TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

دعاء اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب - دعاء اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب - Book 89 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 89 of Musnad Ahmad, with 16 chapters and 138 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

138 Hadith · 16 Chapters
دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونے کا، ہاتھ اٹھانے کا اور اس چیز کا کہ کس چیز سے دعا کو شروع کیا جائے، نیز دعا سے فراغت کے وقت ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کا بیان
۔ (۵۶۰۲)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَاہِرًا یَدَیْہِ قَطُّ یَدْعُو عَلٰی مِنْبَرٍ وَلَا غَیْرِہِ، مَا کَانَ یَدْعُو إِلَّا یَضَعُ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ وَیُشِیرُ بِأُصْبُعِہِ إِشَارَۃً۔ (مسند أحمد: ۲۳۲۴۳)
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس طرح نہیں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مبالغہ کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کی ہو، نہ منبر پر دیکھا اور نہ کسی اور موقع پر، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح دعا کرتے تھے کہ اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر رکھ دیتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے۔
Takhreej
(۵۶۰۲) اسنادہ ضعیف لضعف عبد الرحمن بن معاویۃ المدنی، أخرجہ ابوداود: ۱۱۰۵(انظر: ۲۲۸۵۵)
Explanation
فوائد:… اس سے سابق احادیث سے یہ امور ثابت ہو چکے ہیں۔ شہادت کے وقت انگلی اٹھانا مراد ہے۔
5602
Zaeef
دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونے کا، ہاتھ اٹھانے کا اور اس چیز کا کہ کس چیز سے دعا کو شروع کیا جائے، نیز دعا سے فراغت کے وقت ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کا بیان
۔ (۵۶۰۳)۔ عن سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ الْأَسْلَمِیّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَسْتَفْتِحُ دُعَائً إِلَّا اسْتَفْتَحَہُ بِسُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلَی الْعَلِیِّ الْوَہَّابِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۶۶۳)
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بھی دعا کرنا شروع کرتے، اس کا آغاز ان الفاظ سے کرتے: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلَی الْعَلِیِّ الْوَہَّابِ (پاک ہے میرا ربّ، جو بلند و بالاہے، بلند رتبہ ہے اور عطا کرنے والا ہے)۔
Takhreej
(۵۶۰۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عمر بن راشد الیمامی، أخرجہ الحاکم: ۱/ ۴۹۸، وابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۲۶۶، والطبرانی فی الکبیر : ۶۲۵۳ (انظر: ۱۶۵۴۸)
5603
Zaeef
دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونے کا، ہاتھ اٹھانے کا اور اس چیز کا کہ کس چیز سے دعا کو شروع کیا جائے، نیز دعا سے فراغت کے وقت ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کا بیان
۔ (۵۶۰۴)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا دَعَا فَرَفَعَ یَدَیْہِ مَسَحَ وَجْھَہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۸۱۰۷)
۔ سیدنا یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب دعا کرتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے اور پھر (آخر میں) ان کو اپنے چہرے پر پھیرتے تھے۔
Takhreej
(۵۶۰۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حفص بن ھاشم ولسوء حفظ ابن لھیعۃ، أخرجہ ابوداود: ۱۴۹۲(انظر: ۱۷۹۴۳)
Explanation
