TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6127 - زمین کو اس کی بعض پیداوار کے عوض کرائے پر دینے سے منع کرنے والوں اور سونے اور چاندی کے عوض جائز سمجھنے والوں کی دلیل کا بیان - مساقات، مزارعت اور زمین کو کرائے پر دینے کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 6 in this chapter
زمین کو اس کی بعض پیداوار کے عوض کرائے پر دینے سے منع کرنے والوں اور سونے اور چاندی کے عوض جائز سمجھنے والوں کی دلیل کا بیان
۔ (۶۱۲۷)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ أَنَّ أَصْحَابَ الْمَزَارِعِ فِیْ زَمَانِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانُوْا یُکْرُوْنَ مَزَارِعَہُمْ بِمَا یَکُوْنُ عَلٰی السَّوَاقِی مِنَ الزَّرْعِ وَمَا سَعِدَ بِالْمَائِ مِمَّا حَوْلَ البِئْرِ فَجَائُ وْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاخْتَصَمُوْا فِیْ بَعْضِ ذٰلِکَ فَنَہَاھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُکْرُوْا بِذٰلِکَ، وَقَالَ: ((اَکْرُوْا بِالذَّھَبِ وَالفِّضَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۲)
۔ سیدنا سعدبن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ کھیتیوں کے مالکان عہد ِ نبوی میں اپنی کھیتیاں اس قطعۂ زمین کے عوض کرائے پردیتے تھے، جہاں پانی والی نالیاں بہتی تھیںیا کنویں کے ارد گرد جہاں پانی خود بخود چڑھ آتاتھا، لیکن جب وہ بعض معاملات میں جھگڑا لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اس طرح زمین کرائے پر دینے سے منع کر دیا اور فرمایا: سونے اورچاندی کے عوض زمین کرائے پردیاکرو۔
6127
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۶۱۲۷) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۳۹۱، والنسائی: ۷/ ۴۱(انظر: ۱۵۴۲)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… اس باب سے معلوم ہوا کہ زمین کو کرائے پر دینے سے منع کرنے کی وجہ یہ تھی کہ مالک اپنی زمین کی اجرت میں زمین کے بعض حصے اپنے لیے خاص کر لیتا تھا، جس سے بسا اوقات مالک کو زیادہ فائدہ ہو جاتا تھا اور مُزَارِع کو نقصان اور کبھی اس کے برعکس۔ دوسرایہ مسئلہ ثابت ہوا کہ زمین ٹھیکے پر دینا درست ہے، مثلا آٹھ ہزار روپے کے عوض ایک سال کے لیے ایک ایکڑ زمین کرائے پر دینا۔

Related Chapters

193
1
تمام طریقوں سے زمین کو کرائے پر دینے والوں کی دلیل کا اور ممانعت کو نہی تنزیہی پر محمول کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
2
زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
3
مزارعت (زمین کو پیدا وار کی متعین مقدار کے عوض )اور مؤاجرت (نقدی کے عوض کرائے پر دینے )کا حکم
Sahih Muslim
4
Chapter: What Has Been Related About The One Who Gives A Bribe And The One Who Takes A Bribe For Judgement
باب: فیصلے میں رشوت دینے اور لینے والوں پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
5
سفر میں روزہ نہ رکھنے کو افضل قرار دینے والوں کے دلائل کا بیان
Musnad Ahmad
6
ہر وقت میں طواف کے جائز ہونے کا اور بعض اوقات میں اس کو مکروہ سمجھنے والوں کا بیان
Musnad Ahmad
7
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
8
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
Musnad Ahmad
9
پرنالوں کا پانی سڑک کی طرف نکال دینے کا جواز، لیکن شرط یہ ہے کہ گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو
Musnad Ahmad
10
محاربین اور راستوں کو غیر محفوظ کر دینے والوں کا بیان
Musnad Ahmad
11
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
Musnad Ahmad
12
(55) CHAPTER. Ushr is to be imposed on the yield of the land which is either irrigated by rain or the running water channel.
اس زمین کی پیداوار سے دسواں حصہ لینا ہو گا جس کی سیرابی بارش یا جاری ( نہر ‘ دریا وغیرہ ) پانی سے ہوئی ہو اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے شہد میں زکوٰۃ کو ضروری نہیں جانا
Sahih Bukhari
13
Chapter: Differences between mujtahids
اجتہاد (یعنی دین کے احکام سمجھنے کی بہترین کاوش ) کرنے والوںمیں باہمی اختلاف
Sahih Muslim
14
CHAPTER: Praying Behind People Who Are talking Or Sleeping.
