TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2616 - باب: صدقہ خریدنے کا بیان۔ - The book of zakah - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 4 in this chapter
باب: صدقہ خریدنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ:‏‏‏‏ حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ‏‏‏‏‏‏فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَهُ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا تَشْتَرِهِ وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ .
It was narrated from Zaid bin Aslam that his father said: I heard 'Umar say: 'I gave a horse to someone to ride in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, and the one who kept it neglected it. I wanted to buy it back from him, and I thought that he would sell it at a cheap price. I asked the Messenger for Allah about that and he said: Do not buy it, even if he gives it to you for a Dirham. The one who takes back his charity is like the dog that goes back to its own vomit. '
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے ( ایک آدمی کو ) ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیا تو اسے اس شخص نے برباد کر دیا، تو میں نے سوچا کہ میں اسے خرید لوں، خیال تھا کہ وہ اسے سستا ہی بیچ دے گا، میں نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم اسے مت خریدو گرچہ وہ تمہیں ایک ہی درہم میں دیدے، کیونکہ صدقہ کر کے پھر اسے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے اسے چاٹتا ہے“۔
2616
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 2615 In-book reference : Book 23, Hadith 0 English translation : Vol. 3, Book 23, Hadith 2616
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2615
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الزکاة ۵۹ (۱۴۹۰)، الھبة ۳۰ (۲۶۲۳)، ۳۷ (۲۶۳۶)، الوصایا ۳۱ (۲۹۷۰)، الجھاد ۱۱۹ (۲۹۷۰)، ۱۳۷ (۳۰۰۳)، صحیح مسلم/الھبات ۱ (۱۶۲۰)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ۱ (۲۳۹۰)، ۲ (۱۳۹۲)، ما/الزکاة ۲۶ (۴۹)، (تحفة الأشراف: ۱۰۳۸۵)، مسند احمد (۱/ ۲۵، ۳۷، ۴۰، ۵۴)

Related Chapters

197
1
(59) CHAPTER. Can one buy the thing which he has given in charity?
کیا آدمی اپنی چیز کو جو صدقہ میں دی ہو پھر خرید سکتا ہے ؟ اور دوسرے کا دیا ہوا صدقہ خریدنے میں تو کوئی حرج نہیں
Sahih Bukhari
2
Chapter: What Has Been Related About The One Who Works In Collecting Sadaqah In Truth
باب: صحیح ڈھنگ سے صدقہ وصول کرنے والے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About: Charity Is Taken from The Rich To Be Distributed To The Poor
باب: مالداروں سے صدقہ لے کر فقراء و مساکین کو لوٹانے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About Charity For Near Relatives
باب: رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Charity
باب: صدقہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The One Who Gives Charity (Then) Inheriting His Charity
باب: صدقہ دینے والا اپنے صدقہ کا وارث ہو جائے تو کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Take Back Charity
باب: صدقہ دے کر واپس لینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About (Giving) Charity On Behalf Of The Dead
باب: میت کی طرف سے صدقہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About Sadaqat al-Fitr
باب: صدقہ فطر کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About: It Is To Be Paid Before The Salat
باب: نماز عید سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Buy On Credit
باب: کسی چیز کو مدت کے وعدے پر خریدنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Buying A Slave In Exchange For Two Slaves
باب: ایک غلام کو دو غلام سے خریدنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Selling A Necklace Containing Gold And Jewels
باب: سونے اور جواہرات جڑے ہوئے ہار خریدنے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About When The Buyer And Seller Disagree
