TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3104 - باب: گھر بیٹھ رہنے والوں پر جہاد کے لیے نکلنے والوں کی فضیلت کا بیان۔ - The book of jihad - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 4 in this chapter
باب: گھر بیٹھ رہنے والوں پر جہاد کے لیے نکلنے والوں کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْبَرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95،‏‏‏‏ جَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ أَعْمَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ:‏‏‏‏ فَكَيْفَ فِيَّ وَأَنَا أَعْمَى ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَمَا بَرِحَ حَتَّى نَزَلَتْ:‏‏‏‏ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 .
It was narrated that Al-Bara' said: When the following was revealed: 'Not equal are those of the believers who sit (at home),' [1] Ibn Umm Maktum, who was blind, came and said: 'O Messenger of Allah, what about me? I am blind.' He said: 'He did not leave before the following was revealed: Except those who are disabled (by injury or are blind or lame).' [2] [1] An-Nisa' 4:95. [2] An-Nisa' 4:95.
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت: «‏لا يستوي القاعدون من المؤمنين» اتری تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جو اندھے تھے آئے اور کہا: اللہ کے رسول! میرے متعلق کیا حکم ہے؟ ( میں بیٹھا رہنا تو نہیں چاہتا ) اور آنکھوں سے مجبور ہوں، ( جہاد بھی نہیں کر سکتا ) پھر تھوڑا ہی وقت گذرا تھا کہ یہ آیت: «غير أولي الضرر» نازل ہوئی ( یعنی معذور لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں ) ۔
3104
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 3102 In-book reference : Book 25, Hadith 18 English translation : Vol. 1, Book 25, Hadith 3104
صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3102
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ۱۹۰۹)

Related Chapters

1,053
1
Chapter: What Has Been Related About Preparing Food For The Family OF The Deceased
باب: میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related Concerning The Group That Sits to Remember Allah The Mighty And Sublime, What Virtues They Have
باب: ایک جگہ بیٹھ کر ذکر الٰہی کرنے والوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
نمازِ فجر سے طلوع آفتاب تک (جائے نماز پر) بیٹھے رہنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
4
مساجد میں بیٹھنے اور ان کی طرف جانے کی فضیلت اور ان سے قریب محلے والوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
5
جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
6
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
7
بحری جہاد کرنے والوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
8
گھوڑے کی تعریف اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
9
(3) CHAPTER. The Prophet used to wake his family up for the Witr prayer.
وتر کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر والوں کو جگانا
Sahih Bukhari
10
(38) CHAPTER. The superiority of one who prepares a Ghazi (fighter for Jihad) or looks after his dependents in his absence.
جو شخص غازی کا سامان تیار کر دے یا اس کے پیچھے اس کے گھر والوں کی خبرگیری کرے ‘ اس کی فضیلت
Sahih Bukhari
11
(10) CHAPTER. To visit a (sick) bedouin.
گاؤں میں رہنے والوں کی عیادت کے لیے جانا
Sahih Bukhari
12
Chapter: The virtue of sitting in one’s prayer place after Subh, and the virtue of the masajid
صبح ( کی نماز) کے بعد اپنی نماز کی جگہ بیٹھے رہنے اور مساجد کی فضیلت
Sahih Muslim
13
Chapter: The virtue of Jihad and going out (to fight) in the cause of Allah
جہاد اور اللہ کی راہ میں نکلنے کی فضیلت
Sahih Muslim
14
Chapter: The virtue of Charity in the Cause of Allah, and its Manifold reward
اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے صدقہ کرنے کی فضیلت اور اس کے اجر میں کئی گنا اضافہ
Sahih Muslim
15
Chapter: The virtue of helping the warrior who is fighting in the cause of Allah with mounts etc., and looking after his family in his absence
سواری وغیرہ کے ساتھ مجاہد کی مدد کرنے اور اس کے گھر والوں کا خیال رکھنے کی فضیلت
Sahih Muslim
16
CHAPTER: The Virtue Of Sitting In The Masjid
باب: مسجد میں بیٹھے رہنے کی فضیلت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
17
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں صبح سویرے نکلنے کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
18
(31)Chapter: What Has Been Related About: Protect The Heels From The Fire.