باب: بات کرنے والوں اور سونے والوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
15
CHAPTER: Blessing Of The Collector Of Zakat To The Payers.
باب: زکاۃ وصول کرنے والا زکاۃ دینے والوں کے لیے دعا کرے ۔
Sunnan Abu Dawood
16
CHAPTER: On Sending A Person Carrying Good News.
باب: جنگ میں فتح کی خوشخبری دینے والوں کو بھیجنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
17
CHAPTER: Adherence To The Sunnah.
باب: سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
18
تہائی یا چوتھائی پیداوار پر کھیت کو بٹائی پر دینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
19
باب: زکاۃ نہ دینے والوں پر وارد وعید کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
(31)Chapter: What Has Been Related About: Protect The Heels From The Fire.
باب: وضو میں ایڑیاں دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About: For The People OF Every Land There Is A Sighting
باب: ہر شہر والوں کے لیے انہیں کے چاند دیکھنے کا اعتبار ہو گا
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Preparing Food For The Family OF The Deceased
باب: میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Meet The Owners Of The Goods
باب: مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے جا کر ملنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Someone Who Purchases A Slave And He Profited From him, Then He Found A Defect In Him
باب: غلام خریدے اور اس سے مزدوری کرائے پھر اس میں کوئی عیب پا جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About One Who Kills A Mu'ahid
باب: ذمی اور معاہدہ والوں کے قاتل کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Two Who Shun Each Other
باب: دو باہم قطع تعلق کرنے والوں کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Exhortation Regarding One Who Seeks Knowledge
باب: علم (دین) حاصل کرنے والوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: Whoever Calls To Guidance And Is Followed Or To Misguidance
باب: ہدایت اور گمراہی کی طرف بلانے والوں کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related Concerning The Group That Sits to Remember Allah The Mighty And Sublime, What Virtues They Have
باب: ایک جگہ بیٹھ کر ذکر الٰہی کرنے والوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
Jam e Tirmazi
31
باب: بیعت رضوان والوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
باب: صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان
Jam e Tirmazi
33
بَاب قتل أهل الرِّدَّة والسعاة بِالْفَسَادِ
مرتدوں اور فساد پھیلانے والوں کو قتل کرنے کا بیان
Mishkat
34
بَاب صفةالنار وَأَهْلهَا
جہنم اور جہنم والوں کا بیان
Mishkat
35
بَابِ مَنَاقِبِ أَهْلِ
رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کے مناقب کا بیان
Mishkat
36
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
Musnad Ahmad
37
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
38
ان لوگوں کی دلیل کا بیان کہ جنھوں نے تارکِ نماز کو کافر نہیں قرار دیا اور اس کے لیے وہی امید رکھی جو کبیرہ گناہوں والوں کے لیے رکھی جاتی ہے
Musnad Ahmad
39
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
40
مساجد میں بیٹھنے اور ان کی طرف جانے کی فضیلت اور ان سے قریب محلے والوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
41
قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں اور ان پر چراغ جلانے والوں پر لعنت کا بیان
Musnad Ahmad
42
اس بات کا بیان کہ جب ایک علاقے میں چاند نظر آ جائے اور دوسرے میں نہ آئے تو کیا دوسرے علاقے والوں کے لیے روزہ رکھنا لازم ہو گا یا نہیں؟
Musnad Ahmad
43
اونٹ کا دس افراد کو، گائے کا سات افراد کو اور ایک بکری کا ایک گھر والوں کو بطورِ قربانی کفایت کرنا
Musnad Ahmad
44
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
45