فوائد:… ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے بعد ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کی روایات ضعیف ہیں، ایک حدیث مذکورہ بالا ہے، جس کے ضعیف ہونے کی دو وجوہات ہیں: مزید روایات درج ذیل ہیں۔
5604
Zaeef
دعاء میں حضورِ قلب کی تاکید، عام دعا اور اپنی ذات سے آغاز کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۵۶۰۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْقُلُوبُ أَوْعِیَۃٌ، وَبَعْضُہَا أَوْعٰی مِنْ بَعْضٍ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ أَیُّہَا النَّاسُ! فَاسْأَلُوہُ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَۃِ، فَإِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَجِیبُ لِعَبْدٍ دَعَاہُ عَنْ ظَہْرِ قَلْبٍ غَافِلٍ)) (مسند أحمد: ۶۶۵۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دل برتنوں کی طرح ہیں اور بعض دل بعض سے زیادہ یاد کرنے والے ہوتے ہیں، پس اے لوگو! جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس حال میں کہ تمھیں اس کی قبولیت کا یقین ہو، بیشک اللہ تعالیٰ اس بندے کی دعا قبول نہیں کرتا، جو غافل اور بے پرواہ دل سے دعا کرتا ہے۔
Takhreej
(۵۶۰۵) تخریج: صحیح بالشواھد دون قولہ: القلوب اوعیۃ … ایھا الناس وھذا اسناد فیہ ابن لھیعۃ سییء الحفظ، قالہ الالبانی (انظر: ۶۶۵۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں دعا کے دو آداب بیان کئے گئے ہیں: (۱)اللہ تعالیٰ سے جو دعا کی جائے، اس کے بارے میں یہ یقینِ محکم ہو کہ وہ ضرور قبول کرے گا اور (۲) دعا کو مقصد حیات سمجھ کر اس کے دوران بے پرواہی، بے دلی، سستی، کاہلی اور غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے مقام ومرتبہ اور عظمت و سطوت کے منافی ہے۔ مکمل توجہ اور انہماک کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارا جائے اور ایسا کرنا اس وقت تک ناممکن ہے، جب تک مسنون دعاؤں کا ترجمہ نہ آتا ہو یا جب تک دعا کو سمجھا نہ جا رہا ہو۔
5605
Sahih
دعاء میں حضورِ قلب کی تاکید، عام دعا اور اپنی ذات سے آغاز کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۵۶۰۶)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) اَنَّ رَجُلًا قَالَ: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلِمُحَمَّدٍ وَحْدَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ حَجَبْتَھَا عَنْ نَاسٍ کَثِیْرِیْنَ۔)) (مسند أحمد: ۶۸۴۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ایک آدمی نے یوں دعا کی: اے اللہ! صرف مجھے اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو بخش، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے تو اس کو بہت زیادہ لوگوں سے روک دیا ہے۔
Takhreej
(۵۶۰۶) حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن حبان: ۹۸۶، والبخاری فی الادب المفرد : ۶۲۶ (انظر: ۶۸۴۹)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے، بلکہ کائنات کی ہر چیز سے وسیع ہے۔ مطلوب یہ ہے کہ انسان اپنے لیے اور اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے دعا کرے اور کسی کے حق میں بد دعا نہ کرے۔
5606
Sahih
دعاء میں حضورِ قلب کی تاکید، عام دعا اور اپنی ذات سے آغاز کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۵۶۰۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ أُبَیٍّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا ذَکَرَ الْأَنْبِیَائَ بَدَأَ بِنَفْسِہِ فَقَالَ: ((رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْنَا وَعَلٰی ہُودٍ وَعَلٰی صَالِحٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۴۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابی ّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب انبیائے کرامhکا ذکر کرتے تو اپنی ذات سے شروع کرتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی رحمت ہو ہم پر، ہود علیہ السلام پر اور صالح علیہ السلام پر۔