باب: وضو میں ایڑیاں دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sitting In The Masjid And Waiting For The Salat
باب: مسجد میں بیٹھنے اور نماز کے انتظار کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About the Length Of The Sitting After The First Two Rak'ah
باب: پہلی دونوں رکعتوں میں قعدہ (تشہد کے لیے بیٹھنے) کی مقدار کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Voluntary Salat In The House
باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Mentioned About What Is Recommended When Sitting After The Subh Prayer Until The Sun Has Risen
باب: نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک مسجد میں بیٹھنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About: For The People OF Every Land There Is A Sighting
باب: ہر شہر والوں کے لیے انہیں کے چاند دیکھنے کا اعتبار ہو گا
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Jihad
باب: جہاد کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Fasting In The Cause Of Allah
باب: دوران جہاد روزہ رکھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Spending In The Cause Of Allah
باب: اللہ کی راہ (جہاد) میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Service In The Cause Of Allah
باب: جہاد میں خدمت کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The One Whose Two Feet Became Dusty In The Cause Of Allah
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں غبار آلود قدموں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Dust In Allah's Cause
باب: جہاد کے غبار کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About One Who Keeps And Prepares A Horse In The Cause Of Allah
باب: جہاد کی نیت سے گھوڑا پالنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Archery In The Cause Of Allah
باب: اللہ کی راہ (جہاد) میں تیر پھینکنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Standing Guard In The Cause Of Allah
باب: جہاد میں پہرہ دینے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About Going Out In The Morning And The Afternoon In The Cause Of Allah
باب: جہاد میں گزرنے والے صبح و شام کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Benn Related About One Who Goes Out For Battle Abandoning His Parents
باب: ماں باپ کو چھوڑ کر جہاد میں نکلنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About A Brother Supplicating For His Brother In His Absence
باب: پیٹھ پیچھے بھائی کے لیے دعا کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
باب: عطر لگا عورت کے گھر سے باہر نکلنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
Jam e Tirmazi
38
باب: بیعت رضوان والوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
بَابِ مَنَاقِبِ أَهْلِ
رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کے مناقب کا بیان
Mishkat
40
حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
41
ان لوگوں کی دلیل کا بیان کہ جنھوں نے تارکِ نماز کو کافر نہیں قرار دیا اور اس کے لیے وہی امید رکھی جو کبیرہ گناہوں والوں کے لیے رکھی جاتی ہے
Musnad Ahmad
42
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
43
مسافرکے لیے اپنی سواری پر بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے کا جواز
Musnad Ahmad
44
نمازی کا نماز کے بعد نماز والی جگہ میں ہی بیٹھنے رہنا، اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
45
جو شخص پہلے تشہد کے لیے بیٹھنا بھول جائے اور سیدھا کھڑا ہوجائے تو بیٹھنے کے لیے واپس نہ لوٹے
Musnad Ahmad
46
نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
47
بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے جواز کا بیان اور نبی کریم aکے علاوہ کے لیے نماز کے اجر کا آدھا ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
48
جب فتنوں کا اندیشہ ہو تو عورتوں کو مسجد میں نہ جانے دینے کا بیان اورگھروں میں ان کی نماز کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
49
عورتوں کے مسجد کے لیے نکلنے اور اس میں نماز پڑھنے کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
50
جنازے کے ساتھ چلنے والے کے جنازے کے رکھے جانے تک نہ بیٹھنے اور جنازے کے گزرتے وقت اس کے لیے کھڑے ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

488
Sunnan Nisai
3103
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْبَرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا قَالَ:‏‏‏‏ ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَاللَّوْحِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَتَبَ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، ‏‏‏‏‏‏خَلْفَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَلْ لِي رُخْصَةٌ فَنَزَلَتْ:‏‏‏‏ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 .
It was narrated from Al-Bara' that the Prophet (ﷺ) said: bring me a shoulder blade of a camel, or a tablet, and write: Not equal are those of the believers who sit (at home). [1] 'Amr bin Umm Maktum was behind him and he said: Is there a concession for me? Then the following was revealed: Except those who are disabled (by injury or are blind or lame). [2] [1] An-Nisa' 4:95. [2] An-Nisa' 4:95.
براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فرمایا: کیا فرمایا؟ وہ الفاظ راوی کو یاد نہیں رہے لیکن ) وہ کچھ ایسے الفاظ تھے جن کے معنی یہ نکلتے تھے: شانے کی ہڈی، تختی ( کچھ ) لاؤ۔ ( جب وہ آ گئی تو اس پر لکھا یا ) چنانچہ ( زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ) لکھا: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» اور عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے موجود تھے۔ ( وہ اندھے تھے۔ اسی مناسبت سے ) انہوں نے کہا: کیا میرے لیے رخصت ہے؟ ( میں معذور ہوں، جہاد نہیں کر پاؤں گا ) تب یہ آیت «غير أولي الضرر» ”ضرر، نقصان و کمی والے کو یعنی مجبور، معذور کو چھوڑ کر“۔
Jam e Tirmazi
3031
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95، ‏‏‏‏‏‏جَاءَ عَمْرُو ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا تَأْمُرُنِي إِنِّي ضَرِيرُ الْبَصَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِيتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ أَوِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ عَمْرُو ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَائِدَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمُّ مَكْتُومٍ أُمُّهُ.
Narrated Al-Bara bin 'Azib: When the following was revealed: 'Not equal are those of the believers who sit (4:95)' 'Amr bin Umm Maktum came to the Prophet (ﷺ). He said: He was blind, so he said: 'O Messenger of Allah! What do you order me with? Indeed my vision is disabled.' So Allah [Most High] revealed this Ayah: 'Except those who are disabled.' So the Prophet (ﷺ) said: 'Bring me a shoulder bone and inkwell' - or 'Bring me a tablet and an inkwell.'
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» ”اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بیٹھے رہ جانے والے مومن برابر نہیں“ ( النساء: ۹۵ ) نازل ہوئی تو عمرو بن ام مکتوم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ نابینا تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں، میں تو اندھا ہوں؟ تو اللہ تعالیٰ نے آیت: «غير أولي الضرر» نازل فرمائی، یعنی مریض اور معذور لوگوں کو چھوڑ کر، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس شانہ کی ہڈی اور دوات لے آؤ ( یا یہ کہا ) تختی اور دوات لے آؤ کہ میں لکھا کر دے دوں کہ تم معذور لوگوں میں سے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس روایت میں عمرو بن ام مکتوم رضی الله عنہ کہا گیا ہے، انہیں عبداللہ بن ام مکتوم بھی کہا جاتا ہے، وہ عبداللہ بن زائدہ ہیں، اور ام مکتوم ان کی ماں ہیں۔
Sahih Muslim
4912
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [النساء: 95] كَلَّمَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَنَزَلَتْ {غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: 95]
It has been narrated on the authority of Bara' who said: When the Qur'anic verse: Those who sit (at home) from among mu'min (iv. 94) was revealed, the son of Umm Maktum spoke to him (the Holy Prophet). (At this). the words: other than those who have a trouble (illness) were revealed.