بحری جہاد کرنے والوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
46
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
Musnad Ahmad
47
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
48
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
Musnad Ahmad
49
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
Musnad Ahmad
50
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

18
Musnad Ahmad
6117
۔ (۶۱۱۷)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ الْأَرْضَ کَانَتْ تُکْرٰی عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا عَلٰی الْأَرْبِعَائِ وَشَیْئٍ مِنَ التِّبْنِ لَا أَدْرِیْ کَمْ ھُوَ، وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یُکْرِیْ أَرْضَہُ فِیْ عَہْدِ اَبِیْ بَکْرٍ وَعَہْدِ عُمَرَ وَعَہْدِ عُثْمَانَ وَ صَدْرِ إِمَارَۃِ مُعَاوِیَۃَ حَتّٰی اِذَا کَانَ فِیْ آخِرِھَا بَلَغَہُ أَنَّ رَافِعًا یُحَدِّثُ فِیْ ذٰلِکَ بنَہْیِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتَاہُ وَأَنَا مَعَہُ فَسَأَلَہُ فقَالَ: نَعَمْ نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ کِرَائَ الْمَزَارِعِ، فَتَرَکَہَا ابْنُ عُمَرُ فَکَانَ لَا یُکْرِیْہَا فَکَانَ اِذَا سُئِلَ یَقُوْلُ: زَعَمَ ابْنُ خَدِیْجٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ کِرَائِ الْمَزَارِعِ۔ (مسند احمد: ۴۵۰۴)
۔ امام نافع سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے معلوم ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میںچھوٹی نہروں کے پاس اگنے والی فصل اور چارے کے کچھ مقدار کے عوض زمینوں کو کرائے پر دیا جاتا تھا، میںیہ نہیں جانتا کہ چارے کی مقدار کتنی ہوتی تھی۔ اور سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سیدنا ابو بکر ، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان کے زمانوں میں اور سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے عہد کے شروع میں اپنی زمین کو کرائے پر دیا کرتے تھے۔ جب سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا آخر دور جاری تھا کہ انہیںیہ بات موصول ہوئی کہ سیدنا رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زمین کو اس طرح کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، پس وہ ان کے پاس آئے، جبکہ میں نافع بھی ان کے ساتھ تھا اور اُن سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، پس اس کے بعد سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ کام ترک کردیا اور کرائے پر زمین دینے کو چھوڑ دیا، پھر جب ان سے اس بارے میں پوچھا کیا جاتا تھا تو وہ کہتے ہیں: سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کاخیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔
Musnad Ahmad
6122
۔ (۶۱۲۲)۔ عَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ قَیْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ کِرَائِ الْمَزَارِعِ، قَالَ: قُلْتُ: بِالذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ؟ قَالَ: لَا، اِنَّمَا نَہٰی عَنْہُ بِبَعْضِ مَا یَخْرُجُ مِنْہَا، فَأَمَّا بِالذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ فَـلَا بَأْسَ بِہِ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۹۰)
۔ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھیتیوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، میں حنظلہ نے کہا: اگر سونے اور چاندی کے عوض میں دے تو؟ انہوںنے کہا: جی نہیں، صرف زمین کو اس کی پیداوار کے بعض حصے کے عوض میں دینے سے منع کیا گیا ہے، سونے اور چاندی کے عوض زمین کو کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Musnad Ahmad
6125
۔ (۶۱۲۵)۔ عَنْ حَنْظَلَۃَ الزُّرَقِیِّ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ أَنَّ النَّاسَ کَانُوْا یُکْرُوْنَ الْمَزَارِعَ فِیْ زَمَانِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْمَاذِیَانَاتِ وَمَا سَقَی الرَّبِیْعُ وَشَیْئٍ مِنَ التِّبْنِ، فَکَرِہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کِرَائَ الْمَزَارِعِ بِہٰذَا وَنَہٰی عَنْہَا، وَقَالَ رَافِعٌ: وَلَا بَأْسَ بِکِرَائِہَا بِالدَّرَاھِمِ وَالدَّنَانِیْرِ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۰۲)
