی، بھتیجا، چچا، چچا زاد، تمام عصبہ، ساتھی، پڑوسی، حلیف، مدد گار، محبت کرنے والا، پیروی کرنے والا، سسرال۔ جتنے افراد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے مراد لیے جا سکتے ہوں گے، وہ مراد لیے جائیں گے، یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے لیے اور اپنے متعلقہ افراد کے لیے نفس کے غِنٰی کا سوال کر رہے ہیں، تاکہ حرص اور لالچ ختم ہو جائے۔
5633
Zaeef
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
۔ (۵۶۳۴۔) عَنْ زَیْدٍ أَبِی الْقَمُوصِ، عَنْ وَفْدِ عَبْدِ الْقَیْسِ أَنَّہُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِکَ الْمُنْتَخَبِینَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِینَ۔)) قَالَ: فَقَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا عِبَادُ اللّٰہِ الْمُنْتَخَبُونَ، قَالَ: ((عِبَادُ اللّٰہِ الصَّالِحُونَ۔)) قَالُوْا: فَمَا الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ قَالَ: ((الَّذِینَ یَبْیَضُّ مِنْہُمْ مَوَاضِعُ الطُّہُورِ۔)) قَالُوْا: فَمَا الْوَفْدُ الْمُتَقَبَّلُونَ؟ قَالَ: ((وَفْدٌ یَفِدُونَ مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ مَعَ نَبِیِّہِمْ إِلٰی رَبِّہِمْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) (مسند أحمد: ۱۵۶۳۹)
۔ ابو قموص زید سے مروی ہے کہ عبد القیس کا وفد بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِکَ الْمُنْتَخَبِینَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِینَ (اے اللہ! ہمیں اپنے ان بندوں میں سے بنا، جو منتخب ہوں، جن کی پیشانی اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں اور وہ مقبول وفد میں سے ہوں)۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اللہ کے منتخب بندے کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کے نیک بندے۔ لوگوں نے کہا: وہ لوگ کون ہوں گے، جن کی پیشانی اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جن کے وضو والے اعضاء چمکتے ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: مقبول وفد سے مراد کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اس امت کا وہ وفد ہے، جو اپنے نبی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف جائے گا۔
Takhreej
(۵۶۳۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن عبد اللہ العمری لم نعرفہ (انظر: ۱۵۵۵۴)
5634
Zaeef
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
۔ (۵۶۳۵۔) عَنْ أَبِی الْعَلَائِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَامْرَأَۃٍ مِنْ قَیْسٍ أَنَّہُمَا سَمِعَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ أَحَدُہُمَا: سَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی وَخَطَئِی وَعَمْدِی۔)) و قَالَ الْآخَرُ سَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ أَسْتَہْدِیکَ لِأَرْشَدِ أَمْرِی وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۳۷۷)
۔ سیدنا عثمان بن ابی العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور بنو قیس کی ایک خاتون سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا، ان میں سے ایک نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ ذَنْبِیْ وَخَطَئِیْ وَعَمْدِیْ (اے اللہ! میرے لیے بخش دے میرے گناہ، میں نے نادانستہ طور پر کیے اور جو جان بوجھ کر کیے )۔ دوسرے نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ أَسْتَہْدِیکَ لِأَرْشَدِ أَمْرِی وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ (اے اللہ! میں تجھ سے وہ ہدایت طلب کرتا ہوں، جو میرے معاملے میں سب سے زیادہ افضل ہو اور میں تجھ سے اپنے نفس کے شرّ سے پناہ طلب کرتا ہوں)۔
Takhreej
(۵۶۳۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابن حبان: ۹۰۱، والطبرانی فی الکبیر : ۸۳۶۹ (انظر: ۱۶۲۶۹)
5635
Sahih
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
۔ (۵۶۳۶۔) عَنْ أَبِی السَّلِیلِ، عَنْ عَجُوزٍ مِنْ بَنِی نُمَیْرٍ أَنَّہَا رَمَقَتْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یُصَلِّی بِالْأَبْطَحِ تُجَاہَ الْبَیْتِ قَبْلَ الْہِجْرَۃِ، قَالَ: فَسَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ خَطَئِیْ وَجَھْلِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۶۷۰)