مسعر نے ابواسحاق سے ، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب آیت : " مومنوں میں سے گھر بیٹھنے والے مجاہدوں کے برابر نہیں " نازل ہوئی تو ( عبداللہ ) ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی ، تب ( غَيْرُ أُو۟لِى ٱلضَّرَرِ ) ( جو معذور نہیں ) کے الفاظ نازل ہوئے ۔
Jam e Tirmazi
1670
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ ائْتُونِي بِالْكَتِفِ أَوِ اللَّوْحِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَتَبَ:‏‏‏‏ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ خَلْفَ ظَهْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَلْ لِي مِنْ رُخْصَةٍ ؟ فَنَزَلَتْ:‏‏‏‏ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، هَذَا الْحَدِيثَ.
Narrated Al-Bara' bin 'Azib: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Bring me a shoulder blade or tablet. Then he wrote: Not equal are those of believers who sit. 'Amr bin Umm Maktum who was behind him said: Is there an exemption for me? So the following was revealed: Except those who are disabled. There are narrations on this topic from Ibn 'Abbas, Jabir and Zaid bin Thabit. This Hadith is Hasan Sahih and it is a Hadith that is Gharib from the narration of Sulaiman At-Taimi from Abu Ishaq. And Shu'bah and Ath-Thawri reported this Hadith from Abu Ishaq.
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس «شانہ» ( کی ہڈی ) یا تختی لاؤ، پھر آپ نے لکھوایا ۱؎: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» ”یعنی جہاد سے بیٹھے رہنے والے مومن ( مجاہدین کے ) برابر نہیں ہو سکتے ہیں نابینا صحابی“، عمرو ابن ام مکتوم رضی الله عنہ آپ کے پیچھے تھے، انہوں نے پوچھا: کیا میرے لیے اجازت ہے؟ چنانچہ ( آیت کا ) یہ ٹکڑا نازل ہوا: «غير أول الضرر» “، ( معذورین کے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث بروایت «سليمان التيمي عن أبي إسحق» غریب ہے، اس حدیث کو شعبہ اور ثوری نے بھی ابواسحاق سے روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس، جابر اور زید بن ثابت رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sahih Muslim
4911
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: فِي هَذِهِ الْآيَةِ {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ}، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا، فَجَاءَ بِكَتِفٍ يَكْتُبُهَا، فَشَكَا إِلَيْهِ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ضَرَارَتَهُ، فَنَزَلَتْ: {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: 95] ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [النساء: 95] بِمِثْلِ حَدِيثِ الْبَرَاءِ، وقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ فِي رِوَايَتِهِ: سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
It has been narrated on the authority of Abu Ishaq, that he heard Bara' talking about the Qur'anic verse: Those who sit (at home) from among the believers and those who go out for Jihad in the way of Allah are not aqual (iv. 95). (He said that) the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) ordered Zaid (to write the verse). He brought a shoulder-blade (of a slaughtered camel) and inscribed it (the verse) thereon. The son of Umm Maktum complained of his blindness to the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). (At this) descended the revelation: Those of the believers who sit (at home) without any trouble (illness, incapacity, disability) (iv. 95). The tradition has been handed down through two other chains of transmitters
محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے ابواسحٰق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت براء ( بن عازب رضی اللہ عنہ ) سے سنا ، وہ قرآن مجید کی آیت : "" مومنوں میں سے گھر بیٹھنے والے ، جو معذور نہیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں "" کے بارے میں کہہ رہے تھے ( آیت ، درمیان والے حصے "" جو معذور نہیں "" کے بغیر نازل ہوئی ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، وہ ایک شانے کی ہڈی لے آئے اور اس پر یہ آیت لکھ دی ۔ اس موقع پر حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی ، تب یہ آیت ( درمیان کے حصے سمیت اس طرح ) اتری : "" مومنوں میں سے گھر بیٹھنے والے ، جو معذور نہیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں ۔ "" شعبہ نے کہا : مجھے ایک شخص نے سعد بن ابراہیم سے ، انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے آیت : "" بیٹھنے والے برابر نہیں "" حضرت براء رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مانند بیان کی ، ابن بشار نے اپنی روایت میں کہا : سعد بن ابراہیم نے اپنے والد سے ، انہوں نے ایک آدمی سے ، اس نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ( پہلی حدیث کی سند مکمل اور صحیح ہے ۔ یہ دونوں سندیں ضبط و تائید کے لیے ہیں ۔ )
Sunnan Nisai
3101
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ جَالِسًا، ‏‏‏‏‏‏فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَيْهِ فَحَدَّثَنَا،‏‏‏‏ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ:‏‏‏‏ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ،‏‏‏‏ فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمِلُّهَا عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي، ‏‏‏‏‏‏فَثَقُلَتْ عَلَيَّ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنْ سَتُرَضُّ فَخِذِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ،‏‏‏‏ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق هَذَا لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق يَرْوِي عَنْهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ،‏‏‏‏ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ لَيْسَ بِثِقَةٍ.
It was narrated that Sahl bin Sa'd said: I saw Marwan bin Al-Hakam sitting and I came and sat with him. He told us that Zaid bin Thabit told him, that the following was revealed to Allah's Messenger (ﷺ): (Not equal are those of the believers who sit (at home) and those who strive hard and fight in the cause of Allah), then Ibn Umm Maktum came when he was dictating it to me (Zaid), and said: 'O Messenger of Allah! If I were able to go for Jihad I would go out for Jihad.' Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed to him - while his thigh was against mine, and became so heavy that I thought my thigh would break, until (the revelation) stopped -: 'Except those who are disabled (by injury or are blind or lame).' [1] Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: This 'Abdur-Rahman bin Ishaq is tolerable, while 'Abdur-Rahman bin IShaq, from whom reports 'Ali bin Mushir, abu Mu'awiyah, and 'Abdul-Wahid bin Ziyad from An-Nu'man bin Sa'd - he is not trustworthy. [1] An-Nisa' 4:95.