۔ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں بڑی نہروں کے پاس والی فصل، چھوٹی نہروں سے سیراب ہونے والی فصل اور کچھ چارے یا بھوسے کے عوض کھیتوں کو کرائے پر دیتے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس طریقے سے کھیتوں کو کرائے پر دینے کو ناپسند کیا اور اس سے منع فرما دیا، پھر سیدنا رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: البتہ درہم و دینار کے عوض کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Musnad Ahmad
6308
۔ (۶۳۰۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ اَعْطٰی اُمَّہَ حَدِیْقَۃً مِنْ نَخْلٍ حَیَاتَہَا، فَمَاتَتْ فَجَائَ اِخْوَتُہُ فَقَالُوْا: نَحْنُ فِیْہِ شَرْعٌ سَوَائٌ، فَأَبٰی فَاخْتَصَمُوْا إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَسَمَہَا بَیْنَہُمْ مِیْرَاثًا۔ (مسند احمد: ۱۴۲۴۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ ایک انصاری نے اپنی ماں کو اس کی زندگی بھر کے لیے کھجوروں کا ایک باغ دیا، جب اس کی ماں کی وفات ہوئی تو اس انصاری کے دوسرے بھائی آکر کہنے لگے کہ ہم سب اس باغ میں برابر کے شریک ہیں، لیکن اس نے انکار کر دیا، پس وہ جھگڑا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس باغ کو ان کے مابین بطورِ میراث تقسیم کر دیا۔
Musnad Ahmad
6568
۔ (۶۵۶۸)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ اُخْتَ الرُّبَیِّعِ أُمَّ حَارِثَۃَ جَرَحَتْ إِنْسَانًا فَاخْتَصَمُوْا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْقِصَاصُ،الْقِصَاصُ۔)) فَقَالَتْ أَمُ الرُّبَیِّعِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُقْتَصُّ مِنْ فُلَانَۃَ، لَا وَاللّٰہِ! لَا یُقْتَصُّ مِنْہَا أَبَدًا، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سُبْحَانَ اللّٰہِ! یَا أُمَّ رُبَیِّعٍ، کِتَابُ اللّٰہِ۔)) قَالَتْ: لَا وَاللّٰہِ! لَا یُقْتَصُّ مِنْہَا أَبَدًا، قَالَ: فَمَا زَالَتْ حَتّٰی قَبِلُوْا مِنْہَا الدِّیَۃَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ عِبَادِ اللّٰہِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَأَبَرَّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۰۷۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ربیع کی بہن ام حارثہ نے ایک انسان کو زخمی کر دیا، وہ جھگڑا لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قصاص ہوگا، قصاص۔)) لیکن ام ربیع نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا فلاںعورت سے قصاص لیا جائے گا، نہیں، اللہ کی قسم! اس سے کبھی بھی قصاص نہیں لیا جائے گا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ ! اے ام ربیع! اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مسئلہ ہے۔ لیکن ام ربیع نے پھر کہا: نہیں، میں کہہ رہی ہوں کہ اللہ کی قسم ہے اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا، وہ یہ کہتی رہیں،یہاں تک کہ وہ لوگ دیت قبول کرنے پر رضا مند ہوگئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھادیں تو وہ اس کی قسم پوری کر دیتا ہے۔
Musnad Ahmad
10186
۔ (۱۰۱۸۶)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ، اَنْبَاَنَا ھَمَّامُ بْنُ یَحْيٰ، ثَنَا قَتَادَۃُ، عَنْ اَبِیْ الصِّدِّیْقِ النَّاجِیِّ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَا اُحَدِّثُکُمْ اِلَّا مَاسَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمِعَتْہُ اُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِیْ، ((اَنَّ عَبْدًا قَتَلَ تِسْعَۃً وْتِسْعِیْنَ نَفْسًا، ثُمَّ عَرَضَتْ لَہُ التَّوْبَۃُ، فَسَاَلَ عَنْ اَعْلَمِ اَھْلِ الْاَرْضِ فَدَلَّ عَلٰی رَجُلٍ فَاَتَاہُ فَقَالَ: اِنِّیْ قَتَلْتُ تِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ نَفْسًا فَھَلْ لِیْ مِنْ تَوْبَۃٍ؟ قََالَ: بَعْدَ قَتْلِ تِسْعَۃٍ وَّتِسْعِیْنَ نَفْسًا؟ قَالَ: فَانْتَضٰی سَیْفَہُ فَقَتَلَہُ بِہٖفَاَکْمَلَبِہٖمِائْۃً، ثُمَّ عَرَضَتْ لَہُ التَّوْبَۃُ، فَسَأَلَ عَنْ اَعْلَمِ اَھْلِ الْاَرْضِ فَدَلَّ عَلٰی رَجُلٍ فَاَتَاہُ فَقَالَ: اِنِّیْ قَتَلْتُ مِائَۃَ نَفْسٍ فَھَلْ لِیْ مِِنْ تَوْبَۃٍ؟ فَقَالَ: وَمَنْ یَحُوْلُ بَیْنَکَ وَبَیْنَ التَّوْبَۃِ؟ اخْرُجْ مِنَ الْقَرْیَۃِ الْخَبِیْثَۃِ الَّتِیْ اَنْتَ فِیْھَا اِلَی الْقَرْیَۃِ الصَّالِحَۃِ قَرْیَۃِ کَذَا وَکَذَا، فَاعْبُدْ رَبَّکَ فِیْھَا، قَالَ: فَخَرَجَ اِلَیالْقَرْیَۃِ الصَّالِحَۃِ فَعَرَضَ لَہُ اَجَلُہُ فِیْ الطَّرِیْقِ، قَالَ: فَاخْتَصَمَتْ فِیْہِ مَلَائِکَۃُ الرَّحْمَۃِ وَمَلَائِکَۃُ الْعَذَابِ، قَالَ: فَقَالَ اِبْلِیْسُ: فَاِنَّکَ اَوْلٰیْ بِہٖاِنَّہُلَمْیَعْصِنِیْ سَاعَۃً قَطُّ قَالَ: فَقَالَتْ مَلَائِکَۃُ الرَّحْمَۃِ: اِنَّہُ خَرَجَ تَائِبًا۔)) قَالَ ھَمَّامُ: فَحَدَّثَنِیْ حَمِیْدِ الطَّوِیْلُ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمُزَنِیِّ، عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ قَالَ: ((فَبَعَثَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَلَکًا فَاخْتَصَمُوْا اِلَیْہِ۔)) ثُمَّ رَجَعَ اِلٰی حَدِیْثِ قَتَادَۃَ، قَالَ: فَقَالَ: انْظُرُوْا اَیَّ الْقَرْیَتَیْنِ کَانَ اَقْرَبَ اِلَیْہِ فَالْحَقُوْہُ بِاَھْلِھَا، قَالَ قَتَادَۃُ: فَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ: ((لَمَّا عَرفَ الْمَوْتَ احْتَفَزَ بِنَفْسِہِ فَقَرَّبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْہُ الْقَرْیَۃَ الصَّــالِحَۃَ، وَبَاعَدَ عَنْہُ الْقَرْیَۃَ الْخَبِیْثۃَ،فَالْحَقُوْہُ بِاَھْلِ الْقَرْیَۃِ الصَّــالِحَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۷۱)
۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: کیا میں تمھیں وہ حدیث بیان نہ کروں جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی، میرے کانوں نے وہ حدیث سنی او رمیرے دل نے اسے یاد کیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے ننانوے افراد قتل کر دیے، پھر اسے توبہ کا خیال آیا۔ اس نے روئے زمین کے سب سے بڑے عالم کی بابت لوگوں سے پوچھا؟ اسے ایک راہب (پادری) کا پتہ بتایا گیا۔ وہ اس کے پاس پہنچا اور پوچھا کہ وہ ننانوے آدمی قتل کر چکا ہے، کیا ایسے فرد کے لیے توبہ ہے؟ اس نے جواب دیا: کیا ننانوے افراد کے قتل کے بعد؟ (ایسے شخص کے لیے کوئی توبہ نہیں)۔ اس نے تلوار میان سے نکالی اور اسے قتل کر کے سو کی تعداد پوری کر دی۔ پھر اسے توبہ کا خیال آیا، اس نے لوگوں سے اہل زمین کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا۔ اس کے لیے ایک عالم کی نشاندہی کی گئی، وہ اس کے پاس گیا اور کہا: میں سو افراد قتل کر چکا ہوں، کیا میری لیے توبہ (کی کوئی گنجائش)ہے۔ اس نے کہا: تیرے او ر تیری توبہ کے درمیان کون حائل ہو سکتا ہے؟ لیکن تو اس طرح کر کہ اس خبیث بستی سے نکل کر فلاں فلاں کسی نیک بستی کی طرف چلا جا۔ کیونکہ وہاں کے لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، تو بھی ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور اپنے علاقے کی طرف مت لوٹنا کیونکہیہ بری سرزمین ہے۔ وہ نیک بستی کی طرف چل پڑا، لیکن راستے میں اسے موت آگئی، وہ اپنے سینے کے سہارے سرک کرپہلی زمین سے دور ہو کر(تھوڑا سا) دوسری طرف ہو گیا۔(اسے لینے کے لیے) رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے دونوں آ گئے اور ان کے مابین جھگڑا شروع ہو گیا۔ ابلیس نے کہا: میں اس کا زیادہ حقدار ہوں، اس نے کبھی بھی میری نافرمانی نہیں کی تھی۔ لیکن ملائکہ ٔ رحمت نے کہا: یہ تائب ہو کر آیا تھا اور دل کی پوری توجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف آنے والا تھا اور ملائکہ ٔ عذاب نے کہا: اس نے کبھی بھی کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو ایک آدمی کی شکل میں بھیجا۔ انھوں نے اس کے سامنے یہ جھگڑ اپیش کیا۔ اس نے کہا: دیکھو کہ کون سی بستی اس کے قریب ہے، اسی بستی والوں سے اس کو ملا دیا جائے۔ اُدھر اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو (جہاں سے وہ آ رہا تھا) حکم دیاکہ تو دور ہو جا اور ارض صالحین (جس کی طرف وہ جا رہا تھا) حکم دیا کہ تو قریب ہو جا۔ جب انھوں نے اس کی پیمائش کی تو جس زمین کی طرف وہ جا رہا تھا، اسے (دوسری کی بہ نسبت) ایک بالشت زیادہ قریب پایا۔ پس رحمت کے فرشتے اسے لے گئے اور اسے بخش دیا گیا۔ حسن راوی کہتے ہیں: جب اسے موت کا علم ہوا تو وہ (نیک بستی کی طرف) سکڑ گیا ، اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے سینے کے سہارے (نیک بستی کی طرف) سرک گیا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے اسے قریۂ صالحہ کے قریب کر دیا اور قریۂ خبیثہ سے دور کر دیا، تو ان فرشتوں نے اسے نیک بستی والے لوگوں میں شامل کر دیا۔
Sahih Bukhari
2286
وَأَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ حَدَّثَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ .
Rafi` bin Khadij said, The Prophet forbade renting farms. Narrated 'Ubaidullah Nafi` said: Ibn `Umar said: (The contract of Khaibar continued) till `Umar evacuated the Jews (from Khaibar).
اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمینوں کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا تھا اور عبیداللہ نے نافع سے بیان کیا، اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ( خیبر کے یہودیوں کے ساتھ وہاں کی زمین کا معاملہ برابر چلتا رہا ) یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جلا وطن کر دیا۔
Sahih Bukhari
2344
ثُمَّ حُدِّثَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى كِرَاءِ الْمَزَارِعِ . فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى رَافِعٍ ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَدْ عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا نُكْرِي مَزَارِعَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَبِشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ .
Then he was told the narration of Rafi` 'bin Khadij that the Prophet had forbidden the renting of farms. Ibn `Umar went to Rafi` and I accompanied him. He asked Rafi` who replied that the Prophet had forbidden the renting of farms. Ibn `Umar said, You know that we used to rent our farms in the lifetime of Allah's Apostle for the yield of the banks of the water streams (rivers) and for certain amount of figs.
پھر رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرایہ پر دینے سے منع کیا تھا۔ ( یہ سن کر ) ابن عمر رضی اللہ عنہما رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم اپنے کھیتوں کو اس پیداوار کے بدل جو نالیوں پر ہو اور تھوڑی گھاس کے بدل دیا کرتے تھے۔
Sahih Bukhari
4012
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : أَخْبَرَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، أَنَّ عَمَّيْهِ وَكَانَا شَهِدَا بَدْرًا أَخْبَرَاهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ , قُلْتُ لِسَالِمٍ فَتُكْرِيهَا أَنْتَ ، قَالَ : نَعَمْ إِنَّ رَافِعًا أَكْثَرَ عَلَى نَفْسِهِ .
Narrated Az-Zuhri: Salim bin `Abdullah told me that Rafi` bin Khadij told `Abdullah bin `Umar that his two paternal uncles who had fought in the battle of Badr informed him that Allah's Apostle forbade the renting of fields. I said to Salim, Do you rent your land? He said, Yes, for Rafi` is mistaken.
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے زہری نے، انہیں سالم بن عبداللہ نے خبر دی، بیان کیا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خبر دی کہ ان کے دو چچاؤں ( ظہیر اور مظہر رافع بن عدی بن زید انصاری کے بیٹوں ) جنہوں نے بدر کی لڑائی میں شرکت کی تھی، نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع کیا تھا۔ میں نے سالم سے کہا لیکن آپ تو کرایہ پر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں، رافع رضی اللہ عنہ نے اپنے اوپر زیادتی کی تھی۔