۔ ابو سلیل بیان کرتے ہیں کہ بنو نمیر کی ایک بڑھیا خاتون سے مروی ہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غور سے دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت سے پہلے وادیٔ ابطح میں بیت اللہ کے سامنے نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ خَطَئِیْ وَجَھْلِیْ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، جو میں نے نادانستہ طور پر اور جہالت کی وجہ سے کیے)۔
Takhreej
(۵۶۳۶) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ (انظر: ۱۶۵۵۵)
5636
Sahih
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
۔ (۵۶۳۷۔) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِیِّ قَالَ: قَالَ مُعَاوِیَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلَی الْمِنْبَرِ: ((اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ، مَنْ یُّرِدْ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًا یُفَقِّہُّ فِی الدِّینِ۔)) سَمِعْتُ ہَؤُلَائِ الْکَلِمَاتِ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی ہٰذَا الْمِنْبَرِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۹۶۴)
۔ محمد بن کعب قرظی کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ کلمات منبر پر کہے: اے اللہ! تیری عطا کو کوئی روکنے والا نہیں اور تیری روکی ہوئی چیز کو کوئی عطا کرنے والا نہیں، اور دولت مند کو (اس کی دولت) تیرے عذاب سے نہیں بچا سکتی، اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں فقہ عطا کر دیتا ہے۔ پھر کہتے: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ کلمات سنے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس منبر پر ارشاد فرمائے تھے۔
Takhreej
(۵۶۳۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ مالک فی المؤطا : ۲/۹۰۰، والطبرانی فی الکبیر : ۱۹/۷۸۲ (انظر: ۱۶۸۳۹)
5637
Sahih
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
۔ (۵۶۳۸) عَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاۃَ الْقُرَشِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْعُو: ((اَللّٰھُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْأُمُورِ کُلِّہَا، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا، وَعَذَابِ الْآخِرَۃِ۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَسَمِعْتُہُ أَنَا مِنْ ہَیْثَمٍ۔ (مسند أحمد: ۱۷۷۷۸)
۔ سیدنا بسر بن ارطاۃ قریشی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْأُمُورِ کُلِّہَا، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا، وَعَذَابِ الْآخِرَۃِ (اے اللہ! ہمارے تمام امور میں ہمارے انجام کو اچھا کر دے اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے پناہ میں رکھنا۔)۔ ]
Takhreej
(۵۶۳۸) تخریج: ایوب بن میسرۃ فی عداد المجھولین، وبسر بن ارطاۃ مختلف فی صحبتہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۱۹۶، وفی الاوسط : ۱/۲۸۱، وفی الدعائ : ۱۴۳۶(انظر: ۱۷۵۲۸)
5638
Sahih
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
۔ (۵۶۳۹۔) عَنْ أَبِی مُوسٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْعُو بِہٰؤُلَائِ الدَّعَوَاتِ: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی خَطَایَایَ وَجَہْلِی وَإِسْرَافِی فِی أَمْرِی، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی جَدِّی وَہَزْلِی وَخَطَئِی وَعَمْدِی، وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۹۷۶)
۔ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعاکیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی خَطَایَایَ وَجَہْلِی وَإِسْرَافِی فِی أَمْرِی، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی جَدِّی وَہَزْلِی وَخَطَئِی وَعَمْدِی، وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدِیْ ((اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، جو میں نے جہالت کی وجہ سے کیے، جو میں نے حد سے تجاوز کیا اور جن گناہوں کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، اے اللہ! (تو میرے وہ گناہ بخش دے) جو میں نے سنجیدگی میں کیے، جو مذاق میں کیے، جو نادانستہ طور پر کیے اور جو جہالت کی وجہ سے کیے اور یہ سارے گناہ مجھ میں ہیں)۔
Takhreej
(۵۶۳۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۳۹۸، ومسلم: ۲۷۱۹ (انظر: ۱۹۷۳۸)
5639
Sahih
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