باب: بائع (بیچنے والے) اور مشتری (خریدنے والے) کے اختلاف کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What has been Related About A Man Giving Charity Or Freeing A Slave At The Time Of His Death
باب: مرتے وقت صدقہ کرنے والے اور غلام آزاد کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
باب: صوم و صلاۃ اور صدقہ (زکاۃ) کی مثال کا بیان
Jam e Tirmazi
17
صَدَقَة الْفطر
صدقہ فطر کا بیان
Mishkat
18
بَاب مِمَّن لَا تحل لَهُ الصَّدَقَة
کس کو صدقہ دینا جائز نہیں
Mishkat
19
بَاب فضل الصَّدَقَة
صدقہ کی فضیلت کا بیان
Mishkat
20
بَاب أفضل الصَّدَقَة
بہترین صدقہ کا بیان
Mishkat
21
بَابُ صَدَقَةِ الْمَرْأَةِ مِنْ مَالِ الزَّوْجِ
بیوی کا شوہر کے مال سے صدقہ کرنے کا بیان
Mishkat
22
بَاب من لَا يعود فِي الصَّدَقَة
صدقہ واپس نہ لینے کا بیان
Mishkat
23
بَابُ إِعْتَاقِ الْعَبْدِ الْمُشْتَرَكِ وَشِرَاءِ الْقَرِيبِ
مشترک غلام کو آزاد کرنے ، قریبی شخص کو خریدنے اور مرض میں آزاد کرنے کا بیان
Mishkat
24
عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان
Musnad Ahmad
25
اس امر کا بیان کہ انسان کسی کو مستحق سمجھ کرصدقہ ادا کر دے، لیکن بعد میں پتہ چلے کہ وہ صدقہ کا مستحق نہ تھا
Musnad Ahmad
26
حقیر قسم کی چیز کا قصد کرنے اور اس کا صدقہ کرنے کی کراہت اور عمدہ چیز کا صدقہ کرنے کی فضلیت کی بیان
Musnad Ahmad
27
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
28
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
Musnad Ahmad
29
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
Musnad Ahmad
30
صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
Musnad Ahmad
31
صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
Musnad Ahmad
32
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
33
جسم کے صدقہ کا بیان
Musnad Ahmad
34
اس آدمی کا بیان جسے دو کپڑے بطورِ صدقہ دیئے گئے، لیکن اس نے ان میں سے ایک کپڑا صدقہ کی نیت سے ڈال دیا
Musnad Ahmad
35
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
Musnad Ahmad
36
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
37
بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
38
مخفی طور پر صدقہ کرنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
39
صدقہ جاریہ کا بیان
Musnad Ahmad
40
عقیقہ کا وقت، بچے کا نام رکھنا، اس کو سر مونڈنا اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی کا صدقہ کرنا
Musnad Ahmad
41
اس شخص کا بیان جس نے سارا مال صدقہ کر دینے کی نذر مانی
Musnad Ahmad
42
اس آدمی کا بیان کہ جس کو ایک چیز خریدنے کا وکیل بنایا گیا، لیکن اس نے زیادہ چیزیں خرید کر اضافی چیزوں میں از خود تصرف کیا
Musnad Ahmad
43
ایک آدمی نے مال کا صدقہ کرنے کے لیے ایک وکیل بنایا، لیکن اس نے وہی مال اس مالک کے بیٹے کو دے دیا
Musnad Ahmad
44
رسول اللہa کا ہدیہ قبول کرنا، اگرچہ وہ حقیر سا ہو اور صدقہ قبول نہ کرنا، اگرچہ وہ قیمتی ہو
Musnad Ahmad
45
(2) CHAPTER. To give Sadaqa (things or money given in charity) during the eclipse.
سورج گرہن میں صدقہ خیرات کرنا
Sahih Bukhari
46
(9) CHAPTER. To practise charity (as early as possible) before such time when nobody would accept it.
صدقہ اس زمانے سے پہلے کہ اس کا لینے والا کوئی باقی نہ رہے گا
Sahih Bukhari
47
(10) CHAPTER. “Protect yourself from Hell-fire even with a half date, or with the little object of charity.”
اس بارے میں کہ جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے یا کسی معمولی سے صدقہ کے ذریعے ہو
Sahih Bukhari
48
(11) CHAPTER. What kind of As-Sadaqa (charity) is superior? The superiority of charity practised by a niggardly healthy person.
تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانہ میں صدقہ دینے کی فضیلت
Sahih Bukhari
49
(14) CHAPTER. If one gives an object of charity to a wealthy person unknowingly.
اگر لاعلمی میں کسی نے مالدار کو صدقہ دے دیا ( تو اس کو ثواب مل جائے گا )
Sahih Bukhari
50
(17) CHAPTER. Whoever ordered his servant to give something in charity and did not give it himself.