Takhreej
(۵۶۰۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۸۵۲(انظر: ۲۱۱۳۰)
5607
Sahih
دعاء میں حضورِ قلب کی تاکید، عام دعا اور اپنی ذات سے آغاز کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۵۶۰۸)۔ عن طَلْحَۃَ بْن عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ کَرِیزٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّہُ یُسْتَجَابُ لِلْمَرْئِ بِظَہْرِ الْغَیْبِ لِأَخِیہِ، فَمَا دَعَا لِأَخِیہِ بِدَعْوَۃٍ إِلَّا قَالَ الْمَلَکُ: وَلَکَ بِمِثْلٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۱۰۹)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے بھائی کے لیے اس کی عدم موجودگی میں دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے، ایسی صورت میں جب وہ اپنے بھائی کے لیے دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: تیرے لیے بھی ایسے ہی ہو۔
Takhreej
(۵۶۰۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۳۲(انظر: ۲۷۵۸۸)
5608
Sahih
دعاء میں حضورِ قلب کی تاکید، عام دعا اور اپنی ذات سے آغاز کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۵۶۰۹)۔ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَانَتْ تَحْتَہُ أُمُّ الدَّرْدَائِ فَأَتَاہُمْ فَوَجَدَ أُمَّ الدَّرْدَائِ فَقَالَتْ لَہُ: أَتُرِیدُ الْحَجَّ الْعَامَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَادْعُ لَنَا بِخَیْرٍ، فَإِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُولُ: ((إِنَّ دَعْوَۃَ الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَۃٌ لِأَخِیہِ بِظَہْرِ الْغَیْبِ عِنْدَ رَأْسِہِ مَلَکٌ مُوَکَّلٌ بِہِ، کُلَّمَا دَعَا لِأَخِیہِ بِخَیْرٍ قَالَ آمِینَ وَلَکَ بِمِثْلٍ۔)) قَالَ: فَخَرَجْتُ إِلَی السُّوقِ فَلَقِیتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فَحَدَّثَنِی عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِثْلِ ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۸۱۱۰)
۔ سیدنا صفوان بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جن کی بیوی سیدہ ام درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تھیں، ابو زبیر کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا، لیکن سیدہ ام درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو گھر پایا، انھوں نے مجھ سے پوچھا: کیا تو اس سال حج کرنا چاہتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: تو پھر ہمارے لیے بھی خیر و بھلائی کی دعا کرنا، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کی اپنے بھائی کے حق میں اس کی عدم موجودگی میں کی گئی دعا مقبول ہوتی ہے، ایسی صورت میں اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر کیا جاتا ہے، جب بھی وہ اپنے بھائی کے لے خیر و بھلائی کی دعا کرتا ہے تو وہ فرشتہ آمین کہہ کر کہتا ہے: اور تجھے بھی ایسی ہی (خیر وبھلائی) نصیب ہو۔ جب میں بازار کی طرف نکلا تو سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میری ملاقات ہو گئی، انھوں نے بھی مجھے اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی۔
Takhreej
(۵۶۰۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۳۲(انظر: ۲۷۵۵۹)
Explanation
فوائد:… دوسرے مسلمان بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے لیے دعائے خیر کرنا افضل عمل ہے۔
5609
Sahih
اس چیز کے منع ہونے کا بیان کہ دعا کرنے والا یوں دعا کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے ، اسی طرح قبولیت کو مؤخر سمجھنا منع ہے اور دعا میں قافیہ بندی کی کراہت کا بیان
۔ (۵۶۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((إِذَا دَعَا أَحَدُکُمْ فَلَا یَقُولَنَّ: اَللّٰھُمَّ إِنْ شِئْتَ، وَلٰکِنْ لِیُعْظِمْ رَغْبَتَہُ، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یَتَعَاظَمُ عَلَیْہِ شَیْئٌ أَعْطَاہُ۔)) (مسند أحمد: ۹۹۰۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی دعا کرے تو وہ اس طرح نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو ایسا کر دے، بلکہ وہ اپنی رغبت پر زور دے (اور اصرار کے ساتھ دعا کرے)، کیونکہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے لیے دشوار اور بڑی نہیں ہے۔
Takhreej
(۵۶۱۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۳۳۹، ومسلم: ۲۶۷۹(انظر: ۹۹۰۰)
Explanation
فوائد:… دعا کرنے والے کو چاہیے کہ وہ قبولیت کی امید کے ساتھ دعا کرے اور رحمت سے مایوسی کوقریب تک نہ پھٹکنے دے، کیونکہ وہ ایسے رب کو پکار رہاہے، جو کریم ہے، اللہ تعالیٰ نے سب سے شریر مخلوق ابلیس کی بھی دعا قبول کر لی تھی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قَالَ اَنْظِرْنِیْٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ۔ قَالَ اِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ} … اس نے کہا: مجھے اس دن تک مہلت دے جب یہ اٹھائے جائیں گے۔ اللہ نے فرمایا: بے شک تو مہلت دیے جانے والوں سے ہے۔ (اعراف: ۱۴، ۱۵)
5610
Sahih
اس چیز کے منع ہونے کا بیان کہ دعا کرنے والا یوں دعا کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے ، اسی طرح قبولیت کو مؤخر سمجھنا منع ہے اور دعا میں قافیہ بندی کی کراہت کا بیان
۔ (۵۶۱۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی إِنْ شِئْتَ، اَللّٰھُمَّ ارْحَمْنِی إِنْ شِئْتَ، وَلٰکِنْ لِیَعْزِمِ الْمَسْأَلَۃَ فَإِنَّہُ لَا مُکْرِہَ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۹۹۶۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی ہر گز اس طرح دعا نہ کرے: اے اللہ! اگر تو چاہتا ہو تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھ پر رحم فرما، بلکہ وہ اصرار کے ساتھ اپنا سوال پیش کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
Takhreej
(۵۶۱۱) تخریج: انظر الحدیث السابق
5611
Sahih
اس چیز کے منع ہونے کا بیان کہ دعا کرنے والا یوں دعا کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے ، اسی طرح قبولیت کو مؤخر سمجھنا منع ہے اور دعا میں قافیہ بندی کی کراہت کا بیان
۔ (۵۶۱۲)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہٖ۔ (مسند أحمد: ۱۱۲۰۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۵۶۱۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۳۳۸، ومسلم: ۲۶۷۸(انظر: ۱۱۹۸۰)
5612
Sahih
اس چیز کے منع ہونے کا بیان کہ دعا کرنے والا یوں دعا کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے ، اسی طرح قبولیت کو مؤخر سمجھنا منع ہے اور دعا میں قافیہ بندی کی کراہت کا بیان
۔ (۵۶۱۳)۔ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَزَالُ الْعَبْدُ بِخَیْرٍ مَا لَمْ یَسْتَعْجِلْ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَیْفَ یَسْتَعْجِلُ؟ قَالَ: ((یَقُوْلُ: دَعَوْتُ رَبِّیْ فَلَمْ یَسْتَجِبْ لِیْ)) (مسند أحمد: ۱۳۰۳۹)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندہ خیر و بھلائی کے ساتھ رہتا ہے، جبکہ تک جلدی نہ کرے۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ جلدی کیسے کرتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے اپنے ربّ سے دعا کی، لیکن اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔
Takhreej
(۵۶۱۳) صحیح لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۲۸۶۵، والطبرانی فی الاوسط : ۲۵۱۸(انظر: ۱۳۰۰۸)
5613
Sahih