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مروان بن حکم کو بیٹھے دیکھا تو ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل اللہ» ”اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں“۔ ( النساء: ۹۵ ) نازل ہوئی اور آپ اسے بول کر مجھ سے لکھوا رہے تھے کہ اسی دوران ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے ( وہ ایک نابینا صحابی تھے ) انہوں نے ( حسرت بھرے انداز میں ) کہا: اگر میں جہاد کر سکتا تو ضرور کرتا ( مگر میں اپنی آنکھوں سے مجبور ہوں ) تو اس وقت اللہ تعالیٰ ٰ نے ( کلام پاک کا یہ ٹکڑا ) «غير أولي الضرر» نازل فرمایا۔ ”ضرر والے یعنی مجبور لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں“ اور ( اس ٹکڑے کے نزول کے وقت کی صورت و کیفیت یہ تھی ) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر ٹکی ہوئی تھی۔ اس آیت کے نزول کا بوجھ مجھ پر ( بھی ) پڑا اور اتنا پڑا کہ مجھے خیال ہوا کہ میری ران ٹوٹ ہی جائے گی، پھر یہ کیفیت موقوف ہو گئی۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس روایت میں عبدالرحمٰن بن اسحاق ہیں ان سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور وہ عبدالرحمٰن بن اسحاق جو نعمان بن سعد سے روایت کرتے ہیں ثقہ نہیں ہیں، اور عبدالرحمٰن بن اسحاق سے روایت کی ہے، علی بن مسہر، ابومعاویہ اور عبدالواحد بن زیاد روایت کرتے ہیں بواسطہ نعمان بن سعد جو ثقہ نہیں ہیں۔
Jam e Tirmazi
3032
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ، سَمِعَ مِقْسَمًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 عَنْ بَدْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْخَارِجُونَ إِلَى بَدْرٍ لَمَّا نَزَلَتْ غَزْوَةُ بَدْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ:‏‏‏‏ إِنَّا أَعْمَيَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَهَلْ لَنَا رُخْصَةٌ ؟ فَنَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً، ‏‏‏‏‏‏فَهَؤُلَاءِ الْقَاعِدُونَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا ‏‏‏‏ 95 ‏‏‏‏ دَرَجَاتٍ مِنْهُ سورة النساء آية 94-95 عَلَى الْقَاعِدِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرِ أُولِي الضَّرَرِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمِقْسَمٌ يُقَالُ:‏‏‏‏ هُوَ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ:‏‏‏‏ هُوَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَكُنْيَتُهُ أَبُو الْقَاسِمِ.
Narrated Miqsam, the freed slave of 'Abdullah bin Al-Harith: from Ibn 'Abbas that he said the Ayah: Not equal are those of the believers who sit, except those who are disabled... (4:95) is about Badr and those went out for Badr. At the time of the battle of Badr, 'Abdullah bin Jahsh and Ibn Umm Maktum said: 'We are blind O Messenger of Allah! So is there an exemption for us?' So the following was revealed: Not equal are those of the believers who sit except those who are disabled. But Allah has preferred those who strive hard and fight above those who sit (at home) by a huge reward (4:95). So these were the people who sat behind, that were not disabled: But Allah has preferred those who strive hard and fight, above those who sit (at home) by a huge reward - they are of levels above those who sit among the believers who did not have an excuse.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر» کی تفسیر میں کہتے ہیں: جب جنگ بدر کا موقع آیا تو اس موقع پر یہ آیت جنگ بدر میں شریک ہونے والے اور نہ شریک ہونے والے مسلمانوں کے متعلق نازل ہوئی۔ تو عبداللہ بن جحش اور ابن ام مکتوم رضی الله عنہما دونوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم دونوں اندھے ہیں کیا ہمارے لیے رخصت ہے کہ ہم جہاد میں نہ جائیں؟ تو آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر» نازل ہوئی، اور اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں پر ایک درجہ فضیلت دی ہے۔ ان بیٹھ رہنے والوں سے مراد اس آیت میں غیر معذور لوگ ہیں، باقی رہے معذور لوگ تو وہ مجاہدین کے برابر ہیں۔ اللہ نے مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر اجر عظیم کے ذریعہ فضیلت دی ہے۔ اور بیٹھ رہنے والے مومنین پر اپنی جانب سے ان کے درجے بڑھا کر فضیلت دی ہے۔ اور یہ بیٹھ رہنے والے مومنین وہ ہیں جو بیمار و معذور نہیں ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- مقسم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ عبداللہ بن حارث کے آزاد کردہ غلام ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ابن عباس کے آزاد کردہ غلام ہیں اور مقسم کی کنیت ابوالقاسم ہے۔
Jam e Tirmazi
3033
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَأَخْبَرَنَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْلَى عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَاءَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمْلِيهَا عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي فَثَقُلَتْ حَتَّى هَمَّتْ تَرُضُّ فَخِذِي ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ نَحْوَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ رِوَايَةُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ التَّابِعِين، ‏‏‏‏‏‏رَوَاهُ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَرْوَانُ لم يسمع من النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ مِنَ التَّابِعِين.
Narrated Sahl bin Sa'd As-Sa'idi: I saw Marwan bin Al-Hakam sitting in the Masjid, so I went over to him until I sat next to him. He informed us that Zaid bin Thabit informed him, that the Prophet (ﷺ) dictated: 'Not equal among the believers are those who sit and the Mujahidin in the cause of Allah.' He said: 'So Ibn Umm Maktum came and he was dictating to me that he said: O Messenger of Allah! By Allah! If I were capable of Jihad then I would participate in Jihad.' And he was a blind a man. So Allah revealed to His Messenger (ﷺ) - while his thigh was against my thigh - and it became so heavy that I was worried it was about to fracture my thigh. Then he was relieved of it, so Allah had revealed to him: Except those who are disabled.
