۔ ابن قعقاع ایسے آدمی سے روایت کرتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نگاہ رکھتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاک میں رہتا تھا، وہ کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی، وَوَسِّعْ لِی فِی ذَاتِیْ، وَبَارِکْ لِی فِیمَا رَزَقْتَنِی۔ (اے اللہ! میرے لیے میرا گناہ بخش دے، میرے لیے میری ذات وسیع کر دے اور میرے لیے اس رزق میں برکت ڈال جو تو نے مجھے عطا کیا ہے)۔ وہ دوسرے دن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاڑ میں رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر یہی دعا پڑھی۔
Takhreej
(۵۶۴۲) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۳۱۱۴)
Explanation
فوائد:… ذات کی وسعت سے مراد اخلاق کی وسعت اور انشراح صدر ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ الَّذِینَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا، وَإِذَا أَسَائُ وْا اسْتَغْفَرُوا (اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں سے بنا جو نیکی کر کے خشک ہوتے ہیں اورجب ان سے برائی ہو جاتی ہے تو وہ استغفار کرتے ہیں)۔
Takhreej
(۵۶۴۳) اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۸۲۰(انظر: ۲۶۰۲۱)
۔ سیدنا ابن بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے سیدنااشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کیا گیا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْتَغْفِرُکَ… کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ(اے اللہ! میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں، ان گناہوں کی جو میں نے پہلے کیے، جو بعد میں کروں گا، جو مخفی طور پر کیے، جو ظاہری طور پر کیے، بیشک تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے)۔
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اے ہمارے ربّ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور مجھے سب سے زیادہ سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہے: اے میرے ربّ! بخش دے، رحم فرمااور سب سے سیدھے راستے کی طرف مجھے ہدایت دے۔
Takhreej
(۵۶۴۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان ، ولانقطاعہ، فان الحسن البصری لم یسمع من ام سلمۃ، أخرجہ ابویعلی: ۶۸۹۳(انظر: ۲۶۵۹۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: رَبِّ أَعِنِّی وَلَا تُعِنْ عَلَیَّ، …… وَاسْلُلْ سَخِیْمَۃَ قَلْبِیْ (اے میرے ربّ! میری مدد فرما، میرے خلاف مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف تائید نہ کر، میرے حق میں تدبیر کر، میرے خلاف تدبیر نہ کر، مجھے ہدایت دے، میرے لیے ہدایت کو آسان کر دے، مجھ پر سرکشی کرنے والے کے خلاف میری مدد فرما، اے میرے ربّ! مجھے بنا دے تیرا زیادہ شکر کرنے والا، تیرا زیادہ ذکر کرنے والا، تجھ سے زیادہ ڈرانے والا، تیری زیادہ اطاعت کرنے والا، تیری طرف عاجزی کرنے والا، تیرے لیے زیادہ آہ وزاری کرنے والا اور تیری طرف رجوع کرنے والا، اے میرے ربّ ! میری توبہ قبول فرما، میرا گناہ دھو ڈال، میری دعا قبول کر، میری دلیل کو ثابت کر دینا، میری زبان کو درستگی پر رکھنا اور میرے دل سے کینہ اور حسد نکال دے)۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَإِلَیْکَ أَنَبْتُ، وَبِکَ خَاصَمْتُ، أَعُوذُ بِعِزَّتِکَ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْ تُضِلَّنِی، أَنْتَ الْحَیُّ الَّذِی لَا تَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ یَمُوتُونَ (اے اللہ! میں تیرے لیے مطیع ہوا، تیرے ساتھ ایمان لایا، تجھ پر توکل کیا، تیری طرف رجوع کیا، تیرے ذریعے جھگڑا کیا، تیری عزت کی پناہ میں آتا ہوں، جبکہ تو ہی معبودِ برحق ہے، اس بات سے کہ تو مجھے گمراہ کر دے، تو وہ زندہ ہے کہ جس کو موت نہیں آئے گی، جبکہ جن ااور انسان مر جائیں گے)۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، چند دعائیہ کلمات ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنے، جب تک میں زندہ ہوں، ان کو نہیں چھوڑوں گا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی أُعْظِمُ شُکْرَکَ، وَأُکْثِرُ ذِکْرَکَ، وَأَتْبَعُ نَصِیحَتَکَ، وَأَحْفَظُ وَصِیَّتَکَ (اے اللہ! مجھے ایسا بنا دے کہ تیرا زیادہ شکریہ ادا کروں، کثرت سے تیرا ذکر کروں، تیری نصیحت کی پیروی کروں اور تیری وصیت کی حفاظت کروں)۔
