TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ - آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ - دعاء اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 10 of دعاء اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 16 · 7 Hadith
۔ (۵۶۵۳۔) حَدَّثَنِی شَہْرُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُکْثِرُ فِی دُعَائِہِ أَنْ یَقُولَ: ((اَللّٰھُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَوَإِنَّ الْقُلُوبَ لَتَتَقَلَّبُ، قَالَ: ((نَعَمْ، مَا مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ بَشَرٍ إِلَّا أَنَّ قَلْبَہُ بَیْنَ أُصْبُعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللّٰہِ، فَإِنْ شَائَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ أَقَامَہُ وَإِنْ شَائَ اللّٰہُ أَزَاغَہُ، فَنَسْأَلُ اللّٰہَ رَبَّنَا أَنْ لَا یُزِیغَ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَانَا، وَنَسْأَلُہُ أَنْ یَہَبَ لَنَا مِنْ لَدُنْہُ رَحْمَۃً، إِنَّہُ ہُوَ الْوَہَّابُ۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَلَا تُعَلِّمُنِی دَعْوَۃً أَدْعُو بِہَا لِنَفْسِی؟ قَالَ: ((بَلٰی، قُولِی اَللّٰھُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ! اِغْفِرْ لِی ذَنْبِی وَأَذْہِبْ غَیْظَ قَلْبِی وَأَجِرْنِی مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْیَیْتَنَا۔))(مسند أحمد: ۲۷۱۱۱)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ (اے دلوں کو الٹ پلٹ کرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا)۔ ایک دن میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا دل بھی الٹ پلٹ ہو جاتے ہیں (کہ آپ کثرت سے یہ دعا کرتے ہیں)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، بنو آدم میں سے ہر بشر کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں میں ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کو قائم رکھے گا اور چاہے تو ٹیڑھاکر دے گا، پس ہم اپنے رب سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کوٹیڑھا نہ کرے اور ہم اس سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی جناب سے رحمت عطا کر دے، بیشک وہ عطا کرنے والا ہے۔ میں (ام سلمہ) نے کہا: کیا آپ مجھے بھی کوئی دعا سکھلا دیں گے، تاکہ میں اس کے ساتھ اپنے نفس کے لیے دعا کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی کیوں نہیں، یہ دعا پڑھا کرو: اَللّٰھُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ! اِغْفِرْ لِی ذَنْبِی وَأَذْہِبْ غَیْظَ قَلْبِی وَأَجِرْنِی مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْیَیْتَنَا (اے اللہ! اے میرے ربّ! نبی محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے ربّ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، میرے دل کے غصے کو دور کر دے اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا دے، جب تک تو ہمیں زندہ رکھے)۔
Takhreej
(۵۶۵۳) تخریج: بعضہ صحیح بشواھدہ، وھذا اسناد ضعیف لضعف شھر بن حوشب، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۳/ ۷۸۵(انظر: ۲۶۵۷۶)
5653
Zaeef
۔ (۵۶۵۴۔) عن النَّوَّاس بْن سَمْعَانَ الْکِلَابِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا مِنْ قَلْبٍ إِلَّا وَہُوَ بَیْنَ أُصْبُعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ رَبِّ الْعَالَمِینَ إِنْ شَائَ أَنْ یُقِیمَہُ أَقَامَہُ، وَإِنْ شَائَ أَنْ یُزِیغَہُ أَزَاغَہُ۔)) وَکَانَ یَقُولُ: ((یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلٰی دِینِکَ، وَالْمِیزَانُ بِیَدِ الرَّحْمٰنِ عَزَّ وَجَلَّ یَخْفِضُہُ وَیَرْفَعُہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۷۸۰)
۔ سیدنا نواس بن سمعان کلابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر دل ربّ العالمین کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر وہ چاہے تو اس کو راہ راست پر رکھے اور اگر چاہے تو ٹیڑھا کر دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود یہ دعا کیا کرتے تھے: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلٰی دِینِکَ (اے دلوں کو الٹ پلٹ کرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ)۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رحمن کے ہاتھ میں ترازو ہے، وہ اس کو پست کرتا ہے اور بلند کرتا ہے۔
Takhreej
(۵۶۵۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۹۹(انظر: ۱۷۶۳۰)
Explanation
فوائد:… عمل اور رزق کا ترازومراد ہے۔
5654
Sahih
۔ (۵۶۵۵۔) عَن عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَعَوَاتٌ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکْثِرُ أَنْ یَدْعُوَ بِہَا: ((یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّکَ تُکْثِرُ تَدْعُو بِہٰذَا الدُّعَائِ، فَقَالَ: ((إِنَّ قَلْبَ الْآدَمِیِّ بَیْنَ أُصْبُعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا شَائَ أَزَاغَہُ وَإِذَا شَائَ أَقَامَہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۱۱۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول۱ آپ بھی یہ دعا کثرت سے کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر وہ چاہے تو اس کو ٹیڑھا کر دے اور چاہے تو سیدھا رکھے۔
Takhreej
(۵۶۵۵) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ النسائی فی الکبری : ۷۷۳۷ (انظر: ۲۴۶۰۴)
5655
Sahih