اس کے بارے میں کہ جس نے اپنے خدمت گار کو صدقہ دینے کا حکم دیا اور خود اپنے ہاتھ سے نہیں دیا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

415
Sahih Muslim
4165
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَوَجَدَهُ عِنْدَ صَاحِبِهِ وَقَدْ أَضَاعَهُ، وَكَانَ قَلِيلَ الْمَالِ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «لَا تَشْتَرِهِ، وَإِنْ أُعْطِيتَهُ بِدِرْهَمٍ، فَإِنَّ مَثَلَ الْعَائِدِ فِي صَدَقَتِهِ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ
Zaid b. Aslam reported on the authority of his father that 'Umar (Allah be pleased with him) donated a horse in the path of Allah. He found that it had languished in the hand of its possessor, and he was a man of meagre resources He (Hadrat 'Umar) intended to buy it. He came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and made a mention of that to him, whereupon he said: Don't buy that even if you get it for a dirham for he who gets back the charity is like a dog which swallows its vomit.
روح بن قاسم نے ہمیں زید بن اسلم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا سواری کے طور پر دیا ، تو انہوں نے اسے اس کے مالک کے ہاں اس حال میں پایا کہ اس نے اسے ضائع کر دیا تھا اور وہ تنگ دست تھا ، چنانچہ انہوں ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا : " اسے مت خریدو ، چاہے وہ تمہیں ایک درہم میں دیا جائے ، صدقہ واپس لینے والے کی مثال اس کتے کے جیسی ہے جو اپنی قے میں لوٹ جاتا ہے ( چاٹتا ہے
Sunnan Nisai
20
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، ‏‏‏‏‏‏قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِيمَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَافِعِ بْنِ إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ بِمِصْرَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِهَذِهِ الْكَرَايِيسِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ أَوِ الْبَوْلِ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا .
It was narrated from Rafi' bin Ishaq that he heard Abu Ayyub Al-Ansari say - when he was in Egypt: By Allah, I do not know what I should do with these Karais (toilets). The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When any one of you goes to defecate or urinate, let him not face toward the Qiblah, nor turn his back towards it.
رافع بن اسحاق سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو مصر میں ان کے قیام کے دوران کہتے سنا: اللہ کی قسم! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کھڈیوں کو کیا کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:  جب تم میں سے کوئی پاخانے یا پیشاب کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرے ۔
Sunnan Nisai
71
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، ‏‏‏‏‏‏قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّئُونَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا .
It was narrated that Ibn 'Umar said: Men and women used to perform Wudu' together during the time of the Messenger of Allah (ﷺ).
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرد اور عورتیں ایک ساتھ  ( یعنی ایک ہی برتن سے )  وضو کرتے تھے ۱؎۔
Sunnan Nisai
75
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَمَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِيمَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏ح وأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ .
It was narrated that 'Umar bin Al-Khattab (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah said: 'Actions are only done with intentions, and every man shall have what he intended. Thus he whose emigration was for Allah and His Messenger, his emigration was for Allah and His Messenger, and he whose emigration was to achieve some worldly benefit or to take some woman in marriage, his emigration was for that which he intended.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، آدمی کے لیے وہی چیز ہے جس کی اس نے نیت کی، تو جس نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو گی، اور جس نے دنیا کے حصول یا کسی عورت سے شادی کرنے کی غرض سے ہجرت کی تو اس کی ہجرت اسی چیز کے واسطے ہو گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی  ۱؎۔
Sunnan Nisai
97
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِيمَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى:‏‏‏‏ هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏ فَدَعَا بِوَضُوءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ .
It was narrated from 'Amr bin Yahya Al-Mazini that his father said to 'Abdullah bin Zaid bin 'Asim - who was one of the Companions of the Prophet (ﷺ) and the grandfather of 'Amr bin Yahya: Can you show me how the Messenger of Allah (ﷺ) used to perform Wudu'? 'Abdullah bin Zaid said: Yes. He called for (water for) Wudu' and poured some onto his hand, washing each hand twice. Then he rinsed his mouth and nose three times, then he washed his face three times, then he washed each hand twice, up to the elbow. Then he wiped his head with his hands, back and forth, starting at the front of his head and moving his hands to the nape of his neck, then bringing them back to the place he started. Then he washed his feet.