۔ (۵۶۴۰) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَدْعُوْ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَظُلْمَنَا وَہَزْلَنَا وَجِدَّنَا وَعَمْدَنَا، وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدَنَا۔)) (مسند أحمد: ۶۶۱۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر و ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَظُلْمَنَا وَہَزْلَنَا وَجِدَّنَا وَعَمْدَنَا، وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدَنَا۔ (اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے گناہ، ظلم، مذاق، سنجیدگی اور جان بوجھ کر کیے گئے گنا، اور یہ سارے ہمارے اندر ہیں )۔
Takhreej
(۵۶۴۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف ابن لھیعۃ، وحُیی بن عبد اللہ المعافری، أخرجہ ابن حبان: ۱۰۲۷ (انظر: ۶۶۱۷)
5640
Zaeef
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
۔ (۵۶۴۱۔) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِی وَتَرْحَمَنِی، وَإِذَا أَرَدْتَّ فِتْنَۃً فِی قَوْمٍ فَتَوَفَّنِی غَیْرَ مَفْتُونٍ، وَأَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُحِبُّکَ وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُنِی إِلٰی حُبِّکَ۔)) وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہَا حَقٌّ فَادْرُسُوہَا وَتَعَلَّمُوہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۶۰)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ …… وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُنِی إِلَی حُبِّکَ، (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے، مساکین سے محبت کرنے اور مجھے بخشنے اور مجھ پر رحم کرنے کا سوال کرتا ہوں، جب تو کسی قسم میں فتنہ نازل کرنا چاہے تو مجھے وفات دے دے، اس حال میں کہ میں اس فتنے سے بچا ہوا ہوں، میں تجھ سے تیری محبت کا، تجھ سے محبت کرنے والوں کی محبت کا اور تیری محبت کے قریب کر دینے والے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں)۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس دعا کے کلمات حق ہیں ، اس کو سیکھو اور اس کی تعلیم حاصل کرو۔
Takhreej
(۵۶۴۱) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ الترمذی: ۳۲۳۵(انظر: ۲۲۱۰۹)
5641
Sahih

Chapters

16
01
دعا کرنے کی ترغیب، اس کی فضیلت، اس کے آداب اور اس چیز کا بیان کہ دعا لازمی طور پر فائدہ دے گی
12 Hadith
02
دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونے کا، ہاتھ اٹھانے کا اور اس چیز کا کہ کس چیز سے دعا کو شروع کیا جائے، نیز دعا سے فراغت کے وقت ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کا بیان
11 Hadith
03
دعاء میں حضورِ قلب کی تاکید، عام دعا اور اپنی ذات سے آغاز کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
5 Hadith
04
اس چیز کے منع ہونے کا بیان کہ دعا کرنے والا یوں دعا کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے ، اسی طرح قبولیت کو مؤخر سمجھنا منع ہے اور دعا میں قافیہ بندی کی کراہت کا بیان
6 Hadith
05
دعا میں زیادتی کی کراہت کا بیان
2 Hadith
06
ان اوقات کا بیان، جن میں دعا قبول ہوتی ہے
4 Hadith
07
ان دعاؤں کا بیان کہ جن کے ذریعے دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان میں سے مچھلی والے کی دعا اور یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ کی دعاہے
7 Hadith
08
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
22 Hadith
09
ان دعاؤں کا بیان ، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے پڑھا کرتے تھے، ان میں سے ایک دعا یہ ہے: رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً
2 Hadith
10
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ
7 Hadith
11
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا اَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ…
18 Hadith
12
اس نابینا آدمی کی دعا، جس نے اپنی بینائی حاصل کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وسیلہ دیا تھا
3 Hadith
13
تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
23 Hadith
14
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے وجوب کا بیان
2 Hadith
15
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود چھوڑ دینے والے شخص کی مذمت کا بیان
2 Hadith
16
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت اور یہ عمل کرنے والے کے اجر کا کئی گناہ تک بڑھنا
12 Hadith
No chapter matched that.