اس چیز کے منع ہونے کا بیان کہ دعا کرنے والا یوں دعا کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے ، اسی طرح قبولیت کو مؤخر سمجھنا منع ہے اور دعا میں قافیہ بندی کی کراہت کا بیان
۔ (۵۶۱۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہٗ یُسْتَجَابُ لِاَحَدِکُمْ مَالَمْ یُعَجِّلْ فَیَقُوْلُ قَدْ دَعَوْتُ رَبِّیْ فَلَمْ یَسْتَجِبْ لِیْ۔)) (مسند أحمد: ۹۱۳۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے، جب تک وہ جلدی نہ کرے، جلدی کرنے کی صورت یہ ہے کہ وہ یہ کہنا شروع کر دے کہ میں نے اپنے ربّ سے دعا کی، لیکن اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔
Takhreej
(۵۶۱۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۳۴۰، ومسلم: ۲۷۳۵(انظر: ۹۱۴۸)
Explanation
فوائد:… بندے کا کام ہے کہ امید اور یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مانگتا رہے، یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ جلدی قبول کرے یا بدیر اور یہ بھی ممکن ہے کہ بندے کی اس التجاء کو پورا نہ کرے لیکن اس کے عوض اس کو کوئی اورخیر عطا کر دے۔
5614
Sahih
اس چیز کے منع ہونے کا بیان کہ دعا کرنے والا یوں دعا کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے ، اسی طرح قبولیت کو مؤخر سمجھنا منع ہے اور دعا میں قافیہ بندی کی کراہت کا بیان
۔ (۵۶۱۵)۔ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ لِابْنِ أَبِی السَّائِبِ قَاصِّ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ ثَلَاثًا لَتُبَایِعَنِّی عَلَیْہِنَّ أَوْ لَأُنَاجِزَنَّکَ، فَقَالَ: مَا ہُنَّ بَلْ أَنَا أُبَایِعُکِ یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ، قَالَتْ: اجْتَنِبْ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَائِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابَہُ کَانُوا لَا یَفْعَلُونَ ذٰلِکَ، وَقَالَ إِسْمَاعِیلُ مَرَّۃً: فَقَالَتْ: إِنِّی عَہِدْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابَہُ وَہُمْ لَا یَفْعَلُونَ ذَاکَ، وَقُصَّ عَلَی النَّاسِ فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ مَرَّۃً، فَإِنْ أَبَیْتَ فَثِنْتَیْنِ فَإِنْ أَبَیْتَ فَثَلَاثًا، فَلَا تُمِلَّ النَّاسَ ہٰذَا الْکِتَابَ، وَلَا أُلْفِیَنَّکَ تَأْتِی الْقَوْمَ وَہُمْ فِی حَدِیثٍ مِنْ حَدِیثِہِمْ فَتَقْطَعُ عَلَیْہِمْ حَدِیثَہُمْ، وَلٰکِنْ اتْرُکْہُمْ فَإِذَا جَرَّئُ وْکَ عَلَیْہِ، وَأَمَرُوکَ بِہِ فَحَدِّثْہُمْ۔ (مسند أحمد: ۲۶۳۴۰)
۔ امام شعبی سے مروی ہے، سیدہ عائشہ نے اہل مدینہ کے واعظ ابن ابی سائب سے کہا: تین چیزوںکو یاد رکھ، تو ان پر ضرور ضرور میری بیعت کرے گا، یا میں تجھ سے جھگڑوں گی، اس نے کہا: اے ام المؤمنین! وہ کون سی چیزیں ہیں، میں بالکل آپ کی بیعت کروں گا، سیدہ نے کہا: (۱) دعا میں قافیہ بندی سے اجتناب کر، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابۂ کرام ایسا نہیں کرتے تھے۔ اسماعیل راوی کے الفاظ یہ ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کو ایسا کرتے ہوئے نہیں پایا، (۲) ہفتہ میں ایک بار لوگوں کو وعظ کرو، اگر تم انکار کرو تو دو بار کر دو، اگر تم یہ بات بھی نہ مانو تو تین بار کر دو، لیکن لوگوں کو اس کتاب سے اکتا نہ دینا، اور (۳) میں تجھے اس طرح کرتے ہوئے نہ پاؤں کہ تو کچھ لوگوں کے پاس جائے، جبکہ وہ اپنی گفتگو میں مصروف ہوں اور تو ان کی بات کو کاٹ دے، بلکہ تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دے، ہاں اگر وہ تجھ سے مطالبہ کریں اور تجھے حکم دیں تو تب ان سے گفتگو کر۔
Takhreej
(۵۶۱۵) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۵۸۲۰)
Explanation