۔ (۵۶۵۶۔) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکْثِرُ أَنْ یَقُولَ: ((یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔)) فَقَالَ لَہُ أَصْحَابُہُ وَأَہْلُہُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتَخَافُ عَلَیْنَا وَقَدْ آمَنَّا بِکَ وَبِمَا جِئْتَ بِہِ، قَالَ: ((إِنَّ الْقُلُوبَ بِیَدِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یُقَلِّبُہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۳۷۳۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ اور گھر والوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ہمارے بارے میں ڈرتے ہیں، جبکہ ہم آپ کے ساتھ اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لائے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک دل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، وہ ان کو الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے۔
Takhreej
(۵۶۵۶) اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الترمذی: ۲۱۴۰، وابن ماجہ: ۳۸۳۴(انظر: ۱۳۶۹۶)
5656
Sahih
۔ (۵۶۵۷۔) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ قُلُوبَ بَنِی آدَمَ کُلَّہَا بَیْنَ إِصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمٰنِ عَزَّ وَجَلَّ کَقَلْبٍ وَاحِدٍ، یُصَرِّفُ کَیْفَ یَشَائُ۔)) ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ اصْرِفْ قُلُوبَنَا إِلٰی طَاعَتِکَ۔)) (مسند أحمد: )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بنو آدم کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی مانند ہیں، وہ جیسے چاہے ان کو پھیر دیتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ اصْرِفْ قُلُوبَنَا إِلٰی طَاعَتِکَ (اے اللہ! دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے)۔
Takhreej
(۵۶۵۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۵۴(انظر: ۶۵۶۹)
5657
Sahih
۔ (۵۶۵۸۔) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَا قَالَتْ: مَا رَفَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ إِلَّا قَالَ: ((یَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی طَاعَتِکَ۔)) (مسند أحمد: ۹۴۱۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب بھی آسمان کی طرف سر اٹھایا تو یہ دعا کی: یَامُصَرِّفَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی طَاعَتِکَ (اے دلوں کو پھیر دینے والے! میرے دل کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے)۔
Takhreej
(۵۶۵۸) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۹۴۲۰)
5658
Sahih
۔ (۵۶۵۹۔) عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّمَا سُمِّیَ الْقَلْبُ مِنْ تَقَلُّبِہِ إِنَّمَا مَثَلُ الْقَلْبِ کَمَثَلِ رِیشَۃٍ مُعَلَّقَۃٍ فِی أَصْلِ شَجَرَۃٍ یُقَلِّبُہَا الرِّیحُ ظَہْرًا لِبَطْنٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۹۹۵)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (عربی میں دل کو) قَلْب اس لیے کہتے ہیں کہ یہ الٹ پلٹ ہوتا رہتا ہے، دل کی مثال درخت کے تنے کے ساتھ لٹکے ہوئے پر کی مانند ہے، جس کو ہوا سیدھا اور الٹا کرتی رہتی ہے۔
Takhreej
(۵۶۵۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، وقد اختلف فی رفعہ ووقفہ، ووقفہ ارجح، یزید بن ھارون سمع من الجریری بعد اختلاطہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۸۸(انظر: ۱۹۷۵۷)
Explanation
فوائد:… امام البانی نے سنن ابن ماجہ میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے، لیکن اس کے الفاظ یہ ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَثَلُ الْقَلْبِ مَثَلُ الرِّیشَۃِ تُقَلِّبُہَا الرِّیَاحُ بِفَلَاۃٍ۔)) … دل کی مثال اس پر کی طرح ہے، جس کو ہوائیں کسی بیابان میں الٹ پلٹ کر رہی ہوں۔
5659
Zaeef

Chapters

16
01
دعا کرنے کی ترغیب، اس کی فضیلت، اس کے آداب اور اس چیز کا بیان کہ دعا لازمی طور پر فائدہ دے گی
12 Hadith
02
دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونے کا، ہاتھ اٹھانے کا اور اس چیز کا کہ کس چیز سے دعا کو شروع کیا جائے، نیز دعا سے فراغت کے وقت ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کا بیان
11 Hadith
03
دعاء میں حضورِ قلب کی تاکید، عام دعا اور اپنی ذات سے آغاز کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
5 Hadith
04
اس چیز کے منع ہونے کا بیان کہ دعا کرنے والا یوں دعا کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے ، اسی طرح قبولیت کو مؤخر سمجھنا منع ہے اور دعا میں قافیہ بندی کی کراہت کا بیان
6 Hadith
05
دعا میں زیادتی کی کراہت کا بیان
2 Hadith
06
ان اوقات کا بیان، جن میں دعا قبول ہوتی ہے
4 Hadith
07
ان دعاؤں کا بیان کہ جن کے ذریعے دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان میں سے مچھلی والے کی دعا اور یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ کی دعاہے
7 Hadith
08
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
22 Hadith
09
ان دعاؤں کا بیان ، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے پڑھا کرتے تھے، ان میں سے ایک دعا یہ ہے: رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً
2 Hadith
10
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ
7 Hadith
11
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا اَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ…
18 Hadith
12
اس نابینا آدمی کی دعا، جس نے اپنی بینائی حاصل کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وسیلہ دیا تھا
3 Hadith
13
تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
23 Hadith
14
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے وجوب کا بیان
2 Hadith
15
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود چھوڑ دینے والے شخص کی مذمت کا بیان
2 Hadith
16
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت اور یہ عمل کرنے والے کے اجر کا کئی گناہ تک بڑھنا
12 Hadith
No chapter matched that.