عمرو بن یحییٰ المازنی کے والد روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے پوچھا- وہ ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں اور  ( عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں )  کہ کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے پانی منگایا، اور اسے اپنے دونوں ہاتھوں پر انڈیلا، انہیں دو دو بار دھویا، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا تو انہیں آگے لائے اور پیچھے لے گئے، اپنے سر کے اگلے حصہ سے  ( مسح ) شروع کیا پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے، پھر جس جگہ سے شروع کیا تھا وہیں انہیں لوٹا لائے، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔
Sunnan Nisai
163
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مَعْنٌ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ مَرْوَانُ:‏‏‏‏ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ الْوُضُوءُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ. فَقَالَ مَرْوَانُ:‏‏‏‏ أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ .
Urwah bin Az-Zubair said: I entered upon Mawan bin Al-Hakam and we mentioned the things for which Wudu' is done. Marwan said: 'Wudu' should be done after touching the penis.' 'Urwah said: 'I did not know that.' Marwan said: 'Busrah bint Safwan told me that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: And if any one of you touches his penis, let him do Wudu'.
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا، پھر ہم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو لازم آتا ہے، تو مروان نے کہا: ذکر  ( عضو تناسل )  کے چھونے سے وضو ہے، اس پر عروہ نے کہا: مجھے معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا کہ  جب کوئی اپنا ذکر  ( عضو تناسل )  چھوئے تو وضو کرے ۔
Sunnan Nisai
186
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِيمَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَتَمَضْمَضَ وَتَمَضْمَضْنَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ .
سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب لوگ مقام صہبا  ( جو خیبر سے قریب ہے ) میں پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر ادا کی، پھر توشوں کو طلب کیا، تو صرف ستو لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، تو اسے گھولا گیا، آپ نے کھایا اور ہم نے بھی کھایا، پھر آپ مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے کلی کی اور ہم نے  ( بھی )  کلی کی، پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
Sunnan Nisai
541
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُمَيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ عَلِمُوا مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: If the people knew what (virtue) there was in the call to prayer and the first row, and they not find any way to get to do that [1] other than by drawing lots, they would do that. If they knew what (virtue) there was in coming early to prayer, they would compete to be first in the Masjid. If they knew what (virtue) there was in Al-'Atamah and Subh, they would come to them even if they had to crawl. [1] Indicating the two mentioned items: that is the call to prayer and praying in the first row.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اگر لوگ اس ثواب کو جو اذان دینے اور پہلی صف میں کھڑے ہونے میں ہے جان لیتے پھر اس کے لیے سوائے قرعہ اندازی کے کوئی اور راہ نہ پاتے، تو ضرور قرعہ ڈالتے، اور اگر لوگ جان لیتے کہ اول وقت نماز پڑھنے میں کتنا ثواب ہے، تو ضرور اس کی طرف سبقت کرتے، اور اگر انہیں معلوم ہوتا کہ عتمہ  ( عشاء )  اور فجر میں آنے میں کیا ثواب ہے، تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور آتے خواہ انہیں گھٹنے یا سرین کے بل گھِسٹ کر آنا پڑتا ۔
Sunnan Nisai
588
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِيمَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَخَلَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ .
It was narrated from Abu At-Tufail 'Amir bin Wathilah that Mu'adh bin Jabal told him that they went out with the Messenger of Allah (ﷺ) in the year of Tabuk, and the Messenger of Allah (ﷺ) was joining Zuhr and 'Asr, and Maghrib and 'Isha'. He delayed the prayer one day then he went out and prayed Zuhr and 'Asr together, then he went in and came out again and prayed Maghrib and 'Isha'.
ابوالطفیل عامر بن واثلۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے سال نکلے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو جمع کر کے پڑھتے رہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز کو مؤخر کیا، پھر نکلے اور ظہر اور عصر کو ایک ساتھ ادا کیا، پھر اندر داخل ہوئے، پھر نکلے تو مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