فوائد:… دعا کے سلسلے میں قافیہ بندی سے اجتناب کرنا چاہیے، وگرنہ توجہ بٹ جائے گی اور خشوع و خضوع میں فرق آ جائے گا۔ لیکن بعض احادیث میں اس قسم کے ہم وزن جملے ملتے ہیں، جیسے : اَللّٰہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ، سَرِیْعَ الحِسَابِ، اِھْزِمِ الْأَحْزَابِ اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہ، صَدَقَ وَعْدَہُ ، وَ نَصَرَ عَبْدَہُ، وَ ھَزَمَ الأحْزَابَ وَحْدَہُ۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جملے اتفاقی طور پر ہم وزن ہو گئے ہیں، ان کے لیے کوئی تکلف نہیں کیا گیا۔
5615
Sahih
دعا میں زیادتی کی کراہت کا بیان
۔ (۵۶۱۶۔) عَنْ أَبِی نَعَامَۃَ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مُغَفَّلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سَمِعَ ابْنًا لَہُ یَقُولُ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْقَصْرَ الْاَبْیَضَ مِنَ الْجَنَّۃِ اِذَا دَخَلْتُھَا (وَفِی لَفْظٍ: اِنِّی اَسْئَلُکَ الْفِرْدَوْسَ وَکَذَا) عَنْ یَمِیْنِی، فَقَالَ: أَیْ بُنَیَّ سَلِ اللّٰہَ الْجَنَّۃَ، وَتَعَوَّذْ بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((یَکُونُ فِی ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ قَوْمٌ یَعْتَدُونَ فِی الدُّعَائِ وَالطُّہُورِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۹۲۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو یوں دعا کرتے ہوئے سنا: اے اللہ! میں تجھ سے جنت میں سفید محل کا سوال کرتا ہوں، جب میں اس میں داخل ہوں تو وہ میری دائیں جانب ہو، ایک روایت میں ہے: میں تجھ سے فردوس کا اور ایسی ایسی چیز کا سوال کرتا ہوں، تو انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے بیٹے! اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کر اور آگ سے پناہ مانگ، بیشک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے، جو دعا اور طہارت کے معاملے میں زیادتی کریں گے۔
Takhreej
(۵۶۱۶) تخریج: حدیث حسن لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۹۶(انظر: ۱۶۸۰۱)
5616
Sahih
دعا میں زیادتی کی کراہت کا بیان
۔ (۵۶۱۷۔) عَنْ مَوْلًی لِسَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سَمِعَ ابْنًا لَہُ یَدْعُو وَہُوَ یَقُولُ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ وَنَعِیمَہَا وَإِسْتَبْرَقَہَا وَنَحْوًا مِنْ ہٰذَا وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ النَّارِ وَسَلَاسِلِہَا وَأَغْلَالِہَا، فَقَالَ: لَقَدْ سَأَلْتَ اللّٰہَ خَیْرًا کَثِیرًا، وَتَعَوَّذْتَ بِاللّٰہِ مِنْ شَرٍّ کَثِیرٍ، وَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّہُ سَیَکُونُ قَوْمٌ یَعْتَدُونَ فِی الدُّعَائِ۔)) وَقَرَأَ ہٰذِہِ الْآیَۃَ {ادْعُوا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِینَ} وَإِنَّ حَسْبَکَ أَنْ تَقُولَ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ، وَمَا قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ النَّارِ، وَمَا قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ۔ (مسند أحمد: ۱۴۸۳)
۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا، اس کی نعمتوں کا، اس کے موٹے ریشم کا اور اس کی فلاں فلاں چیز کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں، آگ سے، اس کی زنجیروں سے اور اس کے طوقوں سے، انھوں نے اس سے کہا: تو نے اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ خیر کا سوال کیا ہے اور بہت زیادہ شرّ سے پناہ مانگی ہے جبکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: عنقریب ایسے لوگ آئیںگے، جو دعا میں زیادتی کریں گے۔ پھر انھوں نے اس آیت کی تلاوت کی: {اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِینَ} اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو، بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ (الاعراف: ۵۵) اور اپنے بیٹے سے کہا: تجھے یہ چیز کافی ہے کہ تو کہے: اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور اس قول اور عمل کا، جو مجھے اس کے قریب کر دے اور میں جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اس قول یا عمل سے بھی، جو جہنم کے قریب کر دے۔