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مروان بن حکم کو مسجد میں بیٹھا ہوا دیکھا تو میں بھی آگے بڑھ کر ان کے پہلو میں جا بیٹھا انہوں نے ہمیں بتایا کہ زید بن ثابت رضی الله عنہ نے انہیں خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں املا کرایا «‏‏‏‏ ( لا يستوي القاعدون من المؤمنين» «والمجاهدون في سبيل الله» ”گھروں میں بیٹھ رہنے والے مسلمان، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے دونوں برابر نہیں ہو سکتے“ اسی دوران ابن ام مکتوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ پہنچے اور آپ اس آیت کا ہمیں املا کرا رہے تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی، اگر میں جہاد کی طاقت رکھتا تو ضرور جہاد کرتا، وہ نابینا شخص تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر آیت «غير أولي الضرر» نازل فرمائی اور جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت آپ کی ران ( قریب بیٹھے ہونے کی وجہ سے ) میری ران پر تھی، وہ ( نزول وحی کے دباؤ سے ) بوجھل ہو گئی، لگتا تھا کہ میری ران پس جائے گی۔ پھر ( جب نزول وحی کی کیفیت ختم ہو گئی ) تو آپ کی پریشانی دور ہو گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح کئی راویوں نے زہری سے اور زہری نے سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ۳- معمر نے زہری سے یہ حدیث قبیصہ بن ذویب کے واسطہ سے، قبیصہ نے زید بن ثابت سے روایت کی ہے، اور اس حدیث میں ایک روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کی ایک تابعی سے ہے، روایت کیا ہے سہل بن سعد انصاری ( صحابی ) نے مروان بن حکم ( تابعی ) سے۔ اور مروان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے، وہ تابعی ہیں۔
Jam e Tirmazi
3036
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ أَبُو مُسْلِمٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنَّا يُقَالُ لَهُمْ بَنُو أُبَيْرِقٍ بِشْرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبُشَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمُبَشِّرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ بُشَيْرٌ رَجُلًا مُنَافِقًا يَقُولُ:‏‏‏‏ الشِّعْرَ يَهْجُو بِهِ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَنْحَلُهُ بَعْضَ الْعَرَبِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ فُلَانٌ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ فُلَانٌ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا سَمِعَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الشِّعْرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا يَقُولُ هَذَا الشِّعْرَ إِلَّا هَذَا الْخَبِيثُ أَوْ كَمَا قَالَ الرَّجُلُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ ابْنُ الْأُبَيْرِقِ قَالَهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانُوا أَهْلَ بَيْتِ حَاجَةٍ وَفَاقَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ النَّاسُ إِنَّمَا طَعَامُهُمْ بِالْمَدِينَةِ التَّمْرُ وَالشَّعِيرُ وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا كَانَ لَهُ يَسَارٌ فَقَدِمَتْ ضَافِطَةٌ مِنَ الشَّامِ، ‏‏‏‏‏‏مِنَ الدَّرْمَكِ، ‏‏‏‏‏‏ابْتَاعَ الرَّجُلُ مِنْهَا فَخَصَّ بِهَا نَفْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الْعِيَالُ فَإِنَّمَا طَعَامُهُمُ التَّمْرُ وَالشَّعِيرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدِمَتْ ضَافِطَةٌ مِنَ الشَّامِ فَابْتَاعَ عَمِّي رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ حِمْلًا مِنَ الدَّرْمَكِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَهُ فِي مَشْرَبَةٍ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْمَشْرَبَةِ سِلَاحٌ وَدِرْعٌ وَسَيْفٌ، ‏‏‏‏‏‏فَعُدِيَ عَلَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْبَيْتِ فَنُقِبَتِ الْمَشْرَبَةُ وَأُخِذَ الطَّعَامُ وَالسِّلَاحُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَانِي عَمِّي رِفَاعَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ أَخِي، ‏‏‏‏‏‏إِنَّهُ قَدْ عُدِيَ عَلَيْنَا فِي لَيْلَتِنَا هَذِهِ فَنُقِبَتْ مَشْرَبَتُنَا فَذُهِبَ بِطَعَامِنَا وَسِلَاحِنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَتَحَسَّسْنَا فِي الدَّارِ وَسَأَلْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لَنَا:‏‏‏‏ قَدْ رَأَيْنَا بَنِي أُبَيْرِقٍ اسْتَوْقَدُوا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَرَى فِيمَا نَرَى إِلَّا عَلَى بَعْضِ طَعَامِكُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ بَنُو أُبَيْرِقٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ وَنَحْنُ نَسْأَلُ فِي الدَّارِ وَاللَّهِ مَا نُرَى صَاحِبَكُمْ إِلَّا لَبِيدَ بْنَ سَهْلٍ رَجُلٌ مِنَّا لَهُ صَلَاحٌ وَإِسْلَامٌ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا سَمِعَ لَبِيدٌ اخْتَرَطَ سَيْفَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ أَنَا أَسْرِقُ ! فَوَاللَّهِ لَيُخَالِطَنَّكُمْ هَذَا السَّيْفُ أَوْ لَتُبَيِّنُنَّ هَذِهِ السَّرِقَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ إِلَيْكَ عَنْهَا أَيُّهَا الرَّجُلُ فَمَا أَنْتَ بِصَاحِبِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْنَا فِي الدَّارِ حَتَّى لَمْ نَشُكَّ أَنَّهُمْ أَصْحَابُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي عَمِّي:‏‏‏‏ يَا ابْنَ أَخِي، ‏‏‏‏‏‏لَوْ أَتَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتَ ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ قَتَادَةُ:‏‏‏‏ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ إِنَّ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَّا أَهْلَ جَفَاءٍ عَمَدُوا إِلَى عَمِّي رِفَاعَةَ بْنِ زَيْدٍ فَنَقَبُوا مَشْرَبَةً لَهُ وَأَخَذُوا سِلَاحَهُ وَطَعَامَهُ فَلْيَرُدُّوا عَلَيْنَا سِلَاحَنَا فَأَمَّا الطَّعَامُ فَلَا حَاجَةَ لَنَا فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ سَآمُرُ فِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا سَمِعَ بَنُو أُبَيْرِقٍ أَتَوْا رَجُلًا مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ أَسَيْرُ بْنُ عُرْوَةَ فَكَلَّمُوهُ فِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَاجْتَمَعَ فِي ذَلِكَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ وَعَمَّهُ عَمَدَا إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ مِنَّا أَهْلِ إِسْلَامٍ وَصَلَاحٍ يَرْمُونَهُمْ بِالسَّرِقَةِ مِنْ غَيْرِ بَيِّنَةٍ وَلَا ثَبَتٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ قَتَادَةُ:‏‏‏‏ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ عَمَدْتَ إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ ذُكِرَ مِنْهُمْ إِسْلَامٌ وَصَلَاحٌ تَرْمِهِمْ بِالسَّرِقَةِ عَلَى غَيْرِ ثَبَتٍ وَلَا بَيِّنَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَرَجَعْتُ وَلَوَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْ بَعْضِ مَالِي وَلَمْ أُكَلِّمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَانِي عَمِّي رِفَاعَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ أَخِي، ‏‏‏‏‏‏مَا صَنَعْتَ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ نَزَلَ الْقُرْآنُ إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ وَلا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا سورة النساء آية 105 بَنِي أُبَيْرِقٍ وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ سورة النساء آية 106 أَيْ مِمَّا قُلْتَ لِقَتَادَةَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا ‏‏‏‏ 106 ‏‏‏‏ وَلا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنْفُسَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا ‏‏‏‏ 107 ‏‏‏‏ يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورًا رَحِيمًا سورة النساء آية 106 ـ 110 أَيْ لَوِ اسْتَغْفَرُوا اللَّهَ لَغَفَرَ لَهُمْ وَمَنْ يَكْسِبْ إِثْمًا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُ عَلَى نَفْسِهِ إِلَى قَوْلِهِ وَإِثْمًا مُبِينًا سورة النساء آية 111 قَوْلَهُ لِلَبِيدٍ وَلَوْلا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ إِلَى قَوْلِهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا سورة النساء آية 113 ـ 114، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسِّلَاحِ فَرَدَّهُ إِلَى رِفَاعَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ قَتَادَةُ:‏‏‏‏ لَمَّا أَتَيْتُ عَمِّي بِالسِّلَاحِ وَكَانَ شَيْخًا قَدْ عَشَا أَوْ عَسَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكُنْتُ أُرَى إِسْلَامُهُ مَدْخُولًا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَتَيْتُهُ بِالسِّلَاحِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ أَخِي، ‏‏‏‏‏‏هُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَعَرَفْتُ أَنَّ إِسْلَامَهُ كَانَ صَحِيحًا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ لَحِقَ بُشَيْرٌ بِالْمُشْرِكِينَ فَنَزَلَ عَلَى سُلَافَةَ بِنْتِ سَعْدِ ابْنِ سُمَيَّةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ‏‏‏‏ 115 ‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالا بَعِيدًا ‏‏‏‏ 116 ‏‏‏‏ سورة النساء آية 115-116 فَلَمَّا نَزَلَ عَلَى سُلَافَةَ رَمَاهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ بِأَبْيَاتٍ مِنْ شِعْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَتْ رَحْلَهُ فَوَضَعَتْهُ عَلَى رَأْسِهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَجَتْ بِهِ فَرَمَتْ بِهِ فِي الْأَبْطَحِ ثُمَّ قَالَتْ:‏‏‏‏ أَهْدَيْتَ لِي شِعْرَ حَسَّانَ مَا كُنْتَ تَأْتِينِي بِخَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ مُرْسَلٌ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ هُوَ أَخُو أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لِأُمِّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ اسْمُهُ سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ.