۔ یحییٰ بن حسان سے مروی ہے کہ بنو کنانہ کے ایک آدمی نے کہا: میں نے فتح مکہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ دعا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ لَا تُخْزِنِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (اے اللہ! روزِ قیامت مجھے رسوا نہ کرنا)۔
۔ سیدناعبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ طَہِّرْنِی بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَائِ الْبَارِدِ، …… اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ ہٰؤُلَائِ الْأَرْبَعِ، اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ عِیْشَۃً تَقِیَّۃً وَمِیتَۃً سَوِیَّۃً وَمَرَدًّا غَیْرَ مُخْزٍ (اے اللہ! مجھے پاک کر دے برف، اولوں اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ، اے اللہ! میرے دل کو خطاؤں سے اس طرح پاک کر دے، جیسے تو سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کرتا ہے، میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری فرما، جیسے تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری فرمائی ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، اس دل سے جو ڈرتا نہیں، اس نفس سے جو سیر نہیں ہوتا، اس دعاء سے جو سنی نہیں جاتی، اس علم سے جو نفع نہیں دیتا، اے اللہ! میں تجھ سے ان چار چیزوں کی پناہ طلب کرتا ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے پاکیزہ زندگی، معتدل موت اور آخرت کی طرف ایسے لوٹنے کا سوال کرتا ہوں، جو رسوا کن نہ ہو)۔
۔ عبد العزیز سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: امام قتادہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے کون سی دعا کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دعا کو سب سے زیادہ پڑھا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (اے ہمارے ربّ! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا کر دے اور آخرت میں بھی اچھائی عطا کر دینا اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچانا)۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ خود جب کوئی مختصر دعا کرتے یا طویل دعا کرتے، وہ یہ دعا ضرور کرتے تھے۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہا سے مروی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مسلمان کی تیماری داری کی، وہ پرندے کے اس بچے کی طرح ہو چکا تھا، جو ابھی انڈے سے نکلا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو کوئی دعا یا سوال بھی کرتا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں یہ دعا کرتا تھا: اے اللہ! تو نے مجھے آخرت میںجو سزا دینی ہے، وہ دنیا میں ہی دے دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سُبْحَانَ اللّٰہِ (بڑا تعجب ہے تجھ پر)، تجھے اس چیز کی طاقت و قدرت حاصل نہیں ہے، تو نے یہ دعا کیوں نہ کی: اَللّٰھُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو شفا دے دی۔
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ (اے دلوں کو الٹ پلٹ کرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا)۔ ایک دن میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا دل بھی الٹ پلٹ ہو جاتے ہیں (کہ آپ کثرت سے یہ دعا کرتے ہیں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، بنو آدم میں سے ہر بشر کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں میں ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کو قائم رکھے گا اور چاہے تو ٹیڑھاکر دے گا، پس ہم اپنے رب سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کوٹیڑھا نہ کرے اور ہم اس سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی جناب سے رحمت عطا کر دے، بیشک وہ عطا کرنے والا ہے۔ میں (ام سلمہ) نے کہا: کیا آپ مجھے بھی کوئی دعا سکھلا دیں گے، تاکہ میں اس کے ساتھ اپنے نفس کے لیے دعا کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی کیوں نہیں، یہ دعا پڑھا کرو: اَللّٰھُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ! اِغْفِرْ لِی ذَنْبِی وَأَذْہِبْ غَیْظَ قَلْبِی وَأَجِرْنِی مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْیَیْتَنَا (اے اللہ! اے میرے ربّ! نبی محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے ربّ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، میرے دل کے غصے کو دور کر دے اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا دے، جب تک تو ہمیں زندہ رکھے)۔