Takhreej
(۵۶۱۷) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ بنحوہ ابوداود:۱۴۸۰(انظر: ۱۴۸۳)
Explanation
فوائد:… دعا میں زیادتی کی ایک مثال تو ان احادیث میں بیان کر دی گئی ہے، مزید مثالیں یہ ہیں: ناجائز چیز
5617
Sahih
ان اوقات کا بیان، جن میں دعا قبول ہوتی ہے
۔ (۵۶۱۸۔) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ اسْمُہُ کُلَّ لَیْلَۃٍ حِینَ یَبْقٰی ثُلُثُ اللَّیْلِ الْآخِرُ إِلٰی سَمَائِ الدُّنْیَا، فَیَقُولُ: مَنْ یَدْعُونِی فَأَسْتَجِیبَ لَہُ، مَنْ یَسْأَلُنِی فَأُعْطِیَہُ، مَنْ یَسْتَغْفِرُنِی فَأَغْفِرَ لَہُ، حَتّٰی یَطْلُعَ الْفَجْرُ)) فَلِذٰلِکَ کَانُوا یُفَضِّلُونَ صَلَاۃَ آخِرِ اللَّیْلِ عَلٰی صَلَاۃِ أَوَّلِہِ۔(مسند أحمد: ۷۵۸۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور کہتا ہے: کون مجھے پکارے گا کہ میں اس کی پکار کا جواب دوں، کون مجھ سے سوال کرے گا کہ میں اس کو عطا کروں، کون مجھ سے بخشش طلب کرے گا کہ میں اس کو بخش دوں، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ اسی لیے لوگ ابتدائے رات کی بجائے آخر ِ رات کی نماز کو ترجیح دیتے ہیں۔
Takhreej
(۵۶۱۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۹، ومسلم: ۷۵۸(انظر: ۷۵۹۲)
5618
Sahih
ان اوقات کا بیان، جن میں دعا قبول ہوتی ہے
۔ (۵۶۱۹۔) (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) فَذَکَرَ مِثْلَہٗ وَفِیْہِ: ((مَنْ ذَا الَّذِی یَسْتَرْزِقُنِی فَأَرْزُقَہُ، مَنْ ذَا الَّذِی یَسْتَکْشِفُ الضُّرَّ فَأَکْشِفَہُ عَنْہُ حَتّٰی یَنْفَجِرَ الْفَجْرُ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۰۰)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: کون مجھ سے رزق طلب کرے گا کہ میں اس کو رزق عطا کروں، کون مجھ سے تکلیف کے دور کرنے کا مطالبہ کرے گا کہ میں اس کی تکلیف کو دور کر دوں، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ ‘
Takhreej
(۵۶۱۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
5619
Sahih
ان اوقات کا بیان، جن میں دعا قبول ہوتی ہے
۔ (۵۶۲۰۔) عَنْ رِفَاعَۃَ الْجُھَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا مَضٰی نِصْفُ اللَّیْلِ أَوْ ثُلُثَا اللَّیْلِ یَنْزِلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا، فَیَقُولُ: لَا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِی أَحَدًا غَیْرِی مَنْ ذَا الَّذِی یَسْتَغْفِرُنِی فَأَغْفِرَ لَہُ، مَنْ ذَا الَّذِی یَدْعُونِی فَأَسْتَجِیبَ لَہُ، مَنْ ذَا الَّذِی یَسْأَلُنِی فَأُعْطِیَہُ حَتّٰی یَنْفَجِرَ الْفَجْرُ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۳۱۶)
۔ سیدنا رفاعہ جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب نصف یا دو تہائی رات گزر جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے اور کہتا ہے : میں اپنے بندوں کے متعلق اپنے علاوہ کسی سے سوال نہیں کرتا، (کیونکہ مجھے اپنے بندوں کے مکمل حالات معلوم ہیں) کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے، تاکہ میں اس کو بخش دوں، کون ہے جو مجھے پکارے، تاکہ میں اس کی پکار کا جواب دوں، کون ہے جو مجھ سے سوال کرے، تاکہ میں اس کو عطاء کروں، یہاں تک کہ فجر پھوٹ پڑتی ہے۔
Takhreej
(۵۶۲۰) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۱۲۹۱، والدارمی: ۱/ ۳۴۸، والبزار: ۳۵۴۳، والطبرانی فی الکبیر : ۴۵۵۹(انظر: ۱۶۲۱۵)
5620
Sahih