Narrated Qatadah bin An-Nu'man: There was a household among us called Banu Ubairiq, among whom was a Bishr, a Bushair, and a Mubashshir. Bushair was a hypocrite who would recite poetry reviling the Companions of the Prophet (ﷺ) then he would attribute it to some of the Arabs. Then he would say: 'So-and-so said this and that [So-and-so said this and that].' So when the Companions of the Prophet (ﷺ) would hear that poetry, they would say: 'By Allah! No one but this filthy person said this poetry - or as the man said - and they would say: 'Ibn Al-Ubairiq said it.' He said: They were a poor and needy household during Jahiliyyah and Islam. The only food the people of Al-Madinah had was dates and barely. When a man was able to, he would import flour from Ash-Sham which he bought and kept for himself. As for his dependants, their only food was dates and barely. So an import arrived from Ash-Sham, and my uncle Rifa'ah bin Zaid bought a load of it, which he put in a storage area he had, where he kept his weapons - his shield and his sword. But it was taken from him from under the house. The storage was broken into and and the food and weapons were taken. In the morning, my uncle Rifa'ah came to me and said: 'O my nephew! We were robbed during the night, our storage was broken into, and our food and weapons are gone.' He said: They overheard us in the house, and questioned us, and someone said to us, 'We saw Banu Ubairiq cooking during the night, and it looked like they had some of your food.' He said: Banu Ubairiq were saying - while we were questioning them amidst their dwellings - 'By Allah! We do not think the one you are looking for is other than Labid bin Sahl, a man among us who is righteous and accepted Islam.' When Labid heard that, he brandished his sword and said: 'I stole? By Allah! You either prove this theft, or I take to you with this sword.' They said: 'Leave us O man! You are not the one who has it.' So we continued questioning in the dwellings until we had no doubt that they had taken it. So my uncle said to me: 'O my nephew! You should go to the Messenger of Allah (ﷺ) and tell him about that.' Qatadah said: So I went to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'A family among us are ill-mannered, and they conspired against my uncle Rifa'ah bin aid. They broken into his storage and took his weapons and his food. We want them to return our weapons, but we have no need for the food.' So the Prophet (ﷺ) said: 'I will decide about that.' So when Banu Ubairiq heard about that, they brought a man from among them named Usair bin 'Urwah to talk to him about that, and some people form their houses gathered and said: 'O Messenger of Allah! Qatadah bin An-Nu'man and his uncle came came to a family among us who are a people of Islam and righteousness, accusing them of stealing without proof or confirmation.' Qatadah said: I went to the Messenger of Allah (ﷺ) and spoke to him, and he said: 'You went to a family among them known for their Islam and righteousness, and accused them of stealing without confirmation or proof.' He said: So I returned wishing that I had lost some of my wealth, and that the Messenger of Allah (ﷺ) had not been spoke to about that. My uncle Rifa'ah came to me and said: 'O my nephew! What did you do?' So I told him what the Messenger of Allah (ﷺ) said to me, so he said: 'It is from Allah, Whom we seek help.' It was not long before the Qur'an was revealed: 'Surely, We have sent down to you the Book in truth, that you might judge between men by that which Allah has shown you, so be not a pelader for the treacherous.' That is Banu Ubairiq. 'And seek forgiveness from Allah.' [That is] from what you said to Qatadah. 'Certainly Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful. And argue not on behalf of those who deceive themselves. Verily, Allah does not like anyone who is a betrayer, sinner. They may hide from men, but they cannot hide from Allah for He is with them up to His saying: 'Most Merciful.' That is: If you seek Allah's forgiveness then He will forgive you. 'And whoever earns sin, he earns it only against himself...' up to His saying: 'A manifest sin.' Their saying about Labid; 'Had it not been for the grace of Allah and His Mercy upon you...' up to His saying: 'We shall give him a great reward.' (4:105-115) So when the Qur'an was revealed, the Messenger of Allah (ﷺ) brought the weapon and returned it to Rifa'ah. Qatadah said: When the weapon was brought to my uncle - and he was an elderly man with bad sight or an elderly weak man - Abu 'Eisa was in doubt - in Jahiliyyah, and I thought that he merely had entered into Islam (without real sincerity) but when I brought it to him, he said: 'O my nephew! It is for Allah's cause.' So I knew that his Islam was genuine. When the Qur'an was revealed, Bushair went with the idolaters, staying with Sulafah bint Sa'd bin Sumayyah. So Allah, Most High, revealed: Whoever contradicts and opposes the Messenger after the right path has been shown clearly to him, and follows other than the believers' way, We shall keep him in the path he has chosen, and burn him in Hell - what an evil destination. Verily Allah forgives not associating others with Him, but He forgives what is less than that for whomever He wills. And whoever associates others with Allah, then he has indeed strayed away (4:115-116). When he went to stay with Sulafah, Hassan bin Thabit lampooned her with verses of poetry. So she took his saddle, put it on her head, then she left with it to cast into the valley. Then she said: 'You gave me the poetry of Hassan - you did not bring me any good.'