۔ سیدنا نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر دل ربّ العالمین کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر وہ چاہے تو اس کو راہ راست پر رکھے اور اگر چاہے تو ٹیڑھا کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود یہ دعا کیا کرتے تھے: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلٰی دِینِکَ (اے دلوں کو الٹ پلٹ کرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ)۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رحمن کے ہاتھ میں ترازو ہے، وہ اس کو پست کرتا ہے اور بلند کرتا ہے۔
Takhreej
(۵۶۵۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۹۹(انظر: ۱۷۶۳۰)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول۱ آپ بھی یہ دعا کثرت سے کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر وہ چاہے تو اس کو ٹیڑھا کر دے اور چاہے تو سیدھا رکھے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اور گھر والوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ہمارے بارے میں ڈرتے ہیں، جبکہ ہم آپ کے ساتھ اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لائے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک دل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، وہ ان کو الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے۔
Takhreej
(۵۶۵۶) اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الترمذی: ۲۱۴۰، وابن ماجہ: ۳۸۳۴(انظر: ۱۳۶۹۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بنو آدم کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی مانند ہیں، وہ جیسے چاہے ان کو پھیر دیتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ اصْرِفْ قُلُوبَنَا إِلٰی طَاعَتِکَ (اے اللہ! دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے)۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بھی آسمان کی طرف سر اٹھایا تو یہ دعا کی: یَامُصَرِّفَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی طَاعَتِکَ (اے دلوں کو پھیر دینے والے! میرے دل کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے)۔
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (عربی میں دل کو) قَلْب اس لیے کہتے ہیں کہ یہ الٹ پلٹ ہوتا رہتا ہے، دل کی مثال درخت کے تنے کے ساتھ لٹکے ہوئے پر کی مانند ہے، جس کو ہوا سیدھا اور الٹا کرتی رہتی ہے۔
Takhreej
(۵۶۵۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، وقد اختلف فی رفعہ ووقفہ، ووقفہ ارجح، یزید بن ھارون سمع من الجریری بعد اختلاطہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۸۸(انظر: ۱۹۷۵۷)
Explanation
فوائد:… امام البانی نے سنن ابن ماجہ میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے، لیکن اس کے الفاظ یہ ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَثَلُ الْقَلْبِ مَثَلُ الرِّیشَۃِ تُقَلِّبُہَا الرِّیَاحُ بِفَلَاۃٍ۔)) … دل کی مثال اس پر کی طرح ہے، جس کو ہوائیں کسی بیابان میں الٹ پلٹ کر رہی ہوں۔
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عام دعا یہ ہوتی تھی: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا أَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا جَہِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ۔(اے اللہ! میرے لیے وہ گناہ بخش دے، جو میں نے نادانستہ طور پر کیے، جو جان بوجھ کر کیے، جو مخفی طور پر کیے، جو علانیہ طور پر کیے، جو جہالت کی وجہ سے کیے اور جو جاننے بوجھنے کے باوجود کیے)۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سلمان خیر رضی اللہ عنہ کو یہ نصیحت فرمائی: بیشک اللہ کا نبی تجھے چند کلمات عطا کرنا چاہتا ہے، تو ان کے ذریعے رحمن سے سوال کرے گا، ان کے ذریعے اس کی طرف رغبت کا اظہار کرے گا اور رات اور دن کو ان کا ورد کرے گا، کہہ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ صِحَّۃَ إِیمَانٍ وَإِیمَانًا فِی خُلُقٍ حَسَنٍ،وَنَجَاحًا یَتْبَعُہُ فَلَاحٌ یَعْنِی وَرَحْمَۃً مِنْکَ وَعَافِیَۃً وَمَغْفِرَۃً مِنْکَ وَرِضْوَانًا۔ (اے اللہ! میں تجھ سے کمالِ ایمان کا، حسن اخلاق والے ایمان کا اور کامیابی والا مقصد پورا ہونے کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے رحمت، عافیت، بخشش اور رضامندی کا سوال کرتا ہوں)۔
Takhreej
(۵۶۶۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن الولید فیہ ضعف، أخرجہ النسائی فی عمل الیوم واللیلۃ : ۲۱، ۵۶۹، والحاکم: ۱/ ۵۲۳(انظر: ۸۲۷۲)