ان اوقات کا بیان، جن میں دعا قبول ہوتی ہے
۔ (۵۶۲۱۔) عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَنْزِلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْ کُلِّ لَیْلَۃٍ اِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا فَیَقُوْلُ: ھَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِیَہٗ، ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَلَہٗ؟ حَتّٰی یَطْلُعَ الْفَجْرُ)) (مسند أحمد: ۱۶۸۶۶)
۔ سیدنا جبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے اور کہتا ہے: کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ میں اس کو عطاء کروں، کیا کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔
Takhreej
(۵۶۲۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الدارمی: ۱/ ۳۴۷، والنسائی فی الکبری : ۱۰۳۲۱، والبزار: ۳۱۵۳(انظر: ۱۶۷۴۵)
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں اللہ تعالیٰ کی جتنی صفات بیان کی گئی ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی حقیقی صفات ہیں، جیسے اس کی شان کو لائق ہیں اور یہ مخلوق کی صفات کی طرح نہیں ہیں۔ یہ کیسا وقت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر آ کر اپنے بندوں کو آواز دیتے رہیں، لیکن آگے سے لبیک کہنے والا کوئی نہ ہو، جتنا یہ وقت عظیم اور قیمتی تھا، اتنا ہی لوگوں نے غفلت اور سستی کا مظاہرہ کیاہے، عصر حاضر میں تو بزرگ اور عمر رسیدہ لوگ بھی تہجد جیسے شرف سے محروم ہو گئے ہیں، باقیوں کو تو اس کا شعور ہی نہیں ہے۔
5621
Sahih

Chapters

16
01
دعا کرنے کی ترغیب، اس کی فضیلت، اس کے آداب اور اس چیز کا بیان کہ دعا لازمی طور پر فائدہ دے گی
12 Hadith
02
دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونے کا، ہاتھ اٹھانے کا اور اس چیز کا کہ کس چیز سے دعا کو شروع کیا جائے، نیز دعا سے فراغت کے وقت ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کا بیان
11 Hadith
03
دعاء میں حضورِ قلب کی تاکید، عام دعا اور اپنی ذات سے آغاز کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
5 Hadith
04
اس چیز کے منع ہونے کا بیان کہ دعا کرنے والا یوں دعا کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے ، اسی طرح قبولیت کو مؤخر سمجھنا منع ہے اور دعا میں قافیہ بندی کی کراہت کا بیان
6 Hadith
05
دعا میں زیادتی کی کراہت کا بیان
2 Hadith
06
ان اوقات کا بیان، جن میں دعا قبول ہوتی ہے
4 Hadith
07
ان دعاؤں کا بیان کہ جن کے ذریعے دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان میں سے مچھلی والے کی دعا اور یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ کی دعاہے
7 Hadith
08
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
22 Hadith
09
ان دعاؤں کا بیان ، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے پڑھا کرتے تھے، ان میں سے ایک دعا یہ ہے: رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً
2 Hadith
10
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ
7 Hadith
11
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا اَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ…
18 Hadith
12
اس نابینا آدمی کی دعا، جس نے اپنی بینائی حاصل کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وسیلہ دیا تھا
3 Hadith
13
تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
23 Hadith
14
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے وجوب کا بیان
2 Hadith
15
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود چھوڑ دینے والے شخص کی مذمت کا بیان
2 Hadith
16
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت اور یہ عمل کرنے والے کے اجر کا کئی گناہ تک بڑھنا
12 Hadith
No chapter matched that.