قتادہ بن نعمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( انصار ) میں سے ایک خاندان ایسا تھا، جنہیں بنو ابیرق کہا جاتا تھا۔ اور وہ تین بھائی تھے، بشر، بشیر اور مبشر، بشیر منافق تھا، شعر کہتا تھا اور صحابہ کی ہجو کرتا تھا، پھر ان کو بعض عرب کی طرف منسوب کر کے کہتا تھا: فلان نے ایسا ایسا کہا، اور فلاں نے ایسا ایسا کہا ہے۔ صحابہ نے یہ شعر سنا تو کہا: اللہ کی قسم! یہ کسی اور کے نہیں بلکہ اسی خبیث کے کہے ہوئے ہیں - یا جیسا کہ راوی نے «خبیث» کی جگہ «الرجل» کہا - انہوں ( یعنی صحابہ ) نے کہا: یہ اشعار ابن ابیرق کے کہے ہوئے ہیں، وہ لوگ زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں ہی میں محتاج اور فاقہ زدہ لوگ تھے، مدینہ میں لوگوں کا کھانا کھجور اور جو ہی تھا، جب کسی شخص کے یہاں مالداری و کشادگی ہو جاتی اور کوئی غلوں کا تاجر شام سے سفید آٹا ( میدہ ) لے کر آتا تو وہ مالدار شخص اس میں سے کچھ خرید لیتا اور اسے اپنے کھانے کے لیے مخصوص کر لیتا، اور بال بچے کھجور اور جو ہی کھاتے رہتے۔ ( ایک بار ایسا ہوا ) ایک مال بردار شتربان شام سے آیا تو میرے چچا رفاعہ بن زید نے میدے کی ایک بوری خرید لی اور اسے اپنے اسٹاک روم میں رکھ دی، اور اس اسٹور روم میں ہتھیار، زرہ اور تلوار بھی رکھی ہوئی تھی۔ ان پر ظلم و زیادتی یہ ہوئی کہ گھر کے نیچے سے اس اسٹاک روم میں نقب لگائی گئی اور راشن اور ہتھیار سب کا سب چرا لیا گیا، صبح کے وقت میرے چچا رفاعہ میرے پاس آئے اور کہا: میرے بھتیجے آج کی رات تو مجھ پر بڑی زیادتی کی گئی۔ میرے اسٹور روم میں نقب لگائی گئی ہے اور ہمارا راشن اور ہمارا ہتھیار سب کچھ چرا لیا گیا ہے۔ ہم نے محلے میں پتہ لگانے کی کوشش کی اور لوگوں سے پوچھ تاچھ کی تو ہم سے کہا گیا کہ ہم نے بنی ابیرق کو آج رات دیکھا ہے، انہوں نے آگ جلا رکھی تھی، اور ہمارا خیال ہے کہ تمہارے ہی کھانے پر ( جشن ) منا رہے ہوں گے۔ ( یعنی چوری کا مال پکا رہے ہوں گے ) جب ہم محلے میں پوچھ تاچھ کر رہے تھے تو ابوابیرق نے کہا: قسم اللہ کی! ہمیں تو تمہارا چور لبید بن سہل ہی لگتا ہے، لبید ہم میں ایک صالح مرد اور مسلمان شخص تھے، جب لبید نے سنا کہ بنو ابیرق اس پر چوری کا الزام لگا رہے ہیں تو انہوں نے اپنی تلوار سونت لی، اور کہا میں چور ہوں؟ قسم اللہ کی! میری یہ تلوار تمہارے بیچ رہے گی یا پھر تم اس چوری کا پتہ لگا کر دو۔ لوگوں نے کہا: جناب! آپ اپنی تلوار ہم سے دور ہی رکھیں، آپ چور نہیں ہو سکتے، ہم نے محلے میں مزید پوچھ تاچھ کی، تو ہمیں اس میں شک نہیں رہ گیا کہ بنو ابیرق ہی چور ہیں۔ میرے چچا نے کہا: بھتیجے! اگر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتے اور آپ سے اس ( حادثے ) کا ذکر کرتے ( تو ہو سکتا ہے میرا مال مجھے مل جاتا ) قتادہ بن نعمان رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اور عرض کیا: ہمارے ہی لوگوں میں سے ایک گھر والے نے ظلم و زیادتی کی ہے۔ انہوں نے ہمارے چچا رفاعہ بن زید ( کے گھر ) کا رخ کیا ہے اور ان کے اسٹور روم میں نقب لگا کر ان کا ہتھیار اور ان کا راشن ( کھانا ) چرا لے گئے ہیں، تو ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ہتھیار ہمیں واپس دے دیں۔ راشن ( غلے ) کی واپسی کا ہم مطالبہ نہیں کرتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس بارے میں مشورہ ( اور پوچھ تاچھ ) کے بعد ہی کوئی فیصلہ دوں گا“۔ جب یہ بات بنو ابیرق نے سنی تو وہ اپنی قوم کے ایک شخص کے پاس آئے، اس شخص کو اسیر بن عروہ کہا جاتا تھا۔ انہوں نے اس سے اس معاملے میں بات چیت کی اور محلے کے کچھ لوگ بھی اس معاملے میں ان کے ساتھ ایک رائے ہو گئے۔ اور ان سب نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر ) کہا: اللہ کے رسول! قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا دونوں ہم ہی لوگوں میں سے ایک گھر والوں پر جو مسلمان ہیں اور بھلے لوگ ہیں بغیر کسی گواہ اور بغیر کسی ثبوت کے چوری کا الزام لگاتے ہیں۔ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «ومن يكسب إثما فإنما يكسبه على نفسه» إلی قولہ «إثما مبينا» ۳؎ اس سے اشارہ نبی ابیرق کی اس بات کی طرف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ چوری لبید بن سہل نے کی ہے۔ اور آگے اللہ نے فرمایا: «ولولا فضل الله عليك ورحمته» سے «فسوف نؤتيه أجرا عظيما» ۴؎ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو وہ ( بنی ابیرق ) ہتھیار رسول اللہ کے پاس لے آئے۔ اور آپ نے رفاعہ کو لوٹا دیئے، قتادہ کہتے ہیں: میرے چچا بوڑھے تھے اور اسلام لانے سے پہلے زمانہ جاہلیت ہی میں ان کی نگاہیں کمزور ہو چکی تھیں، اور میں سمجھتا تھا کہ ان کے ایمان میں کچھ خلل ہے لیکن جب میں ہتھیار لے کر اپنے چچا کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! اسے میں اللہ کی راہ میں صدقہ میں دیتا ہوں، اس وقت میں نے جان لیا ( اور یقین کر لیا ) کہ چچا کا اسلام پختہ اور درست تھا ( اور ہے ) جب قرآن کی آیتیں نازل ہوئی تو بشیر مشرکوں میں جا شامل ہوا۔ اور سلافہ بنت سعد بن سمیہ کے پاس جا ٹھہرا، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساءت مصيرا إن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء ومن يشرك بالله فقد ضل ضلالا بعيدا» نازل فرمائی ۵؎ جب وہ سلافہ کے پاس جا کر ٹھہرا تو حسان بن ثابت رضی الله عنہ نے اپنے چند اشعار کے ذریعہ اس کی ہجو کی، ( یہ سن کر ) اس نے سدافہ بنت سعد کا سامان اپنے سر پر رکھ کر گھر سے نکلی اور میدان میں پھینک آئی۔ پھر ( اس سے ) کہا: تم نے ہمیں حسان کے شعر کا تحفہ دیا ہے؟ تم سے مجھے کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور ہم محمد بن سلمہ حرانی کے سوا کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مرفوع کیا ہو، ۲- یونس بن بکیر اور کئی لوگوں نے اس حدیث کو محمد بن اسحاق سے اور محمد بن اسحاق نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ عاصم نے اپنے باپ سے اور انہوں نے ان کے دادا سے روایت کی ہے، ۳- قتادہ بن نعمان، ابو سعید خدری رضی الله عنہ کے اخیافی بھائی ہیں، ۴- ابو سعید خدری سعد بن مالک بن سنان ہیں۔